رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • عالمی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    جمہوری عمل کو پرتشدد ہجوم سے بچانے کے لیے دست بدست اور ایک ایک انچ کے لیے لڑائی لڑی : امریکی پولیس

    واشنگٹن : امریکی پولیس کے چار افسروں نے منگل کے روز 6 جنوری کو واشنگٹن میں کانگریس کی عمارت پر دھاوا بولنے کے واقعات کی تحقیقات کرنے والی کانگریس کی کمیٹی کو ان تفصیلات سے آگاہ کیا کہ کس طرح سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے کانگریس کی عمارت کے اندر گھس کر جو بائیڈن کی امریکی صدر کے طور پر توثیق کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔پولیس افسروں نے، جن میں سے دو کا تعلق یو ایس کیپٹل پولیس فورس اور دو کا واشنگٹن سٹی پولیس کے محکمے سے تھا، بتایا کہ جب تقریباً 800 بلوائیوں نے قانون نافذ کرنے والے حکام پر قابو پاتے ہوئے، نسلی اور سیاسی نعروں سے ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے، پولیس کے ساتھ دست بدست لڑتے ہوئے

    ان پر سوزش پیدا کرنے والا کیمیکل چھڑکتے ہوئے اور ان کے ہتھیار چھیننے کی کوشش کرتے ہوئے کانگریس کی عمارت پر دھاوا بولا تو انہیں اپنی جان کا خطرہ پیدا ہو گیا۔پولیس اہل کاروں نے یہ گواہی چھ ماہ قبل کانگریس کی عمارت پر ہونے والے مہلک حملے کی عوامی سماعت کے پہلے روز دی۔ یہ حملہ امریکہ کی دو سو سال سے زیادہ پرانی تاریخی کیپٹل کی عمارت پر، جسے امریکی جمہوریت کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، پر ہونے والا بدترین حملہ تھا۔ڈیموکریٹ پارٹی کے سات ارکان کانگریس اور ری پبلکن پارٹی کے دو قانون ساز پر مشتمل کمیٹی نے اس گواہی کی سماعت کی، جب کہ قومی ٹیلی وڑن کے ناظرین نے اسے دیکھا۔چھ جنوری کو کانگریس کی عمارت پر حملے کی سماعت میں پہلے روز گواہی دینے والے چار پولیس اہل کار۔

    یہ بھی پڑھیں  ایرانی سمندری ٹینکر نے اپنا تیل شام کے حوالے کیا ہے : واشنگٹن

    چھ جنوری کو کانگریس کی عمارت پر حملے کی سماعت میں پہلے روز گواہی دینے والے چار پولیس اہل کار۔ساڑھے تین گھنٹے کی اس سماعت میں یو ایس کیپٹل پولیس کے افسر اکی لینو گونیل نے بتایا کہ بلوائیوں نے اسے غدار اور بے شرم قرار دیتے ہوئے چلا کر کہا کہ تمہیں مار دینا چاہیے۔گونیل نے بتایا کہ اس روز ہمیں وہاں قرون وسطیٰ جسے میدان جنگ کا سامنا تھا۔ ہم نے اپنے جمہوری عمل کو پرتشدد ہجوم سے بچانے کے لیے دست بدست اور ایک ایک انچ کے لیے لڑائی لڑی۔گونیل نے بتایا کہ ایک موقع پر بلوائیوں کے حملے میں وہ کچلے جانے کے قریب تھے۔ اس وقت میں نے سوچا کہ شاہد میں اس طرح مرنے جا رہا ہوں۔

    یہ بھی پڑھیں  سعودی عرب کے خلاف سازشوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی

    واشنگٹن پولیس کے افسر مائیکل فینان نے قانون سازوں کو بتایا کہ مجھے بلوائیوں نے دبوچا، مارا پیٹا اور اس دوران وہ مجھے ملک کا غدار کہہ کر پکارتے رہے۔ اس وقت مجھے یہ خطرہ لاحق تھا کہ میں اپنے ہی اسلحے سے مارا جاؤں گا۔اس نے بتایا کہ مجھے بار بار بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔ میں اس وقت چیخ چلا رہا تھا، لیکن میں اپنی ہی آواز نہیں سن پا رہا تھا۔واشنگٹن پولیس کے افسر ڈینیئل ہوگز نے، جو کیپٹل ہل کے ایوان کے دروازے میں پھنس گئے تھے، بتایا کہ بلوائیوں نے چیخ کر کہا تم اسی طرح کچل کر مر جاؤ گے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس بلوائیوں کے ہجوم کو روکنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بلوائی نے اپنا انگوٹھا میری آنکھ میں گھسا کر اسے نکالنے کی کوشش کی۔

