رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    اپنی ذہنی قوت کا صحیح استعمال کرو

    تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر محمد ضیاءاللہ ندوی

    یہ تجربہ میرا ذاتی ہے۔ شاید آپ کا بھی ہو۔ میں نے اس پر غور کیا ہے اگر آپ نے اب تک نہیں کیا ہے تو کسی دن آزما کر دیکھ لیجئے۔ تجربہ یہ ہے کہ جب ہم کسی بڑی مصیبت میں ہوتے ہیں تو ہمارے اندر دو طرح کے جذبات تیزی سے ابھرتے ہیں۔ ایک جذبہ اور تصور تو یہ ابھرتا ہے کہ اب سب کچھ ختم ہوگیا۔ اب کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا ہے اور ہم خود کو ہلاکت کے حوالہ کر دیتے ہیں۔

    یہ منفی رویہ ہے۔ اسی کے ساتھ ایک دوسرا جذبہ بھی اتنی ہی قوت کے ساتھ ابھرتا ہے۔ وہ جذبہ یہ ہوتا ہے کہ جب سب کچھ ختم ہونے کو ہے تو ایسا ہم کیا کریں جس کی مدد سے ہم جو کچھ بچا سکتے ہیں وہ بچا لیں۔ یا پھر اس مقصد کی راہ تب تک کے لئے خود کو جھونک دیں جب تک کہ یا وہ تو مقصد حآصل نہ ہوجائے یا ہم اس راہ میں کوشش کرتے کرتے خود کو کھپا دیں۔ صحابہ نے احد کی جنگ میں یہی کیا تھا جب ان کو سید الکونین کی شہادت کی جھوٹی خبر ملی تھی۔ یہ طرز فکر مثبت اور اسلامی زندگی کی شاہی کلید ہے۔

    یاد کیجئے کہ آخر یہ کیوں کہا گیا ہے کہ ضروریات ہمیشہ ایجادات کا سرچشمہ ہوا کرتی ہیں؟ ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ جب آپ مسائل کے بوجھ سے پریشان ہوکر اپنی تمام تقلیدی قوتیں ختم کر چکے ہوتے ہیں تب آپ کی وہ قوتیں بیدار ہوتی ہیں یا صحیح الفاظ میں آپ کو ان قوتوں کو اکسپلور کرنے کا موقع ہاتھ آتا ہے جن کا استعمال آپ نے اب تک نہیں کیا ہوتا ہے یا اس پوشیدہ قوت کا اندازہ آپ کو بالکل نہیں ہوتا ہے۔

    یہ ایسے نازک وقت اور حالات ہی ہوتے ہیں جن میں آپ ان خوابیدہ صلاحیتوں سے واقف ہوتے ہیں اور ان کا استعمال کرکے خود کو اور اپنے سماج کو سرخرو کرتے ہیں جب ہر طرف مایوسی نظر آنے لگتی ہے۔ یاد رکھئے کہ اللہ نے ہر انسان میں بے پناہ قوتوں اور صلاحیتوں کو ودیعت کر دیا ہے۔ اللہ نے ہر شخص کو عبقری اور ذہین پیدا کیا ہے۔

    بس فرق یہ ہے کہ کوئی اسے ڈھونڈ نکالتا ہے تو عبقری ہو جاتا ہے اور دنیا اس کا جشن مناتی ہے اور کوئی منفی رویہ سے باہر نہیں آتا تو غبی ہو کر مر جاتا ہے یہاں تک چند برسوں بعد اس کی اپنی نسل کو بھی اس نام تک یاد نہیں رہتا۔ تلاش حق ضروری ہے اور اسی لئے قرآن میں جہاں اللہ نے “آفاق” کا ذکر کیا ہے جن میں کائنات کے راز ہائے سر بستہ موجود ہیں اور انہیں ڈھونڈ نکالنے کے لئے تقریباً ہر دوسری تیسری آیت میں غور و فکر اور تدبر پر آمادہ کیا گیا ہے وہیں پر اللہ نے “انفس” کا بھی ذکر کیا ہے۔ گویا “آفاق” کی طرح “انفس” بھی ان تمام راز ہائے کون و مکاں سے پر ہے جن پر غور کرنے سے ہمارے مسائل کا حل نکلتا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  ملک ایک مشکل دوراہے کی طرف بڑھ رہا ہے

