رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    قرآن کریم اور اس کی 26 آیتیں جو لوگ مذہب کی بنیاد پر اسلام میں غیر مسلموں کے قتل کو جائز سمجھ رہے ہیں انھوں نے صرف قرآن کی کچھ آیتوں کے ترجمے کو پڑھ لیا اور اس کی تفسیر کو نہیں پڑھا

    تحریر………مولانا ارشد مدنی

    گزشتہ چند دنوں سے ملک میں قرآن شریف کی 26 آیتوں کے متعلق یہ آواز زیادہ زور پکڑ رہی ہے کہ قرآن مسلمانوں کو مشرکین (مورتی پوجکوں) کے قتل کرنے اور مار ڈالنے کا حکم دیتا ہے اس لئے قرآن کی جن جن آیتوں میں مورتی پوجکوں کو قتل کرنے کا حکم آیا ہے ان کو قرآن سے نکالا جائے،

    کیونکہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کسی بھی غیر مسلم اور مورتی پوجک کو دنیا میں جینے کا حق نہیں دیتا اور اس کے ساتھ اچھے رہن سہن کو ناجائز سمجھتا ہے، حالانکہ قرآن شریف میں سورت نمبر۰60آیت نمبر ۸ – ۹ میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں :
    ”اے مسلمانو! اللہ تم کو منع نہیں کرتا ان لوگوںسے جو لڑتے نہیں تم سے دین پر اور انھوں نے نکالا نہیں تم کو تمہارے گھروں سے کہ کرو ان سے بھلائی اور انصاف کا سلوک بے شک اللہ انصاف والوں کو پسند کرتا ہے ۔ اللہ تو منع کرتا ہے تم کو ان لوگوں سے جو تم سے دین پر لڑے ہیں اورانھوں نے دین پر تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور” شریک ہوئے تمہارے نکالنے میں“ کہ ان سے دوستی کرو اور جو کوئی ان سے دوستی کرے تو وہی لوگ گناہگار ہیں“۔

    یہ قرآن کا ایک عام حکم ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن غیر مسلموں کے ساتھ اچھے سلوک اور اچھے رہن سہن سے ہر حال میں منع نہیں کرتا، بلکہ وہ مشرکین کے ایک خاص گروہ سے جو مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر جینے کا حق نہیں دیتا تھا قتل وقتال کرتا تھا، مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نکالتا تھا اور ان کی جائدادوں پر قبضہ کر لیتا تھا، ان کے ساتھ دوستی کرنے اور دوستی رکھنے سے منع کرتا ہے۔

    اسی طرح سورت نمبر 4آیت نمبر90 میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں :
    ”سوائے (ان مورتی پوجکوں کے) جو ایسے لوگوں سے جاملتے ہیں جن میں اور تم میں مصالحت ہے، یا خود تمہارے پاس اس حالت میں آئیں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ اور اپنی قوم کے ساتھ بھی لڑنے سے تنگ (منقبض) ہوں (یہ اللہ کا انعام ہے نہیں تو) اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط (دلیر) کر دیتا اور وہ تم سے لڑنے لگتے، پھر اگر وہ مشرک لوگ تم سے ایک طرف ہو جائیں یعنی تم سے نہ لڑیں اور تم سے کنارہ کش رہیں تو اللہ نے تم کو ان پر کوئی راستہ نہیں دیا“۔

    اس آیت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں بھی مشرکین کے ساتھ قتل وقتال کا حکم دیا جارہا ہے وہ عام مورتی پوجکوں اور مشرکوں کے ساتھ نہیں بلکہ ان ہی مشرکین کے ساتھ ہے جو کسی حال میں بھی سرزمین عرب میں کسی جگہ بھی مسلمانوں کو جینے اور رہنے کا حق نہیں دیتے تھے۔

