رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    ریسرچ : نوجوانوں کوسمارٹ فون استعمال کرنے سے روکا جائے تو وہ پریشان اور خوف زدہ ہو جاتے ہیں

    لندن : نوجوانوں کی تقریباً ایک چوتھائی تعداد اسمارٹ فونز پر اس قدر انحصار کرتی ہے کہ اسے نشے یا لت لگنے کا نام دیا جا سکتا ہے۔ایک تازہ ریسرچ کے بعد نفساتی ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سمارٹ فونز کی لت پڑنے کے بعد نوجوانوں میں کم خوابی، ڈیریشن اور کئی دوسری طرح کے نفسیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔لندن کے کنگز کالج کے تحت ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نشے جیسے طرز عمل کا مطلب یہ ہے اگر ان لوگوں کو سمارٹ فون استعمال کرنے سے روکا جائے تو وہ پریشان اور خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق، سمارٹ فون کا نشہ لگ جانے کے بعد نوجوان اس پر کنٹرول نہیں کر سکتے کہ انہیں فون پر کتنا وقت صرف کرنا چاہیے اور وہ زیادہ تر اس کی چھوٹی سکرین میں غرق رہتے ہیں۔اس تحقیقی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس طرح کی لت لگنے سے دماغی صحت کے لیے سنگین نوعیت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔سائنسی جریدے ‘بی ایم سی سائکیاٹری’ میں شائع ہونے والی ریسرچ سمارٹ فونز کے استعمال کے بارے 42000 نوجوانوں سے متعلق ہے جن سے 41 مطالعاتی جائزوں میں رابطے کرکے جوابات اکھٹے کیے گئے تھے۔

    یہ بھی پڑھیں  کولیسٹرول کی سطح زیادہ ہے تو خبردار ہو جائیں

    تحقیق کے نتائج کے مطابق، 23 فی صد نوجوانوں کا رویہ نشے کے دائرے میں آتا ہے اور جب انہیں سمارٹ فون نہیں ملتا تو ان پر پریشانی طاری ہو جاتی ہے اور ان کی ذہنی حالت اس قابل نہیں ہوتی کہ وہ سمارٹ فون پر صرف کیے جانے والے وقت کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کر سکیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح کے رویے کو دوسرے مسائل سے جوڑا جا سکتا ہے، مثال کے طور پر ذہنی دباؤ، ڈیپریشن، مزاج کی خرابی، نیند کا نہ آنا، اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں عدم دلچسپی اور تعلیمی پروگریس کا خراب ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  کولیسٹرول کی سطح زیادہ ہے تو خبردار ہو جائیں

    کنگز کالج لندن کے شعبہ نفسیات اور رپورٹ کے ایک مصنف نکولا کالک کا کہنا ہے کہ سمارٹ فونز ہمارے پاس رہیں گے اس لیے اس کے بے دریغ استعمال سے جنم لینے والے مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے، تاکہ ان پر قابو پایا جا سکے۔ڈاکٹرکالک کا کہنا تھا کہ فی الحال ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ مسئلہ سمارٹ فون میں ہے یا اس میں استعمال کیے جانے والے اپیس کا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  کورونا وائرس سے دنیا میں 33 ہزار 509 افراد ہلاک، 704000 متاثر

    ان کا کہنا تھا کہ چاہے سمارٹ فون ہو یا اس کی اپیلی کیشنز، بات ایک ہی ہے اور والدین کو یہ جانے کی ضرورت ہے کہ ان کے نوعمر بچے اپنا کتنا وقت سمارٹ فون پر صرف کرتے ہیں۔ریسرچ کے شریک مصنف سمنتھا سون نے والدین کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سمارٹ فون کے مسلسل طویل وقت تک استعمال سے دماغی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں، جس سے ان کے روزمرہ کے معمولات متاثر ہو سکتے ہیں۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  حیرت انگیز تحقیق، فضائی آلودگی بڑھنے سے جرائم میں ہوتا ہے اضافہ

    Latest news

    اے پی : کوویڈ کیر سنٹر میں لگی آگ ، 7 افراد ہلاک

    حیدرآباد:اے پی کے وجئے واڑہ میں واقع سورنا پیلس ہوٹل جس کو رمیش اسپتال کی جانب سے کوویڈ کیر...

    اندھی بہری حکومت آشا کارکنوں کی بات نہیں سنتی : راہل

    نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے آشا کارکنوں کی حالت زار کے حوالہ سے مودی...

    جب تک عدالت حکم نہیں دیتی حکومت خود سے کچھ نہیں کرتی : چیف جسٹس آف انڈیا

    نئی دہلی : مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کوداغدار اور ہندووں اورمسلمانوں کے...

    پولیس کی مجرموں کو پکڑنے کی کوشش جاری ، حکومت انہیں کڑی سزا دے گی : اروند کیجریوال

    نئی دہلی: وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ایمس میں زیادتی کا شکار 12 سالہ بچی اور ان کے کنبہ...

    لبنان: بندرگاہ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 70 سے زائد ، 2500 سے زیادہ افراد زخمی ہیں

    ویب ڈیسک : لبنان کے دارالحکومت بیروت میں زور دار دھماکے ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں سے مشرقی بیروت میں...

    اسلام میں قربانی کا کوئی بدل نہیں

    قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دین و شریعت کے احکام کی تکمیل کی جائے: مولانا ارشد مدنی نئی دہلی:...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you