رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    بینک یونین نے کی بینکوں کوضم کرنے کی مخالفت

    نئی دہلی: آل انڈیا بینک ملازم یونین کے ارکان نے 10 پبلک سیکٹر کے بینکوں کا الحاق کرکے چار بینک بنائے جانے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ حکومت کے فیصلے کی مخالفت کرنے کے لئے ملک بھر میں سرکاری اور نجی شعبے کے بینک تنظیم کے ارکان نے کام کی جگہ پر سیاہ پٹی باندھ کر کام کر رہے تھے۔ یونین کے سیکریٹری جنرل سی ایچ وینکٹچالم نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت نے یہ فیصلہ غلط وقت پر لیا ہے اور اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
    انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کی مخالفت میں ایک ریلی نکالنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ اس بینکوں کوضم کرنے کامطلب ہے چھ بینکوں کا بند ہونا۔ قابل ذکر ہے کہ حکومت نے 10 سرکاری بینکوں کوضم کرکے 4 بڑے بینک بنانے کا اعلان کیا۔ انضمام کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ بینکوں کے انضمام کا مقصد بین الاقوامی سطح کے مضبوط بینکوں کی تعمیر کرنا ہے، تاکہ ملک کو پانچ ہزار ارب ڈالر (5 ٹریلین ڈالر) کی معیشت بنایا جاسکے۔ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری سی ایچ وینکٹ چلم نے بتایا کہ دس عوامی شعبوں کے بینکس کنارا بینک، یونین بینک آف انڈیا، یونائیٹیڈ بینک آف انڈیا، الہ آباد بینک، سنڈیکیٹ بینک، کارپوریشن بینک، اورینٹل بینک آف کامرس اور آندھرا بینکس کو ضم کرنے کے فیصلہ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
    انہوں نے کہا کہ حکومت ان بینکس کو ضم کرنا قرار دے سکتی ہے تاہم دراصل یہ 6 بینکس کا بے رحمی سے قتل ہے کیونکہ ان بینکوں کے انضمام کے بعد یہ 6 بینکس بینکنگ پس منظر سے غائب ہوجائیں گے۔ان 6 بینکس کو بند کرنے کی تجویز کی مخالفت اے آئی ای بی اے کے بینر تلے کرنے کی بینک ملازمین سے اپیل کرتے ہوئے یونین کے سرکردہ لیڈر نے کہا کہ ہم جلد ہی احتجاج اور ہڑتال شروع کریں گے۔ اسی دوران وینکٹ چلم نے اپنے ریلیز میں کہا کہ بینکس کو 1969 میں قومی بنایا گیا تھا اور یہ قدم معیشت کی وسیع بنیاد اور اس کی ترقی کے لئے اٹھایا گیا تھا۔ گزشتہ 50 برسوں میں ان بینکس نے مستحکم معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تقریباً 8000 برانچس آج بڑھ کر 90,000 برانچس بن گئی ہیں جن میں تقریباً 40,000 برانچس دیہی اور نیم دیہی علاقہ میں ہیں جن کو قبل ازیں نظر انداز کیا گیا تھا۔حکومت ہند اور ریزرو بینک کی جانب سے ملک کی بنیادی ضروریات کے لئے اہم مانے جانے والے شعبہ کے نتیجہ میں ہماری معیشت بہتر ہوئی جس کے سبب سبز انقلاب، سفید انقلاب، صنتعی ترقی، ملازمتوں کے مواقع، دیہی ترقی وغیرہ ممکن ہو پائے۔
    انہوں نے کہا کہ 2008 میں پوری دنیا مالی بحران اور بینکنگ سونامی کا شکار ہوگئی تھی تاہم ہمارے عوامی شعبہ کے بینکس کے سبب ہندوستانی بینکنگ نظام محفوظ رہا۔اے آئی بی ای اے کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ حکومت سب کے لئے خوشحالی کی بات کرتی ہے تاہم 6 بینکس کو بند کرتے ہوئے بینکنگ نظام کی 6 اصل شریانوں کو کاٹا جارہا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  متاثرہ خاندان کو کھلا چھوڑنا چاہئے ، جس سے ملاقات کرنا چاہتا ہے ، اس سے ملے ، ایسے وقت میں کنبہ ہمدردی چاہتا ہے: اروند کیجریوال

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ ، بھگوا ملزم کرنل پروہیت نے متاثرین کو بحث کرنے کا موقع نہ دینے کی عدالت سے گذارش کی

    Latest news

    ہمیں بی جے پی حکومتوں کے جبر کے خلاف ہر محاذ پر لڑنا ہوگا : عمران پرتاپ گڑھی

    آسام: آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی ڈیپارٹمنٹ کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے ایک روزہ دورے پر آسام...

    پرینکا سچی کانگریسی ہیں اور ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والی نہیں : راہل

    نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے لکھیم پور کھیری متاثرہ کنبوں کے ارکان سے ملنے...

    بی جی پی کے دورحکومت میں اقلیتی شعبہ سے تعلق رکھنے والے مسلم،سکھ،عیسائی،جین اور دیگر طبقہ ظلم کا شکار ہو رہا ہے : عمران...

    نئی دہلی : سکھ سماج کے زیر اہتمام دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ''ایک نئی پہل'' کے عنوان...

    وزیر نے ڈویژنل کمشنر کے دفتر کا معائنہ کیا اور ذات کے سرٹیفکیٹ میں تاخیر پر افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کی وارننگ دی...

    سماجی بہبود کے وزیر راجیندر پال گوتم نے اچانک معائنہ کیا اور ذات کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں تاخیر...

    کیجریوال حکومت اور بی جی پی حکومت رابعہ سیفی کو اِنصاف دلائے : عمران پرتاپ گھڑی

    مرادآباد : آل انڈیا کانگریس کمیٹی شعبۂ اقلیتی کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے دو روزہ دورے کے...

    اقلیتی شعبہ کے قومی صدراور معروف شاعر عمران پرتاپ گڑھی کا شایان شان خیرمقدم

    اہم ذمہ داری ملنے کے بعد پہلی بار مرادآباد آمد پر پھولوں کی بارش،عوام کا اژدہام مرادآباد: کانگریس اقلیتی شعبہ...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you