رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    امید کی سنہری روشنی

    تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مصباح فاطمہ

    یہ دو ر یقینن ایک مشکل ترین دور ہے لیکن رب کریم اپنی کتاب میں فرماتا ہے کہ ’پس ہرمشکل کے ساتھ آسانی ہے‘

    اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہندوستانی مسلمانوں نے دیکھا ہے ،گذشتہ سال کرونا کی آڑ میں ہندوستانی مسلمانوں کو جس طرح بلی کا بکرا بنایا گیا ان کو طرح طرح کے الزامات جھیلنے پڑے جتنی مشکلیں اٹھانی پڑی وہ دور یقینن ایک برا دور تھا ،غیر مسلم علاقوں میں مسلمانوں کی آمدو رفت پر پابندیاں آید کی جانے لگیں ،باضابطہ آدھار کارڈ مانگے جانے لگے ،یہ باتیں بھولنے کی تو نہیں ہیں ،مختلف نیوز چینل کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف اتنا زہر اگلا گیا کے وہ خوف زدہ ہوگئے انھیں لگا کہ ملک میں کرونا جیسی مہلک بیماری کے قصور وار وہی ہیں ،جس وقت ساری دنیا اس مشکل بیماری سے بچنے اور لڑنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی ہندوستان میں ایک خاص قوم کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا خوشیاں منائی جارہی تھیں ،شاید بروقت انتظامات کئے جاتے تو اتنے مشکل حالات نہیں دیکھنے پڑتے ،اور حالات بہتر ہوسکتے تھے۔لوگوں کو یو ں سڑکوں پر آکسیجن سلینڈر اور دوا کی تلاش میں خوار نہیں ہونا پڑتا ،گنگا کنارے لاشوں کے امبار نہیں لگے ہوتے۔لیکن اس سے فرق کسے پڑتا ہے ۔

    خیر منفی پہلوں کی تعداد بہت زیادہ ہے آج ہم کچھ مثبت پہلوں کی بات کرینگے۔بات ان لوگوں کی جو اس مشکل دور اور حالات میں امید کی کرن بن کر نکلے یہ چند نام ہی نہیں بلکہ انسانیت کی جیتی جاگتی مثال ہیں َنظر ڈالتے ہیں انسانیت کی ان جیتی جاگتی تصویروں پر۔

    پیارے خان :
    کرونا کے اس مشکل ترین وقت میں امید کی کرن بن کر ابھرے مہاراشٹرا کے ناگ پور کے پیارے خان سنتر ے بیچنے سے لیکر ایک وقت میں آٹو رکشا چلانے والے پیارے خان کا شمار اب بڑے ٹرانسپورٹر میں ہوتا ہے اس مشکل ترین وقت میں انھوں نے ایک مہینہ میں تقریبا 85لاکھ روپئے خرچ کئے جس کے ذریعہ چار سو میٹرک ٹن آکسیجن اسپتالوں میں پہنچائی گئی ،میڈیا کہ ذریعہ مختلف قسم کے جہاد کے نام سے
    مسلمانوں کوبدنام کئے جانے کے بعد لوگوں نے اسے آکسیجن جہاد کہنا شروع کردیا۔

    یہ بھی پڑھیں  قرآن کریم اور اس کی 26 آیتیں جو لوگ مذہب کی بنیاد پر اسلام میں غیر مسلموں کے قتل کو جائز سمجھ رہے ہیں انھوں نے صرف قرآن کی کچھ آیتوں کے ترجمے کو پڑھ لیا اور اس کی تفسیر کو نہیں پڑھا

    پیارے خان بتاتے ہیں کہ اس مددکے لئے انھوں نے کسی بھی قسم کی سرکاری مدد نہیں لی اور سارا خرچ ان کا خود کا تھا کیونکہ یہ ملک ان کا ملک ہے اور یہ لو گ ان کے اپنے اور اپنوں کی ذمہ داری احسان تو نہیں ہوتی۔

