رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • عالمی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    اردغان نے 30 لاکھ شامی پناہ گزینوں کی واپسی کا امکان کیا ظاہر

    استنبول: ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کا کہنا ہے کہ شمالی شام میں ترکی جس “سیف زون” کے قیام کے لیے کوشاں ہے وہاں تقریبا 30 لاکھ شامی پناہ گزینوں کی واپسی ہو سکتی ہے۔ترکی اس وقت 36 لاکھ سے زیادہ شامی پناہ گزنیوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ شام میں آٹھ برس کی جنگ کے بعد ترکی میں عوامی اور سرکاری سطح پر ان پناہ گزینوں کی موجودگی کے حوالے سے عدم اطمینان اور ناراضگی دیکھنے میں آ رہی ہے۔امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے والی ترکی کی فورسز شمالی شام میں ایک وسیع علاقے کی تطہیر کے لیے کوشاں ہے تا کہ کرد باغیوں کو اپنی سرحد سے دور کیا جائے اور شامی پناہ گزینوں کی واپسی کو آسان بنایا جائے۔

    بدھ کے روز ایردوآن نے ٹیلی وڑن پر خطاب میں کہا کہ سیف زون کے قیام میں کامیابی کی صورت میں ہم اس علاقے میں 20 سے 30 لاکھ کے درمیان پناہ گزینوں کو ٹھکانہ فراہم کر سکیں گے جو اس وقت ترکی اور یورپ میں مقیم ہیں۔انہوں نے مزید کہا “اگر ہم ادلب میں امن کو جلد یقینی بنانے میں کامیاب نہ ہوئے تو پھر ہم اس علاقے میں بسنے والے چالیس لاکھ شامیوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکیں گے”۔ترکی کے صدر اس سے قبل رواں ہفتے باور کرایا تھا کہ وہ شمالی شام کے راستے ایک “پْرامن گذرگاہ” کے خواہاں ہیں جو دیر الزور اور الرقہ تک پھیلی ہوئی ہو۔ اس طرح تیس لاکھ سے زیادہ پناہ گزین واپس آ سکیں گے”۔ اردغان نے یورپ پر زور دیا کہ وہ اس منصوبے کو یقینی بنانے کے لیے “مزید سپورٹ” پیش کرے۔واضح رہے کہ ترکی کے لیے مرکزی ترجیح کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے نفوذ کو کچلنا ہے۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کے ترکی کی اراضی پر موجود علاحدگی پسند کردوں کے ساتھ روابط ہیں۔بدھ کے روز اپنے تازہ خطاب میں ایردوآن نے ایک بار پھر دھمکی دی کہ اگر رواں ماہ کے اواخر تک کرد عناصر ترکی کی سرحد سے دور نہ ہوئے تو ان کو حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔البتہ کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کا شمالی شام میں مضبوط وجود ہے اور اسے داعش تنظیم کے خلاف لڑائی میں امریکا کا ایک مرکزی حلیف شمار کیا جاتا ہے۔ترکی 2016 اور 2018 میں مذکورہ کرد یونٹس اور داعش تنظیم کے خلاف یک طرفہ فوجی آپریشن کر چکا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  ایران : دو گنا اضافے کے خلاف احتجاج میںایک شہر میں 40 مظاہرین ہلاک،330 زخمی ہوئے

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  اردغان نے ای سگریٹ کی جگہ ترکی چائے پینے کا دیا مشورہ

    Latest news

    میرٹ کی بنیادپر منتخب ہونے والے 670طلباء میں ہندوطلباء بھی شامل

    تعلیمی سال 2021-2022کے لئے جمعیۃعلماء ہند کے وظائف جاری ، مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنا تو جمعیۃعلماء...

    آدیش گپتا نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر ایم سی ڈی کی زمین پر اپنا سیاسی دفتر بنایا: درگیش پاٹھک

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے ایم سی ڈی انچارج درگیش پاٹھک نے کہا کہ بی جے پی...

    مغربی يو پی : راشٹریہ لوک دل اور سماج وادی پارٹی اتحاد کتنا مضبوط ؟

    مغربی یوپی : مظفر نگر فسادات کے بعد مغربی یوپی میں بالخصوص پوری ریاست میں بالعموم فرقہ واریت اور...

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you