رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • عالمی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    عراق میں ملک گیر پرتشدد مظاہروں کی تازہ لہر میں کم از کم 40 افراد ہلاک

    بغداد : عراق میں حکومت مخالف مظاہروں کی تازہ لہر کے دوران پرتشدد واقعات میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق دارالحکومت بغداد میں ہلاک ہونے والے دو افراد سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائر کیے گئے آنسو گیس کے شیل کا نشانہ بنے۔ ان مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کی نصف تعداد ملیشیا گروپوں اور حکومت کے دفاتر پر حملہ کرنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہوئے۔احتجاجی مظاہرین مزید ملازمتوں، بہتر عوامی خدمات اور بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔خبررساں ادارے اے ایف پی نے ایک سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً دو ہزار افراد زخمی ہوئے۔یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں بھی اسی طرح کے مظاہروں کو سکیورٹی فورسز نے نہایت بے دردی سے ختم کروایا تھا۔

    جس میں لگ بھگ ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ایک سرکاری رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ حکام نے بدامنی کو دور کرنے میں ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا تھا۔ تازہ ترین مظاہروں سے قبل عراق کے سرکردہ مذہبی رہنماوں اور اقوام متحدہ نے مظاہروں کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ایک روز قبل عراق کے وزیر اعظم عادل عبد المہدی، جنھوں نے ایک سال قبل اقتدار سنبھالا تھا، نے مظاہرین کو متنبہ کیا تھا کہ تشدد کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے مظاہرین کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے کابینہ میں ردوبدل اور اصلاحات کے پیکیج کا وعدہ کیا ہے لیکن بہت سے مظاہرین نے اس پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  میکسیکو نے311 ہندستانی کوکیا ملک بدر

    جمعہ کی صبح سیکڑوں مظاہرین بغداد کے التحریر سکوائر پر جمع ہوئے تھے۔ جب کچھ لوگوں نے گرین زون میں داخل ہونے کی کوشش کی جہاں سرکاری عمارتیں قائم ہیں تو سکیورٹی فورسز نے انھیں پیچھے ہٹانے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔خبر رساں ادارے روئٹرز کو پولیس اور طبی ذرائع نے بتایا کہ بغداد میں آنسو گیس کے شیل کی زد میں آکر دو مظاہرین ہلاک ہوگیے تھے۔سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ عراق کے جنوبی شہر دیوانیہ میں نیم فوجی دستے کے ہیڈ کوارٹر کو آگ لگاتے ہوئے بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ تاہم ان اعداد و شمار کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

    یہ بھی پڑھیں  میکسیکو نے311 ہندستانی کوکیا ملک بدر

    عراقی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ملک بھر میں سکیورٹی فورسز کے 68 ارکان زخمی ہوئے ہیں۔رواں ماہ ہونے والے مظاہروں سے حکومت کے نمٹنے نے پورے عراق میں بدامنی کو ہوا دی ہے۔ جس کے بعد سیاسی رہنماؤں کو استعفی دینے کے مطالبوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ایک احتجاج کرنے والے شخص کا کہنا تھا کہ ‘ہم بھوکے نہیں ہیں، ہم وقار چاہتے ہیں۔’ ایک اور نے کہا کہ عراق کے سیاست دانوں نے ‘تمام وسائل پر اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے۔’عراق کے جنوبی شہروں میں بھی بدامنی اور مظاہروں کا سلسلہ پھیل گیا ہے۔ صوبہ دھی قر میں 3000 کے قریب مظاہرین نے ایک سرکاری عمارت کو توڑ دیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  ایران: احتجاج کرنے والے100سرکردہ لیڈروں کوپولس نے کیاگرفتار

    جبکہ صوبہ میسن میں شیعہ ملیشیا گروپ کے دفاتر کی حفاظت کرنے والے گارڈز کی فائرنگ سے کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے۔جبکہ مظاہرین نے صوبہ متھانہ میں شیعہ سیاسی جماعت کے دفاتر کو نذر آتش کیا۔ عراق کے کئی جنوبی صوبوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔عراق کے دارالحکومت بغداد میں احتجاج اور مظاہروں کا آغاز یکم اکتوبر کو ہوا تھا جس میں حصہ لینے والے زیادہ تر افراد نوجوان اور بیروزگار تھے۔سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر براہ راست گولہ بارود استعمال کرنے کے بعد بدامنی بڑھ گئی اور اس احتجاج کا سلسلہ دوسرے شہروں اور قصبوں میں پھیل گیا تھا۔

    ایک سرکاری کمیٹی جس کو ان مظاہروں میں ہونے والے تشدد کی تحقیقات کا کام سونپا گیا تھا نے کہا کہ یکم اکتوبر سے چھ اکتوبر کے درمیان ہونے والے مظاہروں میں 149 عام شہری اور آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ‘افسران اور کمانڈروں نے مظاہروں کے دوران اپنی افواج کا کنٹرول کھو دیا’ اور اس سے ‘انتشار پھیل گیا۔

    یہ بھی پڑھیں  ایران: ’میتھانول‘ کے استعمال سے 300 سے زائد افراد ہلاک

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  سعودی عرب کے خلاف سازشوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی

    Latest news

    دس مہینے بعد تعلیمی سرگرمی شروع ہونے سے بچوں کے چہروں پر لوٹی مسکراہٹ

    نئی دہلی: دس مہینے بعد دہلی کے اسکولوں میں محدود ہی سہی لیکن رونقیں واپس لوٹ آئی ہیں۔ کل...

    دہلی فسادات معاملہ،متاثرین کی باز آبادکاری میں مصروف اقلیتی فلاحی کمیٹی

    میٹنگ میں جلد سے جلد زیر التوامعاملات کے نپٹارہ کی افسران کو ہدایت،کچھ معاملات میں دوبارہ سروے کرنے کی...

    بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی سے نہ صرف دہلی کے لوگ متاثر ہیں، بلکہ ملازمین بھی نالاں ہیں : سوربھ...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے چیف ترجمان سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی کے زیر...

    راجیندر نگر کے ایم ایل اے راگھو چڈھا نے سوامی دیانند سروودیا کنیا اسکول کا دورہ کیا

    لاک ڈاؤن کے بعد اسکول کھلنے کے بعد سکیورٹی کے تمام انتظامات کردیئے گئے ہیں، طلباء اساتذہ کو N95...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you