رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    آذربیجان اور آرمینیا تنازع- پس منظر کیا ہے؟

    تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر محمد ضیاءاللہ ندوی

    اگر آپ عالمی سیاست سے دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ نے پڑھا ہوگا کہ گزشتہ چند دنوں سے آذربیجان اور آرمینیا کی سرحدوں پر ناگورنی اور قرہ باغ کے علاقہ کو لے کر کافی تناؤ کا ماحول ہے۔ دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے ہیں اور دونوں جانب سے جانی و مالی نقصانات کی خبریں لگاتار آ رہی ہیں۔ معاملہ اس حد تک خراب ہو چکا ہے کہ ترکی نے ضرورت پڑنے پر اپنی فوج کو بھیجنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ ماسکو میں موجود آرمینیا کے سفیر نے یہاں تک بیان دے دیا تھا کہ سرحدی علاقوں کو خالی کرکے ایک ہیومین کوریڈور تیار کیا جائے گا۔ اس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ معاملہ کافی نازک ہو چکا ہے اور جنگ بس شروع ہی ہونے والی ہے کیونکہ ایسے اقدامات عموما جنگ کی صورت میں ہی کئے جاتے ہیں۔

    آرمینیا کے سفیر نے گرچہ بعد میں یہ خلاصہ کیا کہ ابھی اس کی نوبت نہیں آئی ہے لیکن اس پہلو پر غور کیا جا سکتا ہے۔ دوسری خبر یہ بھی آ رہی تھی کہ ترکی اپنے جنگی طیارہ ایف 16 کو آذربیجان میں ڈپلوئی کر سکتی ہے جس کے جواب میں آرمینیا نے کہا تھا کہ وہ خطرناک روسی میزائل الکزنڈر کا استعمال پہلی بار جنگ میں کر سکتا ہے۔ بہت سے قارئین نے شاید پہلی بار ناگورنی اور قرہ باغ کا نام سنا ہو اس لئے تاریخی پس منظر پیش کرنا ضروری ہے تاکہ معاملہ کی صحیح نوعیت کا سمجھنا آسان ہو جائے۔ ترکی اور آرمینیا کے درمیان کشمکش کی تاریخ سےتو قارئین کسی قدر واقف ہوں گے کیونکہ پہلی جنگ عظیم کے موقع پر جو خلفشار مچا تھا اس تناظر میں ترکی پر آج تک یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے 1915 میں بیشمار آرمینیوں کا قتل عام کیا تھا۔ ترکی نے ہمیشہ اس الزام کو مسترد کیا ہے اور آرمینیوں پر ترکی کے مغربی دشمنوں سے سازباز کرنے اور ترکوں کو نقصان پہونچانے میں اپنا کردار ادا کرنے کا ملزم مانا ہے۔ یہ مسئلہ یہاں زیر بحث نہیں ہے اس لئے صرف اشارہ کافی ہے۔

    آذربیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری قرہ باغ کے تنازع کو سمجھنے کے لئے ہمیں انیسویں صدی کی تاریخ پر نظر ڈالنی ہوگی۔ لیکن اس سے قبل اتنا سمجھ لیں کہ اس معاملہ پر دونوں ملکوں میں جو جھڑپیں چل رہی ہیں اس کی تاریخ تیس سال سے زیادہ پرانی ہے۔ اس سے قبل 2016 اور 1994 میں بھی دونوں کے درمیان شدید فوجی جھڑپیں ہو چکی ہیں اور دونوں کا کافی نقصان بھی ہوا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  ہندستانی مسلمان یعنی چکن خوروں کی بھیڑ

    ناگورنی قرہ باغ کا علاقہ جس کو آرمینیا کے لوگ ارتساخ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور اس کو قدیم آرمینیا کا حصہ مانتے ہیں یہ کبھی روسی امپائر کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ انیسویں صدی کے بالکل آغاز میں روس نے اس علاقہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ 1917 میں جب روس کے اندر کمیونسٹ انقلاب آیا اور سوویت یونین کا نظام قائم ہوا اس موقع پر اس خطہ کو روس نے آذربیجان میں ضم کرکے اسے ایک طرح کی خود مختاری عطا کردی۔ سوویت یونین کے اس اقدام کے خلاف آرمینیا نے گرچہ اپنی آواز بلند کی تھی لیکن اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا تھا اور اس طرح سے یہ علاقہ آذربیجان کا حصہ بن گیا تھا۔

