رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    ہندستانی مسلمان یعنی چکن خوروں کی بھیڑ

    سیف ازہر
    جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی
    سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ چکن کھانا حرام نہیں بلکہ حلال ہے۔۔۔ خوب کھاؤ کوئی روکنے والا نہیں ہے مگر اتنا بھی نہیں کھانا چاہئے کہ بس چکن بن کے رہ جاؤ اور دن بھر سوائے چوں چوں کرنے کے، کچھ بھی مت کرو۔
    ہندستانی مسلمان تو قرآن وحدیث سے سیکھنے سے رہے کیونکہ یہ کبھی اسے سیکھنے کے لیے بڑھتے ہی نہیں۔۔۔ عام مسلمان تو دور ہمارے یہاں دارالعلوموں میں بھی یہ چیز سیکھنے سکھانے کے بجائے اکثر تبرک کیلئے ہی پڑھی اورپڑھائی جاتی ہے۔۔۔ اس سے اوپر اٹھ گیے تو قرآن خوانی اور تراویح سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔
    خیر چلو اب کچھ جے این یو ہی سے سیکھ لو۔۔۔ جس کے بچے آج کل اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر لڑ رہے ہیں۔۔۔ پولیس کی لاٹھیاں اور گالیاں کھارہے ہیں۔۔۔ ایسا اس لیے نہیں کہ اس کے پیچھے کوئی خاص سیاست ہے۔۔۔ بات صرف اتنی ہے کہ اگر نیا فیس مینول نافذ ہوگیا تو جے این یو کے تقریبا 40 ؍فیصد بچوں کو گھر بیٹھ جانا پڑے گا۔۔۔ سیدھے طور پر کہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان چالیس فیصد طلبہ کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے اس لئے وہ اپنے حقوق اور وجود کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔۔۔ ان کی تعداد بھی بہت زیادہ نہیں ہے۔۔۔ جے این یو میں محض 5؍ہزار بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
    خیر پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہوچکا ہے۔۔۔ اسی اجلاس میں شہریت ترمیمی بل پیش کیا جائے گا ، جس میں یہ صاف ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کرتمام وہ لوگ جو ہندستان میں پناہ گزین ہیں سب کو شہریت دی جائے گی۔۔۔ اس بل کے بعد ایک اور بل لایا جائے گا جسے ہم سب این آر سی کے نام سے جانتے ہیں۔۔۔ اس کے مطابق تمام لوگوں کو ثابت کرنا ہوگا کہ ہم ہندستان کے شہری ہیں یا نہیں۔۔۔ اس میں بھی مسلمانوں کے علاوہ کسی کو کوئی دقت نہیں ہے کیونکہ غیر مسلم اگر نہیں بھی ثابت کر سکے تو ان کو شہریت ترمیمی بل کے ذریعہ شہریت دے دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو اٹھا کر حراستی کیمپ میں ڈال دیا جائے گا۔
    کل ملا کر بات اتنی ہے کہ جس طرح جے این یو کے طلبہ کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے اسی طرح مسلمانوں کے پاس بھی کھونے کیلیے کچھ نہیں ہے مگر دونوں میں فرق ہے۔۔۔ ایک جن کی تعداد مشکل سے محض پانچ ہزار ہے، کچھ ہزار کی فیس بڑھنے پر مستقل زائد از دو ہفتوں سے لڑ رہے ہیں۔۔۔ دوسرے جن کی تعداد کم ازکم 20 ؍سے 25؍ کروڑ ہے جو کبھی بھی این آرسی کی چھوری سے ذبح کیے جاسکتے ہیں ، دربے میں مرغوں کی طرح اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔
    لنچنگ ہندستانی سماج اور بالخصوص مسلمانوں کو جانچنے کا ایک پیمانہ تھا اور مسلمان اس پر سو فیصد کھرے اترے اور مجھے یقین ہے کہ این آر سی پر بھی کھرے اتریں گے۔
    کچھ لوگ بالخصوص جبہ ودستار والے کہتے ہیں کہ چلو اسی بہانے سب کے کاغذات درست ہوجائیں گے۔۔۔ این آر سی کو دستاویز کی تیاری سمجھنے سے بڑی بھول کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ اگر صرف کاغذات اور دستاویز کی بات ہے تو آسام جائیے اور ان لوگوں سے ملیے آپ کی آنکھ کھل جائے گی۔۔۔ان لوگوں کے پاس ایسے ایسے دستاویز اور کاغذات ہیں جو ہم کیا ہمارے باپ دادا نے نام بھی نہیں سنے ہوں گے، مگر وہ این آر سی لسٹ سے باہر ہیں۔
    این آرسی نٹھلے پارٹی کارکنان کی کمائی کے ساتھ ساتھ بھارت کو مسلم مکت بنانے کی حکمت عملی ہے۔۔۔ آپ کو شاید یقین نہ آئے مگر یہ سب اسپین جاکر ریسرچ کرنے کے بعد اٹھایا جارہا قدم ہے۔
    ذرا پوچھنے دیجئے کہ اگر جے این یو کے طلبہ سڑکوں پر اپنے حقوق کی لڑائی آکرلڑ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔۔۔ جلی کٹو پر قانون کے خلاف تمل ناڈو کے ایک ہفتہ کے احتجاج ، مظاہرہ اور چکہ جام نے مودی سرکار کو آرڈیننس لانے پر مجبور کردیا تو ہم حکومت کو اس طرح مجبور کیوں نہیں کرسکتے۔؟۔۔۔ صرف دس لاکھ کسان دہلی کو چار دن کیلیے جام کر کے اپنی بات منوا لیتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔؟
    اس طرح کی ہزاروں مثالیں ہیں مگر ہم یہ سب جب کریں جب ہمیں جلوس ، جلسہ اور چلہ سے فرصت ملے تب نا۔؟
    سڑکوں پراترو اور اپنی بقا کی لڑائی لڑو ورنہ بھارت کو اسپین بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔ اب وجود پر بات آگئی ہے مصلحت کا چوتیاپا بند کرو۔۔۔ انسان مصلحت تب دیکھتا ہے جب اس کے پاس کچھ کھونے کیلئے ہو اورجب نہ ہو تو بے تیغ بھی مگر میدان میں اترتا ہے۔۔۔اگر کسی سے نہیں سیکھ سکتے تو دلتوں سے سیکھو۔۔۔ اونا اور سہارنپور۔۔۔ صرف دو واقعے ہوئے اور وہ بھیم آرمی کے نام سے ایک محاذ بنا کر کھڑے ہوگیے۔۔۔۔ تم ابھی تک لنچنگ میں مارے جا رہے ہو مگر تمہارے پیٹ کا پانی نہیں ہلا۔۔۔ کیونکہ تمہیں سوشل میڈیا اور ہوٹلوں پرچکن خوری کرکے چوں چوں کرنے سے ہی فرصت نہیں ہے۔
    باقی سب کشل منگل ہے۔۔۔ خدا حافظ