    آپ اگر اسلامی تاریخ میں سائنس، طب، علم الأشیاء وغیرہ جیسے علوم کے ارتقا کی تفصیل پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں میں جہاز رانی کے فن سے لے کر الجبرا اور فلکیات تک کے تمام علوم میں مسلم مفکرین و دانشوروں نے قرآن کی اس رہنمائی سے بنیادی طور پر فائدہ اٹھایا۔ بلکہ اگر ہم مائیکل ہملٹن مورگن کی کتاب Lost History: The Enduring Legacy of Muslim Scientists, Thinkers and Artists کا مطالعہ کریں تو جہاں اس قسم کی بیشمار تفصیلات مل جائیں گی وہیں مورگن کی یہ بات بھی آپ اس کتاب میں پائیں گے کہ مسلمانوں نے تمام سائنسی ایجادات کے لئے اسلامی زندگی کی ضرورتوں کو بنیاد بنایا اور جب تک اس نہج پر قائم رہے دنیا کی امامت ان کے ہاتھ میں رہی کیونکہ جہاز رانی میں کمپاس کی ضرورت جہاں سمندر میں منزل تک پہونچنے کی خاطر صحیح سمت اور جہت کے تعین کے لئے مطلوب تھی وہیں نماز کے لئے قبلہ کے تعین کے لئے بھی۔

    یہ بھی پڑھیں  دہلی میں فرقہ پرستی شکست کے قریب

    اسی طرح خدا کی زمین کے نامعلوم خطوں کو تلاش کرنے کی ضرورت جہاں تجارت اور معاش کے لئے مسلمانوں کو پڑتی تھی وہیں اس سے زیادہ اہم جذبہ دل میں ہمیشہ یہ موجزن رہتا تھا کہ زمین کا کوئی ایسا انسانی آبادی والا خطہ نہ بچ جائے جہاں تک خدا کا پیغام پہونچنے سے رہ جائے۔ اس مقصد کی تکمیل میں انہوں نے روم و یونان کے عہد کے نقشہ اور اطلس سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس میں ایسے اہم اضافے کئے، ان کی غلطیوں کو درست کیا اور ان موضوعات پر علمی کتابیں لکھیں کہ چودھویں پندرہویں صدی تک پتولیمی کا نقشہ بے معنی ہو کر رہ گیا اور مسلمان علم جغرافیہ کا اکلوتا شہنشاہ بنا رہا۔

    لیکن مسلمانوں کی علمی اور مذہبی دیانت داری یہ تھی کہ انہوں نے پتولیمی کا حق ہمیشہ باقی رکھا۔ ان کو زندہ و تابندہ رکھا اور تاریخ سے ان کا نام مٹنے نہیں دیا۔ اس مختصر مضمون میں وہ ساری تفصیلات تو پیش نہیں کی جا سکتی ہیں لیکن مورگن کی مذکورہ بالا کتاب جو 2007 میں شائع ہوئی ہے اور نائن الیون کے بعد مسلمانوں پر ہو رہے بے جا ستم کے حوالہ سے لکھی گئی ہے اس میں دنیا کو یہ بتلانے کی کوشش ایک نیک دل امریکی دانشور نے کی ہے کہ مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتا بلکہ علم و سائنس کو سنوارنے والا بھی مسلمان ہی رہا ہے اس کا مطالعہ بہت مفید ہوگا۔

    یہ بھی پڑھیں  شاہین باغ سے شاہین باغ تک

    تاریخ ہمیں یہ غور کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گی کہ جب ہم نے اسلام کو سمجھنے کے لئے قرآن کا مطالعہ صرف اس غرض سے شروع کر دیا کہ اس سے قبر میں منکر و نکیر کے سوال کا جواب دے سکیں یا بیماروں کے اوپر قل و تعوذات پڑھ کر پھونک مار سکیں یا پھر کسی سنکی بابا کے ساتھ بیٹھ کر غاروں میں دم سادھ کر دھیان کر سکیں یا اردو میں لکھے گئے بے تکے شروحات کی مدد سے فقیہ وقت بن سکیں تب سے ہم پر مردنی چھا گئی