    شارق حسین :
    کرونا کے مہلک مرض نے ہندوستان کے دل دلی کو ہلا کر رکھ دیا ،آکسیجن کی کمی سے جوجھتی دلی کو تڑپتا چھوڑ سینٹرل اور اسٹیٹ حکومتیں جہاں ایک دوسر ے پر الزامات لگاتی رہیں وہی کچھ لوگوں نے حالات بدلنے کا بیڑا اٹھایا، وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشہ دیکھنے کے روادار نہیں تھے ،ان میں ایک نام شارق حسین کا بھی تھا ،دلی کے آکسیجن مین کے نام سے مشہور شارق حسین نے دن رات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ضرورت مندوں تک آکسیجن پہنچایا اور ان کی مدد کرنے کی ہر ممکن کوشش کی وہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس مہنگی گاڑیوں سے لیکر جھگی میں رہنے والے لوگوں نے مدد کی گہار لگا ئی ،اور انھوں نے ہر ممکن کوشش کی کے وہ اس مشکل وقت میں لوگوں کی مدد کرسکیں ۔

    یہ بھی پڑھیں  عالی جناب نریندر مودی جی کے بیس (20) برسوں کی بہترین حکمرانی کا سفر

    شاہنواز شیخ :
    ممبئی کے شہنواز شیخ کو آکسیجن مین کا خطاب یونہی نہیں مل گیا ،انھوں نے گذشتہ سال کی طرح امسال بھی ضرورت مندوں تک آکسیجن پہنچایا اس کے لئے انھوں نے پوری تیاری کی انھوں نے ملاڈ میں باضابطہ طور پر ایک وارروم بنایا جس کے تحت ہر روز ان کے پاس تقریبن 500سے زیادہ کال آکسیجن کے لئے آئیں ،آکسیجن کے ساتھ ساتھ ان کے وار روم کے ذریعہ لوگوں کو ہاسپیٹل بیڈس ،آئی سی یو ،وینٹیلیٹڑ کی جانکاریاں بھی دی جانے لگیں ،پچھلے سال انھوں نے لوگوں کی مدد کے لئے60 آکسیجن سلینڈر خریدے تھے،آج ان کے پاس 200آکسیجن سلینڈر ہیں جو ضرورت مندوں کے کام آرہے ہیں اس کے لئے انھوں نے اپنی کار تک بیچ دی۔

    یہ بھی پڑھیں  کرونا وائرس سے ہم کیا سبق لیں؟

    محمد ثاقب۔
    پیشہ سے ئی ٹی پروفیشنل محمد ثا قب یوں تو ایک عام نوجوان ہیں، لیکن کرونا کے اس مشکل وقت میں انھوں نے ایک غیر معمولی کام سر انجام دیا لوگوں کی مشکل اور پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے ثاقب اور ان کے دوستوں نے مل کر فیس بک پر ایک کووڈ ہیلپ گروپ بنایا جس کا مقصد لوگوں تک آکسیجن ،ہاسپیٹل اور، دوا سے متعلق صحیح جانکاری پہنچا نا تھا ،تاکہ جو لوگ ان مشکل حالات سے جو جھ رہے ہیں ان کی مدد ہوسکے ،دیکھتے ہی دیکھتے 20دنوں کے اند ر اس گروپ سے تقریبا پچیس ہزار لوگ جڑگئے ہر روز ہزاروں ضرورت مندو کی پوسٹ تک پہنچنا اور ملک کے ہرکونے تک مدد پہنچانے کی کوشش کرنا کہیں سے آسان نہیں تھا

    اس کے باوجود انھوں نے حوصلہ نہیںہارا ،وہ کہتے ہیں ہر روز لیڈس نکالنا ،ان کو ویری فائی کرنا پھر ضرورت مندوں تک پہنچانا ایک مشکل مرحلہ تھا ،ہم نے مسلسل کئی راتوں تک جاگ کر کام کیا،ہر دن آنے والی موت کی خبریں ہمیں توڑ کر رکھ دیتیں ِ،لیکن اسی وقت کوئی شکریہ کا میسیج حوصلے بڑھا جاتا ،انھیں لگتا ہے کے وہ سب کو نہیں بچا سکتے پر ان کی کوشش سے گر کوئی ایک جان بھی بچتی ہے تو یہ ان کی محنت کا حاصل ہے ،اس مشکل وقت میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے تو نہیں بیٹھا جاسکتا ،انھوں نے اپنی کوشش کی ہے امید کے دئے جلانے کی۔

    یہ بھی پڑھیں  قرآن کریم اور اس کی 26 آیتیں جو لوگ مذہب کی بنیاد پر اسلام میں غیر مسلموں کے قتل کو جائز سمجھ رہے ہیں انھوں نے صرف قرآن کی کچھ آیتوں کے ترجمے کو پڑھ لیا اور اس کی تفسیر کو نہیں پڑھا

