رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    مولانا ارشد مدنی کی تعلیمی پہل ۔ ملت کو خواب غفلت سے بیدارکرنے کی کوشش

    تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے آزاد قاسمی

    وقت آگیا ہے کہ ہمارے اکابرین اورملت کے خیرخواہ اس پرکوئی مؤثرمتحدہ حکمت عملی تیارکریں

    اکیسویں صدی کے اس گلوبلائزیشن کے دورمیں کہ جب سائنس وٹکنالوجی ہماری زندگی کا ایک حصہ بن چکی ہے،دنیاکی دوسری قومیں اس کے حصول میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے اور آگے بڑھنے کی کوشش میں ہمہ وقت کوشاں ہیں،اس کا مشاہدہ ہم آئے دن کرتے رہتے ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی ہمیں اس تلخ سچائی کااحساس بھی ہے کہ اس میدان میں ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہماری حیثیت کیاہے؟ ہم اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جو ہمیں غلط سمت کی طرف رہنمائی کررہا ہے۔ایسے نازک وقت میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم سڑک چلتے اس مسافر کی طرح یو ٹرن لینے میں دیر نہ کریں جسے راستہ بھٹکتے ہی اپنی غلطی کاادراک ہوجاتاہے اوروہ فوراً یوٹرن لے کردرست سمت میں چل پڑتاہے، تاکہ اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچ سکے،لیکن افسوس! ہم میں سے بہت ہی کم لوگ ایسے ہیں جو زندگی کے سفرمیں اس آزمودہ اصول کی پیروی کررہے ہوتے ہیں۔ موجودہ وقت میں ہماراحال تویہ ہے

    کہ اگر ہمیں اپنی غلطی کاادراک ہوبھی جائے، تب بھی ہم اسی غیر مانوس اور غلط راستے پر چلتے رہتے ہیں،جبکہ ہمارے پاس تو وہ کتاب عظیم ہے،جس کے دامن میں لیل ونہارکی گردش،ابنائے آدم کے عروج وزوال،اقوام وامم کے نسلی وسیاسی انقلابات سے سبق لینے اور زندگی کے ہرشعبہ میں کامیابی کے لئے واضح رہنماء ہدایات موجود ہیں، اس پر جتنا فخرکیاجائے کم ہے، مگرا س کوہم میں سے بہتوں نے بہت پہلے ہی دعااور ایصال ثواب کی کتاب سمجھ کر سپردطاق کردیاہے،جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔موجودہ وقت میں ہمیں بہت جلد اعلیٰ تعلیم اورخاص طورسے مسابقتی تعلیم کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔

    ایک کامیاب انسانی ومعاشرتی زندگی میں علم کی اہمیت اور ضرورت کوقرآن حکیم جگہ جگہ یوں بیان کرتاہے۔کیا تم غوروفکر نہیں کرتے؟ کیا تم دیکھتے نہیں؟ کیا تم عقل وتدبر سے کام نہیں لیتے، اگر ہم اسلامی نقطہ نظرسے حصول علم کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں یہ معلوم ہوتاہے کہ انسان نے اپنے ارتقائی سفرکا آغاز تاریکی اور جہالت سے نہیں بلکہ علم سے کیاہے۔ یعنی ہر اس چیز کی جستجوسے کیا ہے،جس کی ضرورت اس وقت سماج یامعاشرہ کورہی ہے۔ جس سے ہم اس وقت بھٹک چکے ہیں، علم کی اہمیت پر ابن مبارکؒ فرماتے ہیں:”مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو علم توحاصل نہیں کرتا باوجودیکہ اپنے کو عزت کئے جانے کا مستحق سمجھتا ہے“۔اس لئے علم کا حصول قوموں کی بقاء، اوراس کی خوشگوار کامیاب معاشرتی زندگی کا ہمیشہ سے ماخذ ومنبع رہا ہے۔

    اُمت مسلمہ کی موجودہ ابتر حالت کا اگرعالمی پیمانے پر باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو اس کی بنیادی وجہ مسلمانوں کا اپنی علمی وراثت سے دستبردارہونااور عملی زندگی میں اس سے پیچھے رہ جانا ہی ہے۔اور یہ کیوں ہے؟وجہ صاف ہے کہ ہم نے مجموعی طور پر اللہ کی قدرت اور اُس کی بنائی ہوئی کائنات کی وسعتوں پر غور و فکر کرنا اور اس کے اسرار و رموز کو جاننے کے لیے عقلی وعملی مشق کو کب کا ترک کردیاہے، جس کا خمیازہ ہم پوری دنیا میں محکومی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔اس نازک ہوتی صورتحال سے باہرنکلنے کا واحد راستہ رجوع الی اللہ کے ساتھ ساتھ حصول علم کی اہمیت وضرورت کووقت رہتے سمجھنے میں پنہاں ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  آپ کے پانچ مسلم ایم ایل اے ،جانئے کون ہیں یہ لیڈر؟

