رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    اس تحریک کو “لاالہ الا اللہ” کے کفن میں مت لپیٹے۔

    سیف ازہر
    سیف ازہر

    فی الحال جو لڑائی پورے بھارت میں زوروشور سے چل رہی ہے وہ سی اے اے ، این پی آر اور این آرسی کے خلاف چل رہی ہے۔۔۔ یہ بتانا اس لیے ضروری تھا کہ بہت سے لوگوں کو لگتا ہے یہ ہمارے “پہچان” کی لڑائی ہے۔۔۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کس طرح کے پہچان کی لڑائی ہے۔۔۔؟
    لوگ کہتے ہیں کہ سی اے اے میں بھید بھاو کیا گیا ہے وہ ہماری پہچان کی وجہ سے ہی کیا گیا ہے۔۔۔ یقینا پہچان کی وجہ سے کیا گیا ہے۔۔۔ آپ کی ایک الگ پہچان ہے اس لیے ہی باہر کیا گیا ہے اگر پہچان نہیں ہوتی تو جیسے چھ لوگوں کو شامل کر لیا گیا ہے ، اسی طرح آپ کو بھی شامل کرلیا جاتا۔۔۔ آپ کو آپ کی پہچان کی وجہ سے ضرور باہر کیا گیا ہے مگر کس لیے کیا گیا ہے یہ اہم سوال ہے۔

    یہ بات تو ثابت ہے کہ آپ کی ایک پہچان ہے اس لیے باہر کیا گیا ہے مگر پہچان مٹانے کیلئے نہیں وجود مٹانے کیلئے باہر کیا گیا ہے۔ پہچان راستہ ہے منزل آپ کا وجود ہے۔۔۔ اسی لیے لڑائی راستے کی نہیں منزل کی لڑیے راستے خود بخود پیدا ہونگے۔
    ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ پہچان ہے کیا۔۔۔؟

    یہ بھی پڑھیں  جمعہ جلوس نہیں ،عوامی جلوس

    کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ گھرواپسی کا ایک راستہ ہے کیونکہ جو این آرسی میں باہر ہوگا اس کو اسی بنیاد پر دوبارہ شہریت ملے گی کہ وہ سی اے اے میں مذکورچھ دھرموں میں سے کسی ایک قبول کرے۔۔۔ تو یاد رہے یہ صرف مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہوگا۔۔۔ ان چھ دھرموں کے علاوہ بھی اس دیش میں بہت سے مذاہب ہیں۔۔۔ پھر بھی اگر آپ کو اس بات کا ڈر ہے کہ بہت سے مسلمان مجبورا گھرواپسی کرلیں گے۔۔۔ تو یہ بھی آپ کے پہچان کا نہیں وجود کا مسئلہ ہے کیونکہ مذہب وجود کا حصہ ہے۔۔۔ مذہب جب وجود میں اترتا ہے تب پہچان بنتا ہے۔۔۔ صرف پہچان سے مذہب نہیں ہوتا۔

    یہ بھی پڑھیں  ملک ایک مشکل دوراہے کی طرف بڑھ رہا ہے

    آپ کی ظاہری پہچان یہی ہے کہ آپ ٹوپی لگاتے ہو ، داڑھی رکھتے ہو ، برقع پہنتے ہو وغیرہ اور اگر آپ کا وجود ہی نہیں رہا تو یہ سب کیسے بچا پاو گے۔۔۔؟
    چلو پھر بھی مان لیتے ہیں کہ آپ کے پہچان ہی کی لڑائی ہے تو کس سے لڑیں گے۔۔۔ کیا آرایس ایس اور بی جے پی حکومت آکر ہر ہفتے آپ کی داڑھی منڈوا دیتی ہے۔۔۔؟ کیا بازار میں برقع اتار کر جانے پر پولیس آپ کو مجبور کررہی ہے۔۔۔؟ رہی بات تکبیر کی تو کس مسجد میں پانچ وقت کی اذان نہیں ہورہی ہے۔۔۔؟
    اس لیے کہتا ہوں حکومت اور آرایس ایس سے وجود کی لڑائی ہے اور اپنے آپ سے پہچان کی لڑائی ہے۔
    آپ کی پہچان کیا تھی۔۔۔؟ اعلی اخلاق۔۔۔ 90 ؍فیصد سے زائد مسلمانوں کے پاس اخلاق کے نام پر کیا ہے۔۔۔؟
    آپ کی پہچان کیا تھی۔۔۔؟ “اللہ کے رسول نے کہا مومن سب کچھ ہوسکتا ہے مگر جھوٹا نہیں ہوسکتا”۔۔۔ کوئی ایک مسلمان بتا دو جو جھوٹ نہ بولتا ہو۔۔۔ کیا آپ سے جھوٹ حکومت بولوا رہی ہے۔۔۔؟

