رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    شاہین باغ تیری عظمت کو سلا م

    تحریر:                                                          ڈاکٹر ضیاءاللہ ندوی

    لفظِ  شاہین باغ لکھنے کے لئے جب بھی قلم تھامتا ہوں اس کی عظمت اور اس کے تئیں جذبۂ احترام و عقیدت سے اتنا مغلوب ہو جاتا ہوں کہ الفاظ و افکار کی ترتیب کو برقرار رکھ پانا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسا ہونا لازمی بھی ہے کیونکہ شاہین باغ ہی وہ مقام ہے جہاں سے ہندوستان میں تاریخِ جدید کا ایک نیا باب لکھا گیا۔ ہماری ماؤں اور بہنوں نے جرأت و بیباکی کی ایسی شاندار مثال قائم کی کہ اس کو صرف ہمارے وطن عزیز نے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا نے سراہا۔ عالمی اہمیت کے اخبارات و ٹیلی ویژن سے لیکر دانشوران اور حقوقِ انساں کے علمبرداروں اور سیاسی ماہرین تک سبھوں نے شاہین باغ کو قدر و عزت سے دیکھا۔ ایک ایسے وقت میں مسلم عوام میں امید و حوصلہ کی شمع کو روشن کیا جب ہر طرف خوف و ہراس اور مایوسی و بے بسی کا سیاہ بادل چھا چکا تھا۔

    یہ بھی پڑھیں  وزیرداخلہ نے این پی آر پر پارلیمنٹ میں جو کہا ہے اس کا حلف نامہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں دیتے؟

    اس تحریک نے ہمیں سکھایا کہ وقت کے فرعون سے بھی موسوی حکمت کے ساتھ نڈر ہوکر کیسے بات کی جاتی ہے۔ فسطائیت کی گود میں پل کر نفرت و خوں ریزی کی رسیا سنگھی نسل کے پے بہ پے حملوں کے جواب میں قوت برداشت کا استعمال کیسے کیا جات ہے۔ جن مسلم خواتین اور ان کی حیا کی علامت پردہ و حجاب کو تخلف و جہالت کا مظہر سمجھا جاتا تھا انہی باحیا اور مہذب خواتین نے دنیا کو حیرت و استعجاب میں ڈال دیا جب وہ ملک و دنیا کی سیاست کے حوالہ سے اپنے دستوری حقوق کے تحفظ میں آئینی دلائل پیش کرنے لگیں۔ بڑے بڑے میڈیا ہاؤسیز نے ان کو احترام سے سنا اور ان کی باتوں کو گوشۂ عالم تک پہونچایا۔

    یہ بھی پڑھیں  کورونا کے دور میں قابل تقلید سرگرمیاں

    امریکہ کا ہارورڈ ہو یا برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسیٹی یا پھر جرمنی و فرانس کی دانشگاہیں ہر جگہ شاہین باغ کی تحریک کا ذکر ہوا اور اس کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدہ گفتگو ہوئی۔ دنیا کی حقوقِ نسواں کی تحریکوں کے لئے تو شاہین باغ خاص طور سے بڑی اہمیت کا مرکز بنا رہا۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ شاہین باغ نے فرعونِ وقت کے غرور کو توڑنے میں اپنا اہم کردار نبھایا ۔ فرعون کے چیلے ہامان کی آواز میں وہ گھن گرج باقی نہیں رہی جو کبھی اس کا طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھی۔

    یہ بھی پڑھیں  دہلی میں فرقہ پرستی شکست کے قریب

    ان دنوں جب کورونا کے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بات ہو رہی تھی تب بھی شاہین باغ کی شاہین صفت ماؤں اور بہنوں نے اپنی ذمہ داری تھالی اور تالی پیٹنےوالوں کے مقابلہ میں زیادہ بہتر انداز میں نبھائی تھیں۔ اس کے باوجود کورونا کا بہانہ بناکر انہیں مقامِ احتجاج سے ہٹا دیا اور پولیس کی قوت کا ایک بار پھر بیجا استعمال کیا گیا۔ لیکن انہیں یہ یاد رہے کہ شاہین باغ اب کسی خاص مقام کا نام نہیں رہا۔ اب یہ ایک تحریک ہے جس نے اپنا کام کردیا ہے۔ اب یہ تحریک وقت کی امامت کریگی ۔ اب اس کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ ایک نئی قوت اور نئے جذبوں کے ساتھ پھر سے ملکی سطح پر یہ تحریک اٹھے گی اور ادھورا کام پورا کریگی ۔ شاہین باغ تیری عظمت کو سلام!

    یہ بھی پڑھیں  ہاتھرس سانحہ: نہ دلت ہوتی نہ ایسا ہوتا

    Latest news

    کیجریوال حکومت کے بروقت لاک ڈاؤن نے دہلی میں کوویڈ 19 میں انفیکشن کی شرح کو کم کردیا

    نئی دہلی : دہلی حکومت کی کاوشوں اور بہتر کوویڈ انتظامیہ کی وجہ سے ، انفیکشن کی شرح میں...

    پچھلے سال دہلی حکومت نے آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو 5-5 ہزار روپے دے کر مدد کی تھی: اروند کیجریوال

    نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی سربراہی میں ، مالی تنگدستیوں سے نبرد آزما غریب خاندانوں...

    دارالعلوم دیوبند کے استاذ عربی مولانا نورعالم امینی کے سانحہ ارتحال پر صدرجمعیۃعلماء ہند وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند مولانا ارشدمدنی نے کیا رنج وغم...

    نئی دہلی : دارالعلوم دیوبند کے استاذعربی مولانا نورعالم امینی کے سانحہ ارتحال پر صدرجمعیۃعلماء ہند وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند...

    نوجوانوں میں ویکسینیشن کا جوش و خروش، بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی وجہ سے کورونا ہاریگا : نائب وزیر اعلی

    نئی دہلی : دہلی حکومت نے پیر سے 18 سے 45 سال کے درمیان لوگوں کے لئے مفت کورونا...

    کورونا کا قہر جاری عوام کی رائے سے دہلی میں ایک ہفتہ کےلئے اور لاک ڈاؤن بڑھایا جارہا ہے : اروند کیجریوال

    کورونا کا انفیکشن 37 سے گھٹ کر 30 فیصد ہوگیا ہےلیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کورونا ختم ہونے...

    94 سالہ شخص کو سپریم کورٹ نے عبوری راحت دی

    جولائی تک پیرول میں توسیع کردی، 27 سال بعد گھر پر عید منا سکیں گے ڈاکٹر حبیب : گلزار...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you