رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    ملک ایک مشکل دوراہے کی طرف بڑھ رہا ہے

    چودھری آفتاب احمد
    چودھری آفتاب احمد

    چودھری آفتاب احمد
    پہلے سے تیاری نہ کرنا مودی حکومت کی لاپروائی کو ظاہرکرتا ہے، ہندوستان میں کورونا وائرس کا پہلا پوزیٹو کیس30؍جنوری کو سامنے آیا تھا،چین میں منڈرا رہے کورونا وائرس کے خطرہ سے ہم باخبر ہوگئے تھے،ہمارے پاس اس وبا سے نمٹنے کے لئے کوئی تیاری نہ تھی،نہ ہمارے پاس ٹیسٹنگ کے طبی آلات تھے اور نہ ہی ڈاکٹروں کی ٹیم کے پاس اپنے بچاؤ کا سامان،ملک ایک مشکل دوراہے کی طرف بڑھ رہا تھا،حکومت سوچ ہی نہیں رہی تھی کہ اس وبا کے خطرے اور بھی ہیں،اب ہم ایک مشکل دور میں پھنس گئے ہیں۔

    ہمارے ملک میں کورونا وائرس کے پوزیٹو مریضوں کی تعداد اور اموات مسلسل بڑھ رہی ہیں،اگرچہ یہ امریکہ،اٹلی اور اسپین میں بڑھ رہے مریضوںاور اموات کی تعداد سے کم ہے،لیکن مستقبل کے خطرہ کو کم کرکے نہیں تولا جا سکتا؟ہمارا ملک دنیا کا ترقی پزیر ملک ہے،ویسے بھی مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہماری اقتصادی حالت خراب چل رہی تھی،یہاں روزگار کے وسائیل سمٹ رہے تھے،غریبی اور بھکمری اپنا دائرہ بڑھا رہی تھی،ایسے میں قدرتی وبا نے ہاتھ پیر پھلادئے ۔

    کچھ ریاستی حکومتوں نے کورونا وائرس کے خطرہ کو بھانپتے ہوئے 20؍مارچ سے اپنے یہاں احتیاطی قدم اٹھانے شروع کردئے تھے،کئی ریاستی حکومتوں نے لاک ڈاؤن کا اعلان بھی کیا،لیکن مرکز کی مودی حکومت آنے والے قدرتی وبا کے خطرہ سے لاپرواہ بنی رہی،ادھر کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد اور اموات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا،چین ،امریکہ،اسپین اور اٹلی میں کورونا کے قہر کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے میڈیا کے سامنے آکر24؍مارچ کومکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا،لیکن یہاں تک آتے آتے کافی دیر ہوگئی تھی، اور ہمارے کئی لوگ اس وبا سے دم توڑ چکے تھے۔

    یہ بھی پڑھیں  بابری مسجد۔رام مندر تنازع کا فیصلہ آنے کے بعد مسلمانوں کی آزمائش

    ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہوتے ہی جو جہاں تھا وہیں رک گیا،دہلی، ہریانہ، پنجاب اور مغربی یوپی میں بہار ،بنگال جھارکھنڈ اور اترپردیش کے مزدور بڑی تعداد میں کام کرتے ہیں،اچانک لاک ڈاؤن ہونے سے ان کے سامنے مشکل کھڑی ہوگئی ہے،کہ وہ دو جون کی روٹی کا انتظام کیسے کریں؟کیسے اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھریں؟پیسے کمانے کا ذریعہ بند ہوگیا ہے،گھر جانے کا راستہ بھی روک دیا گیاہے،سب سے براحال دہلی میں دیکھنے کو ملا،دہلی اور اترپردیش کی سرحد پر غازی آباد میں غیر مقیم مزدور اکھٹا ہوتے چلے گئے ،دہلی کے آنند وہار بس اڈہ پر بھی ان کی بھیڑ بڑھتی چلی گئی،حکومت نے حالانکہ اعلان کیا کہ وہ غیر مقیم مزدوروں کو ان کے گھر تک بھیجنے کا انتظام کررہی ہے،لیکن یہ اعلا ن محض اعلان ہی رہا،مزدور بھٹکتے اور پیدل جاتے ہوئے ہی نظر آئے۔