    اسلام اور اس کے ماننے والوں پر یہ الزام سراسر خلاف واقعہ ہے کہ اسلام میں علم کی دینی ودنیاوی تعلیم کے طورپرتخصیص ہے۔دینی ودنیاوی تعلیم کے طور پر یہ تقسیم اہل اسلام نے نہیں بلکہ یہ اسلام کے بدخواہوں کی کارستانیوں کا شاخسانہ ہے، نہیں تو کیا وجہ ہے کہ اہل مغرب کی زیادہ تر علوم کی اساس ہی مسلم حکماء، مفکر،ادبااوراپنے وقت کے ماہرین علوم وفنون پر ہے۔مسلم حکماء کی کتابیں آج بھی مغرب کی لائبریری میں موجودہیں مگرجدید’سرنیم‘ کے ساتھ جس سے ہم میں سے بیشترناواقف ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  حج 2020 ، سعودی عرب کا فیصلہ اور سید سلمان ندوی کی ہفوات

    ابھی چند دن پہلے اخباروں میں ملک کی نمائندہ اورانتہائی فعال تنظیم جمعیۃعلماء ہند کے قابل قدر صدراوربزرگ شخصیت مولاناسیدارشدمدنی کی ایک خبرنظرسے گزری جو ہمیں خواب غفلت سے بیدارکرنے اور ہمارے متمول حضرات کی نسل نوکے تئیں بے توجہی کی شکایت سے عبارت تھی۔انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں ہندوستانی مسلمانوں کے پچھڑنے اوردن بدن تشویشناک ہوتی صورت حال پرجس تعمیری فکرکا اظہارکیاہے اور مسلمانوں کومتنبہ کرتے ہوئے جو خط امتیاز کھینچا ہے، وہ ان کی مومنانہ فراست اور ملت کی موجودہ صورت حال پر ان کی بروقت گرفت کا مظہر ہے۔

    مولانا مدنی ملک کی اس عظیم تنظیم کے سربراہ ہیں،جس کے اکابرین کی قربانیاں آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔میری مراد جمعیۃ علماء ہند کے اکابرین کی بیش بہا خدمات سے ہے، جن کی شب وروزکی محنتیں ملک کی آزادی اور یہاں کی مسلم آبادی کی بہبودی اور تعمیر وترقی کے امور میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کی حصہ داری کو یقینی بنانے سے عبارت رہی ہیں۔بالخصوص ملک میں مسلمانوں کے دینی وملی تشخص،تحفظ اور ملک میں سیکولرآئین کے نفاذ کے سلسلہ میں جو خدمات جمعیۃ علماء ہندکے اکابرین نے دی ہیں،وہ ناقابل فراموش ہیں۔

    جمعیۃعلماء ہند کے اکابرین کی تحریروں کے مطالعہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جمعیۃعلماء ہندکی دوسرے شعبوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی میدان میں بھی بے شمارخدمات رہی ہیں۔ ایک پل کیلئے بھی جمعیۃ کے اکابرین اس سے بے پرواہ نہیں رہے، ملک کی آزادی کے فوراًبعد اکابرین جمعیۃنے دسمبر1954 میں آزاد ہندوستان میں دینی تعلیم کے تحفظ،توسیع اور ترویج واشاعت کے لئے ملک کے صنعتی شہر ممبئی میں ”آل انڈیا دینی تعلیمی کنونشن“ کاانعقادکرکے ایک دینی تعلیم بورڈ قائم کیا تھا

