رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    منفی تنقید کا یہ رجحان ملت کے لئے خطرناک

    تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ۔ آزاد قاسمی
    آج ہم جس ترقی یافتہ سماج میں جی رہے ہیں اور جس طرح سے جدید طرزحیات کو برت رہے ہیں، اس پس منظرمیں اگر یہ کہا جائے کہ نئی نسل کوجدید ٹکنالوجی کی یہ رعنائیاں اورجدید ثقافتی چکاچوندورثہ میں ملاہے توقطعی غلط نہ ہوگا۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ انٹرنیٹ وغیرہ کے غیر اخلاقی اثرات اس سے الگ ہیں،جو بحث اور مطالعہ کا ایک الگ ہی موضوع ہوسکتے ہیں۔کسی بھی قوم کے عروج وزوال اور اس کے نشوونمامیں سماجی ہم آہنگی، معاشرتی طرززندگی، متوازن رہن سہن،اورمنصفانہ معاشی تقسیم کابہت اہم رول ہوتاہے۔ملت کے نوجوانوں میں معیاری تعلیم کا فقدان، اخلاقی تربیت سے محرومی،بے روزگاری،مادیت پرستی کی طرف بڑھتا رجحان، منفی سوچ اور غیرمناسب رہنمائی کے سبب پیدا ہونے والی صورتحال نے ملت کے بہی خواہوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبورکردیاہے۔

    انسانی مشاہدات کے ساتھ ساتھ دانشوران قوم کی تقریریں، تحریریں اور تجزیے یہ بتاتے ہیں کہ قوموں کے لئے اس کی نوجوان نسل ایک قیمتی اثاثہ ہی نہیں بلکہ ملک وملت کیلئے روشن اورپائیدار مستقبل کی امیدوں کامرکزبھی ہواکرتی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی اور کامیاب دنیاوی زندگی میں سربلندی کادارومدار اس قوم اورملک کی نوجوان نسل کی تعلیم وتربیت کے ساتھ اس کے بلندکرداراوراعلیٰ اخلاق پر ہوتاہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ہماری صفوں میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جومنفی اندازمیں نہ صرف سوچتے ہیں بلکہ ہر معاملہ میں خامی کا پہلوتلاش کرنا اوراس کی تشہیرکرناان کی سرشت میں شامل ہوتاہے،ایسے لوگوں کا ذاتی مفادکیا ہوسکتاہے، اس کی نشاندہی تو نہیں کی جاسکتی،لیکن اس جدیددورمیں جب ہم سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے دوسرے ذرائع پر نظرڈالتے ہیں تو اس طرح کی چیزیں بڑی تعدادمیں نظرآتی ہیں۔جن میں کسی تعمیری سوچ کا عنصرمفقودہوتاہے۔

    ادھرکچھ دنوں سے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارم پر ملی تنظیموں کے تعلق سے شدت کے ساتھ رپورٹیں آرہی ہیں جن میں اسی طرح کی منفی باتیں لکھی جارہی ہیں جن کا ذکر اوپر آچکاہے، یہ بات بھی بہت ہی شدومدکے ساتھ پھیلائی جارہی ہے کہ جمعیۃعلماء ہند نے جو665اعلیٰ عصری تعلیم یافتہ نوجوانوں کو وظائف دینے کا اعلان کیا ہے، اس کی تفصیلات عام کرنے سے جمعیۃکی قیادت بچ رہی ہے۔یہ بھی مشتہرکیا جارہا ہے کہ ملی تنظیموں اور رفاہی اداروں کی طرف سے اس طرح کے اعلانات حقیقت سے دورہوتے ہیں۔ملک میں جو بھی ملی تنظیمیں سرگرم ہیں ان میں ممکن ہے کچھ تنظیمیں کاغذوں تک محدودہوں۔ لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ بیشتر تنظیمیں اپنی بساط بھر رفاہی وفلاحی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں، جہاں تک بات جمعیۃعلماء ہند کی ہے تووہ ایک کھلی کتاب کی طرح ہے،پچھلے سوبرس سے وہ ملک وقوم کی جو خدمات انجام دے رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے

    یہ بھی پڑھیں  اپنی ذہنی قوت کا صحیح استعمال کرو

    یہاں چھپانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔یہ بھی ایک بڑی حقیقت ہے کہ جمعیۃعلماء ہند موجودہ صدرمولانا ارشدمدنی کی قیادت میں پچھلے کچھ عرصہ سے مختلف محاذپرجو کارنامے یارفاہی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے، جمعیۃعلماء ہند نے نامساعد حالات میں بھی قوم و ملت کیلئے بیشمار کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔اور اس کا یہ سفر خوب سے خوب ترکی طرف کامیابی وکامرانی کے ساتھ جاری ہے، جس کی مختصرتفصیل یہاں سپرد قرطاس کی جارہی ہے، جس سے آپ اندازہ لاسکتے ہیں کہ اس جیسی ملی تنظیم کی مسلمانان ہند کو کیوں ضرورت ہے؟ جمعیۃعلماء ہند ایک تاریخ سازجماعت ہی نہیں بلکہ ایک مکمل اور روشن تاریخ کا نام ہے، اپنے سوسالہ دورمیں اس جماعت کے اکابرین نے ملک وملت کیلئے جو بیش بہافلاحی اوررفاہی کام انجادیئے ہیں،وہ آب زرسے لکھنے کے قابل ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  آئینہ دکھاتی مسجدیں

    اگر آپ اس جماعت کے فلاحی کاموں کوکاغذ کے ایک صفحہ پرسمیٹنا چاہیں تویہ ناممکن ہے۔جیساکہ اوپر کی لائنوں میں آچکاہے کہ جمعیۃعلماء ہندکے کام کادائرہ بہت وسیع ہے، ملک کی دوسری ملی وسماجی تنظیموں کے مقابلہ جمعیۃعلماء ہند کا نیٹ ورک بہت مضبوط اورفعال ہے، اس کے کارکنان ریاست اور ضلعی سطح پر ہی نہیں بلاک اور گاؤں کی سطح پر بھی موجودہیں اور انہیں کے توسط سے یہ ملک کے ایسے دشوارگزارعلاقوں میں بھی اپنی فلاحی سرگرمیاں چلارہی ہے جہاں تک عام حالات میں رسائی اب بھی بہت مشکل ہے، اگر ہم آسام کے کوکراجھاراوربوڈولینڈکی طرف نظردوڑاتے ہیں تو وہاں اکتوبر 2008میں ہوئے بھیانک فسادکے متاثرین کے بچوں کوجن میں مسلم بچوں کے ساتھ ساتھ قبائل بچے بھی شامل ہیں کانوینٹ اسکول میں داخل کرکے ان کے لئے اعلیٰ اورمعیاری تعلیم کا انتظام کیا گیاہے۔ان بچوں کے رہنے،پڑھنے کے علاوہ تمام طرح کی ضروریات کاخرچ جمعیۃبرداشت کررہی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  ماں کی نافرمانی شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ : محمد اشرف ریاض الحسینی

    آگے چل کریہ بچے انشاء اللہ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں گے، ان بچوں کی ٹیوشن فیس ہی سالانہ لاکھوں میں اداکی جارہی ہے۔ اسی طرح 2011میں بھرت پور قصبہ رام گڑھ راجستھان کے فسادمیں بیوہ ہوئی دس خواتین کو تاعمر دودو ہزارروپے بطوروظیفہ دیاجانا منظورکیا گیا تھا جو تاہنوزجاری ہے۔ دہشت گردی کے الزام میں ماخوذ ملزمین کے اہل خانہ کوبھی جمعیۃکی طرف سے ان کے کیس کے پیروی کے ساتھ ساتھ ہر مہینہ پابندی سے پانچ پانچ ہزارروپے خانگی ضروریات پوری کرنے کیلئے دیئے جارہے ہیں، رمضان المبارک میں یہ رقم فی کس دوگناکردی جاتی ہے۔ 2013 میں مظفرنگر فسادمیں بے گھرہوئے لوگوں کا جائزہ لیں تو حیرت سے دوچارہونا پڑتاہے، ان بے گھرلوگوں کے لئے جمعیۃعلماء ہند نے جو کچھ کیا وہ امید سے کہیں زیادہ ہے۔ خامپورمظفرنگر،باغوانوالی مظفرنگراوربڈھانہ مظفرنگر میں گاؤں سے متصل ایک قطعہ اراضی خریدکرجمعیۃکالونی بناکر ان بے سہارااورمجبورلوگوں کو بسایا گیا ہے

    جس کی تصدیق کیلئے جمعیۃآفس جانے کی ضرورت نہیں بلکہ کوئی بھی شخص موقع پر جاکر سچائی کا پتہ لگاسکتاہے۔ اپریل 2010میں گرادابی طوفان سے بے حال سیمانچل، مغربی بنگال میں آئلاطوفان سے بے گھرہوئے متاثرین اور ابھی 2019 میں سیلاب سے متاثرہ کیرالہ و آندھراکے علاقوں میں پریشان حال لوگوں کی جمعیۃنے جس طرح مددکی اس کا احاطہ لفظوں میں نہیں کیا جاسکتا۔ حالیہ دہلی فساد متاثرین کی بروقت دستگیری کے علاوہ ملک عزیز میں کوروناوائر س کے پھیلاؤ کے لئے موردالزام ٹھہرائے گئے تبلیغی جماعت سے متعلق منافرت اورجھوٹے پروپیگنڈہ کی بروقت بیخ کنی اور غیر ملکی تبلیغی افراد کی قانونی چارہ جوئی کے لئے زیریں عدالت سے لیکر عدالت عظمیٰ تک کامیاب پیروی کوہمیشہ یادرکھاجائے گا۔ اس کا ایک اہم وصف یہ بھی ہے کہ یہ تمام طرح کے فلاحی کام بلالحاط مذہب وملت کرتی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  محسنِ انسانیت سے عداوت: ذمہ دار کون؟
    یہ بھی پڑھیں  محسنِ انسانیت سے عداوت: ذمہ دار کون؟

