رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    محسنِ انسانیت سے عداوت: ذمہ دار کون؟

    ڈاکٹر محمد ضیاءاللہ ندوی
    کملیش تیواری کا قتل بعض شر پسند عناصر نے جب سے کیا ہے تب سے صرف  نظریۂ ہندوتوا کے حاملین ہی نہیں بلکہ خود کو لبرل اور ترقی پسند ہونے کا دعوی کرنے والے بائیں بازو کے ڈھونگیوں کی پول بھی کھلتی نظر آرہی ہے۔ ہم جیسے لوگ جنہوں نے “دائیں” اور “بائیں” دونوں بازوؤں کو بہت قریب سے دیکھا ہے ان کے لئے تو یہ چونکا نے والی بات بالکل نہیں ہے کیونکہ ہم نے ان کو جے این یو کی ایک دہائی سے بھی زیادہ کی اسٹوڈنٹ لائف میں بہت ڈھنگ سے دیکھا، جانا اور پرکھا ہے۔ لیکن عام لوگ اس حقیقت سے کم ہی واقف ہیں کہ اسلام اور مسلمان کے معاملہ میں بایاں بازو دائیں بازو کے مقابلہ زیادہ عداوت رکھتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ اسے پیش کرنے کا مہذب ڈھنگ رکھتا ہے۔

    یہ باتیں میں اس تناظر میں لکھ رہا ہوں کہ کملیش تیواری کے قتل کے بعد ٹویٹر پر دو #ہاش ٹیگ بہت تیزی سے وائرل ہوئے۔ ایک #ہاش ٹیگ کا نام تھا #prophetofcompassion یعنی نبی رحمت اور دوسرا #ہاش ٹیگ تھا #مسلمانوں کا مکمل بائیکاٹ کرو۔ موخر الذکر #ہاش ٹیگ کے جواب میں ہی “نبی رحمت” والا #ہاش ٹیگ وائرل کیا گیا جو عالمی پیمانہ پر ٹرینڈ کرنے لگا۔ اچھی بات یہ تھی کہ دائیں بازو کے اوباشوں اور بدتمیزوں کے جواب میں مسلمانوں نے وہی کیا جس کا حکم اسلام اپنے ماننے والوں کو دیتا ہے یعنی کسی بھی قوم کے عقیدہ و فکر یا ان کے نزدیک مقدس شخصیات و کتب کے خلاف بدزبانی سے مکمل پرہیز۔ مسلمانوں نے صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا اور اس موقعہ کا استعمال انہوں نے محسنِ انسانیت کے بارے میں لوگوں کو معلومات فراہم کرنے کے لئے کیا جو ایک مستحسن قدم ہے اور بہت سے انصاف پسند ہندوؤں نے بھی مسلمانوں کے صبر و ضبط اور حسنِ عمل کو سراہا۔لیکن ایک دلچسپ بات اس پورے معاملہ میں یہ سامنے آئی کہ اس #ہاش ٹیگ کی دوڑ میں ایک ایسے شخص نے بھی حصہ لیا

    جس کو پورا ہندوستان ایک بائیں بازو کا اہم ممبر کے طور پر جانتا ہے اور اب ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرون ہند بھی لوگ اس کے افکار و نظریات سے واقف ہیں کیونکہ اس کا تعلق جے این یو سے ہے اور سنگھ کا پورا پریوار اسے “ٹکڑے ٹکڑے گینگ” کا حصہ مانتا ہے۔ اس کا نام ہے عمر خالد۔ اس نوجوان نے بھی #prophetofcompassion ہاش ٹیگ میں ایک تھریڈ پیش کیا اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ کس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کے محسن ہیں اور مثال کے طور پر سفرِ طائف کا واقعہ، نبی رحمت کے راستے میں گندگی پھینکنے والی بوڑھی عورت کا واقعہ اور اللہ کے رسول کا حسنِ اخلاق سے اس کا جواب دینا اور مزدوروں کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین اور یومِ عرفہ کی تقریر کا حوالہ وغیرہ پیش کیا۔ بس پھر کیا تھا ایک طوفان کھڑا ہوگیا۔ دائیں بازو والے ہی نہیں بلکہ بائیں بازو والے تمام “ترقی پسند”  حضرات بھی اس پر پِل پڑے کہ ایک “خدا بیزار” شخص کسی خاص عقیدہ کا دفاع کیسے کرسکتا ہے؟ اور پھر ہر طرح کی لعنت و ملامت کا شکار اس کو بنایا گیا۔ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ The Print نامی انگریزی ڈیجیٹل اخبار میں مضمون لکھ کر عمر خالد کو یہ بتانے کی نوبت آگئی کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟  عمر خالد نے دستور کے حوالہ سے یہ واضح کیا کہ اسے کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کا عقیدہ کیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  روزی روٹی نے فرضی دیش بھکتی کوہرادیا؟

