رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • عالمی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    مذاکرات کے باوجود چینی مصنوعات پر ٹیکس برقرار رہے گا: صدر ٹرمپ

    واشنگٹن:امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات کے باوجود یکم ستمبر سے چینی مصنوعات پر اضافی ٹیکس نافذ العمل ہو گا۔جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوں گے جس میں فتح امریکہ کی ہو گی۔امریکہ یکم ستمبر سے 125 ارب ڈالر کی چینی مصنوعات پر 15 فی صد اضافی ٹیکس وصول کرنے کا ا?غاز کرے گا۔ جس کا نفاذ صدر ٹرمپ کے بقول چین کی جانب سے امریکی مصنوعات پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کے بعد کیا گیا۔جن چینی مصنوعات پر یکم ستمبر سے اضافی ٹیکس وصول کیا جائے گا ان میں گھڑیاں، ٹیلی ویڑن سیٹ اور جوتے شامل ہیں۔دونوں بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان گزشتہ سال شروع ہونے والی تجارتی جنگ کے بعد سے لے کر اب تک امریکہ 250 ارب ڈالر کی چینی مصنوعات پر ٹیکس عائد کر چکا ہے۔ جس کے باعث امریکہ کے مقامی تاجر منافع میں کمی کا گلہ کر چکے ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے منافع میں کمی کو بد انتظامی قرار دیا ہے۔اپنی ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ منافع میں کمی کا ذمہ دار ٹیکس میں اضافے کو قرار دینا غلط ہے یہ سراسر بدانتظامی کی وجہ سے ہے۔ ان کے بقول امریکہ کی معیشت کو محصولات میں اضافے سے کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا۔صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر چین تجارتی مذاکرات میں پیش رفت چاہتا ہے تو اسے ہانگ کانگ میں مظاہرین کے ساتھ نرمی سے پیش آنا ہو گا۔خیال رہے کہ ہانگ کانگ میں گزشتہ دو ماہ سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ ہانگ کانگ پر چین کا کنٹرول ہے اور یہ مظاہرے ملزمان کی چین حوالگی کا بل پارلیمان میں متعارف کروانے کے بعد شروع ہوئے تھے۔گو کہ حکومت نے یہ بل واپس لے لیا تھا تاہم اس کے باوجود مظاہروں کی شدت میں کمی نہیں آ سکی جس کے بعد چین نے اضافی فورس ہانگ کانگ کے قریب تعینات کر دی تھی۔ جب کہ متعدد جمہوریت پسند کارکنوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔صدر شی جن پنگ سے براہ راست رابطے کے سوال پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت چین کے ساتھ رابطے میں ہے۔ تاہم وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ صدر شی سے بات کریں گے یا نہیں۔عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے چین کے تجارتی ماڈل کو ناقابل قبول قرار دیا تھا۔ امریکہ کا یہ الزام رہا ہے کہ چین تخلیقی جملہ حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی مقامی کمپنیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔امریکہ کا یہ بھی مؤقف رہا ہے کہ چین امریکی کمپنیوں کو چین میں کاروبار کرنے کے مساوی مواقع فراہم کرتے ہوئے امریکی مصنوعات کی چینی منڈیوں تک رسائی میں سہولت دے۔چین امریکہ کے ان تحفظات کو مسترد کرتا رہا ہے اور اس کا موقف ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارت برابری کی بنیاد پر ہو گی۔دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات کے متعدد دور ہو چکے ہیں تاہم ان میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔چین اور امریکہ کے تجارتی تنازع میں شدت کو ماہرین عالمی تجارت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں اور اْنہیں خدشہ ہے کہ اس سے عالمی کساد بازاری جنم لے سکتی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  عراق میں امریکی بیس پر ایرانی حملہ 34 امریکی فوجیوں کو شدید دماغی چوٹ

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  امریکی عوام کو ویکسین لینے کے لیے راضی کرنے کی ضرورت : جو بائیڈن

    Latest news

    کورونااورلاک ڈاؤن بھی نفرت کے وائرس کو ختم نہیں کرسکے

    مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا یہ خطرناک کھیل آخر کب تک؟: مولانا...

    مسلمانوں سے متعلق میڈیا کا دہرا رویہ تشویشناک ، گرفتاریوں کا ڈھنڈورا لیکن عدالت سے رہائی کا کوئی ذکر نہیں : مولاناارشدمدنی

    نئی دہلی : بنگلور سیشن عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سے ڈسچار ج کیئے گئے تریپورہ...

    ہماری سرکار اردو کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے : وزیراعلیٰ،دہلی

    وائس چیئرمین اکادمی حاجی تاج محمد سے خصوصی ملاقات میں متعلقہ مسائل کے حل کی یقین دہانی نئی دہلی :...

    جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے اور وہ راشن لینا چاہتے ہیں، وہ مرکز میں آکر راشن لے سکتے ہیں: گوپال رائے

    نئی دہلی : دہلی کے وزیر ترقیات گوپال رائے نے آج بابرپور کے علاقے کردمپوری میں پرائمری اسکول میں...

    رام مندر کے لئے ، 12080 مربع میٹر اراضی 18.50 کروڑ میں خریدی گئی ، جبکہ اس سے متصل 10370 مربع میٹر اراضی صرف...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور اترپردیش انچارج سنجے سنگھ نے رام مندر کے لئے...

    نائب وزیر اعلی اور وزیر خزانہ منیش سسودیا نے غیر ضروری سرکاری اخراجات کو کم کرنے کا حکم جاری کیا

    نئی دہلی : کورونا کی وجہ سے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ، دہلی حکومت نے اخراجات کے...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you