    ہمارا زوال شروع ہوا اور آج تک اس لئے جاری ہے کیونکہ ہمارا رویہ نہیں بدلا۔ بدلاؤ کا واحد طریقہ یہی ہے کہ اسلام کو مرکز میں رکھ “آفاق و أنفس” کا مطالعہ زندہ قوم کی طرح کیا جائے۔ دوسری قوموں نے جو کوششیں کی ہیں ان سے استفادہ کرتے ہوئے ان کا حق تسلیم کیا جائے اور اپنی کوتاہی کو قبول کرتے ہوئے خدا کی ودیعت کردہ ذہنی قوت کو استعمال کیا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے گا تو قرآن کی مدد سے بھوت پریت بھاگے یا نہ بھاگے لیکن اتنا طے ہے کہ ہمارا عہدِ زوال ختم ہوگا۔

    کیونکہ جب ہم بہت زیادہ مصائب سے گھرے ہوں تو ہمیں مصیبت کی جڑ تک پہونچ کر اس کے ازالہ کی راہ تلاش کرنی چاہئے۔ جب وقت کم ہو اور کام زیادہ تو پھر وقت کی کمی کے بارے میں سوچ سوچ کر عمل کی قوت کو بے کار نہیں کر لینا چاہئے۔ کام شروع کر دینا چاہئے۔ پہلا کام یہ ہے کہ خود پڑھئے پھر اپنے بچوں اور سماج کے بچوں کو پڑھایئے۔ اگر پڑھنے کی عمر نہیں ہے تو تجارت و معیشت کی دنیا میں جنون کی حد تک گم ہوجایئے اور ان پیسوں سے اپنے اور سماج کے بچوں کو پڑھایئے۔ مسئلہ خود حل ہوجائے گا۔ مجھے یہ نسخہ عملی طور پر تب ملا جب میں ایک انسٹی ٹیوٹ میں اپنے چند بہترین دوستوں کے ساتھ کام کرتا تھا۔ وہاں ہمیں ایک خاص مدت میں اپنی رپورٹ پیش کرنی ہوتی تھی۔

    یہ بھی پڑھیں  شاہین باغ سے شاہین باغ تک

    کئی بار ایسا لگتا تھا کہ کام بہت زیادہ ہے اور وقت میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ اس کام کو انجام دیا جاسکے۔ جیسے آج ہندوستانی مسلمان ہر وقت سوچتے رہتے ہیں کہ اب ہمارا کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہم جنگ ہار چکے ہیں۔ ہمیں بھی کئی بار ایسا اس انسٹی ٹیوٹ میں محسوس ہوتا تھا۔ میں نے اپنے باس سے اس کا ذکر کیا کہ ہماری ٹیم کو ایسی دشواری رہتی ہے اس پر سے آپ ہر وقت پوچھ پوچھ کر دباؤ مزید بڑھا دیتے ہیں تو اس کا حل کیا ہو؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے بہت سنجیدگی سے جواب دیا کہ دیکھو! یہ دباؤ تو ہمیشہ رہے گا۔ تمہیں اپنے کام کا طریقہ اور نہج بدلنا ہوگا۔

    یہ بھی پڑھیں  شاہین باغ تیری عظمت کو سلا م

    تم ڈیڈ لائن کے قریب آنے کی فکر کے بجائے اگر اپنی ذہنی قوت کا استعمال صبر کے ساتھ تکمیل عمل میں لگاؤ تو تم دیکھو گے کہ ڈیڈ لائن کی فکر تمہارے دماغ سے نکل جائے گی اور تمہارا کام صحیح وقت پر ہوجائے گا۔ تمہاری غلطی یہ ہے کہ تم اپنی ذہنی قوت کو ڈیڈ لائن پر مرکوز رکھتے ہو جس کی وجہ سے تمہاری قوت عمل ماند بلکہ مفقود ہوجاتی ہے اور اندرونی طور پر پریشانی الگ سے بڑھ جاتی ہے۔

