رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • عالمی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    بے روزگار کے باعث معاشرتی بدامنی میں اضافہ : قوام متحدہ

    اقوام متحدہ: اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 50 کروڑ افراد یا تو بے روزگار ہیں یا انہیں جزوی بے روزگاری کا سامنا ہے جس کے باعث معاشرتی بدامنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق سال 2009 سے 2019 تک دنیا بھر میں ہڑتالوں اور احتجاجی تحریکوں کی تعداد میں اضافہ نوٹ کیا گیا جس کی وجوہات میں یہ امر بھی شامل تھا کہ زیادہ تر بے روزگار افراد ان تحریکوں اور ہڑتالوں کا حصہ بنے۔فرانس کے خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ برس بے روزگاری کی شرح پانچ اعشاریہ چار فی صد تھی جس میں تبدیلی کی توقع نہیں کی جارہی تھی لیکن رواں برس کے اختتام تک بے روزگاری کی مجموعی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔رپورٹ میں معاشی سست روی

    یہ بھی پڑھیں  جنگلات میں لگنے والی آگ سے دنیا بھر میں پینے کے پانی کی قلت کا خدشہ

    اور آبادی میں اضافے کو بے روزگاری میں اضافے کی اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 15 سے 24 سال کی عمر کے 26 کروڑ 70 لاکھ نوجوان روزگار، تعلیم یا تربیت حاصل نہیں کر پا رہے۔آئی ایل او نے اپنی سالانہ ورلڈ ایمپلائمنٹ اینڈ سوشل آؤٹ لک رپورٹ میں کہا کہ سال 2019 میں رجسٹرڈ بے روز گار افراد کی تعداد 18 کروڑ 80 لاکھ تھی جو رواں سال کے اختتام تک 19 کروڑ 50 لاکھ ہونے کی توقع ہے۔آئی ایل او کے سربراہ گائے رائڈر کے مطابق عالمی سطح پر روزگار کی شرح میں گزشتہ دس برسوں کے دوران اضافہ نہیں ہوا جس سے لاکھوں محنت کش افراد کے لیے بہتر زندگی گزارنا مشکل تر ہو گیا ہے۔گائے رائڈر کا کہنا ہے کہ زیادہ اور کم آمدنی والے ملازم پیشہ افراد کے درمیان فاصلہ انتہائی غیر مساوی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  روس اور ہندوستان کا دفاعی صنعت میں تعاون پر کام کرنے کا فیصلہ
    یہ بھی پڑھیں  چین میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 9 ، محکمہ صحت نے کیا خبردار

    زیادہ آمدنی والے 20 فی صد افراد کو جو رقم کمانے میں ایک سال لگتا ہے، کم آمدنی والوں کو یہ رقم کمانے میں 11 سال لگ جاتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اندازے سے بھی کہیں زیادہ خراب ہے۔آئی ایل او کے سربراہ نے متنبہ کیا ہے کہ کام سے متعلق عدم مساوات اور مستقل مزاجی کو برقرار رکھنا بیشتر افراد کو مناسب روز گار کی تلاش سے روک رہا ہے جو انتہائی تشویش ناک ہے۔ان کے بقول، “مناسب بے روزگار تک رسائی نہ ہونا پوری دنیا میں بڑھتی ہوئی احتجاجی تحریکوں اور بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔”آئی ایل او کے سوشل ان ریسٹ انڈیکس یعنی سماجی بدامنی انڈیکس کے مطابق سال 2009 سے سال 2019 تک دنیا بھر میں ہونے والے مظاہروں اور ہڑتالوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔آئی ایل او کی رپورٹ میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے روزگار افراد کی اکثریت بھی کم اجرت پر ملازمتیں کرنے پر مجبور ہے۔ اْنہیں بنیادی تحفظ اور ضروریات تک حاصل نہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  براعظم افریقہ کے چار ممالک میں ویکسین سے پولیوکیسز کے انکشاف

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سال 2019 میں 63 کروڑ سے زائد افراد ایسے تھے جنہیں غیر معیاری حالات میں ملازمیتں کرنا پڑ رہی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں اتنی سکت بھی نہیں تھی کہ وہ ساڑھے تین ڈالر یومیہ کما سکیں۔آئی ایل او کی رپورٹ میں جنس، عمر اور جغرافیائی محلِ وقوع جیسی چیزوں کے ذریعے کار آمد آمدنی اور ملازمت تک رسائی میں عدم مساوات کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  پاکستان کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا: باجوا

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    اسپتال میں ملی ہاپوڑ کے محسن علی کی لاش

    دنگائیوں کی بھینٹ چڑھ گیا معصوم نئی دہلی : شمال مشرقی دہلی میں اتوار سے تشددجاری ہے، اس تشددمیں اب...

    شاہین باغ معاملے میں سماعت کے لئے ماحول سازگار نہیں : سپریم کورٹ

    نئی دہلی:سپریم کورٹ نے بدھ کو دہلی کے شاہین باغ علاقے میں مظاہرین کو ہٹائے جانے سے متعلق عرضیوں...

    شمال مشرقی دہلی میں تشدد میں مرنے والوں کی تعداد 9، حالات کشیدہ

    نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) کے خلاف جاری تشدد میں آج...

    این پی آر پرانے طریقے سے ہی ہوگا ، این آر سی غیر ضروری : نتیش

    پٹنہ: بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے آج اسمبلی میں قومی شہری رجسٹر ( این آر سی ) کو...

    مرکزی حکومت نے دہلی میں تشدد کے معاملے پر ہنگامی میٹنگ طلب کی

    نئی دہلی: دہلی میں دو دن سے جاری تشدد کے واقعات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے منگل کے...

    ہمیں پھر ایک بار اپنی قربانیوں کا جائزہ لینا پڑے گا : قاری محمد طیب قاسمی

    آنند نگر مہراج گنج : گزشتہ روز ضلع مہراج گنج کی مشہور ادارہ دارالعلوم فیض...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you