    جوہر صدیقی۔
    مظفر پور کے جوہر صدیقی اپنی آئی ٹی کمپنی چلاتے ہیں گذشتہ سال انھوں نے آس پاس کے تمام علاقوں کے ہاسپیٹل میں اپنی آٹی سروس فری کردی تھی جس کی وجہ سے ڈاکٹرس اور مختلف میڈیکل پروفیشنلس کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات تھے

    یہ بھی پڑھیں  بچوں کے مستقبل کو حکومت کر رہی ہے نظرانداز

    انھیں لگا کہ اس مشکل وقت میں وہ لوگوں کی مدد کرسکتے ہیں اپنے تعلقات کی وجہ سے وہ نہ صرف مظفر پور اور پٹنہ بلکہ جھارکھنڈ ،اترپردیش،اتراکھنڈ،دلی ،تک لوگوں کی مدد کر رہے ہیں ،ہر روز انھیں مدد کی ہزاروں کال موصول ہوتی ہیں ،اور وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کی مدد کی جاسکے ،ظاہر سی بات ہے کہ جوہر اور ان جیسے تمام لوگوں کی پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے کپڑوں سے پہچان سکیں ،وہ کہتے ہیں کہ میں کبھی کامیاب ہوتا ہو کبھی ناکام لیکن ضمیر کو یہ گلا تو نہیں رہیگا کہ جب ضرورت تھی میں اس وقت میں بیٹھا رہا

    یہ تو صرف چند نام ہیں ایسے نہ جانے کتنے مسلم نام والے ڈاکٹر ،سوشل ورکر زمین پر کام کررہے ہیں جن کی ہمیں کچھ خبر ہی نہیں ،لیکن کہا جاسکتا ہے کہ اس ملک کو جب جب ضرورت پڑی ہندوستانی مسلمانوںنے بلا تفریق مذہب مللت اپنا فرض نبھایا ،تاکہ اس ملک کی سالمیت اور یک جہتی کو بنائے رکھا جاسکے۔

    اس کے باوجودا گر انھیں ان کے کپڑوں سے پہچانا جاتا ہے ،تو پہچانتے رہیں دراصل یہ کام ہی ان کی اصلی پہچان ہیں وہ سب سے پہلے انسان اور انسانیت کو بچانے کی جدوجہدمیں مشغول ہیں ،انھیں کسی طرح کے بے بنیاد الزامات آج تک نہیں توڑ پائے ،سلام ہے ان تمام لوگوں کو جو انسانیت بچا رہے ہیںاور اپنے زندہ ہونے کا ثبوت اس طرح دے رہے ہیں ۔یہ لوگ یقین ہیں کہ براوقت گذر جائیگا اور آنے والا وقت امید کی روشنی ہوگا۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    اردو اکادمی دہلی ، دہلی ای۔ لرننگ کورس جلد شروع کرے: منیش سسودیا

    اردو اکادمی، دہلی کی دہلی سیکریٹریٹ میں منعقدگورننگ کونسل کی میٹنگ میں کئی اہم تجاویز پیش نئی دہلی : اردو...

    عام آدمی پارٹی کے روہتاش نگر ودھان سبھا میں منعقدہ مظاہرے میں مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا

    نئی دہلی : بی جے پی کی زیر اقتدار ایم سی ڈی میں بدعنوانی اور مودی حکومت کی ناکام...

    ہر فرد میں ایک دلی جذبہ ہے ،یہاں لوگ ادب سے محبت کرتے ہیں : عامر اصغر قریشی

    شہر ناندورا میں سہ ماہی تکمیل کے مدیر عامر اصغر قریشی کے اعزاز میں ادبی نشست ناندورا : بتاریخ 23...

    ایم سی ڈی بلڈر مافیا کے تعاون سے لیز پر دی گئی دکانوں کا سروے کررہی ہے اور عمارت کو خطرناک دکھا کر خالی...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کے زیر اقتدار نارتھ ایم سی ڈی کی طرف...

    اگلے تین دن تک مسلسل بارش کے امکانات ، تمام افسران دن میں 24 گھنٹے دستیاب رہیں گے ، کسی بھی وقت ضرورت ہوسکتی...

    نئی دہلی : لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دہلی کے نکاسی...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you