    جس کی مختصر سی تفصیل یہ ہے کہ اللہ نے حضرت محمد ﷺ کو جزیرة العرب مکہ میں پیدا فرمایا یہاں کے رہنے والے بتوں کی پوجا کرتے تھے اور اسی کو دین سمجھتے تھے حضرت محمد ﷺ چالیس سال کی عمر تک ان ہی لوگوں میں نہایت شرافت اور پاکدامنی کے ساتھ رہتے رہے جب نبی کریم ﷺکو 40 سال کی عمر میں نبوت ورسالت کی ذمہ داری ملی اور آپ نے اللہ کے حکم سے ایک اللہ کی عبادت کی تبلیغ شروع کردی تو مکہ کے رہنے والے چونکہ بت پرستی کرتے تھے اس لئے مکہ والوں نے اللہ کے رسول اور ان کے متبعین کو بڑی بڑی تکلیفیں دینا شروع کردیں پھر بھی اس کے بعد 13سال تک اللہ کے حکم پر آپ مکہ میں ہی مقیم رہے اور اپنی قوم کے ظلم وتشدد کو خود آپ ﷺ اور آپ کے گنے چنے شیدائی رات اور دن سہتے رہے، اس کے علاوہ ان لوگوں کا کوئی قصور نہیں تھا کہ یہ لوگ اس ماحول میں جہاں مکہ والوں نے 360 بت کعبة اللہ میں اور اس کے ارد گرد رکھ رکھے تھے، وہاں یہ لوگ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے، چنانچہ مکہ کے مورتی پوجکوں کے ظلم وتشدد سے تنگ آکر 80 کے قریب مسلمان اللہ کے نبی ﷺکی اجازت سے گھر بار اور آل اولاد چھوڑ کر سکون کے ساتھ ایک اللہ کی عبادت کرنے کے لئے حبشہ چلے گئے۔

    یہ بھی پڑھیں  کورونا کے دور میں قابل تقلید سرگرمیاں
    یہ بھی پڑھیں  کرونا وائرس کا قہراور فرقہ پرستی کا زہر

    مکہ معظمہ میں 13سال تک آپ کے ہاتھ میں کوئی طاقت نہیں تھی اگر طاقت ہو سکتی تھی تو اپنے خاندان اور قبیلہ کی طاقت ہو سکتی تھی مگر وہ سب کے سب مذہب کی بنیاد پر آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے شدید مخالف تھے اور ایسی ایسی تکلیفیں دیتے تھے جن کو سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، جب ایک دن اپنے اور پرائے مکہ کے بڑے بڑے سردار اپنے ہاتھوں سے آپ کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو کر جمع ہوگئے تو اللہ کے حکم پر اور اللہ کی حفاظت میں آپ ان ہی لوگوں کے درمیان سے نکلے اور مدینہ منورہ آگئے، اس سفر میں آپ کے ساتھی اور خدمت گزار صرف حضرت ابو بکر صدیقؓ تھے۔

    یہاں آکر اب اللہ کے نبی ﷺ نے پہلی اسلامی حکومت قائم کی جس کا کیپٹل مدینہ منورہ کو بنایا اور تمام وہ چیز یں جن کی کسی حکومت کو ضرورت ہوتی ہے وہ سب مہیا کیں یہاں آپ کی وفادار اور آپ کے اشارہ پر مرنے اور مٹنے والی فوج بھی ہے آج کی اصطلاح میں بیت المال (اسٹیٹ بینک) بھی ہے قید خانہ بھی ہے غرض وہ تمام چیزیںہیں جن کی ضرورت تھی۔

    اور اللہ کے رسول ﷺ اور مکہ سے آنے والے (دیش تیاگ کرنے والے) آپ کے ساتھیوں نے بھی مدینہ ہی کو اپنا وطن بنا لیا۔

    مکہ کے رہنے والے لوگ اس کو کب گوارا کر سکتے تھے کہ جن لوگوں کو بے سروسامانی اور بے بسی کی حالت میں اپنے گھر مکہ سے نکالدیا وہ کھلم کھلا ایک اللہ کی عبادت کرنے لگیں اور حکومت قائم کر کے بیٹھ جائیں اور ان کا سکہ عرب میں چلنے لگے؛ چنانچہ دشمنی کی آگ اور طاقت کے نشے میں اپنے پہلوان لڑاکو اور سرداروں کو لے کر ہتھیاروں سے سج دھج کر بدر کے میدان میں ان بے سہارا لوگوں کو تہس نہس کرنے کے لئے اور پہلی اسلامی حکومت کو بے نام ونشان کرنے کے لئے جمع ہو گئے، لیکن حکومت اور طاقت تو اللہ کی ہے اس نے ان بے سہارا تھوڑے سے لوگوں کے ہاتھوں سے ان کی ایسی درگت بنائی جس کا مکہ کے قریش تصور بھی نہیں کر سکتے تھے اس ذلت ورسوائی اور ہزیمت نے ایک طرف تو مسلمانوں کے حوصلہ کو بڑھایا دوسری طرف قریش کے دل میں دشمنی کی ایسی آگ لگا دی جس کی صحیح تصویر کھینچنا بھی مشکل ہے، دشمنی کی اسی آگ کے نتیجہ میں شکست کے بعد پے در پے ”احد“ اور ”احزاب“ کی لڑائیوں میں قریش مکہ نے مدینہ پر چڑھائی کی ہے اللہ کے رسول اور مسلمانوں نے مکہ پر نہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  نئے قانون سے زرعئی سیکٹر پر حاوی ہوگا سرمایہ دارانہ نظام

