رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    عظیم مفکر، سماجی مصلح اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی “سرسید احمد خان ایک شخصیت ایک تحریک

    محمد سالم
    محمد سالم

    تحریر۔۔۔۔۔ محمد سالم
    مسلمانوں کے عظیم مصلح، رہنما اور مصنف علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی، دہلی میں ایک درویش صفت شخص میر تقی ولد سید ہادی کے یہاں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے اسلاف ہرات سے شاہجہاں کے عہد میں ہندوستان آئے تھے۔ والد نقشبندی بزرگ شاہ غلام علی کے مرید تھے اور نانا بیرالدولہ امین الملک خواجہ فریدالدین احمد خان بہادر مصلح جنگ تھے جو پہلے کمپنی کے مدرسہ کلکتہ میں سپرٹنڈنٹ تھے اور پھر اکبر شاہ ثانی کے وزیر ہوگئے۔ سید احمد خاں بچپن ہی سے والد کے ہمراہ بادشاہ کے دربار میں جایا کرتے تھے۔ سید احمد خاں کی تربیت زیادہ تر ان کی والدہ نے کی جو بڑی دانش مند خاتون تھیں۔

    بچپن کے مذہبی ماحول نے ان پر خاصا اثر کیا۔ دہلی میں ان دنوں علوم اسلامی کے دو بڑے مراکز تھے۔ ایک شاہ عبدالعزیز کا مدرسہ، مرزا مظہر جان جاناں کے جانشین شاہ غلام علی کی خانقاہ۔ سید احمد خاں نے دونوں سے فیض حاصل کیا۔ شاہ غلام علی ہی نے ان کا نام احمد رکھا تھا اور ان کی بسم اللہ کی تقریب بھی شاہ صاحب ہی کے ہاتھوں ہوئی۔ سید احمد خاں کی تعلیم بھی انہی پرانے اصولوں پر ہوئی۔ پہلے قرآن مجید پڑھا پھر فارسی کی درسی کتابیں مثلاً کریما، خالق باری، آمدناہ، گلستان اور بوستاں وغیرہ پڑھیں۔ عربی میں شرح ملا، شرح تہذیب، مختصر معانی اور معلول کا کچھ حصہ پڑھا۔ ہندسہ اور ریاضی کی تعلیم اپنے ماموں زین العابدین خاں اور طب کی تعلیم حکیم غلام حیدر سے حاصل کی۔

    والد کے انتقال کے وقت ان کی عمر بائیس سال تھی۔ اس وقت ان کے خالو خلیل اللہ خاں صدر امین دہلی تھے۔ یہ بھی ان کے پاس بطور سررشتہ دار ملازم ہوگئے۔ اس کے بعد آگرہ کے کمشنر کے دفتر میں نائب منشی ہوئے۔ ۱۴۸۱ءمیں منصفی کا امتحان پاس کرکے مین پوری میں جج بن گئے اور پھر ترقی کرتے ہوئے ”جج سمال کاز“ (منصف عدالت خفیہ ہوگئے) اس حیثیت سے فتح پور سیکری، دہلی، روہتک، بجنور، مرادآباد، غازی پور، علی گڑھ اور بنارس میں تھوڑا تھوڑا عرصہ رہے اور ۹۷۸۱ءمیں انگلستان بھی گئے۔ ۶۷۸۱ءمیں ملازمت سے علیٰحدہ ہوکر اپنے مشن کی تکمیل کے لئے علی گڑھ میں مقیم ہوئے۔ حکومت وقت کی طرف سے انہیں ”سَر“ کا خطاب ملا تھا۔

    اس لئے سرسیّد کے نام سے مشہور ہوئے۔ ۸۷۸۱ءمیں امپریل کونسل کے رکن نامزد ہوئے۔ ۲۸۸۱ءمیں ایجوکیشن کمیشن کے رکن رہے اور ۷۸۸۱ءمیں پبلک سروس کمیشن کے رکن نامزد ہوئے۔ ۸۸۸۱ءمیں انہیں سی ایس آئی کا خطاب ملا۔ ۹۸۸۱ءمیں ایڈنبرا یونیورسٹی نے ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری عطا کی۔ آخری برسوں میں ان کی صحت خاصی خراب رہتی تھی اسی حالت میں کام کرتے رہے اور بالآخر اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔

    سرسّید نے اپنی ملازمت کے پینتالیس سال بڑی نیک نامی سے بسر کئے تھے۔ اس دوران میں انہوں نے سرکاری فرائض کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف اور ترویج علوم کے لئے بھی وقت نکالا لیکن ملازمت کو جب اپنے مشن کی راہ میں حائل دیکھا تو اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور مذہبی اور قومی مصلح کی حیثیت سے سرگرم عمل ہوگئے۔ سرسید کی زندگی تین حیثیتوں سے ہمارے سامنے آتی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  مودی حکومت غریبوں کی دوست یا دشمن؟

