رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    روزی روٹی نے فرضی دیش بھکتی کوہرادیا؟

    صوفی انیس درانی
    الجھنوں کی شکار یہ تحریر جس وقت آپ کی نظروں کے سامنے ہوگی اس وقت تک آیا رام گیا رام پردیش یعنی ہریانہ اور مہاراشٹر میں حکومت سازی کے نام پر کھیلے جانے والی سیاسی کبڈی ختم ہوچکی ہوگی۔ جیسا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اوران کے درجہ دوم کے مشیر بھاجپا کے صدر امیت شاہ بھاجپا میں اپنے اہم کارکنان کی میٹنگ میں اعلان کرچکے ہیں کہ دونوں ریاستوںمیںوزیراعلیٰ تبدیل نہیں ہوںگے تواس اعلان کی پاسداری کرتے ہوئے مہاراشٹر میں دیویندر فرڈنویس اور ہریانہ میں کھٹرّ جی راج سنگھاسن پر براجمان ہوچکے ہوںگے یا دیوالی کے بعد ہونے والوں ہوںگے۔ حالانکہ اگران دونوں کی گذشتہ پانچ سال کی کارکردگی دیکھی جائے توسیاسی نتائج نہایت مایوس کن نظر آئیںگے۔ مگراس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے جیسے مہاراجہ مودی اور بھاجپا کے صدرامیت شاہ (لگتاہے دونوں نے گنگاجل ہاتھ میں لے کر حلف لیا تھا کہ سیاست میں سچ کبھی نہ بولیںگے) اورویسے ہی ان کے وزرائے اعلی سب کے سب ایک بڑی سیاسی شکست کو کارہائے نمایا ںبناکر جنتا کو بیوقوف بنارہے ہیں۔
    ہریانہ دہلی کی دہلیز بھی ہے اوراس کا حصاربھی ۔ اگربھاجپا حکومت نہ بناپاتی تویہ اس کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہوتا۔ اس لیے وزیراعظم مودی نے سات بڑے انتخابی جلسے کئے۔امیت شاہ نے بھی دوڑدھوپ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ان کا خیال تھاکہ انہوںنے دیش بھکتی کی جو فرضی آگ جلائی ہے اس میں سب چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں جل جائیںگی۔ ہریانہ کے کثیر جوان فوج میں بھرتی ہیں اس لئے انھیں یقین تھا کہ کشمیر سے دفعہ ۳۷۰ کا خاتمہ بھی دیش بھکتی کی شراب کو دوآتشہ کردے گا او ربے چارے میاں کی مظلوم بیویاں تین طلاق بل کے بعد گھرکی دیواروں سے کودکود کر انھیں ووٹ دیںگی۔ مگرامیت شاہ اورمودی جی دونوں بھول گئے کہ شراب کتنی ہی نشہ آور کیوں نہ ہو مگر آخرکارنشہ تواترتاہی ہے۔ خاص ہریانوی انداز اور بولی میں دوتبصرے مجھے سننے کوملے نوح میوات میں ایک مسلم فیملی کے گھر چائے پی رہا تھا توخاتون خانہ نے تین طلاق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وزیراعظم کی نہ جورونہ جاتا پھراسے مسلمانوں کی طلاق سے مطلب کیاہے یہ توہم مسلمانو ںکو نیچا دکھانا چاتاہے (میں نے ان سے کچھ نہیں کہا مگرحقیقت یہ ہے کہ تین طلاق تین طلاق کرکے وہ ہندوبھائیوں کے یہ پیغام دیتے ہیںکہ دیکھو میں ہی ہوں جومسلمانو ںکو ٹھیک کرسکتا ہوں۔ایک دوسرے حلقے میں چائے کی دکان پر چائے پی ہی رہا تھا توسننے کوملا ارے کیا ہمیں کشمیر جاکر زمین خریدنی ہے جوہربھاشن میں مودی کہتاہے کہ اب وہا ںزمین بھی خریدسکتے ہیں ارے پیٹ بھرنے کے لائق آمدنی نہیں یہ کشمیر اور ۳۷۰چلاّئے جاتاہے۔ ان دونو ںتبصرہ سے واضح ہوجاتاہے کہ اب مودی جی اورشاہ کی لن ترانیوں کا اثرروبروزوال ہے۔ اورالیکشن کے نتیجے بھی اس کی تائید کرتے ہیں گذشتہ اسمبلی الیکشن (۲۰۱۴) میں بھاجپا نے ۹۰میں سے ۴۷سیٹیں جیت کر حکومت بنا ئی۔اس مرتبہ وزیراعلی کھٹّر سے لے کر وزیراعظم نریند رمودی سب کا نعرہ تھا ’’اب کی بار پچہتر پار‘‘ یعنی ہم اس مرتبہ ۷۵ سے بھی زیادہ سیٹیں جیت کر برسراقتدار آئیںگے۔ مگر بھاجپا ۴۷سیٹیں بھی برقرار نہ رکھ سکی او رصرف چالیں نشستوں پر کامیاب ہوسکی۔ خود وزیراعلی کھٹر کے بیشتر وزیرالیکشن ہارگئے۔ اسمبلی کے اسپیکر حدتویہ ہے کہ ہریانہ بھاجپا کے صدر کو بھی زمین چاٹنی پڑی۔
    بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود ہریانہ میں سرکار بنانے کے لئے بھاجپا کو بڑے پیمانے پر لین دین کرنا حکومت سازی کے لیے ان کے پاس ۴۶ممبران اسمبلی ہونا لازمی تھا۔ وہ صرف چالیس سیٹیں ہی جیت سکے پہلے انہوںنے چودھری دیوی لال کے سیاسی وارث دشینت چوٹالہ (جنہوںنے لگ بھگ ڈیڑسال پہلے ایک نئی پارٹی) جن نائک جنتا پارٹی بنائی او رزبردست محنت کرکے اس اسمبلی الیکشن میں دس سیٹوں پر کامیابی حاصل کی) سے خفیہ رابطہ قائم کرکے ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کی دریں اثنا آٹھ آزاد ممبران اسمبلی سے بھی لین دین کرنے کے لئے ہریانہ کورہت پارٹی کے اکیلے ممبر گوپال کانڈا (جواپنے بیان کے مطابق بچپن سے خاندانی طورپر آرایس ایس کے سوئم سیوک رہے ہیں۔ جن پر ان کی ایک ملازمہ کو خودکشی کرنے کے لیے مجبورکرنے کا مقدمہ قائم ہے اوروہ کافی عرصہ جیل میں بھی رہے ہیں تھا)کوذمہ داربنایا غالبا بدلے میں انھیں وزیربنانے کا وعدہ بھی شامل اورمقدمہ ختم کرانے کا بھی۔ انہوںنے بہت کامیابی کے ساتھ مشن پوراکیا (یہ الگ بات ہے کہ بھاجپا نے تعداد پوری ہوتے ہی گوپال کانڈا کو کنارے کردیا کیونکہ ان پر بہت سے الزام ہیں گویا جب وہ بھاجپا کی جانب سے آزاد امیدواروں سے لین دین کی بات کررہے تھے اس وقت وہ معصوم تھے) جب دشینت نے دیکھا کہ سارے آزاد ممبران اسمبلی بھاجپا کے خیمے میں پہنچ گئے ہیں او روہ اقتدار سے باہر رہ جائیںگے توانہوںنے بھی بھاجپا سے ڈپٹی چیف منسٹر بنے کا وعدہ لے کر JJPکو بھاجپا کے حوالے کردیا۔ چنانچہ دیوالی کے بعد دشنیت چوٹالہ بھی ہریانہ کے نائب وزیراعلی کا حلف لیںگے۔
    ہریانہ کی موجودہ صورتحال کے لئے کانگریس خود ذمہد ارہے کانگریس پچھلے صدر اشکوک تنور اورسابق وزیراعلی بھوپندر ہڈا میں صلح کرنے میں ناکام رہی تھی تواسے اسی وقت سابق مرکزی وزیر کماری شیلجہ کو کانگریس کا صدر بنادینا چاہیے تھا۔ کماری شیجلا اور ہڈا کی ٹیم نے بڑی سخت محنت کی اورکانگریس کو اس پوزیشن میں لے آئے کہ وہ حکومت بنانے کی بات چیت کرسکے۔ اگ راس ٹیم کو تھوڑا وقت اورمل جاتا تورزلٹ اس سے بھی زیادہ بہتر ہوسکتے تھے۔ انہوںنے جس طرح میٹنگیں کرکے بھاجپا کی ناکامیوں کا پردہ فاش کیا ہے اس کا بھاجپا کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
    مہاراشٹراسمبلی الیکشن میں بھی بھلے ہی حکومت بنالی ہو مگروہاں بھی بھاجپا کوکافی نقصان برداشت کرنا پڑاہے۔ بھاجپا کوگذشتہ اسمبلی الیکشن میں ۱۲۲نشستوں پر کامیابی ملی تھی اس مرتبہ وہ صرف ۱۰۵ سیٹیں جیت سکی شیوسیناکی ۶۳سیٹیں تھیں اب صرف ۵۶ جیت سکی البتہ کانگریس اور شردپوراکی نیشنل کانگریس پارٹی دونوں کی سیٹوں میں اضافہ ہوا کانگریس کو گذشتہ اسمبلی کی ۴۲ سیٹوں میں ددکا اضافہ ہوا۔شردپوار کی NCPکی ۴۱سیٹیں تھیں جو بڑھ کر ۵۴ ہوگئیں۔ اس طرح بھاجپا کو کافی نقصان ہوا اس کی کمزوری کا فائدہ اب شیوسینا اٹھانا چاہ رہی ہے شیوسینا کے سربرارہ اودھو ٹھاکرے نے کھلے طورپر کہا کہ لوک سبھا الیکشن کے موقع پر ہمارا بھاجپا سے اتحاد ۵۰۔۵۰ کی بنیاد پر ہواتھا۔ بھاجپا کواس کی پاسداری کرنی چاہیے ان کا مقصدصاف ہے وہ نصف مدت یعنی ڈھائی سال کے لیے وزیراعلی کی کرسی پر بیٹھنا چاہتے ہیں مگرادھر بھاجپا کی اپنی مجبوری ہے وہ سارے بھارت کو پیغام دینا چاہتی ہے کہ بھاجپا کو ہرایا نہیں جاسکتا، اس کے لیے سابقہ وزیراعلی فڈنویس کا ہی نیا وزیراعلی بننا ضروری ہے مگر لگتایہ ہے کہ فیصلہ ملائی والے محکموں میںسے آدھے شیوسینا کو دینے پر ہوجائے گا۔ مہاراشٹر میں محکموں کی تقسیم کا کام دیوالی کے بعد ہی ہوگا۔ مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات میں دس مسلمان جیتے ہیں کانگریس کے ذیشان صدیقی کی عمر صرف ۲۷سال ہے وہ سینئرکانگریسی لیڈر بابا صدیقی کے صاحبزادے ہیں کئی سیاسی تجزیہ نگاروں کاتجزیہ ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین گذشتہ الیکشن میں اپنی جیتی ہوئی دونوں سیٹیں ہارگئے البتہ دونئے مقامات سے وہ جیت گئے ہیں۔ لیکن اگرایم آئی ایم ووٹ نہ کاٹتی تومسلم سیٹوں کی تعداد پندرہ تک پہنچ سکتی تھی۔اس الیکشن میں مراٹھاووٹر کم وبیش اکٹھاہوگیا تھا اوراس نے NCPاور کانگریس کی حمایت کی اسی طرح دلت ووٹ بھی موجودہ حکومت کے خلاف تھا۔ این سی پی اورکانگریس کی کامیابی میں شردپوار کی انتھک محنت کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ان کے خلاف مالی بدعنوانی کا جھوٹا مقدمہ فڈنویس کے گلے کا جنجال بن گیا بہرحال مہاراشٹر میں بھاجپا کی حکومت پہلے سے تعداد کم ہونے کے باوجود مستحکم ہے۔
    ان دونوں اسمبلی الیکشنوں کا اثر قومی سطح پر بھی نظرآئے گا بھاجپا نے دیکھ لیا کہ دفعہ۰ ۳۷پاکستان اورمسلمان ان سب کا اثر دیرپا نہیں ہوسکتا جمہوریت میں بنیادی ووٹر کے لیے سب سے اہم اس کی روزی روٹی اوران دیکھے مصائب کا سامنا کرنے کی صلاحیت اور طاقت ہوتی ہے۔ کیونکہ خالی پیٹ توبھگوان کے بھجن بھی نہیں گائے جاسکتے۔ ملک ایک بھیانک مالی کساد بازاری بے روزگاری او رمالی اداروں پر عدم اعتماد کی طرف تیزی سے کھسک رہا ہے ۔ جس کا انجام ہمارے ملک کے لیے بہت بھیانک نکلے گا۔ ابھی بھی وقت ہے کہ بھاجپا اورسنگھ پریوار دونوں اپنے نظریات کولے کر خوداحتسابی کریں تاکہ بھارت بچ سکے۔
    زندہ حقیقتوں کے تلاطم ہیں سامنے
    خوابوں کی کشتیوں سے اترجائیے صاحب