    ساتھ ہی اس نے اس افسوسناک پہلو کو بھی واضح کیا کہ آج مسلم دشمنی کا عالم یہ ہے کہ کھلے عام اور علی الاعلان ایک خاص طبقہ کے خلاف زہر افشانی ہو رہی ہے لیکن پولیس اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہی ہے جبکہ اسے سب کچھ معلوم ہے۔ ایسا اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ جو لوگ مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں ان کو ٹویٹر پر فالو کرنے والوں میں موجودہ حکومت کے وزراء تک شامل ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  بابری مسجد۔رام مندر تنازع کا فیصلہ آنے کے بعد مسلمانوں کی آزمائش

    عمر خالد کا یہ پہلو دیکھ کر مجھے شاعر اختر شیرانی کا وہ واقعہ یاد آگیا جس کا ذکر مولانا علی میاں نے اپنی کتاب “الطریق إلی المدینۃ” میں کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک شراب خانہ میں شراب کے نشہ میں دھت اختر شیرانی اپنے “ترقی پسند” دوستوں کے ساتھ موجود تھے۔ میر، غالب و اقبال جیسے بڑے بڑے شعراء کا نام لیا جاتا اور اختر شیرانی سے پوچھا جاتا کہ ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اختر شیرانی سب کے بارے میں تنقیدی موقف اختیار کرتے ہوئے کہتے کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ کسی نے اچانک پوچھ لیا کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اتنا سننا تھا کہ اختر شیرانی کا نشہ جاتا رہا۔ نہایت طیش میں آگئے۔

    سامنے رکھی بوتل اٹھائی اور اسی سے اس شخص پر ٹوٹ پڑے اور کہنے لگے کہ ملعون تونے کس پاک ذات کا نام اس گندی جگہ میں لے لیا۔ روتے اور بلبلاتے اور اپنے آپ کو لگاتار کوستے رہے کہ اس کا ذمہ دار میں ہوں۔ میری آزاد خیالی کی وجہ سے ان لوگوں کو یہ جرأت ہوگئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بد زبانی کر ڈالے اور اس قدر روتے رہے کہ ہچکیاں بندھ گئیں اور اسی عالم میں دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ زمانہ کا غبار دل میں موجود ایمان کو چھپا دیتا ہے لیکن فطرت اگر سلیم ہو تو ایمان کا نور نکلتا ہے اور ہر غبار کو صاف کر دیتا ہے۔ کیا خبر یہ وہی لمحہ عمر خالد کے لئے بھی رہا ہو۔

    یہ کتنا افسوسناک معاملہ ہے کہ جو لوگ نبی رحمت سے بیجا عداوت رکھتے ہیں وہ کبھی حق کی تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور بے بنیاد تحریروں اور غیر معتبر شخصیات کے چکر میں پڑ کر خود اپنی ذات کے ساتھ نا انصافی کرتے رہتے ہیں۔ تاریخی حوالوں سے اس کا پتہ چلتا ہے کہ اسلام کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی کی وجہ پیغمبرِ اسلام سے بیجا عداوت ہی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  ایسی شہریت لے کر کیا کرو گے؟

    خرم مراد نے اپنے مختصر سے سفرنامۂ امریکہ میں مغربی تہذیب کی کامیابی کے بہت سے رموز کو بیان کئے ہیں جن کا مشاہدہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے کیا تھا۔ مغربی ترقی کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے امریکیوں کے اندر وقت کی پابندی، اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مخلصانہ انہماک اور جھوٹ و فریب جیسی اخلاقی خرابیوں سے حیرت انگیز حد تک احتراز جیسی خوبیوں کا ذکر کیا۔ لیکن چونکہ وہ جماعت اسلامی کے ممتاز اراکین میں سے تھے اس لئے ایسے معاشرہ میں اسلام سے اجنبیت کی وجہ جاننے کی بھی کوشش انہوں نے کی۔

