رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    عالی جناب نریندر مودی جی کے بیس (20) برسوں کی بہترین حکمرانی کا سفر

    تحریر۔۔۔۔۔مختار عباس نقوی

    ایک جمہوری حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے جناب نریندر مودی کے بیس (20) برسوں کی بہترین حکمرا نی کا سفر کانٹوں بھرے تاج سے کم نہیں رہا۔ گجرات میں آنے والے زلزلے سے لے کر کورونا کے قہر سے ہونے والی تباہی کو عام لوگوں کے لئے آفت نہ بننے دینا اور اس تباہی کو مواقع میں تبدیل کر دینا، یہ مسٹر نریندر مودی کی مضبوط قوت ارادی اور پختہ عزائم کی بناء پر ہی ممکن ہوسکا ہے۔

    سب سے بڑے بحرانوں میں جناب نریندر مودی کے ’’بحران کو حل کرنے‘‘ کی بے پناہ صلاحیت پر، یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’’جب حوصلہ بنالیا اونچی اُڑان کا۔۔۔ پھر دیکھنا فضول ہے قد آسمان کا۔‘‘ جناب نریندر مودی کے بیس (20) برسوں کی بہترین حکمرا نی کے دوران ــ’’انتھک محنت، بہتر نتائج کے حصول کے منتر‘‘ نے ’’طواف کرنے کی سیاست‘‘ کو چھو منتر کیا ہے۔ جناب نریندر مودی نے ان بیس (20) برسوں میں ریاست سے مرکز تک اقتدار کے گلیارے سے ’’طواف کرنے کی روایت‘‘ کو ختم کرکے ’’مشقت اور نتائج کے حصول‘‘کی توثیق کی۔

    اقتدار اور سیاست کی راہداریوں میں دہائیوں سے طواف کو ہی ’’ حوصلہ مندی ‘‘سمجھنے والے افراد ’’انتھک محنت اور بہتر نتائج‘‘ پر عمل پیرا ہونے کی روایت کی بناء پر حاشئے پر چلے گئے ہیں۔ اسی’’ نتیجہ کے حصول کے راز‘‘ نے سیاست کے گلیارے سے سیاست کے دلالوں کو’’ چھومنتر‘‘ کیا ہے ۔ اپنے بیس (20) برسوں کی عوامی زندگی میں پہلے ،گجرات کے وزیر اعلیٰ اور اب وزیر اعظم ، ہندکے طور پر ، جناب نریندر مودی نے ہمیشہ ہی آفات کو مواقع میں بدل کر اپنی تجربہ کاری اور مہارت ثابت کی ہے، بحران کے وقت، ’’ بحران کو مہارت سے حل کرنے ‘‘ کا کردار ادا کیا ہے۔

    26؍جنوری 2001میں گجرات کے بھُج ، کَچھ ، بھروچ ، انجار ، گاندھی نگر ، راجکوٹ ، وغیرہ میں آئے دنیا کے بھیانک تاریخی زلزلے اور اس سے ہوئی بربادی سے پیدا ہونے والے پیچیدہ مسائل اور مشکلات کے چیلنجوں پر اثر انداز ہونے کی کوششوں اور مشقّت کے نتائج اور بحران کے چیلنجوں کے وقت اس لڑائی میں شامل لوگوں کے ساتھ آخری صف میں کھڑے ہوکر اس بات کی یقین دہانی اور احساس کرانا کہ اس چیلنج کے وقت فوج کے ساتھ سپہ سالار کا اتنی ہی سنجید گی ، محنت اور مضبوطی سے میدان میں کھڑے رہنا جناب نریندر مودی جی کی خاصیت رہی ہے۔ گجرات کے زلزلے سے پیداہ ہونے والے چیلنج پر اُسی مضبوط قوتِ ارادی اور عزمِ مُحکم سے جناب نریندر مودی جی نے زلزلے کے دوران پیدا ہونے والے بحران و مسائل پر فتح حاصل کی تھی۔