    یہ بھی پڑھیں  کرونا وائرس سے ہم کیا سبق لیں؟

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  مودی حکومت غریبوں کی دوست یا دشمن؟

    Latest news

    کورونااورلاک ڈاؤن بھی نفرت کے وائرس کو ختم نہیں کرسکے

    مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا یہ خطرناک کھیل آخر کب تک؟: مولانا...

    مسلمانوں سے متعلق میڈیا کا دہرا رویہ تشویشناک ، گرفتاریوں کا ڈھنڈورا لیکن عدالت سے رہائی کا کوئی ذکر نہیں : مولاناارشدمدنی

    نئی دہلی : بنگلور سیشن عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سے ڈسچار ج کیئے گئے تریپورہ...

    ہماری سرکار اردو کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے : وزیراعلیٰ،دہلی

    وائس چیئرمین اکادمی حاجی تاج محمد سے خصوصی ملاقات میں متعلقہ مسائل کے حل کی یقین دہانی نئی دہلی :...

    جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے اور وہ راشن لینا چاہتے ہیں، وہ مرکز میں آکر راشن لے سکتے ہیں: گوپال رائے

    نئی دہلی : دہلی کے وزیر ترقیات گوپال رائے نے آج بابرپور کے علاقے کردمپوری میں پرائمری اسکول میں...

    رام مندر کے لئے ، 12080 مربع میٹر اراضی 18.50 کروڑ میں خریدی گئی ، جبکہ اس سے متصل 10370 مربع میٹر اراضی صرف...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور اترپردیش انچارج سنجے سنگھ نے رام مندر کے لئے...

    نائب وزیر اعلی اور وزیر خزانہ منیش سسودیا نے غیر ضروری سرکاری اخراجات کو کم کرنے کا حکم جاری کیا

    نئی دہلی : کورونا کی وجہ سے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ، دہلی حکومت نے اخراجات کے...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you