رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے زیر اہتمام مولانا ابوالکلام آزاد کے 133 ویں یوم پیدائش کے موقع پر قومی سمینار کا انعقاد

    مولانا ابوالکلام آزاد ایسے ہندوستان کا خواب دیکھتے تھے جہاں ہندو ، مسلم سکھ ، عیسائی تمام طبقے کے لوگ ساتھ مل جل کر رہ سکیں :عمران پر تاپ گڑھی

    نئی دہلی: (محمد تسلیم /ہند نیوز بیورو)آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے زیر اہتمام آج ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے 133 ویں یوم پیدائش کے موقع پر نئی دہلی کے جواہر بھون میں قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر سابق پروفیسر و مصنف رام پنیانی،راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ محسنہ قدوائی،ریاستی کانگریس انچارج و ممبر پارلیمنٹ شکتی سنگھ گوہل،معروف مؤخر و مصنف اشوک کمار پانڈے، آل انڈیا خاتون کانگریس کی صدر نیتا ڈیسوزا اور ریاستی کانگریس صدر چودھری انل کمار موجود تھے جہنوں نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی ہندوستان کی آزادی و قومی یکجہتی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو یاد کیا۔

    اس موقع پر آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے صدر عمران پرتاپ گڑھی نے تمام مہمانوں کا گلدستہ پیش کر والہانہ استقبال کیا۔اس دوران عمران پرتاپ گڑھی نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد نہ صرف ملک کے پہلے وزیر تعلیم تھے بلکہ وہ قومی یکجہتی کے علمبردار بھی تھے جنہوں نے ہمیشہ ملک کے اتحاد و سالمیت قائم کرنے پر زور دیا،ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں آج ملک بھر میں کانگریس کے اقلیتی شعبہ کی جانب سے مختلف تقریبات منعقد کی جارہی ہیں تاکہ نئی نسل کو ان کے سیکولر خیالات سے وابستہ کیا جاسکے اور یہی ان کو حقیقی خراج عقیدت پیش ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آج جو ملک کے حالات ہیں اور جو لوگ ملک میں برسر اقتدار ہیں وہ یہ سوال کرتے ہیں گزشتہ 70 سال کے دوران آپ نے کیا۔ان لوگوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے اپنے اسلاف کے وطن عزیز کی خاطر دی گئی بڑی بڑی قربانیوں اور خدمات کو اعلانیہ طور پر بتانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد ایسے ہندوستان کا خواب دیکھتے تھے جہاں ہندو ، مسلم سکھ ، عیسائی تمام طبقے کے لوگ ساتھ مل جل کر رہ سکیں۔ مو¿رخ و مصنف اشوک کمار پانڈے نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد کو مظبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کی نظیر نہ ملی ہے اور نہ ہی صدیوں تک مل پائے گی۔

    یہ بھی پڑھیں  دہلی حکومت تعمیراتی کارکنوں کو دہلی لیبر ویلفیئر بورڈ کے ذریعہ مدد فراہم کرے گی: اروند کیجریوال
    یہ بھی پڑھیں  معاشی طور پر کمزور طبقہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل

    انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مولانا ابوالکلام آزاد کے فکر و خیالات اور ہندو مسلم اتحاد کو اپنا کرہی ملک میں امن امان کی فضاءقائم کی جاسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مولانا آزاد متعدد خوبیوں کے مالک تھے انہوں نے اپنے قلم کے ذریعہ انگریزوں سے لوہا لیا۔انہوں نے 1914 میں الحال نامی اخبار نکالا جس کے ذریعے مولانا ابوالکلام آزاد نے انگریزوں کے ظلم وزیادتی کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی جس کے بعد برطانیہ حکومت نے اس اخبار پر پابندی عائد کر جیل بھیج دیا۔

    مولانا نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی مگر انگریزوں سے معافی نہیں مانگی۔انہوں نے کہا کہ گاندھی اور مولانا آزاد نے ہندوستان کی ایسی بنیاد رکھی تھی جس نے فرقہ پرستوں کو منہ پر زور دار تمانچہ رسید کیا تھا،تاہم موجودہ دور میں ایک مرتبہ پھیر ایک خاص فکر کو ہرانے کے لیے ہمیں مولانا آزاد اور گاندھی کے اصولوں کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  کورونا مدت کے دوران، دہلی میں مقیم 13.66 لاکھ افراد کا پانی کا بل صفر آیا: ستیندر جین