    یہ بھی پڑھیں  ہندستانی مسلمان یعنی چکن خوروں کی بھیڑ

    آرمینیوں کا دعوی تھا کہ اس علاقہ میں چونکہ آرمینیوں کی اکثریت آباد ہے اس لئے اسے آذربیجان میں ضم نہیں کرنا چاہئے لیکن انتظامی اعتبار سے سوویت یونین کو جو مناسب معلوم ہوا وہی فیصلہ اس نے لیا۔ 1988 میں پہلی بار جب قومیت کا نعرہ سوویت یونین کے الگ الگ حصوں میں بلند ہوا اور خود سوویت یونین اپنی زندگی کے آخری دن گننے لگا تو قرہ باغ کے خود مختار حصہ نے بھی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس طلب کرکے یہ مطالبہ کیا کہ قرہ باغ کو آرمینیا میں شامل کر دیا جائے۔ البتہ آذربیجان نے اس مطالبہ کو مسترد کردیا اور اس طرح اس تنازع کا آغاز ہوا جس کے اثرات ہمیں آج تک دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ تناؤ کی یہ صورت حال اسی وقت سے قائم ہے اور آج تک آذربیجان اور آرمینیا کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

    ان جھڑپوں کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا رہا ہے کہ جانیں تباہ ہوئیں، املاک کا نقصان ہوا اور لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ 1988 سے 1991 تک یہ معاملہ یونہی چلتا رہا اور بالآخر 1991 میں قرہ باغ نے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا جس کے ردعمل میں آذربیجان نے اپنی فوجیں خطہ میں بھیج دی لیکن قرہ باغ کو واپس لینے میں آذربیجان کی فوجیں ناکام رہیں۔ جس کی وجہ قرہ باغ اور اس سے متصل سات علاقے آذربیجان کے قبضہ سے نکل گئے۔ یہ ملٹری ایکشن 1991 سے 1994 تک جاری رہا۔ بالآخر مئی 1994 میں آذربیجان اور آرمینیا نے جنگ بندی کے پروٹوکول پر دستخط کر دیئے۔

    یہ بھی پڑھیں  آ گے کنواں پیچھے کھائی

    تب سے لیکر آج تک اس خطہ کو سکون نصیب نہیں ہوسکا ہے۔ ماضی قریب میں جو سب سے خطرناک جھڑپیں ہوئی ہیں ان میں 2016 کا واقعہ بہت اہم ہے۔ اس موقع پر بھی کافی جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔ اس جنگ کو “چار روزہ جنگ” کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ 2016 کے بعد اب ایک بار پھر اس تنازع نے شدت پکڑ لی ہے اور اس کا خدشہ ہے کہ کئی ممالک اس جنگ میں داخل ہوجائیں۔ لیکن مغربی ممالک بالخصوص یورپ شاید ایسا نہ ہونے دیں کیونکہ یہ علاقہ اس اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ تیل کی پائپ لائنیں یہیں سے گزرتی ہیں اور یورپ کی انرجی ضرورت کی تکمیل اس راستے کے تحفظ پر منحصر ہے۔ اسی لئے امکان یہی ہے کہ ہر ممکن طور پر جنگ کو ٹالا جائے گا۔

    قرہ باغ نے 1991 میں گرچہ اپنی آزادی کا اعلان کر دیا تھا لیکن بین الاقوامی سطح پر کسی بھی ملک نے اس کو ابھی تک قبول نہیں کیا ہے۔ خود آرمینیا کے نزدیک وہ ایک آزاد ملک کی حیثیت اختیار نہیں کر پایا ہے گرچہ بین الاقوامی سطح پر آرمینیا قرہ باغ کے مفاد کا دفاع کرتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آرمینیا خود اس خطہ کو اپنے ملک میں شامل کرنا چاہتا ہو جس کی دلیل اس کے پاس یہ ہے کہ یہاں کے باشندے ارمن نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

    لیکن آرمینیا نے ابھی تک اس کا اظہار نہیں کیا ہے۔ البتہ آرمینیا نے دو دن قبل یہ بیان ضرور دیا ہے کہ وہ قرہ باغ کو ایک آزاد ملک کے طور پر قبول کرسکتا ہے۔ لیکن دقت یہ ہے کہ ترکی کا ماننا ہے کہ اس علاقہ میں بسنے والے لوگ ارمن نہیں بلکہ ترک ہیں اور آرمینیا اس معاملہ میں بیجا مداخلت کر رہا ہے اور اسی لئے ترکی نے آذربیجان کو اپنی حمایت دینے کا کھلا اعلان کیا ہے۔ جہاں تک اس سلسلہ میں آذربیجان کے موقف کا تعلق ہے تو اس کا ماننا ہے کہ بلا شرط اس خطہ کو آذربیجان کے حوالہ کیا جائے تاکہ وہ ان چھہ لاکھ آذری باشندوں کو وہاں ان کی اصل زمین میں بسا سکیں جنہیں جنگ کے نتیجہ میں اپنے علاقوں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔

    یہ بھی پڑھیں  روزی روٹی نے فرضی دیش بھکتی کوہرادیا؟
    یہ بھی پڑھیں  وزیرداخلہ نے این پی آر پر پارلیمنٹ میں جو کہا ہے اس کا حلف نامہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں دیتے؟

    فی الحال قرہ باغ ایک بین الاقوامی مسئلہ بنا ہوا ہے جس کے حل کرنے کے لئے 1992 میں ایک گروپ بنایا تھا جس کو منسک گروپ (Minsk Group) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ گروپ OSCE یا یورپی تنظیم برائے امن و تعاون کے تحت کام کرتا ہے۔ اس گروپ کے ممبر ممالک روس، امریکہ اور فرانس ہیں۔ قرہ باغ کو اس گروپ میں نمائندگی کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ آذربیجان نے بطور فریق اس کو قبول کرنے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ ان دنوں ترکی کے صدر رجب اردگان نے OSCE کو منسک گروپ کی ناکامی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور پورے طور پر باکو کے ساتھ کھڑے رہنے اور اس کے حق کے دفاع کا اعلان کیا ہے۔

    آذربیجان ماضی میں کئی بار یہ اعلان کر چکا ہے کہ ملٹری قوت کی زور پر وہ اس خطہ کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اب تک ایسا اقدام نہیں کیا گیا ہے۔ اسی مسئلہ کی خاطر ترکی نے بھی آرمینیا پر حصار بنا رکھا ہے اور آرمینیا سے کھلے لفظوں میں یہ کہہ دیا ہے کہ اگر وہ چاہتا ہے کہ سرحدیں کھول دی جائیں اور حصار ختم ہو تو اس کا بس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ آذربیجان کے ساتھ اپنے تنازع کو ختم کرے اور قرہ باغ اس کے حوالہ کر دے ورنہ حصار جاری رہے گا۔

    ترکی کے علاوہ افغانستان نے بھی آذربیجان کو اپنی حمایت دینے کا اعلان کردیا ہے جبکہ ایران دونوں ملکوں سے اپیل کر رہا ہے کہ وہ خود پر قابو رکھیں اور معاملہ حد سے آگے نہ بڑھائیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوتین نےبھی معاملہ کو بات چیت سے سلجھانے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ یورپین یونین، انجمن اقوام متحدہ اور جی سی سی سبھی اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ معاملہ جنگ تک نہ پہونچے۔ تادم تحریر تناؤ میں اضافہ ہی ہوتا نظر آرہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ تنازع آئندہ چند دنوں اور ہفتوں میں کیا رنگ پکڑتا ہے۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ منسک گروپ یہ یقین دہانی کرائے گا کہ اس معاملہ کا حل جلد ہی ڈھونڈا جائے گا اور تناؤ کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ جنگ کی صورت میں معاملہ اتنا الجھ جائے گا کہ سلجھانا آسان نہیں ہوگا۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  اس تحریک کو "لاالہ الا اللہ" کے کفن میں مت لپیٹے۔

    Latest news

    نرسنگھا نند سروسوتی کے بیان سے ہندوستان کی شبیہ دنیا میں داغدار ہوئی

    گستاخ رسول کے خلاف دیئے گئے اپنے بیان پر قائم،میرا بیان ہندوستان کے آئن کے مطابق،پارلیمینٹ اسٹریٹ تھانہ پہونچ...

    نرسنہانند پر کارروائی کے لئے صدر جمہوریہ کو میمورنڈم

    وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو بھی کاپی،چیئرمین امانت اللہ خان نے درج کرائی تھی شکایت،مساجد کے ممبروں سے...

    آج کسان ایم ایس پی کی لڑائی لڑ رہے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ تین زرعی قوانین کے نفاذ کے بعد کتنا تکلیف...

    نئی دہلی : دہلی کی منڈیوں میں کاؤنٹر لگا کر ایف سی آئی کی جانب سے گندم کی خریداری...

    وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے بے گھر کنبے کے لئے فلیٹ شفٹ کرنے کے لئے ‘جہاں کچی آبادی ،وہیں مکان’ اسکیم کا جائزہ لیا

    نئی دہلی : وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کچی بستیوں میں رہنے والے خاندانوں کے لئے ' جہاں جھگی...

    لال مسجد معاملہ ، 29اپریل تک کسی طرح کا ایکشن نہ لینے کی مرکز نے کرائی یقین دہانی

    مسجد کو شہید کرنے کی ہورہی ہے سازش،وقف بورڈ نے دکھائی مستعدی،پولیس انتظامیہ کے ذریعہ مسجد شہید کرنے کی...

    امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی وفات پر ملت ٹائمز کے زیر اہتمام تعزیتی نشست کا انعقاد

    نئی دہلی : امیر شریعت مولانا ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ کے سانحہ ارتحال پر ملت ٹائمز کے زیر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you