رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    شرم تم کو مگر نہیں آتی

    مولانا ارشد مدنی
    ابھی ابھی چند روز کی بات ہے کہ نیوز 18/ٹی وی چینل کے اینکرم امیش دیوگن نے اللہ کے ولی دنیا کے مال ودولت سے بے نیاز درویش اپنی روحانی کمالات کی وجہ سے سینکڑوں سال سے لاکھوں ہندو اور مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن سلطان الہند خواجہ اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں انتہائی احمقانہ اور جاہلانہ جملہ کہا تھا، جس سے پورے ہندوستان میں کہرام مچ گیا، راقم الحروف اگرچہ کبھی سلطان الہند خواجہ اجمیریؒ کے عرس میں شریک نہیں ہوا؛ لیکن خود میں اور میرے بزرگ جو اپنے آپ کو خواجہ اجمیریؒ کے در کا غلام مانتے ہیں ان کے آستانہ تک حاضری اور فاتحہ خوانی کو باعث سعادت گردانتے ہیں۔

    سلطان الہند حضرت خواجہ اجمیریؒ علماء دیوبند کے اکابر کے سلسلہ قدوسیہ چشتیہ صابریہ کے نہایت اہمیت کے حامل اعلیٰ مرتبت ایک شیخ طریقت ہیں؛ چنانچہ بانی دار العلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ نے اپنے شجرہئ منظومہ میں ان لفظوں میں ان کو یاد فرمایا ہے:
    بحق آنکہ شاہ اولیا شد ٭ در او بوسہ گاہ اولیا شد
    معین الدین حسن سجزی کہ برخاک ٭ندیدہ چرخ چوں او مرد چالاک
    ”اے اللہ ان کے طفیل اور صدقہ میں جو اولیا کے بادشاہ ہوئے ہیں، جن کی چوکھٹ اولیاء اللہ کی بوسہ گاہ ہے، یعنی خواجہ معین الدینؒ کہ ان جیسا باکمال ولی آسمان نے زمین پر دیکھا نہیں ہے“۔(میرے دل کو ہر باطل کی محبت سے پاک فرما)۔

    اسی طرح مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے ۱۵۹۱؁ء یا ۲۵۹۱؁ء میں شیخ الاسلام حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ اجمیر شریف تشریف لے گئے تھے وہاں کے سجاد گان نے حضرت مدنی رحمہ اللہ کا بڑا احترام کیا تھا سر پر پگڑی باندھی تھی اور کچھ تبرکات بھی پیش کئے تھے رات کے پروگرام میں حضرت مدنیؒ نے تقریر فرمائی: ”کہ جس طرح آج سے کم وبیش ۳۱/سو سال پہلے انوار نبوت وہدایت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات سے ظاہر ہوئے اور تمام عالم کے لئے آپ کی ذات والا صفات سر چشمہ ہدایت بنی اور رہتی دنیا تک بنی رہے گی اسی طرح ہندوستان کے لئے غلام مصطفی حضرت خواجہؒ کی ذات کو اللہ نے راہ ہدایت سے بھٹکی ہوئی اپنی مخلوق کے لئے سر چشمہ ہدایت بنایا ہے

    یہ بھی پڑھیں  کورونا کے دور میں قابل تقلید سرگرمیاں

    صرف ان کی مبارک صورت کو دیکھ کر دہلی سے اجمیر تک بے شمار لوگ ان کے قدموں پر گرے اور شرک وکفر سے تائب ہو کر اپنے اللہ کے سچے فرماں بردار بنے ہیں“ اسی لئے باوجودیکہ خواجہ رحمہ اللہ ایک فقیر اور درویش تھے لیکن لوگوں کے دلوں پر ان کی حکومت تھی ان کو سلطان الہند آج تک کہا جاتا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں ہندو اور مسلمان خواجہ کی بارگاہ پہنچتے رہتے ہیں ایسی ذات والا صفات جو اپنے مشائخ کے حکم سے اجمیر پہنچے اور اللہ کے دین کو لوگوں کے دلوں میں اتارنے کے کام کرتے کرتے دنیا سے چلے گئے اور اجمیر شریف ہی کو قیامت تک اپنا مسکن بنا ڈالا ان کو ”لٹیرا“ کہنا، کہنے والے کی بدبختی نہیں تو اور کیا ہے؟۔

    یہ بھی پڑھیں  وزیرداخلہ نے این پی آر پر پارلیمنٹ میں جو کہا ہے اس کا حلف نامہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں دیتے؟