    یہ بھی پڑھیں  جمعہ جلوس نہیں ،عوامی جلوس

    دنیا متحیّر تھی ، حیرت زدہ تھی ، کہ اتنے بڑے سانحے کو جس میں 80 فیصد سے زیادہ کھانے ۔ پینے کے ذرائع تباہ ہوگئے تھے ، لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہوں ، ہزاروں افراد کو اپنی جانیں گنوانی پڑی ہوں ، کچھ ہی دنوں پہلے وزیر اعلیٰ کے عہدے کی ذمہ داری سنبھالنے والے جناب نریندر مودی نے کس جادو کی چھڑی سے صورتحال کو قابو میں کیا اور حالات کو بہتر بنانے کا راستہ صاف کیا ، دنیا کے سارے ممالک یہ دیکھ کر حیران ہیں کہ آج ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں ان علاقوں کے بربادی کے نشان تاریخ کا ایک حصّہ بن گئے ہیں اور آج دنیا کی بہترین ترقی یافتہ جگہوں میں سے ایک کہے جاسکتے ہیں۔ جس وقت جنوری 2020میں کو رونا وبا پر بحث شروع ہوئی تھی ، اُس وقت وزیر اعظم ، مسٹر نریندر مودی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لئے متاثّرہ تدابیر کا خاکہ تیار کر چکے تھے ۔

    یہ بھی پڑھیں  حج 2020 ، سعودی عرب کا فیصلہ اور سید سلمان ندوی کی ہفوات

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے 11 مارچ 2020کو عالمی وبا کا اعلان کیا تھا ۔ اُس سے دو ہفتے قبل ہی بھارت کے سبھی ہوائی اڈّوں پر بیرون ممالک سے آنے والی سبھی اڑانوں سے آئے مسافروں کی ابتدائی جانچ شروع ہوگئی تھی ۔ یکم مارچ 2020 یا اُس کے بعد بیرونِ ملک سے آئے سبھی افراد کو کم سے کم دو (2) ہفتوں کی تنہائی کی رہائش ضروری کردی گئی تھی۔ کورونا کے پیچیدہ دور میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی حساسیت ، سرگرمی اور ملک کو اس بحران سے نجات دلانے میں مرکزی کردار نے ملک کے عوام کا اعتماد بڑھایا۔ ایک طرف کوروناکا قہر ، دوسری طرف سرحدوں کی حفاظت ، تیسری طرف زلزلے ، طوفان، سیلاب جیسی قدرتی آفات کے چیلنج ، اسی درمیان ٹڈیوں کے ذریعہ فصلوں کی بربادی اور ” پھسڈیوں ” کی بکواس بہادری بھی چلتی رہی۔

    بھارت جیسے عظیم اور وسیع ملک کے لئے یہ بڑے بحران کا دور رہا ، لیکن ملک کے لوگ اِس پریشانی سے کم سے کم متاثر ہوں ، اس کا بھرپور انتظام اور کوشش مودی جی کی ـ’’ محنت۔ کار کردگی اور مثبت نتائج‘‘ کے حصول کے لئے لگن سے کام کرنے کا سلیقہ ایک زندہ ثبوت ہے۔اس بحران کے دوران بھی ، لوگوں کے مثبت عزم اور مودی حکومت کے تئیں پختہ اعتقاد کا نتیجہ رہا کہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ، صحت کے شعبے میں بھارت خود کفالت کے زینے پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ N-95 ماسک ، پی پی ای کٹ ، وینٹیلیٹر اور صحت سے متعلق دیگر اشیاء کی پروڈکشن میں بھارت خود کفیل بھی بنا اور دوسرے ممالک کی بھی مدد کی۔

    یہ بھی پڑھیں  مولانا ارشد مدنی کی تعلیمی پہل ۔ ملت کو خواب غفلت سے بیدارکرنے کی کوشش