    یقین مانئے کہ ہم جانے انجانے یقیناً اس غلطی کا ارتکاب کر رہے تھے۔ جب ہم نے اس نسخہ کا استعمال کرنا شروع کیا تو ہمارا کام اکثر وقت سے پہلے ہوجاتا تھا اور رپورٹ کو مزید بہتر بنانے کے لئے اضافی وقت بھی مل جاتا تھا۔ ہم ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بھی یہ مشورہ بہت مفید ہے۔

    کیونکہ حالات تو آتے ہی رہیں گے اور اگر حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے علمی و فکری قوت کا مناسب استعمال نہیں کریں گے تو حالات سنگین ہوں گے۔ لیکن اگر ہم حالات کے لئے سنجیدہ کوششیں کریں گے تو ہماری اپنی مصیبت بھی ختم ہوگی اور جو ہمارے درپۂ آزار ہیں انہیں بھی ہماری اہمیت کا اندازہ ہوگا تو وہ ہماری تباہی کے بجائے ہماری حفاظت کا انتظام کریں گے۔

    میں نے تو “پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانہ سے” کا یہی مفہوم سمجھا ہے۔ یاد رکھئے کہ آپ دنیا کے لئے مفید بن جایئے تو دنیا آپ کی حفاظت خود کرے گی۔ کوئی ادنی عقل عام کا انسان بھی اپنے فائدہ کی چیز کو تباہ نہیں کرتا۔ ہندوتوا کے ظلم کی شکایت اپنی جگہ، لیکن آپ بھی سوچئے کہ کوئی آپ کو تباہ کیوں کر دینا چاہتا ہے؟ کہیں ہم نے خود کو بے معنی تو نہیں بنالیا ہے یا ہم نے اپنی قوت فکر و عمل کو منفی دائرہ میں ضائع کرنا تو شروع نہیں کر دیا ہے؟

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  صفورا زرگر محض نام نہیں،اب ایک مثال ہے

    Latest news

    نرسنگھا نند سروسوتی کے بیان سے ہندوستان کی شبیہ دنیا میں داغدار ہوئی

    گستاخ رسول کے خلاف دیئے گئے اپنے بیان پر قائم،میرا بیان ہندوستان کے آئن کے مطابق،پارلیمینٹ اسٹریٹ تھانہ پہونچ...

    نرسنہانند پر کارروائی کے لئے صدر جمہوریہ کو میمورنڈم

    وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو بھی کاپی،چیئرمین امانت اللہ خان نے درج کرائی تھی شکایت،مساجد کے ممبروں سے...

    آج کسان ایم ایس پی کی لڑائی لڑ رہے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ تین زرعی قوانین کے نفاذ کے بعد کتنا تکلیف...

    نئی دہلی : دہلی کی منڈیوں میں کاؤنٹر لگا کر ایف سی آئی کی جانب سے گندم کی خریداری...

    وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے بے گھر کنبے کے لئے فلیٹ شفٹ کرنے کے لئے ‘جہاں کچی آبادی ،وہیں مکان’ اسکیم کا جائزہ لیا

    نئی دہلی : وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کچی بستیوں میں رہنے والے خاندانوں کے لئے ' جہاں جھگی...

    لال مسجد معاملہ ، 29اپریل تک کسی طرح کا ایکشن نہ لینے کی مرکز نے کرائی یقین دہانی

    مسجد کو شہید کرنے کی ہورہی ہے سازش،وقف بورڈ نے دکھائی مستعدی،پولیس انتظامیہ کے ذریعہ مسجد شہید کرنے کی...

    امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی وفات پر ملت ٹائمز کے زیر اہتمام تعزیتی نشست کا انعقاد

    نئی دہلی : امیر شریعت مولانا ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ کے سانحہ ارتحال پر ملت ٹائمز کے زیر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you