    یہ بھی پڑھیں  نئے قانون سے زرعئی سیکٹر پر حاوی ہوگا سرمایہ دارانہ نظام

    ہمارے ملک کے اسپتالوں میں وینٹی لیٹر،ریسپریٹری ڈوائسس اور سینی ٹائزر س کی کمی ہے،یہی نہیں ڈاکٹروں کو مریضوں سے لگنے والے وائرس سے بچانے کے سامان کی بھی کمی ہے،وزارت صحت نے ضروری طبی آلات کی فراہمی کی سمت میں دیر سے قدم اٹھایاہے،طبی ماہرین نے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹنگ پر زوردیا ہے، حکومت کے سامنے مریضوں کی ٹیسٹنگ کا بڑامسئلہ کھڑا ہوگیاہے،طبی عملہ کو لاک ڈاؤن میں مریضوں کو تلاش کرکے ان کی جانچ کرنے کے مشکل دور سے گزرنا پڑرہا ہے،طبی عملہ کورونا وائرس کے مریضوں کی جان بچائے یا ان سے لگنے والے وائرس سے خود کو محفوظ رکھے،یہ ان کے سامنے ایک بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے،کیونکہ طبی عملہ کے پاس اپنے بچاؤ کے انتظامات نا کافی ہیں،ملک کے اندر سنگین صورت حال پیدا ہوگئی ہے،اگرچہ حکومت اس وبا سے نمٹنے کی پرزور کوشش کر رہی ہے،لیکن اس پر قابو پانے میں ہنوز ناکام ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  اس تحریک کو "لاالہ الا اللہ" کے کفن میں مت لپیٹے۔

    اچانک لاک ڈاؤن ہونے سے ایک بار تو ملک بھر میں افراتفری کا عالم پیدا ہوگیا،ضروری اشیاء کی قیمتیں آسمان چھونے لگیں،لیکن جب حکومت نے ضروری اشیاء کی دکانیں کھلے رہنے کی بات کہی ، تب جاکر لوگوں کو کچھ راحت ملی،سوال پیدا ہوتا ہے،کہ اگر ضروری اشیاء مل بھی رہی ہے،تو غریب مزدور کے پاس اسے خریدنے کے لئے پیسے کہاں سے آئیں گے؟لاک ڈاؤن کے بعد ملک بھر میں کام بھی ڈاؤن ہوگئے ہیں،جیسے ہی غریب لوگ گھروں میں بند ہوئے، ویسے ہی ان کی آمدنی کے وسائیل بھی بند ہوگئے ہیں،اب ان کے سامنے روزی روٹی کا بحران کھڑا ہوگیا ہے۔

    جب کسی ملک میں وبا پھیلتی ہے،تو بین الاقوامی سطح پر اس ملک کی مدد کی جاتی ہے،لیکن یہ وبا اب پوری دنیا میں پھیل گئی ہے،دنیا کے تقریباً 197ممالک اس وبا کی زد میں آگئے ہیں،کونسا ملک قدرت کے اس عذاب میں کس ملک کی مدد کرے؟یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب اب کسی کے پاس نہیں ہے، قدرتی آفات میں ترقی یافتہ ممالک ہی متاثرہ ملک کی مدد کرتے تھے، لیکن اب وہی ممالک اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوگئے ہیں،حالانکہ سعودی عرب نے جی 20ممالک کی میٹنگ بلاکر تعاون کا یقین دلایا ہے،لیکن خود سعودی عرب بھی اس وبا کی زد میں دھیرے دھیرے آرہا ہے،وہاں بھی کورونا وائرس کے مریض ملے ہیں،اور مریضوں کی موت بھی ہوئی ہے،دنیائے اسلام کا سعودی عرب پہلا ملک ہے ،جس نے مسجدوں میں نماز ادا کرنے پر سب سے پہلے پابندی لگائی ہے،تاکہ اس مہلک اور لا علاج وبا سے لوگوں کو بچایا جا سکے۔

    یہ بھی پڑھیں  مہاراشٹر میں پل پل بدلتی سیاست
    یہ بھی پڑھیں  اس تحریک کو "لاالہ الا اللہ" کے کفن میں مت لپیٹے۔