    وہ مصنف بھی تھے، مذہبی مصلح بھی اور قومی رہنما بھی تھے۔ مصنف کی حیثیت سے انہوں نے تاریخ اور مذہبی مباحث سے خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔ ان کی مشہور کتابیں انہی انہی مضامین کے متعلق ہیں۔ دورانِ ملازمت انہوں نے یہ کتابیں لکھیں۔ ”انتخاب الاخوین یعنی قواعد دیوانی کا خلاصہ“ قول متین ور ایطال حرکت زمین ”تسہیل فی جر ثقیل“، ”رسالہ اسباب بغاوت ہند“ اور ”آثارالصنادید“ (۷۴۸۱ئ) جو دہلی اور نواح دہلی کی عمارت کی تحقیقی تاریخ ہے۔ اس کے علاوہ سر سید نے ”آئینِ اکبری“ اور ”تاریخ فیروز شاہی“ کی تصحیح کی۔ ”تزک جہانگیری“ کو شائع کرایا اور ”تاریخ سرکشی بجنور“ کو مرتب کیا۔

    یہ بھی پڑھیں  بچوں کے مستقبل کو حکومت کر رہی ہے نظرانداز

    مذہبی اعتبار سے سرسید زیادہ تر سید احمد شہید بریلوی اور شاہ اسماعیل شہید متاثر تھے۔ چنانچہ انہوں نے رسالہ ”راہِ سنت و بدعت“ (۰۵۸۱ئ) طریقہ¿ محمدیہ کی تائید اور اہل تقلید کی تردید میں لکھا۔ شروع میں سرسید کا مسلک یہ تھا کہ انگریزوں اور مسلمانوں کی نفرت دور کرنے ہی میں بہتری ہے چنانچہ انہوں نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے تعلقات کو خوشگوار کرنے کے لئے تصانیف کا سہارا لیا۔ ”تحقیق لفظ نصاریٰ“ رسالہ احکام طعام اہل کتاب (۸۶۸۱ئ) کے علاوہ بائیبل کی تفسیر ”تبئین الکلام“ بھی اسی زمانے میں لکھی گئی۔ ۶۶۸۱ءمیں انہوں نے سائینٹیفک سوسائٹی بھی قائم کی جس نے اخبار ”علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ“ کے نام سے جاری کیا۔ ملازمت کے بعد سرسید نے نتیجہ خیز تصانیف کا ایک ڈھیر سا لگا دیا۔

    سب سے پہلے انہوں نے سرولیم میور کی کتاب ”لائف آف دی محمد صلی اللہ علیہ و سلم“ کے جواب میں ”خطبات احمدیہ“ (۰۷۸۱ئ) میں تصنیف کی۔ اس کے بعد تفسیرالقرآن لکھی جو نا مکمل رہی۔ یہ تفسیر سترہویں پارے تک لکھ پائے تھے کہ انتقال ہوگیا۔ اسی دور میں رسالہ ”تہذیب الاخلاق“ کا اجراءہوا جو ۴۲ دسمبر ۰۷۸۱ءسے شروع ہوا اور چھ سال کے بعد بند ہوگیا۔ اس کا دوسرا دور دو سال پانچ ماہ کا ہے اور تیسرا دور تین برس کا ہے۔ اس رسالے میں دیگر اہل قلم کے ساتھ ساتھ سر سید کے مضامین بھی چھپتے تھے جو زیادہ تر مذہبی، اصلاح اور قومی مقاصد کے حامل ہوتے تھے۔

    مذہبی مصلح کی حیثیت سے سرسید سب سے پہلے مجتہد تھے جنہوں نے جدید علم الکلام کی ضرورت کو محسوس کیا۔ یہ وہ دور ہے جب مغرب میں سائنسی اور مادی ترقی زوروں پر تھی اور اہل یورپ مذہب اور سائنس کو دو الگ الگ خانوں میں رکھ چکے تھے۔ اس کا اثر مسلمانوں پر بھی ہورہا تھا۔ دوسرا بڑا خطرہ عیسائی مشنریوں کا بڑھتا ہوا رسوخ تھا اور تیسرا خود مسلمانوں کے دلوں میں مستشرقین کی بیان کردہ باتوں سے غلط پیدا ہورہے تھے اور وہ اسلام کو خلاف عقل مذہب سمجھنے لگے تھے۔

    یہ بھی پڑھیں  بابری مسجد -رام مندر تنازع پر فیصلہ :نظرثانی کی درخواست آئینی حق ہے ، عدالت کی توہین نہیں