    خرم مراد اپنی ذاتی تحقیق و تفحیص سے اس نتیجہ پر پہونچے کہ در اصل اہلِ مغرب بشمول امریکی دراصل پیغمبر انقلاب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت عناد اور نفرت رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اسلام کا مطالعہ بھی نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تو ان مستشرقین کی زہر آلود کتابوں کا جس سے صرف محمد سے نفرت ہی پیدا ہوسکتی ہے۔ محسنِ انسانیت سے یورپ اور مغرب کو اس قدر بغض و عناد کیوں ہے اس کی وجوہات اب ہمیں مختلف مصادر و مراجع کی وجہ سے معلوم ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  مودی حکومت غریبوں کی دوست یا دشمن؟

    اس سلسلہ میں سب سے ممتاز نام اڈوارڈ سعید کا ہے جو فلسطینی نژاد امریکی تھے اور دنیا کے نقشہ پر انہوں نے اپنی علمی برتری اور فکری پختگی کی ایسی دھاک جمادی ہے کہ بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جو ان کی تحقیقات کو چیلنج کرنے کی جرأت کر پائیں گے۔ اڈوارڈ سعید نے سب سے پہلے استشراق کے موضوع پر اپنی شاہکار علمی تحقیق “اورینٹلزم” Orientalism میں مغرب کے طرز فکر کو بے نقاب کیا۔ ان کا مقصد کبھی اسلام کا دفاع نہیں تھا بلکہ ایک بے لاگ محقق و مفکر کی حیثیت سے بس اس فلسفہ کو بے نقاب کیا جس کی بنیاد پر اہلِ مغرب میں نسلی و قومی اور تہذیبی تفوق کا مرض پیدا ہوا۔

    اور چونکہ اٹھارویں و انیسویں صدی تک مسلم حکومتیں (دولتِ عثمانیہ اور مغلیہ سلطنت)  ہی دنیا کے سیاہ و سفید کے مالک تھے اور ان کو ختم کئے بغیر مغربی تفوق کا خواب پورا نہیں ہوسکتا تھا اس لئے اسلام سے جڑی ہر چیز پر صرف اٹکل اور شدید عداوت کی بنیاد پر حملے شروع کئے گئے۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ نازیبا کلمات اور انسانیت کو شرمسار کر دینے والے الفاظ محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں استعمال کئے گئے۔ اس موضوع پر ناول اور قصہ و کہانی کی کتابیں لکھی گئیں، ڈرامے پیش کئے گئے، اہلِ مشرق بالخصوص مسلمانوں کے بارے میں نفرت آمیز تاریخ کی کتابیں تیار کی گئیں۔ اڈوارڈ سعید نے اپنی کتاب میں ان مصنفین اور انکی کتابوں کے نام اور تاریخی پس منظر کا علمی جائزہ پیش کیا ہے۔ جنہیں تفصیل سے ان وجوہات کو سمجھنے کا ذوق ہو وہ ان کی کتاب کو پڑھ کر گہری واقفیت حاصل کرسکتا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  بابری مسجد۔رام مندر تنازع کا فیصلہ آنے کے بعد مسلمانوں کی آزمائش

