رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    شاہین باغ سے شاہین باغ تک

    معصوم مرادآبادی

    پولیس نے شاہین باغ کے احتجاجی مقام کو کورونا وائرس کے بہانے تہس نہس کردیاہے۔ آ ج اس بے نظیر احتجاج کا 101 واں دن تھا۔ آ ج ہی صبح مرادآباد کی عیدگاہ میں گزشتہ 29 جنوری سے جاری خواتین کے انتہائی کامیاب دھرنے کی جگہ پر بھی بلڈوزر چلا دیا گیا ۔ اس سے ایک دن قبل لکھنؤ کے گھنٹہ گھر اور دیوبند میں جاری جرات مند خواتین کے دھرنے کو بھی ختم کیا گیا تھا۔

    یہ سب کارروائیاں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی احتیاطی تدابیر کے نام پر کی گئی ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور اس کی مشینری سیاہ قانون کے خلاف جاری اس موثر تحریک کو ختم کرنے کا بہانا ڈھونڈ رہی تھی چونکہ اس تحریک کے نتیجہ میں پوری دنیا شہریت ترمیمی قانون کی تباہ کاریوں کی طرف متوجہ ہوئی اور اس نے شہریت کو مذہب سے جوڑنے کے فارمولے کو پوری طرح مسترد کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون سازی کے خلاف سپریم کورٹ میں جو 160 عرضیاں داخل کی گئی ہیں ان میں ایک عرضی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی داخل کی ہے اور خود کو اس میں پارٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  مودی حکومت غریبوں کی دوست یا دشمن؟

    شہر یت ترمیمی قانون کے ساتھ ساتھ شاہین باغ پروٹسٹ کا مسئلہ بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا اور احتجاجی خواتین سے مذاکرات کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے باضابطہ مذاکرات کار متعین کئے تھے۔ جنہوں نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کردی تھی۔

    حقیقت یہ ہے کہ شاہین باغ کااحتجاج پوری دنیا میں سیاہ قانون کے خلاف مزاحمت کی ایک علامت بن گیا تھا ۔ جس کی قیادت ہماری غیور خواتین کررہی تھیں۔اس احتجاجی تحریک کو بدنام کرنے اور کچلنےکی کوششیں روز اول سے ہورہی تھیں اور شمال مشرقی دہلی کا فساد بھی اس تحریک میں شامل لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے لئے ہی برپاکیا گیا تھا ۔لیکن جان ومال کے اتنے بڑے نقصان کے باوجود لوگ خوفزدہ نہیں ہوئے اور وہ دہلی سے لکھنؤ تک پوری قوت کے ساتھ ڈٹے رہے۔ شاہین باغ کی طرز پر پورے ملک میں دوسو سے زیادہ مقامات پرخواتین کے دھرنے ہوئے اور ان میں سے کئی آ ج بھی چل رہے ہیں۔شاہین باغ میں آ ج کی پولیس کارروائی کے نتیجے میں دھرنے کا سازو سامان ضرور ضائع ہو گیا ہے

    یہ بھی پڑھیں  ہاتھرس سانحہ: نہ دلت ہوتی نہ ایسا ہوتا
    یہ بھی پڑھیں  دہلی میں فرقہ پرستی شکست کے قریب

    لیکن اس سے ان لوگوں کے حوصلے نہیں ٹوٹے ہیں جو اس ملک میں ظلم اور ناانصافی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں۔ اس تحریک میں شامل خواتین نے حوصلے نہیں ہارے ہیں اور انھوں نے اپنا احتجاج سوشل میڈیا کے ذریعے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں حالات نارمل ہونے کے بعد یہ تحریک دوبارہ رفتار پکڑے گی ۔شاہین باغ ظلم وناانصافی کے خلاف مزاحمت کی ایک تحریک ہے اور تحریکوں میں کبھی کبھی قدم پیچھے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ہمارے وہ مائیں بہنیں اور بیٹیاں مبارکباد اور تحسین کی مستحق ہیں جنہوں نے اس تحریک کو کامیابی سے ہم کنار کیا اور کورونا وائرس کی وجہ سے ہی سہی این پی آر کا پہلا مرحلہ کھٹائی میں پڑ گیا۔

    ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

    یہ بھی پڑھیں  آ گے کنواں پیچھے کھائی

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  وزیرداخلہ نے این پی آر پر پارلیمنٹ میں جو کہا ہے اس کا حلف نامہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں دیتے؟

    Latest news

    کیجریوال حکومت کے بروقت لاک ڈاؤن نے دہلی میں کوویڈ 19 میں انفیکشن کی شرح کو کم کردیا

    نئی دہلی : دہلی حکومت کی کاوشوں اور بہتر کوویڈ انتظامیہ کی وجہ سے ، انفیکشن کی شرح میں...

    پچھلے سال دہلی حکومت نے آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو 5-5 ہزار روپے دے کر مدد کی تھی: اروند کیجریوال

    نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی سربراہی میں ، مالی تنگدستیوں سے نبرد آزما غریب خاندانوں...

    دارالعلوم دیوبند کے استاذ عربی مولانا نورعالم امینی کے سانحہ ارتحال پر صدرجمعیۃعلماء ہند وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند مولانا ارشدمدنی نے کیا رنج وغم...

    نئی دہلی : دارالعلوم دیوبند کے استاذعربی مولانا نورعالم امینی کے سانحہ ارتحال پر صدرجمعیۃعلماء ہند وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند...

    نوجوانوں میں ویکسینیشن کا جوش و خروش، بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی وجہ سے کورونا ہاریگا : نائب وزیر اعلی

    نئی دہلی : دہلی حکومت نے پیر سے 18 سے 45 سال کے درمیان لوگوں کے لئے مفت کورونا...

    کورونا کا قہر جاری عوام کی رائے سے دہلی میں ایک ہفتہ کےلئے اور لاک ڈاؤن بڑھایا جارہا ہے : اروند کیجریوال

    کورونا کا انفیکشن 37 سے گھٹ کر 30 فیصد ہوگیا ہےلیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کورونا ختم ہونے...

    94 سالہ شخص کو سپریم کورٹ نے عبوری راحت دی

    جولائی تک پیرول میں توسیع کردی، 27 سال بعد گھر پر عید منا سکیں گے ڈاکٹر حبیب : گلزار...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you