    یہ بھی پڑھیں  وزیرداخلہ نے این پی آر پر پارلیمنٹ میں جو کہا ہے اس کا حلف نامہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں دیتے؟

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  بچوں کے مستقبل کو حکومت کر رہی ہے نظرانداز

    Latest news

    ہمیں بی جے پی حکومتوں کے جبر کے خلاف ہر محاذ پر لڑنا ہوگا : عمران پرتاپ گڑھی

    آسام: آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی ڈیپارٹمنٹ کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے ایک روزہ دورے پر آسام...

    پرینکا سچی کانگریسی ہیں اور ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والی نہیں : راہل

    نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے لکھیم پور کھیری متاثرہ کنبوں کے ارکان سے ملنے...

    بی جی پی کے دورحکومت میں اقلیتی شعبہ سے تعلق رکھنے والے مسلم،سکھ،عیسائی،جین اور دیگر طبقہ ظلم کا شکار ہو رہا ہے : عمران...

    نئی دہلی : سکھ سماج کے زیر اہتمام دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ''ایک نئی پہل'' کے عنوان...

    وزیر نے ڈویژنل کمشنر کے دفتر کا معائنہ کیا اور ذات کے سرٹیفکیٹ میں تاخیر پر افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کی وارننگ دی...

    سماجی بہبود کے وزیر راجیندر پال گوتم نے اچانک معائنہ کیا اور ذات کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں تاخیر...

    کیجریوال حکومت اور بی جی پی حکومت رابعہ سیفی کو اِنصاف دلائے : عمران پرتاپ گھڑی

    مرادآباد : آل انڈیا کانگریس کمیٹی شعبۂ اقلیتی کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے دو روزہ دورے کے...

    اقلیتی شعبہ کے قومی صدراور معروف شاعر عمران پرتاپ گڑھی کا شایان شان خیرمقدم

    اہم ذمہ داری ملنے کے بعد پہلی بار مرادآباد آمد پر پھولوں کی بارش،عوام کا اژدہام مرادآباد: کانگریس اقلیتی شعبہ...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you