    اس وقت سرسید نے جدید علم الکلام کی بنیاد ڈالی جس کی بناءپر سرسید نے قرآن کے تمام مندرجات کو عقل اور سائنس کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً معراج اور شق صدر کو خواب کا فعل مانا ہے۔ حساب کتاب، میزان، جنت و دوزخ کے متعلق تمام قرآنی ارشادات کو استعارہ اور تمثیل قرار دیا ہے۔ ابلیس اور ملائکہ کے خارجی وجود، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ پیدا ہونے اور آسمان پر زندہ آٹھائے جانے اور جنوں بھوتوں کی قسم کی مخلوق ماننے سے انکار کیا۔

    سر سید کے ان اقدامات کی بناءپر ان پر کفر کے الزامات لگائے گئے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ آج سر سید ہی کے لگائے ہوئے پودے نے برگ و بار ہی کیا ثمر تک دینا شروع کردئیے ہیں۔ مسلمان ایک بار پھر اقوام عالم میں اپنا وجود منوا رہے ہیں۔ بے شک سر سید ہی کے جدید علم الکلام پر کئی طرح کے اعتراضات ہوسکتے ہیں لیکن اس امرا کا اعتراف ضروری ہے کہ سرسید نے جو کچھ کیا قوم کی بہتری کے خیال سے کیا۔

    خود انہی کے الفاظ ملاحظہ ہوں: ”میں صاف کہتا ہوں کہ اگر لوگ تقلید نہ چھوڑیں گے اور خاص اس روشنی کو جو قرآن و حدیث سے حاصل ہوتی ہے، نہ تلاش کریں گے اور حال کے علوم سے مذہب کا مقابلہ نہ کریں گے تو مذہب اسلام ہندوستان سے معدوم ہوجائے گا۔ اسی خیرخواہی نے مجھے بر انگیختہ کیا ہے، جو میں ہر قسم کی تحقیقات کرتا ہوں اور تقلید کی پرواہ نہیں کرتا۔ ورنہ آپ کو خوب معلوم ہے کہ میرے نزدیک مسلمان رہنے کے لئے آئمہ کبار درکنار، مولوی جیو کی بھی تقلید کافی ہے۔ لا الہ اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کہہ لینا ہی طہارت ہے کہ کوئی نجاست باقی نہیں رہتی۔“ اگرچہ سر سید نے کئی مسائل میں جمہور علماءسے اختلاف بھی کیا ہے مگر ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ ایسا اختلاف بڑے بڑے علماءو مشائخ نے کیا ہے اور اگر اختلاف کی بناءپر آدمی کافر ٹھہرایا جائے تو پھر اسلام میں کوئی بھی قابل ذکر ہستی مسلمان نہیں رہتی۔

    یہ بھی پڑھیں  کورونا کے دور میں قابل تقلید سرگرمیاں

    اردو ادب پر بھی سرسید کا گہرا اثر پڑا۔ ان کی بدولت ایک نئے دبستان کا آغاز ہوا جس نے سادہ وسلیس انداز میں نثر نگاری شروع کی اور عقلیت اور مقصدیت، ٹھوس اور جامع مسائل کو عام فہم انداز میں بیان کرنا شروع کیا۔ اردو میں انشائیہ نگاری اور تحقیق و تنقید کی شاخوں کا اجراءہوا۔ اردو میں علمی اور سنجیدہ نثر نگاری کے وہ خود بانی تھے، جسے ان کے رفقاءنے بہت ترقی دی۔ ادب میں حقیقت سچائی اور فطرت کی تحریک انہی نے اٹھائی، جس کی بناءپر انہیں ”نیچری“ (فطرت پرست) بھی کہا گیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  شاہین باغ سے شاہین باغ تک

    بحیثیت رہمنائے قوم سرسید کا سب سے بڑا اور اہم کارنامہ ان کی تعلیمی تحریک ہے انہوں نے مسلمانوں کے مصائب کا حل تعلیمی ترقی میں مضمر جانا اور پھر اس کے لئے سرگرم عمل ہوگئے۔ لندن سے واپسی پر انہوں نے ایک کمیٹی برائے خواستگار ترقی تعلیم مسلمانان کے نام سے قائم کی اور تعلیم کے موضوع پر مضامین لکھواکر ایک درس گاہ کا آغاز کیا۔ مئی ۵۷۸۱ءمیں علی گڑھ میں اس مدرسے کا افتتاح ہوا۔ دو سال بعد یعنی جنوری ۷۷۸۱ءمیں اسے کالج کا درجہ ملا اور اگلے برس سے یہاں کالج کی تعلیم کا آغاز ہوگیا۔ یہ ایک طرح کی اقامتی درسگاہ تھی، اس لئے اس کے ساتھ ہوسٹل بھی تھے۔