    اس مختصر سی تمہید کے بعد یہ حقیقت سامنے آجانی چاہئے کہ قرآن میں جہاں بھی مورتی پوجک اور مشرکین کے ساتھ قتال اور لڑائی کا حکم آرہا ہے وہ سب مورتی پوجک اور مشرکین کے ساتھ نہیں بلکہ ان ہی لوگوں کے بارے میں آرہا ہے جن کے سینے مسلمانوں کی دشمنی کی آگ سے تندور بنے ہوئے ہیں، نہیں تو کسی غیر مسلم کے ساتھ حسن معاشرت اور اچھے رہن سہن کا حکم ہمیشہ سے ہر مسلمان کے لئے وہی ہے جس کو اس مضمون کی ابتدا میں سورت نمبر 60 کی آیت نمبر8 میں بتایا گیا ہے جو لوگ تمام غیر مسلموں کو ہمیشہ جہاں تہاں قتل کر ڈالنا اسلام کی تعلیم سمجھتے ہیں انھوں نے اسلام کو کچھ بھی نہیں سمجھا اسلام اللہ کا بھیجا ہوا ایک آسمانی مذہب ہے اور کوئی آسمانی مذہب اللہ کے بندوں کے قتل کا حکم ظالمانہ طور پر نہیں دیتا ہاں اللہ کے بھیجے ہوئے مذہب کا چراغ گل کرنے کے لئے یا اسلامی حکومت کی جڑ کھودنے کے لئے کوئی حکومت یا طبقہ کھڑا ہو جاتا ہے تو اسلام کی ان کے ساتھ کوئی صلح نہیں ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  آ گے کنواں پیچھے کھائی

    اس مختصر سی تمہید کو سامنے رکھنے اور سوچنے پر یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ ایسی دشمنی رکھنے والے اور حکومت کی جڑ اکھاڑنے والے لوگوں کو آج بھی دنیا میں کوئی دودھ نہیں پلاتا بلکہ ان کے ساتھ وہی کیا جاتا ہے جو اسلام نے کیا اور قرآن کی آیاتِ قتال میں اس کو بیان فرمایا اور سورہ نمبر 60کی آیت نمبر 9 میں اسی مضمون کو واضح طور پر ظاہر بھی فرما دیا۔

    اس مذکورہ حقیقت سے ناواقف لوگ ان آیتوں کو مذہب کی بنیاد پر تمام مشرکین کی مخالفت اور قتل کے معنٰی میں لیتے ہیں جبکہ یہ غلط ہے سورہ نمبر 60 آیت نمبر 8 یہ بتا رہی ہے کہ وہ غیر مسلم جو تمہارے دشمن نہیں ہیں تم ان کے ساتھ اچھے سلوک اور اچھے ویوہار کے پابند ہو۔
    ایک اور آیت: جس کو ان 26 آیتوں میں پیش کیا جاتاہے وہ سورة نمبر9 کی آیت نمبر28 ہے جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں :
    ” اے ایمان والو شرک کرنے والے ناپاک ہی ہیں تو وہ لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں“۔
    یہاں بھی یہ سمجھاجاتا ہے کہ اس سے مراد تمام شرک کرنے والے اور اللہ کے ساتھ بتوں کی عبادت کرنے والے ہیں، لیکن خود آیت میں ”شرک کرنے والے ناپاک ہیں“کے ساتھ ”وہ لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں“ یہ بتا رہا ہے کہ یہ وہ ہیں جن کا کوئی گناہ کا کام کعبة اللہ کی عظمت کے خلاف ہو رہا تھا اس لئے ان کو بیت اللہ اور مسجد حرام کے قریب بھی آنے سے منع کیا گیا ہے، اور شرک کے ساتھ ساتھ یہ ناپاک کام ان خاص مشرکین کے ناپاک اور نجس ہوجانے کا سبب ہے چنانچہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد پہلے حج کے موقع پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جن باتوں کا اعلان کرنے کے لئے بھیجا تھا ان میں یہ بھی ایک خاص کام تھا کہ اس سال کے بعد کوئی سر سے پیر تک ننگا دھڑنگا کعبة اللہ کا طواف نہیں کرے گا

