رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    بابری مسجد معاملہ اور اسلامی کردار کا تقاضہ

    ڈاکٹر محمد ضیاءاللہ ندوی
    ہم سب واقف ہیں کہ بابری مسجد معاملہ پر سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہو چکی ہے۔ فریقین نے اپنے اپنے دلائل موقر ججوں کے سامنے پیش کردئیے ہیں اور اب فیصلہ کا انتظار ہے۔ امکان ہے کہ 8 نومبر سے لیکر 18 نومبر کے دوران کسی بھی دن فیصلہ آجائے گا انشاءاللہ۔ اس پورے معاملہ پر تجزیاتی پہلو سے گفتگو کرنے کے بجائے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایسے نزاعی معاملوں میں اسلام کے پیش کردہ رہنما اصول کو بیان کردیا جائے تاکہ کوئی پیچیدگی باقی نہ رہے اور مسلمانوں کو احساس رہے کہ انہیں اپنے سارے جذبات و احساسات اور اعمال و کردار کو اسلام کے تابع بنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔

    آج بابری مسجد سے متعلق قضیہ پر سب سے زیادہ خطرہ اس بات کا ہے کہ ہم افواہوں کا شکار ہو کر کوئی ایسا قدم اٹھا سکتے ہیں جس سے شر و فساد پھیل جائے اور جان و مال بلکہ عزت و آبرو بھی داؤ پر لگ جائے۔ اس لئے اس بات کو سمجھیں کہ اللہ کا حکم قرآن میں موجود ہے کہ مسلمان کبھی بھی ادھر ادھر کی باتوں میں آکر کوئی فیصلہ کرے یہ اس کی شان کے خلاف ہے۔ اسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ اگر کوئی فاسق شخص کوئی خبر یا بات تم تک پہونچائے تو پہلے خوب جانچ پڑتال کر لو (قرآن)۔ آج فاسقوں کی تعریف میں غیر ذمہ دار میڈیا، سوشل میڈیا، گاؤں اور محلہ سے لیکر شہر کے چوراہے پر لہراتے اوباش نوجوان یہاں تک کہ مساجد میں موجود نااہل ائمہ حضرات، مندر کے پجاری، مقامی یا قومی سطح کا سیاسی لیڈر سب شامل ہیں کیونکہ یہ وہ طبقہ ہے جو حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں کرتا اور سچ اور جھوٹ کو ایسا ملا کر پیش کرتا ہے کہ کئی بار سنجیدہ لوگ بھی اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔

    شاید ایسے ہی پس منظر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دیکھو! کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ تم میں کا چرب زبان آدمی ظالم ہونے کے باوجود اپنی بات اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے سچ اسی کے حق میں ہو اور میں فیصلہ ظالم کے حق میں کر دیتا ہوں۔ اس کے بعد آپ نے تنبیہ فرمائی اور وعید بھی سنائی کہ یہ تو دنیا کا معاملہ ہے۔ وقتی طور پر ظالم کو فتح مل گئی لیکن اللہ تمام باتوں سے واقف ہے اس لئے ظالم بہت دنوں تک اپنی فتح کا جشن نہیں منا سکتا۔ اسے اپنے کئے ہوئے گناہوں کی سزا ضرور ملے گی (الفاظ میرے ہیں، حدیث کا مفہوم سادہ طریقہ سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے)۔

    یہ بھی پڑھیں  مہاراشٹر میں پل پل بدلتی سیاست

    اگر اس حدیث پر ہم غور کریں اور بابری مسجد معاملہ کو سامنے رکھ کر اس کے معنی و مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں تو اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ اگر ہندو فریق کے وکلاء کی دلیلوں سے متاثر ہوکر ہمارے جج صاحبان مندر کے حق میں فیصلہ سنادیں تو ہمیں یہ گمان ہرگز نہیں کرنا چاہئے کہ اب اس ملک میں عدلیہ سے بھی انصاف کی امید نہیں رہی اور پھر مایوسی اور بے بسی کا شکار ہو جائیں بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ ہندو فریق کے وکلاء کی چرب زبانی مسلم وکلاء کی دلیل کے مقابلہ زیادہ طاقتور ثابت ہوئی اور چونکہ ججوں کو پیش کردہ ثبوت و دلائل کی روشنی میں ہی فیصلہ دینا ہوتا ہے