    طلباءکی ہر طرح سے تربیت کی جاتی تھی۔ کہنے کو تو یہ کالج تھا مگر حقیقت میں مسلمانوں کا اہم سیاسی مرکز تھا۔ سرسید کی سیاسی خدمات بھی قابل ذکر ہیں۔ وہ قومی نظریہ کا واضح اعلان انہی نے کیا۔ یہ چیز اردو ہندی زبانوں کے جھگڑے سے چلی اور پھر سرسید جو پہلے اتحاد مذہب کے قائل تھے، مسلمانوں کے لئے علیٰحدہ سیاسی حقوق لینے کے لئے تُل گئے۔ ان کی اس سیاست کی تربیت گاہ علی گڑھ کالج ہی تھا اگرچہ یہ کالج بڑے بڑے علماءتو تیار نہ کرسکے جیسا کہ سرسید نے کہا تھا کہ فلسفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں ہوگا۔ نیچرل سائنس بائیں ہاتھ میں اور کلمہ کا تاج سر پر ہوگا لیکن یہاں سے ایسے طلباءتربیت پاکر نکلے جو سیاسی میدان کے ماہر ثابت ہوئے۔

    جہاں تک سرسید کے کردار کا تعلق ہے آج تک کسی نے بھی اس کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں لکھا اور نہ ہی لکھ سکتا ہے۔ وہ دیانت دار، مخلص اور صاف گو شخص تھے۔ ان کا جذبہ مستقیم اور ستبازی کا تھا۔ خود کو اکثر ”نیم چڑھا وہابی“ کہتے تھے۔ اس ے ان کی مراد یہ تھی کہ وہ معاملات کو جیسا صحیح سمجھتے ہیں کرتے ہیں۔ اب اگر لوگ انہیں غلط سمجھیں تو اس کی پرواہ نہیں۔ انہوں نے جو جاہ و اقتدار حاصل کیا، اس سے اگر اپنی ذات کے لئے کچھ کرنا چاہتے تو مشکل نہ تھا۔ وہ اتنی اہم شخصیت کے مالک تھے کہ حکومت وقت سے ایک مستقل ریاست بطور جاگیر لے سکتے تھے۔ مگر بقول آرنلڈ ”نہ اس کے پاس رہنے کو گھر تھا، نہ مرنے اور جب وہ مرا تو اس کی تجہیز و تکفین کے لئے ایک پیسہ بھی گھر سے نہ نکلا۔ یہ شان قلندری نہ تھی تو اور کیا تھا؟“۔

    یہ بھی پڑھیں  اب تو وہ حکم بہ انداز خدا دیتا ہے

    سینئر پروڈیوسر، دوردرشن اردو

    9911611063

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    دہلی حکومت اپنے ملازمین کو پیشہ وار خصوصی فیسٹیول پیکیج کے تحت ہر ملازم کو 10 ہزار روپے دے گی: منیش سسودیا

    نئی دہلی : دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے ماتحت محکمہ خزانہ نے دہلی کے سرکاری...

    ‎بنگال میں’’خودکفیل بھارت ‘‘ مہم کی قیادت کرنے کی بھر پور صلاحیت ہے:مودی

    کولکاتہ :اس دلیل کے ساتھ کہ مغربی بنگال میں ’’خود کفیل بھارت‘‘ کی مہم کی قیادت کرنے کی بھر...

    دہلی کی تمام 70 اسمبلیوں میں 26 اکتوبر سے چلے گی ‘ریڈ لائٹ آن ، گاڈی آف’ کی مہا مہم : گوپال رائے

    نئی دہلی : وزیر ماحولیات گوپال رائے اور دہلی کے تمام اراکین اسمبلی نے آج تلک مارگ پر ریڈ...

    ایسے پس منظر سے آنے والے طلبا کی کامیابی سے بہت سارے طلبا بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے: اروند کیجریوال

    نئی دہلی : وزیر اعلی اروند کیجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے دہلی کے سرکاری اسکولوں کے...

    دہلی حج کمیٹی کے ای او جاوید عالم خان سے مرکزی حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر محمد عرفان احمد کی خصوصی ملاقات

    دہلی : عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب امسال حج کا فریضہ انجام نہیں ہو پایا تھا، مگرحج:2021 کے لیےتیاریوں...

    کارکنوں کی فلاح و بہبود میں کوئی رواداری نہیں: منیش سسودیا

    نئی دہلی : نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے تعمیراتی کارکنوں کو جنگی بنیادوں پر اندراج کرنے کی مہم...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you