رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • عالمی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں؟

    واشنگٹن:عالمی ادارہ صحت کے مطابق پھیپھڑوں کے شدید عارضے میں مبتلا کرنے والا وائرس جو چین سے شروع ہوا تھا اب 38 ممالک تک پھیل چکا ہے۔ چین میں اب تک کورونا وائرس سے 78 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 2700 ہلاک ہوئے ہیں۔یہ وائرس پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں پہنچ چکا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ اس کے صرف دو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے تاہم ایران اور افغانستان سے ملحق سرحدوں کے علاوہ بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سکریننگ بڑھا دی گئی ہے۔یہ بظاہر بخار سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے۔ایک ہفتے بعد سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے کچھ مریضوں کو ہسپتال لے جانے کے نوبت آ جاتی ہے۔واضح رہے کہ اس انفیکشن میں ناک بہنے اور چھینکنے کی علامات بہت کم ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق انفیکشن کے لاحق ہونے سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک کا عرصہ 14 دنوں پر محیط ہے۔

    لیکن کچھ محققین کا کہنا ہے کہ یہ 24 دن تک بھی ہو سکتا ہے۔کچھ چینی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کچھ لوگ خود میں علامات ظاہر ہونے سے پہلے بھی انفیکشن پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔اس بیماری جسے کووڈ 19 کا نام دیا گیا سے مرنے والوں کی شرح ایک سے دو فیصد رہی لیکن ان اعداد پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ہزاروں افراد کا علاج اب بھی جاری ہے اور شاید کچھ مر بھی جائیں اس لیے شرح اموات بڑھ بھی سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی غیر واضح ہے کہ ہلکی پھلکے علامات والے کتنے کیسز ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے، اس صورت میں شرح اموات کم بھی ہو سکتی ہے۔ہر سال ایک ارب افراد انفلواینزا کا شکار ہوتے ہیں اور دو لاکھ نوے ہزار سے چھ لاکھ پچاس ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ فلو کی شدت ہر سال بدلتی ہے۔تاحال اس کا علاج بنیادی طریقوں سے کیا جا رہا ہے، مریض کے جسم کو فعال رکھ کر، سانس میں مدد فراہم کر کے

    یہ بھی پڑھیں  فرانس : کرونا وائرس سے مزید 1355 اور اسپین میں 961 اموات

    تاوقتکہ ان کا مدافعتی نظام اس وائرس سے لڑنے کے قابل ہو جائے۔تاہم اس کے لیے ویکسین کی تیاری کا کام جاری ہے اور امید ہے کہ اس سال کے آخر تک اس کی دوا انسانوں پر آزمانی شروع کر دی جائے گی۔ہسپتالوں میں وائرس کے خلاف پہلے سے موجود دواؤں کا استعمال شروع کر رکھا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کے آیا ان کا کوئی اثر ہے۔اپنے ہاتھ ایسے صابن یا جیل سے دھوئیں جو وائرس کو مار سکتا ہو۔کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ کو ڈھانپیں، بہتر ہوگا کہ ٹشو سے، اور اس کے فوری بعد اپنے ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس پھیل نہ سکے۔کسی بھی سطح کو چھونے کے بعد اپنی آنکھوں ، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں۔ وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے یہ آپ کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔ایسے لوگوں کے قریب مت جائیں جو کھانس رہے ہوں، چھینک رہے ہوں یا جنہیں بخار ہو۔ ان کے منہ سے وائرس والے پانی کے قطرے نکل سکتے ہیں جو کہ فضا میں ہو سکتے ہیں۔ ایسے افراد سے کم از کم ایک میٹر یعنی تین فٹ کا فاصلہ رکھیں۔ہر روز ہزاروں نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر عالمی رہنماؤں کا رد عمل
    یہ بھی پڑھیں  فرانس : کرونا وائرس سے مزید 1355 اور اسپین میں 961 اموات

    تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کہ اصل میں یہ اس سے کہیں کمبڑے پیمانے پر پھیل رہا ہوسکتا ہے کم سے کم اس سے 10 گنا زیادہ جتنا کہ سرکاری اعداد و شمار میں بتایا جا رہا ہے۔یہ اب تک جنوبی کوریا، اٹلی، ایران میں پھیل چکا ہے جس کے بعد یہ خدشہ ہے کہ یہ عالمی وبا بن جائے گی۔ کسی بھی انفیکشن کو عالمی وبا اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب سے دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل کر خطرہ بن جاتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وہ اس تعداد کے حوالیسے فک مند ہیں خصوصات ایسے کیسز کے بارے میں جن کا بلاواسطہ تعلق چین سے ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ’وائرس کے موجود ہونے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ‘موسم سرما میں سردی اور فلو کی وجہ سے یہ زیادہ تیزی سے پھیلا، امکان ہے کہ موسم میں تبدیلی اس وبا کے پھیلاو کو روکنے میں مدد دے گی۔تاہم کورونا وائرس کی طرح کا ایک وائرس ’مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم‘ گرمیوں میں سعودی عرب پھیلتا ہے۔ اس لیے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ گرمیاں اس وبا کو روک دیں گی۔

    یہ بھی پڑھیں  دنیا کے پہلے تیرتے جوہری بجلی گھر کا پانچ ہزار کلومیٹر کا سفر
    یہ بھی پڑھیں  پاکستان اور روس کے تعلقات میں نرمی اور گرمجوشی پیدا ہوتی محسوس ہو رہی ہے

    یہ وائرس خود کوئی ’نیا نہیں‘ ہے۔ یہ صرف انسانوں میں نیا ہے۔ یہ ایک مخلوق سے دوسری میں آیا ہے۔کئی ابتدائی کیسز چین میں ووہان کے ایسے بازار سے جوڑی گئے جہاں جانوروں کا گوشت ملتا تھا۔چین میں کئی لوگ جانوروں سے بہت قریب ہوتے ہیں جس سے یہ وائرسز منتقل ہو سکتا ہے۔ اور گنجان آباد شہروں کا مطلب ہے کہ یہ بیماریاں آسانی سے پھیل سکتی ہیں۔سارس نامی بیماری بھی کورونا وائرس سے ہی شروع ہوئی تھی۔ یہ چمگادڑوں سے شروع ہوئی اور سیوٹ کیٹ سے ہوتی ہوئی انسانوں تکل پہنچی تھی۔سارس کی وبا نے چین میں سال 2002 کے دوران 774 افراد کو ہلاک کیا جبکہ آٹھ ہزار سے زائد اس سے متاثر ہوئے۔حالیہ وائرس کورونا وائرس سے کی یہ ساتویں قسم ہے اور اب تک اس میں کؤیی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ لیکن جب حالات سنبھل جائیں گے تو سائنسدان اس کا قریبی جائزہ لیں گے۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    مرکزی وزیر آیوش نے سی سی آر یو ایم کا دورہ کیا اور تحقیقی کاموں کی پذیرائی کی

    نئی دہلی : وزارت آیوش اور وزارت بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی راستوں کے کابینی وزیر جناب سروانند سونوال...

    کرناٹک میں سیلاب سے بے گھر ہوئے لوگوں کو بھی جمعیۃعلماء ہند نے فراہم کیا آشیانہ

    ہندوستان میں اسلام حملہ آوروں سے نہیں مسلم تاجروں کے ذریعہ پہنچا ، ملک میں اقتدارکے لئے ہورہی ہے...

    عام آدمی پارٹی کی حکومت بننے کے 24 گھنٹوں میں یوپی کے عوام کو 300 یونٹ بجلی مفت ملے گی: منیش سسودیا

    لکھنؤ / نئی دہلی : عام آدمی پارٹی نے اتر پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے ایک...

    بی جے پی کے دورحکومت میں ملک کی خواتین و بیٹیاں انصاف کے لئے در در بھٹک رہی ہیں

    کانگریس ہیڈ کوارٹر 24 اکبر روڈ پر کانگریس خواتین کے زیر اہتمام منعقدہ یوم خواتین کے موقع پرعمران پرتاپ...

    تبلیغی جماعت کے مرکز ’ نظام الدین‘ کو ہمیشہ کے لئے تو بند نہیں کیا جا سکتا : عدالت

    نئی دہلی : مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ سال جو تبلیغی جماعت کے...

    بی جے پی اور یوگی حکومت نہ تو آم کی ہے اور نہ ہی رام کی، انہوں نے رام مندر کے چندے میں بھی...

    ایودھیا/نئی دہلی : عام آدمی پارٹی نے منگل کو پارٹی کے سینئر لیڈر اور دہلی کے نائب وزیر اعلی...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you