    یہ بھی پڑھیں  بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 151 ویں یوم پیدائش پر خراج عقیدت

    آپ کی پہچان کیا تھی۔۔۔؟ امانت داری۔۔۔ کتنے مسلمان ہیں جو امانت دار ہیں۔۔۔؟
    آپ کی پہچان کیا تھی۔۔۔؟ حسن سلوک۔۔۔ کتنے لوگ ہیں جن کے اندر حسن سلوک ہے۔۔۔؟ وغیرہ
    اس لیے کہتا ہوں پہچان کی لڑائی لڑنی ہے تو خود سے لڑو سرکار سے نہیں سرکار سے ہمارے وجود کی لڑائی ہے۔
    جوآپ کو بتار ہے ہیں کہ یہ آپ کے پہچان کی لڑائی ہے ان کے بیک گراونڈ پر ایک نظر ڈالیے۔۔۔ یہ آپ کی لڑائی کو اپنے سیاسی مفادات کیلئے اچکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    چلو ٹھیک ہے آپ کے حساب سے یہ پہچان کی لڑائی ہے تو ٹھیک ہے آپ لڑیے مگر اس اسٹیج سے نہیں۔۔
    آخر کیوں۔۔۔؟

    یہ بھی پڑھیں  اب تو وہ حکم بہ انداز خدا دیتا ہے

    یہ تحریک جامعہ کی قربانی سے شروع ہوئی ہے اور پورے بھارت میں پھیلی ہے۔۔۔ جامعہ میں اس دن قربانی دینے والوں میں صرف مسلمان نہیں تھے۔۔۔ ہندو مسلم سکھ عیسائی اور ناستک طلبہ بھی تھے۔۔۔ خدا را ان کی قربانیوں کو اپنے مفاد کیلئے لاالہ الا اللہ کے کفن میں مت لپیٹے۔

    یہ بھی پڑھیں  امید کی سنہری روشنی

    فیکلٹی آف ایجوکیشن
    جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    کورونااورلاک ڈاؤن بھی نفرت کے وائرس کو ختم نہیں کرسکے

    مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا یہ خطرناک کھیل آخر کب تک؟: مولانا...

    مسلمانوں سے متعلق میڈیا کا دہرا رویہ تشویشناک ، گرفتاریوں کا ڈھنڈورا لیکن عدالت سے رہائی کا کوئی ذکر نہیں : مولاناارشدمدنی

    نئی دہلی : بنگلور سیشن عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سے ڈسچار ج کیئے گئے تریپورہ...

    ہماری سرکار اردو کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے : وزیراعلیٰ،دہلی

    وائس چیئرمین اکادمی حاجی تاج محمد سے خصوصی ملاقات میں متعلقہ مسائل کے حل کی یقین دہانی نئی دہلی :...

    جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے اور وہ راشن لینا چاہتے ہیں، وہ مرکز میں آکر راشن لے سکتے ہیں: گوپال رائے

    نئی دہلی : دہلی کے وزیر ترقیات گوپال رائے نے آج بابرپور کے علاقے کردمپوری میں پرائمری اسکول میں...

    رام مندر کے لئے ، 12080 مربع میٹر اراضی 18.50 کروڑ میں خریدی گئی ، جبکہ اس سے متصل 10370 مربع میٹر اراضی صرف...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور اترپردیش انچارج سنجے سنگھ نے رام مندر کے لئے...

    نائب وزیر اعلی اور وزیر خزانہ منیش سسودیا نے غیر ضروری سرکاری اخراجات کو کم کرنے کا حکم جاری کیا

    نئی دہلی : کورونا کی وجہ سے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ، دہلی حکومت نے اخراجات کے...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you