    یہ بھی پڑھیں  اب تو وہ حکم بہ انداز خدا دیتا ہے

    اس لئے ججوں اور عدالتوں کو لعن طعن کرنا کسی بھی طرح عقلمندی اور ایمان کا تقاضہ نہیں ہوگا۔ ہمیں خیالی دلیلوں، اٹکلوں اور جذباتیت سے دور ہو کر عدالت کے فیصلہ پر کیوں قناعت کرنا چاہئے اس کی ایک بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ خود اسلامی تاریخ میں ہمیں اس کی رہنمائی ملتی ہے کہ جب فریقین رضامندی سے کسی کو اپنا حَکَم یا ثالثی کرنے والا چن لیں تو پھر حکم کا جو بھی فیصلہ ہو اس پر رد و قد نہ کریں خواہ حق پر ہونے کے باوجود فیصلہ ان کے خلاف ہی کیوں نہ چلا جائے۔

    اس کی بہترین مثال حضرت علی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے واقعہ میں موجود ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہزاروں صحابہ علی و معاویہ کے درمیان ہونے والی جنگ میں شہید ہوئے اور اس کے باوجود کوئی فیصلہ نہیں ہو پایا تو یہ طے کیا گیا کہ فریقین بات چیت سے اس معاملہ کو حل کرلیں لہذا حضرت علی کی جانب سے ابو موسی اشعری اور امیر معاویہ کی طرف سے عمر و بن العاص بطور حَکَم منتخب ہوئے اور ابو موسی اشعری چونکہ سیاسی داؤ پیچ نہیں جانتے تھے بس سا دہ دل صحابی تھے اس لئے عمر و بن العاص جیسے شاندار سیاسی دماغ کے ڈیزائن کو سمجھ نہیں پائے اور فیصلہ امیرِ معاویہ کے حق میں ہوگیا اور حضرت علی نے بھی اس کو قبول فرما لیا۔

    یہ بھی پڑھیں  امید کی سنہری روشنی

    اس سے بھی ہمیں سبق یہ ملتا ہے کہ اسلام جس اعلی کردار کا مطالبہ ہم سے کرتا ہے اس کا تقاضہ کرتا ہے کہ عدالت کا فیصلہ آجانے کے بعد (خواہ موافق ہو یا مخالف) ہمیں اپنا اعلی کردار پیش کرنا ہے اور اتحاد و اتفاق کے ماحول کو قائم رکھنے میں ہمیں اپنا رول ادا کرنا ہے کیونکہ یہ ملک کی سالمیت کا مسئلہ ہے۔ شر پسند عناصر اس تاک میں بیٹھے ہیں کہ کسی طرح بس مسلمان بھڑک جائیں تو پھر قتل و غارتگری کرے خون کی ہولی ہم کھیلنا شروع کریں گویا بابری مسجد۔ رام مندر مسئلہ کوئی تاریخی جنگ ہو جس میں مسلمانوں کا قتل کرکے وہ مغل سلطنت کا خاتمہ آج کے دور میں کرنا چاہتے ہوں۔ یاد رکھئے کہ اس پورے معاملہ کا تعلق روز اوّل سے ہی سیاست سے ہے روحانیت سے نہیں۔

    اس جنگ میں سپاہی کا کردار عام انسان ادا کرتا ہے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔ بے روزگار نوجوان، شراب اور نشہ خوری کے عادی لوگ، اوباش صفت افراد یا کسی عام معاملہ میں ہندو مسلم جھگڑوں سے متاثر گھرانے ان تمام عناصر کا استعمال کرکے غنڈوں کی فوج تیار ہوتی ہے اور اس کی قیادت مقامی سے لیکر قومی سطح کے لیڈران اور تعلیم یافتہ لوگ کرتے ہیں جن کی آواز کو آتش و بارود بنا کر میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلایا جاتا ہے۔ اگر کسی ایک جگہ پر بھی دو چار لوگ بھڑک جاتے ہیں اور تشدد کا استعمال شروع ہو جاتا ہے تو پھر اس کا ویڈیو بنا کر میڈیا ہاؤسز چلاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس میں نفرت کا مزید بارود بھر کر پھیلایا جاتا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  حیدرآباد انکاؤنٹر پرجشن منانے والوں کو قانون کی موت پربھی سوگ منانا چاہئے