    ہر ہندوستانی کو ہیلتھ آئی ۔ڈی دینے کے لئے ’’نیشنل ڈیجیٹل ہیلتھ مشن‘‘ شروع کیا گیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے ہیلتھ پلان “مودی کیئر” نے لوگوں کی صحت کی ضمانت دی ۔ ہیلتھ کئیر شعبے میں مودی سرکار کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اتنی بڑی آبادی والے ملک میں کورونا بحران کے بڑے اثر کو کم کیا جا سکا ۔

    کورونا کے چیلنجوں کے دوران ، لوگوں کی صحت اور تندرستی کے لئے 81کروڑ سے زیادہ لوگوں کو مفت راشن فراہم کیا جارہا ہے، جو کسی بھی جمہوری ملک کا انوکھا واقعہ ہوگا۔ 41 کروڑ ضرورت مندوں کے بینک کھاتوں میں 90 ہزارکروڑ سے زائد رقم براہ راست منتقل کردی گئی۔ 8 کروڑ کنبوں کو مفت گیس سلنڈر ، 1لاکھ 70 ہزار کروڑ کا غریب فلاحی پیکیج ، 20 کروڑ خواتین کے جن دھن اکاؤنٹ میں 1500 روپے ، کسان سمّان ندھی کے تحت کسانوں کو 19 ہزار کروڑ دئیے جانے جیسے موثر اقدامات کئے گئے ، جس کی وجہ سے لوگ اس بحران کے دوران ، یقین کی ڈور سے جُڑے رہے۔ “وَن نیشن وَن راشن کارڈ” نافذ کیا گیا ہے ، جس سے 67 کروڑ ضرورت مندوں کو فائدہ پہنچنا شروع ہوگیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  لاک ڈائون ۔ چند تجاویز

    منریگا کے لئے مزید 40 ہزار کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں ، کاشتکاروں کو ملک میں کہیں بھی اپنی پیداوار فروخت کرنے کی آزادی دی گئی ہے ، 60 لاکھ سے زیادہ تارکین وطن مسافروں کو لیبر اسپیشل ٹرین کے ذریعہ ان کی آبائی ریاستوں تک پہنچایا گیا ۔ اسٹیٹ ڈیژاسٹر ریلیف فنڈ سے مسافر مزدوروں کی مدد کے لئے ریاستوں کو 11 ہزار کروڑ روپئے دیئے گئے۔ اسی کورونا دور میں ، تین درجن سے زائد بڑے معاشی ، معاشرتی ، تعلیمی ، انتظامی ، تجارتی ، مزدور ، دفاع ، کوئلہ ، شہری ہوا بازی ، توانائی ، تقسیم ، خلاء، جنگلات کی زمین، زراعت ، مواصلات ، بینک کاری ، سرمایہ کاری اور ڈیری سے لے کر پھڑ پھیری والوں تک کی بہتری کے لئے بڑی اور اہم اصلاحات کی گئیں ، جس کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہی کے باوجود مواقع سے بھرپور رہی۔وزیر اعظم مسٹر مودی کی سربراہی میں ، ایسے بہت سے کام انجام پائے جن سے پوری دنیا میں بھارت کی ساکھ بڑھی۔

    یہ بھی پڑھیں  کورونا کے دور میں قابل تقلید سرگرمیاں

    یوگا کو پوری دنیا میں پہچان ملی۔ بھارت خلائی سپر پاور بن گیا۔ اقوام متحدہ ، سعودی عرب ، فلسطین ، روس ، متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے مسٹر مودی کو اپنے اعلیٰ مُلکی اعزاز سے نوازا۔ سرجیکل اور فضائی حملے؛ وَن رینک وَن پنشن لاگو کیا ؛ نوٹ بندی ، جی ایس ٹی؛ ہر گاؤں کو بجلی ملی ، ریکارڈ 500 1سے زیادہ غیر ضروری قوانین ختم کئے گئے۔ دنیا کا سب سے بڑا صحت کا منصوبہ ” آیوشمان بھارت” عمل میں آیا۔ ریکارڈ بڑی تعداد میں غریبوں کو مفت گیس کنکشن دیئے۔ تین طلاق ختم ہوا؛ مسلم خواتین کو بغیر کسی محرم ( مرد رشتہ دار) کے حج کے سفر پر جانے کی اجازت کی سہولت ملی ۔ حج سبسیڈی بند ہوئی ؛ دفعہ 370 کوہٹا یاگیا۔ سینکڑوں سال پرانا رام مندرکا مسئلہ حل ہوگیا اور رام جنم بھومی پر عظیم الشان رام مندر کی تعمیر شروع ہوئی۔