    کوئی چار سال پہلے وزیراعظم نریندر مودی نے اچانک ہی ملک میں نوٹ بند ی کا اعلان کیا تھا،نوٹ بندی چونکہ انتہائی حساس معاملہ تھا،اس لئے نوٹ بندی کے فیصلہ کی پوری جانکاری مودی کابینہ کے وزیروں کو بھی نہیں تھی،نوٹ بندی سے لوگوں کو بڑی پریشانی سے گزرنا پڑا،اس کے باوجود زندگی چلتی رہی،ہندوستان میں کورونا نے جنوری کے شروع میں دستک دی،ویسے چین میں یہ مر ض نومبر میں آگیا تھا،مودی حکومت نے اسے ہلکے میں لیا،اور اس کے خطرات کو نظراندازکیا،جب خطرہ سر پر منڈرا نے لگا ،تب جاکر وزیراعظم مودی نے ملک میں نوٹ بندی کی ہی طرح لاک ڈاؤن کااچانک اعلان کردیا،افسوس! مودی حکومت کی لاپروائی نے آج پورے ملک کو مشکل گھڑی میں لا کھڑا کیا۔

    حکومت نے ایئر فلائٹس کے ذریعہ کورونا متاثرہ ممالک سے امیر ہندوستانیوں کو واپس بلالیاہے،لیکن غریبوں کے پاس شہروں سے اپنے ہی گاؤں جانے کے لئے سواری کا انتظام نہیںہے،لاک ڈاؤن کے اعلان کے ساتھ ہی غیر منظم سیکٹر میں کام کرنے والے کروڑوں مزدور روزگار سے محروم ہوگئے ہیں،مزدور لوگ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بھوکے پیاسے کئی سو کلو میٹر کا پیدل سفر طے کرکے اپنے گاؤں کی طرف جا رہے ہیں،اس پیدل واپسی کے سفر میں انھیں سرکاری مدد کی بجائے پولیس کے ڈنڈے کھانے پڑ رہے ہیں،نوٹ بندی ہو یا ملک بندی دونوں ہی معاملوں میں مودی فرمان سے سب سے زیادہ مار غریب ہی جھیل رہے ہیں۔

    ڈپٹی اپوزیشن لیڈر ہریانہ اسمبلی
    موبائل نمبر۔9416266786

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    نرسنگھا نند سروسوتی کے بیان سے ہندوستان کی شبیہ دنیا میں داغدار ہوئی

    گستاخ رسول کے خلاف دیئے گئے اپنے بیان پر قائم،میرا بیان ہندوستان کے آئن کے مطابق،پارلیمینٹ اسٹریٹ تھانہ پہونچ...

    نرسنہانند پر کارروائی کے لئے صدر جمہوریہ کو میمورنڈم

    وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو بھی کاپی،چیئرمین امانت اللہ خان نے درج کرائی تھی شکایت،مساجد کے ممبروں سے...

    آج کسان ایم ایس پی کی لڑائی لڑ رہے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ تین زرعی قوانین کے نفاذ کے بعد کتنا تکلیف...

    نئی دہلی : دہلی کی منڈیوں میں کاؤنٹر لگا کر ایف سی آئی کی جانب سے گندم کی خریداری...

    وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے بے گھر کنبے کے لئے فلیٹ شفٹ کرنے کے لئے ‘جہاں کچی آبادی ،وہیں مکان’ اسکیم کا جائزہ لیا

    نئی دہلی : وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کچی بستیوں میں رہنے والے خاندانوں کے لئے ' جہاں جھگی...

    لال مسجد معاملہ ، 29اپریل تک کسی طرح کا ایکشن نہ لینے کی مرکز نے کرائی یقین دہانی

    مسجد کو شہید کرنے کی ہورہی ہے سازش،وقف بورڈ نے دکھائی مستعدی،پولیس انتظامیہ کے ذریعہ مسجد شہید کرنے کی...

    امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی وفات پر ملت ٹائمز کے زیر اہتمام تعزیتی نشست کا انعقاد

    نئی دہلی : امیر شریعت مولانا ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ کے سانحہ ارتحال پر ملت ٹائمز کے زیر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you