رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • عالمی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    چین میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 9 ، محکمہ صحت نے کیا خبردار

    بیجنگ:چین میں محکمہ صحت کے عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اب تک نو افراد کی ہلاکت کی وجہ بننے والا نیا وائرس میوٹیشن یا تغیر کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے مزید پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔اب تک اس وبا کے 440 تصدیق شدہ کیس سامنے آ چکے ہیں جو چین کے شہر ووہان سے جانوروں کی ایک غیر قانونی مارکیٹ سے شروع ہوا۔یہ اب چین کے دوسرے صوبوں سمیت دوسرے ممالک جیسے کہ امریکہ تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا میں بھی پھیل چکا ہے۔حکام نے اعتراف کیا ہے کہ ملک اس وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے ’انتہائی نازک مرحلے‘ پر ہے۔چین نے اس سے پہلے اس وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی تصدیق کی تھی۔یہ وائرس، جسے 2019 این سی او وی بھی کہا جاتا ہے، کہ بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کورونا وائرس کی ایک نئی قسم ہے، جس کی اس سے قبل انسانوں میں شناخت نہیں ہوئی۔اس کی علامات میں بخار، کھانسی، سانس کی قلت اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔اس وبا کے آغاز کے بعد پہلی بار عوامی بریفنگ دیتے ہوئے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے نائب وزیر لی بن نے کہا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ یہ بیماری ’بنیادی طور پر سانس کی نالی کے ذریعے پھیلی۔

    یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ کا بیان :مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جو ہوسکا کروں گا

    ‘لیکن چین ابھی تک اس وبا کی اصل وجہ کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔لی بن نے کہا ’اگرچہ ابھی تک اس وائرس کے ٹرانسمیشن روٹ کو پوری طرح سے سمجھا جانا باقی ہے لیکن اس وائرس میں تغیر کی صلاحیت موجود ہونے کا امکان اور اس وبا کے مزید پھیلنے کا خطرہ ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ 2197 افراد ایسے تھے جن کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ متاثرہ مریضوں کے ساتھ رابطے میں آئے۔ایک ایسے مریض کے بارے میں بھی پتہ چلا ہے جس نے 10 سے زائد افراد میں یہ وائرس منتقل کیا۔ووہان میونسپل ہیلتھ کمیشن کے مطابق ووہان میں کم از کم 15 طبی کارکن، جو اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کے ساتھ رابطے میں آئے وہ بھی اس وبا کا شکار ہیں۔امریکی حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ چائنا وائرس، یعنی کورونا وائرس سے متاثرہ ایک شخص کی شناخت ہوئی ہے جو حال ہی میں چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔امریکہ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کی جانب سے کہا گیا کہ چین میں دریافت ہونے والا وائرس امریکی شہر سیاٹل میں ایک ایسے شخص میں پایا گیا جو چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔امریکہ میں پائے جانے والا مریض 30 کی دہائی میں ہے اور سی ڈی سی کے مطابق وہ 15 جنوری کو چین سے واپس امریکہ آیا تھا۔

    یہ بھی پڑھیں  جنرل قاسم سلیمانی امریکی حملے میں ہلاک ، ایران کا بدلہ لینے کا اعلان
    یہ بھی پڑھیں  مودی مجھے پسند لیکن ہندوستان سے ٹریڈ ڈیل نہیں : ٹرمپ

    سی ڈی سی کے اعلامیے کے مطابق مریض نے واشنگٹن ریاست کے ایک ہسپتال میں اپنے علاج کے لیے رابطہ کیا تھا جہاں ان کی مرض کی تشخیص اور علاج ہوا۔’مریض کے سفری ریکارڈ اور طبی علامات کو دیکھ کر ڈاکٹروں کو شک ہوا کہ انھیں کورونا وائرس ہے۔ ان کے سائنسی تجزیے اور تجربے کرنے کے بعد 20 جنوری کو اس بات کی تصدیق کی گئی کہ مریض کورونا وائرس ہے۔‘جنوبی کوریا نے بھی پیر کے روز اپنے پہلے کیس کی تصدیق کی ہے جبکہ تھائی لینڈ میں دو اور جاپان میں بھی ایک کیس سامنے آیا ہے۔ متاثرہ افراد حال ہی میں ووہان سے واپس آئے تھے۔ان کیسز میں تیزی سے اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لاکھوں چینی باشندے نئے قمری سال کے موقع پر سفر کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔سائنس دانوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس وائرس کی وجہ سے چین میں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد سرکاری طور پر بتائی گئی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔برطانوی ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد 1700 کے قریب ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق چین میں اس وقت اس وائرس سے متاثرہ کیسز کی تعداد 218 ہے۔اس وائرس کے نمونوں کو ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری میں بھجوایا گیا جہاں ان پر تحقیق کی گئی۔

    یہ بھی پڑھیں  عراق میں ملک گیر پرتشدد مظاہروں کی تازہ لہر میں کم از کم 40 افراد ہلاک
    یہ بھی پڑھیں  ایران : دو گنا اضافے کے خلاف احتجاج میںایک شہر میں 40 مظاہرین ہلاک،330 زخمی ہوئے

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ کورونا وائرس ہے۔ اس وائرس کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ان میں سے چھ اور اس حالیہ وائرس کو ملا کر سات ایسی قسمیں ہیں جو انسانوں کو متاثر کرتی ہیں۔ان کی وجہ سے بخار ہوتا ہے سانس کی نالی میں شدید مسئلہ ہوتا ہے۔ سنہ 2002 میں چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے 774 افراد ہلاک ہوئے اور مجموعی طور پر اس سے 8098 افراد متاثر ہوئے تھے۔اس نئے وائرس کے جنیاتی کوڈ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ رسپائریٹری سنڈروم (سارس) سے ملتا جلتا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق انسانوں کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر کیے بغیر جانوروں کے نزدیک نہ جائیں اور گوشت اور انڈے پکانے میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ٹھیک سے تیار کیے گئے اور اس کے علاوہ ان افراد سے دور رہیں جنھیں نزلہ یا اس جیسی علامات ہوں۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    اسپتال میں ملی ہاپوڑ کے محسن علی کی لاش

    دنگائیوں کی بھینٹ چڑھ گیا معصوم نئی دہلی : شمال مشرقی دہلی میں اتوار سے تشددجاری ہے، اس تشددمیں اب...

    شاہین باغ معاملے میں سماعت کے لئے ماحول سازگار نہیں : سپریم کورٹ

    نئی دہلی:سپریم کورٹ نے بدھ کو دہلی کے شاہین باغ علاقے میں مظاہرین کو ہٹائے جانے سے متعلق عرضیوں...

    شمال مشرقی دہلی میں تشدد میں مرنے والوں کی تعداد 9، حالات کشیدہ

    نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) کے خلاف جاری تشدد میں آج...

    این پی آر پرانے طریقے سے ہی ہوگا ، این آر سی غیر ضروری : نتیش

    پٹنہ: بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے آج اسمبلی میں قومی شہری رجسٹر ( این آر سی ) کو...

    مرکزی حکومت نے دہلی میں تشدد کے معاملے پر ہنگامی میٹنگ طلب کی

    نئی دہلی: دہلی میں دو دن سے جاری تشدد کے واقعات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے منگل کے...

    ہمیں پھر ایک بار اپنی قربانیوں کا جائزہ لینا پڑے گا : قاری محمد طیب قاسمی

    آنند نگر مہراج گنج : گزشتہ روز ضلع مہراج گنج کی مشہور ادارہ دارالعلوم فیض...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you