    اکیسویں صدی کے ان ابتدائی عشروں میں ملت کوطرح طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے، اور جس طرح وہ اپنے کو اب بے یارومددگارمحسوس کررہی ہے، شاید اس سے پہلے ملک عزیز میں اس طرح کے صبرآزما حالات سے اسے سابقہ نہیں پڑاہوگا۔ایک طرف جہاں ایک سال سے زیادہ عرصہ سے پورے ملک کے عوام ایک ناگہانی آفت سماویہ’کوروناوائرس‘سے نبرزآزماہیں تو دوسری طرف ملک میں پھیلے لاکھوں دین کے قلعے یعنی مدارس کی بقاء کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ہمارے ملک میں مدارس اسلامیہ کامالی نظام مسلمانان ہند کی امدادپر منحصرہے۔ایسے موقع پر جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے ملک کے تمام اردواخبارات میں ایک اشتہارشائع کرایا جس میں ان کی طرف سے کہاگیا کہ ”مسلمانان ہند اس مصیبت کی گھڑی میں جمعیۃ کی امدادنہ کرکے ملک بھرمیں پھیلے ہوئے مدارس اسلامیہ کی بھرپورمددکریں“ اب اگر اس کے بعد بھی جمعیۃعلماء ہند اپنی امدادی اور دیگر رفاہی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے

    تو اسے اللہ کا فضل ہی کہا جاسکتاہے۔ ملک کی فلاحی، سماجی اور ملی تنظیمیں اپنے اپنے دائرہ کارمیں مسلسل کام کررہی ہیں۔ہر ایک کے کام کرنے کا مزاج الگ ہے، ہر ایک کا دائرہ کاراورمیدان بھی الگ ہے، آج کل ملت اسلامیہ ہند کے متفقہ پلیٹ فارم مسلم پرسنل لاء بورڈبہت ہی سنجید گی کے ساتھ نکاح کو آسان بنانے کیلئے ایک مہم چلارہا ہے۔ اسی طرح امارت شرعیہ بہار میں اردوزبان کو اس کا جائز حق دینے اور ملت کے نوجوانوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کیلئے ایک منظم مہم چلارہی ہے، جس کے بہتر نتائج سامنے آبھی رہے ہیں،بالکلیہ یہ نہیں کہاجاسکتاکہ تمام کی تمام تنظیمیں قوم کی خدمت کے نام پر صرف دکھاواکررہی ہیں۔ اس طرح کے نظریات ہمیں ایک دن اپنے اکابرین اوررہنماسے دورکرسکتے ہیں۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    اردو اکادمی دہلی ، دہلی ای۔ لرننگ کورس جلد شروع کرے: منیش سسودیا

    اردو اکادمی، دہلی کی دہلی سیکریٹریٹ میں منعقدگورننگ کونسل کی میٹنگ میں کئی اہم تجاویز پیش نئی دہلی : اردو...

    عام آدمی پارٹی کے روہتاش نگر ودھان سبھا میں منعقدہ مظاہرے میں مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا

    نئی دہلی : بی جے پی کی زیر اقتدار ایم سی ڈی میں بدعنوانی اور مودی حکومت کی ناکام...

    ہر فرد میں ایک دلی جذبہ ہے ،یہاں لوگ ادب سے محبت کرتے ہیں : عامر اصغر قریشی

    شہر ناندورا میں سہ ماہی تکمیل کے مدیر عامر اصغر قریشی کے اعزاز میں ادبی نشست ناندورا : بتاریخ 23...

    ایم سی ڈی بلڈر مافیا کے تعاون سے لیز پر دی گئی دکانوں کا سروے کررہی ہے اور عمارت کو خطرناک دکھا کر خالی...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کے زیر اقتدار نارتھ ایم سی ڈی کی طرف...

    اگلے تین دن تک مسلسل بارش کے امکانات ، تمام افسران دن میں 24 گھنٹے دستیاب رہیں گے ، کسی بھی وقت ضرورت ہوسکتی...

    نئی دہلی : لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دہلی کے نکاسی...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you