    محسنہ قدوائی نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں مگر ان کی تحریر کردہ کتابیں پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف مسلمان بلکہ پورے ملک کے رہمنا تھے جو سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد نے ہندو مسلم کی قومی یکجہتی کی ڈور کو محبت کے موتیوں میں پرویا تھا اس ڈور کی موجودہ دور میں توڑنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے قومی یکجہتی کے لئے جو نظریہ پیش کیا تھا اس نے ہندوستان کو گلستاں بنانے کا کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نفرت کا جذبہ انسانیت ہو ختم کردیا ہے اس لیے ہمیں نفرت کے متحد ہونا ہے۔

    انہون نے مزید کہ نوجوان آنے والے ہندوستان کا مستقبل ہیں ان کو چاہیے کہ وہ ہندوستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے تیار ہو جائیں۔سابق مرکزی وزیر پنون کمار بنسل نے کہا کہ ساورکر اور جناح کے نظریات نے اپنے دور میں جس آگ کو پھیلانے کا کام کیا تھا اس کا درد مولانا آزاد کی باتوں میں صاف طور پر دکھائی دیتا ہے۔خود کو ہندوستان کے مسلمانوں مسییحا کہنے والے سب سے پہلے ہندوستان کے مسلمانوں کو چھوڑ کر پاکستان چلے گئے،جںکہ جواہر لال نہرو، مولانا آزاد اور مولانا مدنی جیسے سیکولر خیالات رکھنے والے رہنماﺅں نے احساس دلایا یہ ملک تمھارا ہی ہے اور تم یہاں ہی رہوگے۔

    یہ بھی پڑھیں  بابری مسجد ہندوؤں کے حوالہ کرنے سے متعلق مسلمانوں کے حلف ناموں کی کوئی حیثیت نہیں, عدالت میں وہ ثبوت پیش کیئے جائیں جو ہائی کورٹ میں پیش نہیں کیئے جاسکے تھے:سپریم کورٹ
    یہ بھی پڑھیں  کورونا مدت کے دوران، دہلی میں مقیم 13.66 لاکھ افراد کا پانی کا بل صفر آیا: ستیندر جین

    پروفیسر رام پنیا نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے پیغامات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں جو ہندو مسلم اتحاد کو مزید مضبوط کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سماج میں وہی لوگ نفرت پیدا کرتے ہیں جو سیاست میں خدمت نہیں بلکہ کرسی کے خاطر اقتدار میں آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نفرت کے اس دور میں اگر مولانا آزاد زندہ ہوتے تو وہ یہ پیغام دیتے کہ ہندو مسلم کے درمیان جو خلا پیدا ہوگئی ہے اس کو دور کرنے کے لیے محبت کا پل بنایا جائے۔

    انہون نے کہا کہ اگر ہمیں مولانا آزاد کو حقیقی خراج عقیدت پیش کرنی ہے تو ان کے خیالات کو ہر طبقہ تک پہنچنا ہماری ذمہ داری ہے۔شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ مولانا آزاد اور محمد علی جناح دونوں ہی اپنے دور اہم رہنما تھے ، مولانا ابولکلام آزاد پاکستان کے قیام کے شدید مخالف تھے جبکہ دوسری جانب محمد علی جناح تھے جن کی سیاست صرف پاکستان کے قیام کی کوششوں کے گرد گھومتی تھی ۔ تاہم مولانا آزاد نے ایسے وقت میں بھائی چارے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ۔

    انہوں نے کہاکہ مولانا آزاد سیکولر تھے اور نفرت کی سیاست کو وہ نا پسند کرتے تھے ، آج جو فکر ملک میں نفرت کا زہر گھول رہی ہے اس کو ہرانے کا کام ہم سب کو کرنا ہے ۔ سمینار کے اختتام پذیر ہونے کے بعد میں تمام لیڈران نے جامع مسجد پر واقع مولانا ابو لکلام آزاد کے مزار پر گل پوشی اور فاتح خوانی کی ۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    میرٹ کی بنیادپر منتخب ہونے والے 670طلباء میں ہندوطلباء بھی شامل

    تعلیمی سال 2021-2022کے لئے جمعیۃعلماء ہند کے وظائف جاری ، مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنا تو جمعیۃعلماء...

    آدیش گپتا نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر ایم سی ڈی کی زمین پر اپنا سیاسی دفتر بنایا: درگیش پاٹھک

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے ایم سی ڈی انچارج درگیش پاٹھک نے کہا کہ بی جے پی...

    مغربی يو پی : راشٹریہ لوک دل اور سماج وادی پارٹی اتحاد کتنا مضبوط ؟

    مغربی یوپی : مظفر نگر فسادات کے بعد مغربی یوپی میں بالخصوص پوری ریاست میں بالعموم فرقہ واریت اور...

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you