رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    ملّی اداروں سے کھلواڑ منظور نہیں

    ڈاکٹر محمد ضیاءاللہ ندوی
    ان دنوں ندوۃ العلماء میں جو کچھ چل رہا ہے اس سے پوری ملت انگشت بدنداں اور حیرت زدہ ہے۔ جو حضرات اس پورے معاملہ میں منفی طریقے سے کلیدی رول ادا کر رہے ہیں انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہندوستان کے دیگر اسلامی اداروں کی طرح ندوۃ العلماء کو بھی خالص قومِ مسلم کے سرخ خون سے سینچا گیا ہے۔ یہ ادارے کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہیں اور نہ ہی خاندانی اجارہ داری کا اڈہ اس کو بنانے کا حق کسی کو حاصل ہے۔ جو حضرات ندوہ کی ساکھ پر بٹّہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں انہیں واضح طور پر یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ہندوستان کے اندر پوری ملت اس وقت بہت مشکل گھڑی میں ہے اور ایسے وقت میں علماء میں سے بعض افراد کا خود غرضی اور تنگ نظری بلکہ مفاد پرستی کا مظاہرہ کرنا اعلی درجہ کی بددیانتی اور غیر اسلامی ہی نہیں بلکہ غیر انسانی عمل ہے۔

    ماضی میں ایک بار ہندوستانی مسلمانوں کا علمی و دینی مرکز دارالعلوم دیوبند اسی قسم کی تنگ نظری اور خود غرضی کا شکار ہوکر منقسم ہو چکا ہے۔ اب دوبارہ کسی بھی فرد یا گینگ کو ندوہ جیسی تحریکی درس گاہ جس کا دنیا بھر میں ایک ممتاز مقام ہے اسے نقصان پہونچانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ اس ادارہ کو قوم کے نہایت دردمند اور باشعور افراد نے اس امید میں قائم کیا تھا کہ جدید و قدیم کا جھگڑا ختم ہو، علم کی ثنویت کو دور کیا جائے، لکیر کے فقیر مولوی صرف تیار نہ کئے جائیں بلکہ جدید و قدیم دونوں علوم پر یکساں عبور رکھنے والے ملت کے جوان تیار ہوں جو اسلامی فکر و تہذیب کی آبیاری کریں اور پوری نوعِ انسانی تک خدا کا پیغام علمی اور مدلل انداز میں بیباک طریقہ سے پہونچائیں۔

    ندوۃ العلماء کے قیام میں یہ روح شامل رہی ہے کہ دیوبند اور علی گڑھ کے نظریات کے درمیان ایک پل کی حیثیت یہ ادارہ رکھے تاکہ امت کے دونوں سرے ایک دوسرے سے جڑے رہیں اور انتشار کی جڑ کاٹ دی جائے تاکہ امت اتحاد کے دھاگے سے ہمیشہ بندھی رہے۔ آج اگر کوئی شخص اس روح کو فنا کرنے کی کوشش کرےگا تو اس کو سمجھنا چاہئے کہ وہ امت کے ساتھ غداری کا ارتکاب کر رہا ہے اور اسکی سزا یہ ہونی چاہئے کہ ایسے فاسد مادوں کو ندوہ کے چشمۂ حیوان سے دور کیا جائے تاکہ اس کی شیرینی اور حیات آفرینی برقرار رہے اور امت کے خشک سوتوں تک آبِ حیات پہونچانے کا عمل جاری رہ سکے۔

    اگر ذمہ دارانِ ندوہ اس قسم کا اقدام کرنے میں ناکام ہوں گے تو عوام کو مجبوراً سامنے آنا ہوگا تاکہ اس انقسام و انتشار کو حکمت و دانائی سے بند کیا جاسکے اور ایسا جمہوری ادارتی نظام قائم کیا جائے کہ جس کی روشنی میں آئندہ کسی بھی فتنہ کے سدّ باب کا وسیلہ ہمیشہ کے لئے موجود رہے۔ہندوستان کے علماء اس بات کو خوب سمجھ لیں کہ ان کی جو تھوڑی بہت وقعت اور عزت باقی ہے وہ صرف اس لئے ہے کہ بے شمار پاک نفوس نے ماضی میں دین و ملت کے لئے بڑی خدمات پیش کی ہیں اور وہ پدرم سلطان بود کے علمبردار بھی نہیں تھے بلکہ سچے نائبینِ رسول تھے۔ شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد العزیز رحمہم اللہ نے قرآن و حدیث کے علوم کو ہندوستان میں زندہ کیا، مولانا قاسم ناناتوی نے استعماری یلغار سے اسلام کی حفاظت کی اور دیوبند کو قائم کیا، مولانا محمد علی مونگیری بانئ ندوہ نے اور علامہ انور شاہ کشمیری نے فتنۂ ارتداد کا مقابلہ کیا، مولانا قاضی ثناءاللہ پانی پتی نے اسلام کے چہرہ سے بدعات و خرافات کی گندگی دور کی۔

    سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید کی دعوتی خدمات نے قرنِ اوّل کی روح پھونک دی تھی۔ بعد کے عہد میں علامہ شبلی نے دارالمصنفین قائم کرکے امت میں علم کی نئی اسپرٹ دوڑائی اور علامہ سید سلیمان ندوی اور ان کے جیسے بے شمار اعلی دماغ اصحاب علم و فضل کی ہوری ٹیم تیار کردی۔ آج دین و علم کے انہیں بے لوث خادموں کی وجہ سے موجودہ دور کے مولویوں کی قدر لوگ قدر کر رہے ہیں کیونکہ عوام کو آج بھی اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت سے محبت اور والہانہ لگاؤ ہے۔ یہ بہت افسوس کا مقام ہے کہ عوام کے دل و دماغ ایسے مولوی حضرات آج علماء کی عزت کو مٹا رہے ہیں جو دین، علم اور ایمان کے نام پر محض ایک دھبہ ہیں۔ انہیں شاید اندازہ نہیں کہ جس طرح علامہ اقبال نے کہا تھا کہ “محمد عربی سے ہے عالم عربی” ورنہ عالمِ عربی کی کوئی رتّی بھر بھی اپنی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔

    آج بھی دنیا کے نقشہ پر جو کچھ عالم عربی کو تھوڑا بہت مقام حاصل ہے وہ اسی ذاتِ پر نور کی جوتیوں کی دھول سے قائم ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی کسی مولوی یا مولوی نما شخص کی کوئی عزت ہے وہ صرف اسی لئے ہے کہ وہ ذاتِ رسولِ اکرم کی دعوت و سنت کا حامل ہونے کا دعوی کرتا ہے، ورنہ دنیا نے اپنی آنکھ سے دیکھ لیا ہے کہ وہی عبد الرحمن سدیس جب تک بیت الحرام کی امامت کا فرض انجام دے رہا تھا تب تک پوری دنیا کے مسلمان اس کو اپنے سر کا تاج بنا کر رکھے ہوئے تھے لیکن جس دن اس نے اپنے گلے میں چاپلوسی اور ٹرمپ نوازی کا طوق ڈال لیا اسی دن بلا تاخیر لوگوں نے اسے سر سے اتار پھینکا اور اپنے پاؤں تلے روند کر یہ بتا دیا کہ تمہیں عزت صرف اسلام کی بدولت حاصل تھی جیسا کہ حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ العزۃ بالإسلام۔ آج بھی وہی معیار قائم ہے۔

    اگر علماء اپنی دینی ذمہ داری ایمانداری اور بلند اسلامی اخلاق کی روشنی میں نبھائیں گے تو ملت انہیں اپنے سر کا تاج بنا کر رکھے گی۔ لیکن اگر انہوں نے کوئی منافقانہ رویہ اختیار کیا یا دین کے نام پر اپنی ذات کو پروان چڑھانے کی کوشش کی تو وہ سمجھ لیں کہ قعرِ مذلت ہی ان کی اصل جگہ ہوگی۔ اب مسلمان مولویوں کی مزید بد اخلاقی اور شر انگیزی کو برداشت نہیں کریں گے۔ البتہ علماءِ ربانیین کے تئیں مسلم عوام کو جو عقیدت ماضی میں رہی ہے وہ آج بھی باقی ہے۔ اور شر پسند عناصر ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ عوام میں سوجھ بوجھ نہیں ہے۔ وہ خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اچھے برے کی تمیز ان میں باقی ہے۔

    دیوبند ہو یا ندوہ، اصلاح ہو یا فلاح، جامعہ سلفیہ ہو یا اشرفیہ مبارک پور ہر ادارہ مسلمان کا ہے۔ ہم سب کا ہے اور ہماری دینی غیرت و حمیت کی ڈور ان اداروں سے جڑی ہے۔ جو کوئی بھی اس ڈور کو کاٹنے کی کوشش کرے گا اس کو برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ مسلم اجتماعیت کا مسئلہ ہے۔ کسی کو مودی کی جوتیاں سیدھی کرنی ہو کرے۔ کسی کو آر ایس ایس سے تعلقات رکھنا ہو رکھے کیونکہ جمہوریت اس کی اجازت دیتی ہے لیکن قوم و ملت کے مفاد پر اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دینے کی کوشش ہرگز نہ کرے کیونکہ ہم مسائل کے منجدھار میں پھنسے ہوئے ضرور ہیں لیکن بے دست و پا اور بے جان خس و خاشاک ابھی نہیں بنے ہیں کہ کوئی بھی ہمیں موجوں کی طغیانی میں بار بار ڈبوتا رہے اور ہم دفاع کی کوشش نہ کریں۔ انہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ کے رسول کا حکم موجود ہے کہ امت کی کشتی جب سمندر میں ہو اور ایسے وقت میں اگر کوئی کشتی میں سوراخ کرنے کی جرآت کرے گا تو اسے روکا جائے گا اور اگر کشتی میں سوراخ کرنے سے وہ باز نہیں آتا ہے تو اس کو کشتی سے باہر پھینک دیا جائے گا۔ ندوہ میں بھی وقت آگیا ہے کہ ایسے تمام عناصر کو کہا جائے کہ آپ کو اس کشتی میں سوراخ کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    میرٹ کی بنیادپر منتخب ہونے والے 670طلباء میں ہندوطلباء بھی شامل

    تعلیمی سال 2021-2022کے لئے جمعیۃعلماء ہند کے وظائف جاری ، مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنا تو جمعیۃعلماء...

    آدیش گپتا نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر ایم سی ڈی کی زمین پر اپنا سیاسی دفتر بنایا: درگیش پاٹھک

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے ایم سی ڈی انچارج درگیش پاٹھک نے کہا کہ بی جے پی...

    مغربی يو پی : راشٹریہ لوک دل اور سماج وادی پارٹی اتحاد کتنا مضبوط ؟

    مغربی یوپی : مظفر نگر فسادات کے بعد مغربی یوپی میں بالخصوص پوری ریاست میں بالعموم فرقہ واریت اور...

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you