    یہ بھی پڑھیں  مودی حکومت غریبوں کی دوست یا دشمن؟

    اور ملک کے طول وعرض میں مسلمانوں میں دینی تعلیم کے تعلق سے بیداری لانے کیلئے چھوٹی بڑی کانفرنس اور کنونشن کرکے مکاتب ومدارس قائم کئے تھے۔جمعیۃعلماء ہند کی اس آوازپر مسلمانوں نے بھرپورتوجہ دی،حالات اورضرورتوں کے مطابق یہ کام اب بھی کسی نہ کسی شکل میں پورے ملک میں جاری ہے،جس کے مثبت اورخاطر خواہ نتائج ہمارے سامنے آرہے ہیں۔ اکابرین جمعیۃ کی مخلصانہ کاوشوں کاہی نتیجہ ہے کہ آج ہم بڑی حدتک اپنی مذہبی تعلیم میں خودکفیل ہیں اورالحمدللہ روز بروزاس میں اضافہ ہی ہورہا ہے ۔اگر یوں کہاجائے توبیجانہ ہوگاکہ ملک میں مدارس ومکاتب کا قیام جمعیۃعلماء ہند اور اس کی کامیاب قیادت ہی کی مرہون منت ہے۔

    مولانا مدنی نے جمعیۃ علماء ہند کی مسندِ صدارت پر فائز ہونے کے بعد سے آج تک ملی مسائل پر جہاں ارباب اقتدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سیاسی فہم وتدبر کے ساتھ آواز حق بلند کرنے میں ہمیشہ حیرت ناک پیش قدمی کی ہے،وہیں ان کی حکمتِ عملی کا یہ بھی ایک قابل تحسین رخ رہا ہے کہ مظلوم وبے کس ملت کے افراد کے جذبات کی قدرکرتے ہوئے، ان کے آئینی حقوق کی لڑائی بھی جمعیۃ علما ء ہندکی جانب سے لڑنے کاحوصلہ دکھایاہے۔چنانچہ ارباب اقتدار کی چاپلوسی کی روایات کو چیلنج کرتے ہوئے بروقت تعمیری انداز میں نہ صرف مسائل کی صحیح نشاندہی کی بلکہ اس کے حل کیلئے ارباب اقتدار کے سامنے جرأتمندانہ انداز میں مفید و تعمیری مشورے بھی رکھے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  کرونا وائرس سے ہم کیا سبق لیں؟

    جس طرح جمعیۃ علما ہندکے صدر محترم نے اب تک مظلوم ملت کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا مقابلہ آئین کی حدود میں رہ کر کرنے کی ایک نئی راہ ہندوستان کی مسلم قیادت کو دکھائی ہے،وہ یقینا قابل تحسین اور لائق تقلید ہے۔خواہ دہشت گردی کی آڑ میں مسلم نوجوانوں پر عرصہئ حیات تنگ کرنے کا مسئلہ ہو، تحفظ شریعت کا معاملہ ہو،مدارس کی خودمختاری اور لازمی حق تعلیم کے متنازعہ قانون میں ترمیم کی دانشوارانہ مہم ہو، یا موجودہ وقت میں متعصب گودی میڈیا پرپابندی لگانے کامعاملہ ہویاپھر لوجہادجیسے غیرآئینی قانون کی مضررسانیوں پر بروقت گرفت،مولانا موصوف نے ہمیشہ ملت اسلامیہ ہند کی ترجمانی کا فریضہ نبھانے کی کوشش کی ہے۔اب صدرجمعیۃ نے ملت کوتعلیمی میدان میں سرگرم ہونے کی نہ صرف یہ کہ دعوت دی ہے بلکہ اس معاملہ میں لوگوں کو راغب کرنے کیلئے عملی لحاظ سے انہوں نے پیش قدمی کی ہے،جس کا ثبوت ضرورت مند طلباء کے لئے پروفیشنل تعلیمی وظائف کے سلسلوں کو مزید آگے بڑھانے کافیصلہ ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  لاک ڈاؤن اور ہماری ذمہ داریاں

    ملک میں مختلف سروے سے یہ بات صاف ہوچکی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں میں اس وقت پروفیشنل اورمسابقتی تعلیم کا فقدان ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگاکہ ہمارے بچے اس طرف بہت کم توجہ دیتے ہیں، ایک بڑی افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی اقتصادی طورپر پسماندگی کا شکارہے اوردووقت کی روٹی کا حصول ہی اس کی زندگی کا حقیقی مقصدبن کررہ گیا ہے، پھریہ بھی ہے کہ آزادی کے بعد سے حکومتوں نے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا۔ چنانچہ یہ بھی ہواکہ اعلان کے باوجود کسی ترقیاتی پروگرام پر عمل نہیں ہوا۔