    ابھی حالیہ سروے کے مطابق ہندوستان میں فیک نیوز یا من گھڑت بھڑکاؤ خبریں لوگ غلطی سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر شیئر کرتے ہیں جو اونچی ذاتی کے تعلیم یافتہ لوگ کمزوروں (مسلمان اور دلت) کے خلاف چلاتے ہیں ۔ آپ نے سنا ہوگا کہ بی جے پی دیوبند سیل کا صدر گجراج رانا نے ہندوؤں سے اپیل کی ہے کہ دھنتیرس کے موقع پر ہندو سونا کے بجائے تلوار خریدیں جیسا کہ انڈیا ٹوڈے نے رپورٹ کیا ہے۔ ایک دوسرے بی جے پی نیتا راجیشور سنگھ کا بھڑکاؤ بیان گزشتہ مہینہ ہی آیا تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو اس ملک میں رہنے کا حق نہیں ہے اور ہم انہیں ۲۰۲۱ کے اخیر تک ہندو بنا لیں گے۔ اب کملیش تیواری کا معاملہ سامنے آگیا ہے جس میں اس کی ماں بلکہ خود کملیش تیواری یہ کہ چکا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس بالخصوص آدتیہ ناتھ اس کا قتل کروانا چاہتا ہے اس کے باوجود جو کچھ چل رہا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ گویا کسی بھی معمولی سے معمولی واقعہ کو استعمال کرکے قتل و غارتگری کا بازار گرم کیا جا سکتا ہے اس لئے پورے ڈیزائن کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ صورتحال ابتر نہ ہو۔

    یہ بھی پڑھیں  اب تو وہ حکم بہ انداز خدا دیتا ہے

    یوپی حکومت نے دفعہ 144 فیض آباد اور ایودھیا کے علاقہ میں نافذ کردیا ہے اور تیس نومبر تک تمام پولیس اور سیکورٹی عملوں کی چھٹیاں رد کر دی گئیں تاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد معاملہ بے قابو نہ ہو۔ یہ تو حکومتی سطح پر کیا گیا ہے لیکن ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم افواہوں پر کان نہ دھریں اور ہر قسم کی جھوٹ سچ باتیں پھیلانے سے پرہیز کریں کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی فرد کے جھوٹا ہو نے کے لئے بس اتنا کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بیان کرتا پھرے۔ دوسری حدیث میں آپ نے مسلمانوں کو تاکید فرمائی ہے کہ یا تو چست درست بات کرو یا پھر خاموش رہو۔ آپ اس کا بھی خیال رکھیں کہ جہاں کہیں بھی رہ رہے ہوں اپنے آس پڑوس کے لوگوں کے ساتھ بہتر تعلقات بنا کر رکھیں تاکہ ناگہانی وقت میں بے اعتمادی کی بنیاد پر مسائل سنگین نہ ہو جائیں۔ اللہ ملک کو سلامت رکھیں اور فساد و بگاڑ کی فضا قائم ہونے سے معاشرہ محفوظ رہے۔ آمین

    Latest news

    اردو اکادمی دہلی ، دہلی ای۔ لرننگ کورس جلد شروع کرے: منیش سسودیا

    اردو اکادمی، دہلی کی دہلی سیکریٹریٹ میں منعقدگورننگ کونسل کی میٹنگ میں کئی اہم تجاویز پیش نئی دہلی : اردو...

    عام آدمی پارٹی کے روہتاش نگر ودھان سبھا میں منعقدہ مظاہرے میں مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا

    نئی دہلی : بی جے پی کی زیر اقتدار ایم سی ڈی میں بدعنوانی اور مودی حکومت کی ناکام...

    ہر فرد میں ایک دلی جذبہ ہے ،یہاں لوگ ادب سے محبت کرتے ہیں : عامر اصغر قریشی

    شہر ناندورا میں سہ ماہی تکمیل کے مدیر عامر اصغر قریشی کے اعزاز میں ادبی نشست ناندورا : بتاریخ 23...

    ایم سی ڈی بلڈر مافیا کے تعاون سے لیز پر دی گئی دکانوں کا سروے کررہی ہے اور عمارت کو خطرناک دکھا کر خالی...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کے زیر اقتدار نارتھ ایم سی ڈی کی طرف...

    اگلے تین دن تک مسلسل بارش کے امکانات ، تمام افسران دن میں 24 گھنٹے دستیاب رہیں گے ، کسی بھی وقت ضرورت ہوسکتی...

    نئی دہلی : لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دہلی کے نکاسی...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you