رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • عالمی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    افغانستان کے جنوب اور مغرب میں موجود تین بڑے شہروں میں لڑائی جاری

    کابل : افغانستان کے جنوب اور مغرب میں موجود تین بڑے شہروں میں لڑائی جاری ہے۔ طالبان جنگجو ان شہروں کو سرکاری فورسز سے چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔طالبان جنگجو ہرات، لشکر گاہ اور قندھار کے کچھ حصوں میں داخل ہو چکے ہیں۔جب سے یہ اعلان کیا گیا کہ ستمبر تک تمام غی ملکی فوجی یہاں سے چلے جائیں گے تب سے طالبان نے دیہی علاقوں میں تیزی سے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔لیکن ان اہم شہروں کی قسمت انسانی بحران کے خدشات کے حوالے سے اہم ہو سکتی ہے۔ اور یہ بھی کہ حکومتی افواج کتنی دیر تک صورتحال پر قابو پا سکیں گی۔لشکر گاہ سے اطلاعات موصول ہوئیں کہ سنیچر کو عسکریت پسند گورنر ہاؤس سے چند سو میٹر کی دوری پر تھے لیکن انھیں رات تک واپس دھکیل دیا گیا۔

    یہ گذشتہ چند روز میں ان کی حملے کی دوسری کوشش تھی۔افغان فورسز کے کمانڈر نے کہا کہ انھوں نے جمعے کو عسکریت پسندوں کو کافی حد تک جانی نقصان پہنچایا ہے۔طالبان کی توجہ اب افغانستان کے شہروں پر ہے۔ صورتحال غیر مستحکم ہے لیکن صوبہ ہلمند کا مرکز لشکر گاہ جہاں بہت سے امریکی اور برطانوی فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں میں اس وقت سب سے زیادہ مخدوش حالات ہیں۔ طالبان کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے شہر کے مرکز سے اپنے جنگجوؤں کی ویڈیوز اپ لوڈ کی ہیں۔افغان سپیشل فورسز کو انھیں پسپا کرنے کے لیے مدد کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ عسکریت پسندوں نے وہاں بسنے والے عام خاندانوں کے گھروں میں پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں وہاں سے نکالنا مشکل ہو جائے گا۔ آگے مزید طویل اور خونی لڑائی دکھائی دیتی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  امریکہ : کرسمس کے موقع پر فائرنگ کے 52 واقعات میں26 افراد ہلاک

    قندھار میں پارلیمینٹ کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کا طالبان کے ہاتھوں میں چلے جانے کا شدید خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہزاروں لوگ پہلے ہی بے گھر ہو چکے ہیں اور ایک انسانی آفت آنے والی ہے۔گل احمد کمین نے کہا کہ صورتحال ہر گزرتے گھٹنے کے بعد بدتر ہوتی جا رہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ شہر کے اندر جاری لڑائی گذشتہ 20 سالوں میں ہونے والی شدید ترین لڑائی ہے۔انھوں نے بتایا کہ طالبان اب قندھار کو ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایک ایسا شہر جسے وہ اپنا عارضی دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔گل کمین کہتے ہیں کہ اگر یہ شہر ان کے قبضے میں چلا گیا تو اس سے خطے میں موجود پانچ سے چھ صوبے بھی ہاتھ سے نکل جائیں گے۔اگر یہ گر گیا تو اس علاقے کے پانچ یا چھ دوسرے صوبے بھی قبضے سے نکل جائیں گے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ طالبان جنگجو شہر کے مختلف اطراف میں موجود تھے اور وہاں بہت زیادہ شہری آبادی رہتی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  منی پور کے مشرقی امپھال ضلع میں بم دھماکہ،5 افراد زخمی

    گل کمین کہتے ہیں کہ اگر طالبان شہر کے اندر چلے گئے تو پھر وہاں حکومتی فوج کے لیے بھاری ہتھیاروں کا استعمال ممکن نہیں ہو گا۔افغانستان کے مغربی شہر ہرات پر کنٹرول کے لیے طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان سخت لڑائی جاری ہے۔ طالبان کے خلاف لڑنے والوں میں صرف افغان فوجی نہیں بلکہ دیگر طالبان مخالف جنگجو بھی ہیں۔ان جنگجوؤں کی قیادت اسماعیل خان نامی ایک بااثر مقامی کمانڈر کر رہے ہیں جنھیں مقامی طور پر امیر اسماعیل خان بھی کہا جاتا ہے۔ہرات شہر افغانستان کے اہم صوبے ہرات کا دارالحکومت ہے جس کی ایک طویل سرحد ایران کے ساتھ لگتی ہے۔ یہ تاریخی اور ثقافتی ورثے کے حوالے سے بھی نمایاں صوبہ ہے۔ملک کے مغربی حصے میں واقع یہ صوبہ افغانستان کا ایک اہم تجارتی مرکز بھی ہے چنانچہ اس پر قبضہ ہونا طاقت کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  عراق کے الصدر شہر میں پولیس اور مظاہرین میں تصادم

