رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    آ گے کنواں پیچھے کھائی

    معصوم مرادآبادی

    ہندی روزنامہ” نوبھارت ٹائمز” کے مطابق راجدھانی دہلی کے میور وہار علاقے میں گوتم سدا نامی ایک شخص نے شٹ ڈاؤن کے سبب اپنی ملازمت کھودینے کے غم میں پیڑ سے لٹک کر خود کشی کرلی۔ گوتم کے خاندان میں بیوہ رنجن دیوی سمیت پانچ بچے شامل ہیں۔گوتم ایک ٹھیکیدار کے پاس مالی کے طور پر ملازم تھا۔ کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہوا تو ٹھیکیدار نے اسےملازمت سے علیحدہ کردیا۔ گوتم کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں نکلے کہ اس کی آ خری رسومات ادا کی جاسکتیں لہذا یہ کام بھی پڑوسیوں نے چندہ کرکے انجام دیا۔یہ ان لاتعداد کہانیوں میں سے ایک دلخراش کہانی ہے جو آ ئندہ چند دنوں میں ہمارے سامنے آ ئیں گی اور ہم ان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے آ گے بڑھ جائیں گے چونکہ اس سے زیادہ اہم اور چونکا دینے والی خبریں ہمارا انتظار کررہی ہوں گی۔

    یہ بھی پڑھیں  بابری مسجد معاملہ اور اسلامی کردار کا تقاضہ

    حقیقت یہ ہے کہ نوٹ بندی کی طرح بغیر کسی ہوم ورک کے نافذ کئے گئے شٹ ڈاؤن نے کروڑوں لوگوں کے سامنے زندہ رہنے کا چیلنج کھڑا کردیا ہے اور وہ بھکمری کی سرحدوں تک پہنچ رہے ہیں۔
    بلاشبہ کورونا وائرس کا چیلنج پچھلے 100 برسوں کے دوران ملک میں پیدا ہونے والا سب سے بڑا چیلنج ہے ۔طبی ماہرین نے ہندوستان کے لئے اس کی جو تباہ کاریاں بیان کی ہیں ان سے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں۔ لیکن ایک دوسری اور زیادہ تلخ حقیقت یہ ہے کے ملک گیر سطح پر نافذ کئے گئے کرفیو کے نتیجے میں غیر منظم سیکٹر میں کام کرنے والے ان کروڑوں لوگوں کے سامنے زندگی اور موت کا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے جو روز کنواں کھودتے ہیں اور اس میں سے زندگی کشید کرتے ہیں۔ یہ لوگ دوچار دن کی بھکمری برداشت کرنے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔ حکومت نے اب تک ان لوگوں کے لئے کسی ٹھوس پیکج کا اعلان نہیں کیا ہے کیونکہ اس کا اپنا خزانہ خالی ہے اور جی ڈی پی روبہ زوال ہے۔ کسادبازاری کے نتیجے میں پہلے ہی ٹیکسوں کی وصولی متاثر ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  ملک ایک مشکل دوراہے کی طرف بڑھ رہا ہے
    یہ بھی پڑھیں  بابری مسجد۔رام مندر تنازع کا فیصلہ آنے کے بعد مسلمانوں کی آزمائش

    ایسے میں یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کورونا وائرس سے زیادہ ہلاکتیں بے روزگاری، افلاس اور غربت کے نتیجے میں ہوسکتی ہیں ۔ حکمراں اس معاملے میں کتنے بیدار ہیں اس کا اندازہ کل ایودھیا میں اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ پہنچے یوپی کے وزیر اعلیٰ ہوگی آ دتیہ ناتھ کے طرزعمل سے ہوتا ہے جو تمام ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے رام للہ کو چاندی کے گہوارے میں بٹھانے وہاں پہنچ گئے۔ رام للہ تو کروڑوں روپے کی لاگت سے بنائے گئے گہوارے میں محفوظ ہوگئے ہیں لیکن اتر پردیش جیسی ملک کی سب سے بڑی ریاست کے کروڑوں یومیہ مزدوروں کی انھیں کوئی فکر نہیں ہے۔ سب سے زیادہ یومیہ مزدور اسی ریاست میں پائے جاتے ہیں۔ جب ایسے سنگین حالات میں سیاستدانوں کو محض اپنے ووٹ بینک سے سروکار ہوگا تو انھیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ لوگ ووٹ دینے شمشان گھاٹ اور قبرستان سے نہیں آ ئیں گے۔

    یہ بھی پڑھیں  شاہین باغ تیری عظمت کو سلا م

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  ملک ایک مشکل دوراہے کی طرف بڑھ رہا ہے

    Latest news

    دہلی میں 5-ٹی پلان کو عمل میں لاکر جیتیں گے کورونا سے جنگ : اروند کیجریوال

    نئی دہلی : دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ سے کورونا کو شکست دینے...

    میڈیا کی متعصبانہ رپورٹنگ کے خلاف جمعیة علماء ہند سپریم کورٹ میں

    نئی دہلی:ملک کے بے لگام ٹی وی چینلوں پر قانونی لگام لگانے کی پہل جمعیةعلماءہند نے کردی گزشتہ روز...

    مرکزی حکومت نے 27 ہزار پی پی ای کٹس مختص کیں: اروند کیجریوال

    نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ ہم دہلی میں کسی کو بھوکا سونے نہیں...

    کورونا وائرس پوری دنیا میں قہر بن کر ٹوٹ رہاہے : مولانا ارشد مدنی

    دیوبند: جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ کورونا وائرس پوری دنیا میں قہر...

    سات نئے کورونا کے مثبت معاملے ملنے سے مچا ہڑکمپ

    لکھنؤ:راجدھانی میں کورونا مثبت پائے گئے مریضوں کی تعداد میں کوئی بھی کمی نہیں آرہی ہے۔سات نئے معاملے سامنے...

    معـــاشرتی ، مــذہبی اور عــــلاقائی اختــلاف سے بالاتر ہوکر ہی کـــوویڈ 19 سےجیتی جاسکتی ہے جنـــــــگ : پروفیســــر احــــرار حســـــین

    نئی دہلی : سنٹر فار ڈسٹنس اینڈ اوپن لرننگ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈائریکٹر (اکیڈمک) پروفیسر احرار حسین نےکہاکہ...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you