    باہر سے آنے والے مسلم بادشاہوں کو ہندوستان میں کچھ لوگوں نے یہ لقب دیا ہے کہ وہ ہندوستان کی دولت کو سمیٹ کر باہر لے گئے، یہ بات ان بادشاہوں کے لئے کہی جا سکتی ہے جو حملہ آور ہوئے اور لوٹ گئے اگرچہ وہاں بھی تاریخی اعتبار سے دلائل کو بنیاد بنانا پڑے گا، لیکن وہ بادشاہ جو آئے اور ہندوستان ہی کو انھوں نے اپنا وطن بنا لیا وہ اور ان کی اولاد اور خاندان سینکڑوں سال حکومت کرتے رہے اور مرتے رہے ان کی قبریں ہندوستان ہی میں موجود ہیں تو ان کو لٹیرا کیسے کہا جا سکتا ہے؟ لیکن اس سے آگے بڑھکر اللہ کے ولی فقیروں اور ولیوں کو لٹیرا کہنا یہ تو کہنے والے کی اپنی نادانی اور تاریخ سے بے خبر ہونے کی دلیل ہے۔

    لٹیرا اگر کہا جاسکتا ہے تو انگریز اور خاص طور پر (ایسٹ انڈیا کمپنی) کو کہا جاسکتا ہے کیونکہ وہ لوگ ہندوستان کو لوٹنے کھسوٹنے کے لئے ہی آئے تھے اور انھوں نے اپنے دور اقتدار میں ہمارے ملک کی دولت کو لوٹ کھسوٹ کر اپنے خزانے کو آباد کیا ہے، ”معیشت الہند“ کے مصنف لکھتے ہیں کہ: ۱۰۶۱ ؁ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا سرمایہ کل ۰۳/ ہزار پونڈ تھا لیکن ۰۶/ سال کی مدت میں ”چارلس دوم“ ”کرام ول“ کو ایسٹ انڈیا کمپنی نے ۳/ سے لیکر ۴/ لاکھ پاونڈ تک نذرانہ پیش کیا ہے، یہ غور کرنے کی بات ہے کہ کمپنی جب نذرانہ ۴/لاکھ پاونڈ دے رہی ہے تو اس کا اپنا سرمایہ کتنے کروڑ پاونڈ ہو گیا ہوگا؟ جو صرف ۰۶/سال میں سونے کی چڑیا ہندوستان کی دولت کو لوٹ کر بنا ہے۔ یہ بات سوچنی چاہئے کہ جب ساٹھ سال میں یہ لوٹ ہوئی ہے تو تین سوسال میں کتنی لوٹ ہوئی ہوگی۔

    یہ بھی پڑھیں  صرف اپنا نہیں دوسروں کا بھی خیال رکھیں

    ۷۵۷۱؁ء میں ”کتاب قانون تمدن وتنزل“ ”بروکس ایڈسن“ لکھتا ہے کہ بنگال کے خزانے یعنی کروڑوں آدمیوں کی کمائی ”نواب سراج الدولہ کی حکومت کو گرانے کے بعد انگریزوں نے ہتھیا کر لندن اسی طرح بھیج دی جس طرح رومن نے ”یونان اور پونٹس“ کے خزانے ”اٹلی“ بھیج دئے تھے، ہندوستان کے خزانے کتنے قیمتی تھے کوئی انسان بھی اس کا اندازہ نہیں کر سکتا، لیکن وہ کروڑوں اشرفیاں ہوں گی، اتنی دولت اور ثروت کہ مجموعی یورپین دولت سے بہت زیادہ تھی۔

    ”بروکس ایڈسن“ نے اپنی مذکورہ کتاب میں سرولیم دگبی کا یہ قول بھی لکھا ہے کہ بنگال میں نواب سراج الدولہ کے ساتھ اسی جنگ پلاسی ۷۵۷۱؁ء کے بعد بنگال کی دولت لُٹ لُٹ کر لندن پہنچنے لگی اور اس کا اثر فوراً ہی ظاہر ہوگیا۔

    ”میجروینکٹ“ کہتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹروں کے ساتھ سَرسَری اندازہ کے ساتھ بڑی آسانی کے ساتھ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ جنگ پلاسی ۷۵۷۱؁ء اور جنگ واٹر لو ۵۱۸۱ ؁ء کے درمیانی زمانہ میں ہندوستان سے انگلستان کو پندرہ ارب روپیہ جا چکا تھا۔ (ماخوذ از نقش حیات)
    اسی مدت کے اندر ۹۹۷۱ ؁ء میں ریاست میسور کے نواب سلطان ٹیپو رحمہ اللہ کو سرنگا پٹنم میں شہید کیا گیااور ان کی شہادت کے بعد انگریز فوجی لٹیروں نے ان کے خزانے اور وہاں کے رہنے والے ہندو اور مسلمانوں کی دولت وثروت بلکہ ان کی عورتوں کی عزت وآبرو کو جس طرح لوٹا ہے اس کو جاننے کے لئے ”سلطنت خداداد“ کتاب کے صفحات کو ۳۲۳/ سے ۷۳۳/ تک دیکھا جائے، ہم نے جو بھی باتیں نقل کی ہیں وہ خود انگریز مصنفین ہی کی لکھی ہوئی باتوں کو نقل کیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  ہندستانی مسلمان یعنی چکن خوروں کی بھیڑ
    یہ بھی پڑھیں  کرونا وائرس سے ہم کیا سبق لیں؟