    اڈوارڈ سعید کے علاوہ ایک جرمن یہودی صحافی لیوپولڈ نے بھی اپنی کتاب Islam at the crossroads اور Road to Mecca میں اپنی سرگزشت بیان کی ہے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام سے مغرب کی بے بنیاد عداوت کے اسباب ذکر کئے ہیں۔ یہ وہی لیوپولڈ ہیں جنہوں نے اسلام کا مطالعہ آزاد ذہن کے ساتھ کیا اور پھر آغوش اسلام میں آکر ان کا نام محمد اسد ہوا۔ علامہ سید قطب نے ان کی کتابوں  اور دیگر مغربی حوالوں سے اپنی کتاب “العدالۃ الاجتماعیہ” اور “خصائص التصور الاسلامی و مقوماتہ” میں یہ واضح کیا ہے کہ در اصل مغربی مفکرین کبھی بھی صلیبی جنگ کے میدان سے باہر ہی نہیں آئے اور اسلام دشمنی ان کی گھٹی میں پڑگئی جس میں خاص طور سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک کو بیجا طور پر نشانہ بنایا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ بعد کے دور میں لیوپولڈ اور مریم جمیلہ جیسے وسیع دماغ لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اس صریح علمی خیانت کا پردہ چاک کیا اور اسلام اور پیغمبر انقلاب کی صحیح تصویر پیش کی جن کی بنا پر اسلام کے مطالعہ اور پھر اس کے قبول کرنے کا سلسلہ شروع ہوا

    اور آج سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں اہلِ مغرب اسلام کے سایہ میں پناہ لے رہے ہیں اور بے شمار لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ان سب کے باوجود آج بھی اسلام دشمنی کی چھاپ مغربی معاشرہ پر بہت گہری ہے۔ اسی مغربی سماج سے تعلیم یافتہ بن کر آنے والے آج ہر جگہ چھائے ہوئے ہیں اور ہند و چین و برما میں آگ لگا رہے ہیں۔لیکن اس پورے معاملہ میں مسلمان بھی اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں ہوسکتے۔ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور اسلامی تعلیمات سے عملی طور پر خود کو اس قدر دور کرلیا ہے کہ عام و خاص ہر غیر مسلم کو بڑی دقّت محسوس ہوتی ہے کہ آخر صحیح اسلام ہے کیا؟  بین الاقوامی، ملکی اور انفرادی ہر سطح پر ہم بشمول راقم السطور صرف الفاظ کے غازی ہیں۔ مغرب ہو یا مشرق ہر جگہ انصاف پسند افراد اور جماعتیں موجود ہیں اگر ان تک اسلام کا صحیح عملی نمونہ پہونچ جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ محسنِ انسانیت کے بارے میں صدیوں سے پھیلائی گئی غلط معلومات کا ازالہ نہ ہوسکے۔ صرف دوسروں کو الزام دینے سے قبل ہمیں ہر وقت اپنا احتساب کرتے رہنا چاہئے۔ اس سے اپنے بارے میں پیدا شدہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہوتا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  صرف اپنا نہیں دوسروں کا بھی خیال رکھیں

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    پاکستانی چینی بھائی، بھائی دونوں بھائی’ہندو اور مسلمان‘پر کر رہے مظالم : محمد عرفان احمد

    نئی دہلی : بی جے پی اقلیتی مورچہ کے قومی نائب صدرعرفان احمد نے چین میں ہورہے ’مسلمانوں‘ اور...

    مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کا باغلی کو ضلع بنانے کا اعلان

    ہاٹپیپلیا : مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے آج کہا کہ ضلع دیواس کے تحت آنے والے...

    ایم سی ڈی کے اندر بی جے پی قائدین کو ایک روپیہ کی بھی بدعنوانی کی اجازت نہیں دیں گے: درگیش پاٹھک

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے کونسلر منوج کمار تیاگی ، جو دہلی کے تین ایم سی ڈی...

    جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوگا ’ آن لائن سمر اسکول آن جاب ریڈینیس‘ کا انعقاد

    نئی دہلی:جامعہ ملیہ اسلامیہ کی یونیورسٹی پلیسمنٹ سیل16 جولائی تا 24 جولائی 2020 ء کو ایک ہفتہ طویل "آن...

    سال2020 کے آخر تک دنیا میں تقریبا 97 لاکھ بچے مستقل طور پر اسکول چھوڑ سکتے ہیں

    لندن : کورونا وائرس (کووڈ۔19) وبا کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی غربت اور بجٹ میں کمی کی وجہ سے...

    جلگاؤں سیمی مقدمہ ، اورنگ آباد ہائی کورٹ نے دو نوں ملزمین کو کیا باعزت بری

    جلگاؤں سیشن عدالت نے ملزمین کو دس سال قیدبامشقت کی سزا سنائی تھی ، گلزار اعظمی ممبئی : ممنوع تنظیم...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you