    ملک کے بیشتر دیہاتوں اور قصبوں کوکھلے عام بیت الخلاء سے نجات ملی ۔ ملک کے تمام دیہاتوں کو بجلی فراہم کی گئی ہے۔ یہ سب ” طواف کی روایت ” کے خاتمے اور ” محنت و بہتر نتائج کے عزم” کا ہی نتیجہ ہے۔ کور ونا بحران کے دوران معاشی بدحالی کا چیلنج دنیا کو درپیش رہا، بڑے ۔ بڑے ترقی یافتہ ممالک کی معیشت ہچکو لے کھانے لگی یا تباہ ہو گئی ، دنیا کی جو اُبھرتی ہوئی معیشت ہے ، بھارت پراس کے منفی اثرات کا پڑنا فطری ہے ، لیکن اس دوران بھی “بھارت کے ، زراعت میں سربراہ ملک کی قدر کو کمزور نہیں ہونے دیا “، زراعت اور کاشتکاروں کو مستقل حوصلہ افزائی اور کسانوں کی خود اعتمادی اور حکومت کی مدد کا نتیجہ رہا کہ زراعت کے شعبے کو معاشی مندی زیادہ متاثر نہیں کرسکی، صرف یہی نہیں بلکہ اس بحران کے وقت میں بھی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی تقریبا 22 ارب ڈالر کی رہی۔ ملک کا معاشی تانا ۔بانا آج بھی درست سمت اور صحیح ہاتھوں میں ہے، آنے والے وقتوں میں ، بھارت کی معیشت ایک بار پھر مضبوطی کی راہ پر گامزن ہوگی۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  مولانا ارشد مدنی کی تعلیمی پہل ۔ ملت کو خواب غفلت سے بیدارکرنے کی کوشش

    Latest news

    کورونااورلاک ڈاؤن بھی نفرت کے وائرس کو ختم نہیں کرسکے

    مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا یہ خطرناک کھیل آخر کب تک؟: مولانا...

    مسلمانوں سے متعلق میڈیا کا دہرا رویہ تشویشناک ، گرفتاریوں کا ڈھنڈورا لیکن عدالت سے رہائی کا کوئی ذکر نہیں : مولاناارشدمدنی

    نئی دہلی : بنگلور سیشن عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سے ڈسچار ج کیئے گئے تریپورہ...

    ہماری سرکار اردو کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے : وزیراعلیٰ،دہلی

    وائس چیئرمین اکادمی حاجی تاج محمد سے خصوصی ملاقات میں متعلقہ مسائل کے حل کی یقین دہانی نئی دہلی :...

    جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے اور وہ راشن لینا چاہتے ہیں، وہ مرکز میں آکر راشن لے سکتے ہیں: گوپال رائے

    نئی دہلی : دہلی کے وزیر ترقیات گوپال رائے نے آج بابرپور کے علاقے کردمپوری میں پرائمری اسکول میں...

    رام مندر کے لئے ، 12080 مربع میٹر اراضی 18.50 کروڑ میں خریدی گئی ، جبکہ اس سے متصل 10370 مربع میٹر اراضی صرف...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور اترپردیش انچارج سنجے سنگھ نے رام مندر کے لئے...

    نائب وزیر اعلی اور وزیر خزانہ منیش سسودیا نے غیر ضروری سرکاری اخراجات کو کم کرنے کا حکم جاری کیا

    نئی دہلی : کورونا کی وجہ سے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ، دہلی حکومت نے اخراجات کے...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you