    یہ بھی پڑھیں  سعودی عرب کے خلاف سازشوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی

    میں مدد کے لیے چلایا تو اس وقت کچھ اور پولیس اہل کار وہاں آ گئے اور انہوں نے میری جان بچائی۔یو ایس کیپٹل پولیس کے ہیری ڈن نے، جو سیاہ فام ہیں، بتایا کہ بلوائیوں نے یہ تصور کرتے ہوئے کہ میں نے بائیڈن کو ووٹ دیا ہے، مجھ پر نسلی تعصب کے جملے کسے۔انہوں نے کہا کہ اس روز جو کچھ ہوا، مجھے آج بھی اس پر دکھ ہوتا ہے۔اس حملے کے دوران ایک بلوائی کیپٹل پولیس افسر کی گولی سے مارا گیا۔ تین بلوائی طبی ایمرجنسی کے باعث ہلاک ہوئے۔ دو پولیس اہل کاروں نے اس واقعہ کے باعث خودکشی کی۔ جب کہ 500 سے زیادہ بلوائیوں پر مختلف فوجداری دفعات کے تحت مقدمے چلائے جا رہے ہیں۔

    کیپٹل ہل پر چھ جنوری کو بلوائیوں کے حملے کے بعد کے عرصے میں متعدد ری پبلکنز نے سابق صدر ٹرمپ کے اپنے حامیوں کے لیے اس بیان کے اثر کو گھٹانے کی کوشش میں کہ ‘ڈٹ کر لڑو’ کو، جو انہوں نے بائیڈن سے الیکشن ہارنے کی صورت حال کو بدلنے کے لیے دیا تھا، کیپٹل ہل پر تشدد کو کم سے کم کیا ہے۔ایک قانون ساز نے کہا تھا کہ وہ 800 افراد جو کیپٹل ہل میں داخل ہوئے تھے، ان کی حیثیت عمومی طور پر سیاحوں جیسی تھی۔ جب کہ کچھ ری پیلیکنز نے کیپٹل ہل کی حفاظت کرنے والے پولیس اہل کاروں کی تعظیم کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

    یہ بھی پڑھیں  ترکی کی شمالی شام میں کردوں کو نکال باہرکرنے کی دھمکی
    یہ بھی پڑھیں  ترکی کی شمالی شام میں کردوں کو نکال باہرکرنے کی دھمکی

    ری پبلکنز رہنما یہ موقف برقرار رکھے ہوئے ہیں کہ اس بلوے کی نفاذ قانون کے اداروں کی جانب سے مناسب طور پر تفتیش کی جا رہی ہے جس کے بعد کانگریس کی کمیٹی کے تحت تازہ ترین تحقیقات محض ایک سیاسی کارروائی ہے جسے اگلے سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کو نقصان پہنچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔جب کہ سینیٹ میں ری پبلکنز ارکان نے اس بارے میں دونوں جماعتوں پر مشتمل کمشن کے قیام کا راستہ روک دیا ہے جس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ چھ جنوری کی ہلاکت خیز افراتفری کیوں اور کیسے وقوع پذیر ہوئی تھی۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    کسان تحریک کے دوران جان گنوانے والے کسانوں کی تعداد اور ان کے خلاف درج مقدمات کی کوئی معلومات نہیں ہے : مرکزی وزیر...

    نئی دہلی : مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ اس کے پاس کسان تحریک کے دوران جان گنوانے والے...

    ایم سی ڈی تبدیلی مہم کی تیاری 27 نومبر سے شروع، معلومات اپ لوڈ کرنے کے لیے خصوصی ایپ استعمال کریں گے: گوپال رائے

    نئی دہلی : آپ کے سینئر لیڈر گوپال رائے نے کہا کہ ایم سی ڈی انتخابات کے پیش نظر،...

    بنگلورو پولیس نے منّور فاروقی کو متنازعہ شخص قرار دیا

    بنگلور: کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کے ایک آڈیٹوریم میں اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کا ایک شو منعقد کیا...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you