    یہ بھی پڑھیں  مولانا ارشد مدنی کی تعلیمی پہل ۔ ملت کو خواب غفلت سے بیدارکرنے کی کوشش

    کیونکہ قرب وجوار کے غیر مسلم لوگ کعبة اللہ کا طواف مادر زاد برہنہ اور ننگے کیا کرتے تھے، یعنی اس برہنگی اور ننگے پن کو انھوں نے اپنے دین کا حصہ بنا رکھا تھا جس طرح ہماری زبان میں اگر عقل کے خلاف کوئی کام کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ”اس شخص کی عقل پر پتھر پڑگئے“ یا ”عقل پر کتے موت گئے ہیں“ قریب قریب اسی طرح یہاں فرمایا جارہا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کی عظمت وجلال والے گھر کے طواف جیسے مقدس عمل اور عبادت کو مادر زاد برہنگی کی گندی شکل میں عبادت کا روپ دے رکھا ہے ان کا یہ کام ہی نہیں گندا ہے بلکہ وہ تو کل کے کل گندے ہیں۔

    جو لوگ مذہب کی بنیاد پر اسلام میں غیر مسلموں کے قتل کو جائز سمجھ رہے ہیں انھوں نے صرف قرآن کی کچھ آیتوں کے ترجمے کو پڑھ لیا اور اس کی تفسیر کو نہیں پڑھا اسی لئے ان کو ٹھوکر لگی ہے اگر وہ سورة نمبر 60کی آیت نمبر8 اور آیت نمبر9 کے معنٰی پر غور کر لیتے اور ان دونوں آیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے قتل وقتال کی آیتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو بات صاف ہو جاتی؛ کیونکہ یہ قتل وقتال کی آیتیں اگر تمام مشرکوں کے لئے ہوتیں تو سورہ نمبر 60 کی آیت نمبر 8 میں اور سورة نمبر 4 آیت نمبر 90 میں عام مورتی پوجکوں کے ساتھ اچھے ویوہار اور قتل وقتال نہ کرنے کی بات قرآن میں کیسے کہی جاسکتی تھی؟۔

    یہ بھی پڑھیں  کورونا کے دور میں قابل تقلید سرگرمیاں

    قرآن اللہ کی کتاب ہے اس کا ایک ایک حرف صحیح ہے دنیا کا ہر مسلمان 1400 چودہ سو سال سے اسی عقیدہ کے ساتھ پڑھتا پڑھاتا ہے مرتا اور جیتا ہے اس کو غلط کہنا سراسر غلط ہے ہاں اپنے اشکال کو دور کرنے کے لئے تفسیر پر ضرور غور کرنا چاہئے۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    کیجریوال حکومت کے بروقت لاک ڈاؤن نے دہلی میں کوویڈ 19 میں انفیکشن کی شرح کو کم کردیا

    نئی دہلی : دہلی حکومت کی کاوشوں اور بہتر کوویڈ انتظامیہ کی وجہ سے ، انفیکشن کی شرح میں...

    پچھلے سال دہلی حکومت نے آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو 5-5 ہزار روپے دے کر مدد کی تھی: اروند کیجریوال

    نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی سربراہی میں ، مالی تنگدستیوں سے نبرد آزما غریب خاندانوں...

    دارالعلوم دیوبند کے استاذ عربی مولانا نورعالم امینی کے سانحہ ارتحال پر صدرجمعیۃعلماء ہند وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند مولانا ارشدمدنی نے کیا رنج وغم...

    نئی دہلی : دارالعلوم دیوبند کے استاذعربی مولانا نورعالم امینی کے سانحہ ارتحال پر صدرجمعیۃعلماء ہند وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند...

    نوجوانوں میں ویکسینیشن کا جوش و خروش، بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی وجہ سے کورونا ہاریگا : نائب وزیر اعلی

    نئی دہلی : دہلی حکومت نے پیر سے 18 سے 45 سال کے درمیان لوگوں کے لئے مفت کورونا...

    کورونا کا قہر جاری عوام کی رائے سے دہلی میں ایک ہفتہ کےلئے اور لاک ڈاؤن بڑھایا جارہا ہے : اروند کیجریوال

    کورونا کا انفیکشن 37 سے گھٹ کر 30 فیصد ہوگیا ہےلیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کورونا ختم ہونے...

    94 سالہ شخص کو سپریم کورٹ نے عبوری راحت دی

    جولائی تک پیرول میں توسیع کردی، 27 سال بعد گھر پر عید منا سکیں گے ڈاکٹر حبیب : گلزار...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you