    جمعے کو ہرات شہر میں اقوامِ متحدہ کے ایک کمپاؤنڈ پر حملے میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد سنیچر کو افغان فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان ایک بار پھر لڑائی نے شدت اختیار کی ہے۔یاد رہے کہ امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج کے انخلا کے قریب آنے کے ساتھ ہی مئی کے مہینے سے ملک بھر میں تشدد کی لہر زور پکڑ گئی اور اب جیسے جیسے انخلا مکمل ہونے لگا ہے، طالبان ایک کے بعد ایک ضلعوں کا قبضہ حاصل کرتے جا رہے ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اب تک طالبان نے ایران اور ترکمانستان کے ساتھ واقع دو سرحدی چوکیوں کا بھی قبضہ حاصل کر لیا ہے۔اے ایف پی نے مقامی رہائشیوں اور حکام کے حوالے سے بتایا کہ ہرات کے نواحی علاقوں میں لڑائی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور سینکڑوں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر شہر کے مرکز کا رخ کر رہے ہیں۔

    ہرات کے گورنر عبدالصبور قانی کا کہنا ہے کہ زیادہ لڑائی انجیل اور گزارا کے علاقوں میں ہو رہی ہے جہاں ہوائی اڈہ بھی واقع ہے۔اْنھوں نے کہا: ‘اس وقت لڑائی جنوب اور جنوب مشرق میں ہو رہی ہے۔ ہم احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ شہریوں کی جانیں محفوظ رہیں۔’عمر رسیدہ جنگجو کمانڈر اسماعیل خان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ 1980 کی دہائی میں افغانستان پر سوویت حملے کے دوران روسی افواج کے خلاف لڑائی میں شریک رہے تاہم وہ طالبان کے بھی مخالف ہیں۔ 1992 سے لے کر سنہ 1997 تک وہ صوبہ ہرات کے گورنر بھی رہے جس کے بعد وہ سنہ 1996 سے سنہ 2001 تک افغانستان میں قائم رہنے والی طالبان حکومت کی قید میں چلے گئے۔

    یہ بھی پڑھیں  چین میں اویغور مسلمانوں کی ’عبوری نظر بندی، جبری سلوک اور ہراسانی‘ کے خلاف ایک قانون کا مسودہ منظور
    یہ بھی پڑھیں  عراق کے الصدر شہر میں پولیس اور مظاہرین میں تصادم

    بی بی سی پشتو کے سید انور کے مطابق طالبان حکومت کے دوران وہ کچھ عرصے کے لیے قندھار میں قید بھی رہے جہاں سے وہ بعد میں فرار ہو گئے تھے۔اس کے بعد وہ سنہ 2001 سے سنہ 2004 تک دوبارہ ہرات کے گورنر رہے اور بعد میں 2005 سے سنہ 2013 تک حامد کرزئی کی حکومت میں وزیرِ توانائی و پانی بھی رہے۔سیاسی طور پر وہ برہان الدین ربانی کی جمعیتِ اسلامی سے وابستہ رہے ہیں جو طالبان کا مخالف سیاسی دھڑا ہے۔سید انور کے مطابق اسماعیل خان بعد میں بھی سیاسی طور پر بااثر رہے ہیں یہاں تک کہ موجودہ افغان صدر اشرف غنی بھی اْن سے مشاورت کرتے رہے ہیں اور اْنھوں نے حال ہی میں ہرات کے دورے میں اسماعیل خان سے ملاقات بھی کی۔

    افغانستان کی تازہ ترین صورتحال: طالبان نے اتنی تیزی سے آدھے سے زیادہ ملک پر کیسے قبضہ کر لیا؟دوسری جانب جنوبی صوبہ ہلمند کے دارالخلافہ لشکر گاہ میں اطلاعات کے مطابق طالبان جنگجو شہر کے مرکز کے دو کلومیٹر دور تک پہنچ گئے ہیں تاہم افغان سکیورٹی فورسز گذشتہ رات طالبان کی ایک پیش قدمی روکنے میں کامیاب رہی ہیں۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    میرٹ کی بنیادپر منتخب ہونے والے 670طلباء میں ہندوطلباء بھی شامل

    تعلیمی سال 2021-2022کے لئے جمعیۃعلماء ہند کے وظائف جاری ، مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنا تو جمعیۃعلماء...

    آدیش گپتا نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر ایم سی ڈی کی زمین پر اپنا سیاسی دفتر بنایا: درگیش پاٹھک

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے ایم سی ڈی انچارج درگیش پاٹھک نے کہا کہ بی جے پی...

    مغربی يو پی : راشٹریہ لوک دل اور سماج وادی پارٹی اتحاد کتنا مضبوط ؟

    مغربی یوپی : مظفر نگر فسادات کے بعد مغربی یوپی میں بالخصوص پوری ریاست میں بالعموم فرقہ واریت اور...

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you