    حیرت کی بات ہے کہ اس اینکر کو ایک خدارسیدہ درویش دنیا کی دولت کو ٹھوکر مارنے والا ہندو اور مسلمانوں کے دلوں پر حکومت کرنے والا خدا کا ولی تو ”لٹیرا“ نظر آتا ہے لیکن سونے کی چڑیا ہندوستان کی دولت کے خزانوں کو لوٹ کر انگلستان پہنچانے والا اور ہندوستان کوتنگ دست اور فقیر بنا کر پوری ہندوستانی قوم کو غلام در غلام بنانے والا ”لٹیرا“ نظر نہیں آتا، یہ اینکر اسی غلام بنانے والی قوم کی زبان، اس کی تہذیب اور اس کے تمدن کو ۰۷/ سال کے بعد بھی اپنے لئے باعث صد افتخار سمجھتا ہے جس کا مطلب ہے کہ آج بھی اسی ”لٹیری“ قوم کا غلام ہے اور غلامی کا احساس بھی اس کو نہیں ہوتا، بلکہ ملک کا ایک طبقہ انگریز جیسی لٹیری قوم کی محبت میں خود لٹیرا بنکر ہندوستان کے غریب عوام کی ہزاروں ہزار کروڑ کی دولت لوٹ کر بھاگتا ہے تو اپنے لئے پناہ گاہ یورپ اور خاص طور پر انگلینڈ ہی کو بناتا ہے۔ ان لٹیروں اور بھگوڑوں کی فہرست پارلیمنٹ میں پچھلے دنوں پیش کی گئی تھی لیکن میں نہایت خوش ہوں اور آپ لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ سلطان الہند خواجہ غریب نواز رحمہ اللہ کی اپنی زندگی تو نہایت پاکیزہ اور بلند ترین ہے ان کی غلامی کا دم بھرنے والے کسی ایک کا نام بھی ہندوستان کے لٹیروں اور بھگوڑوں کی اس فہرست میں آپ کو نہیں ملے گا۔

    میں آخر میں اس دریدہ دہن اینکر کو نصیحت کرتا ہوں کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تمہاری طرف سے خواجہ کی شان میں یہ گستاخی تم کو بربادی کی اوڑ تک نہ پہنچا دے،اس لئے خواجہ کی چوکھٹ پر پہلی فرصت میں جاؤ نذرانہ پیش کرو اور دونوں ہاتھ باندھ کراپنی گستاخی کی معافی مانگو تاکہ تم اس گستاخی کے بھیانک اور برے انجام سے محفوظ رہ سکو اور آئندہ کے لئے اس طرح کی توہین آمیز باتوں سے توبہ کر کے آؤ اور حلال روزی کما کرکے اپنے اور اپنی اولاد کے پیٹ کو پالو اور عزت کی زندگی گزارو۔

    (مضمون نگار جمعیۃ علماء ہند کے صدر ہیں)

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  صرف اپنا نہیں دوسروں کا بھی خیال رکھیں

    Latest news

    دہلی حکومت کے کوویڈ اسپتالوں میں آئی سی یو بیڈوں کی مسلسل بڑھ رہی ہے تعداد

    نئی دہلی : کوویڈ -19 کے خلاف دہلی کی لڑائی میں طبی بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کے لئے...

    اردو یونیورسٹی کے ریگولر کورسس میں آن لائن داخلے جاری

    حیدرآباد : مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے تعلیمی سال 2020-21 کے لیے مرکزی کیمپس حیدرآباد اور دیگر سٹیلائٹ...

    ’جیو میٹ ‘زوم کے مقابلے آسان:امیتابھ کانت

    جیو میٹ کے سافٹ لانچ اور اس کے استعمال سے ہر کسی کو مفت ویڈیو کانفرنسنگ سہولت کے بعد...

    جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں تصادم، دو جنگجو ہلاک

    سری نگر : جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے واگہامہ بجبہاڑہ میں منگل کی علی الصبح ہونے والے...

    چینی ایپ پر پابندی لگانے پر ملک نے تعریف کی : جاوڈیکر

    نئی دہلی : اطلاعات و نشریات کے وزیر پرکاش جاوڈیکر نے آج کہا کہ 59موبائل ایپ پر پابندی لگانے...

    بی جے پی کے خلاف کانگریس کارکنان اترے سڑکوں پر

    لکھنؤ : اترپردیش میں تین دہائیوں سے زیادہ وقت سے اقتدار سے باہرکانگریس اس وقت جس طرح سے ریاستی...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you