    مسلمانوں کو سبزباغ تودکھائے گئے مگر عملی طورپر کچھ نہیں ہوایہی وجہ ہے کہ سچرکمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد بھی مسلمانوں کی فلاح وبہبودکے حوالہ سے کوئی ٹھوس کام نہیں ہوا اور اگرکچھ ہوابھی ہے تو صرف کاغذوں پر۔ مسلمانوں کے پاس وافرتعلیمی ادارے بھی نہیں ہیں، بہت سے والدین اپنی غربت کی وجہ سے دوسرے تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کا حوصلہ نہیں کرپاتے۔ چنانچہ مسلمانوں میں ڈراپ آؤٹ کی شرح بھی دوسری قوموں کے مقابلے کہیں زیادہ ہے۔ایسے میں جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے جاری اسکالرشپ کے اعلان سے بہت سے کمزوراورمعاشی طورپر پریشان والدین فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

    جمعیۃعلماء ہند کی موجودہ قیادت کامولانا ارشدمدنی کی سربراہی میں جو تعمیری اور مثبت طریقہئ کار رہا ہے، وہ ہندوستان جیسے کثیرالمذاہب، سیکولرملک کے سیاسی منظرنامہ میں ایک قابل تقلید افہام وتفہیم پر مشتمل تعمیری سیاست کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس لئے اگر آج ملک کے انصاف پسند اور محبان وطن کی نگاہیں مولانا مدنی کی مومنانہ فراست پر ٹکی ہوئی ہیں تویہ فطری ہے۔

    کیونکہ آزاد ہندوستان کی کم وبیش 70سالہ تاریخ میں مسلمان اپنی قیادت ورہنمائی کے نام پر دھوکے کھاتے رہے ہیں۔لہٰذا زخم خردہ ملت کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی بہبودی اور فرقہ وارانہ یکجہتی کو پروان چڑھانے کیلئے مولانا مدنی کی کاوشیں اور کوششیں بلاشبہ قابل تحسین ہیں، اوریہ جمعیۃ علماء ہند کے مشن و منشورکا بھی ایک حصہ ہے۔لیکن دوسروں کو بھی اس کے لئے میدان میں آناہوگا،مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی بدحالی پر آنسوبہادیناہی اب کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ملت کے ہر شخص کو اب اپنی بساط بھر کوشش کرنی ہوگی۔ کسی شاعرنے شاید ایسے ہی کسی موقع کے لئے کہا ہے کہ

    شکوۂ تیرہ شبی سے تویہ بہتر تھا فراز
    اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے

    abdullahaqasmi@gmail.com

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  بچوں کے مستقبل کو حکومت کر رہی ہے نظرانداز

    Latest news

    کیجریوال حکومت کے بروقت لاک ڈاؤن نے دہلی میں کوویڈ 19 میں انفیکشن کی شرح کو کم کردیا

    نئی دہلی : دہلی حکومت کی کاوشوں اور بہتر کوویڈ انتظامیہ کی وجہ سے ، انفیکشن کی شرح میں...

    پچھلے سال دہلی حکومت نے آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو 5-5 ہزار روپے دے کر مدد کی تھی: اروند کیجریوال

    نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی سربراہی میں ، مالی تنگدستیوں سے نبرد آزما غریب خاندانوں...

    دارالعلوم دیوبند کے استاذ عربی مولانا نورعالم امینی کے سانحہ ارتحال پر صدرجمعیۃعلماء ہند وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند مولانا ارشدمدنی نے کیا رنج وغم...

    نئی دہلی : دارالعلوم دیوبند کے استاذعربی مولانا نورعالم امینی کے سانحہ ارتحال پر صدرجمعیۃعلماء ہند وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند...

    نوجوانوں میں ویکسینیشن کا جوش و خروش، بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی وجہ سے کورونا ہاریگا : نائب وزیر اعلی

    نئی دہلی : دہلی حکومت نے پیر سے 18 سے 45 سال کے درمیان لوگوں کے لئے مفت کورونا...

    کورونا کا قہر جاری عوام کی رائے سے دہلی میں ایک ہفتہ کےلئے اور لاک ڈاؤن بڑھایا جارہا ہے : اروند کیجریوال

    کورونا کا انفیکشن 37 سے گھٹ کر 30 فیصد ہوگیا ہےلیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کورونا ختم ہونے...

    94 سالہ شخص کو سپریم کورٹ نے عبوری راحت دی

    جولائی تک پیرول میں توسیع کردی، 27 سال بعد گھر پر عید منا سکیں گے ڈاکٹر حبیب : گلزار...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you