رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    کشمیر میں غیر یقینی صورتحال کا 126 واں دن

    سری نگر : وادی کشمیر میں گزشتہ 126 دنوں سے جاری غیر یقینی صورتحال کے بیچ اتوار کے روز جہاں معمولات زندگی کی رفتار جوں کی توں رہی وہیں سنڈے مارکیٹ میں دن بھر لوگوں کا بھاری رش رہا۔
    ادھر وادی میں چلہ کلان کی آمد سے قبل ہی ٹھٹھرتی سردی نے اہلیان وادی کا حال بے حال کردیا ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ امسال سردی قبل از وقت ہی ڈیرا زن ہوکر لوگوں کے لئے ہرگزرتے دن کے ساتھ روح فرسا ثابت ہورہی ہے ۔ معالجین نے سردی کے پیش نظر ‘صحت ایڈوائزری’ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو تمام تر احتیاطی تدابیر برتنے کی تاکید کی ہے ۔

    بتادیں کہ مرکزی حکومت کی طرف سے پانچ اگست کے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی تنسیخ اور ریاست کو دو فاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے خلاف غیر اعلانیہ ہڑتالوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے نقوش ہنوز جاری ہیں۔
    موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کشمیر میں اتوار کے روز سنڈے مارکیٹ میں دن بھر لوگوں کا بے تحاشا رش رہا اور لوگوں کو مختلف چیزوں خاص طور پر گرم ملبوسات کی خریداری میں مصروف دیکھا گیا۔
    لوگوں کی بھیڑ بھاڑ جس میں نوجوانوں کی زیادہ تعداد تھی دیگر اشیائے ضروریہ خاص کر گھریلو ساز وسامان کی خریداری میں بھی مصروف دیکھا گیا۔

    یہ بھی پڑھیں  کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1 کروڑ 19 لاکھ سے متجاوز

    ادھر وادی کے دیگر اضلاع اور قصبہ جات کے بازاروں میں دکانیں کہیں صبح کے وقت تو کہیں دوپہر کے بعد کھل گئیں تاہم سڑکوں پر دن بھرٹرانسپورٹ کی نقل وحمل برابر جاری وساری رہی۔
    وادی میں اگرچہ مواصلاتی خدمات جزوی طور پر اور ریل سروس کلی طور پر بحال ہوئی ہے لیکن انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس خدمات مسلسل معطل ہیں جس کے باعث لوگوں بالخصوص صحافیوں، طلبا اور تاجروں کو گوناگوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے ۔

    یہ بھی پڑھیں  مسٹر گہلوت کو ریاست چلانا مشکل ہورہا ہے : پونیا

    این ای ای ٹی امتحانات میں حصہ لینے کے خواہشمند امیدواروں کا کہنا ہے کہ انہیں انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی کی وجہ سے آن لائن فارم جمع کرنے کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑرہی ہیں۔
    وادی کی مین اسٹریم جماعتوں سے وابستہ بیشتر لیڈران بدستور خانہ یا تھانہ نظر بند ہیں۔ انتظامیہ نے ایک طرف محبوس لیڈروں کی رہائی کا سلسلہ جاری رکھا ہے تو دوسری طرف ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو سردی کے پیش نظر جموں منتقل کرنے پر غور کیا جارہا ہے ۔
    انتظامیہ نے حال ہی میں سردی کے پیش نظر ہی 33 لیڈروں کو سنتور ہوٹل سے مولانا آزاد روڑ پر واقع ایم ایل اے ہوسٹل منتقل کیا ہے ۔

    یہ بھی پڑھیں  لال مسجد معاملہ ، 29اپریل تک کسی طرح کا ایکشن نہ لینے کی مرکز نے کرائی یقین دہانی

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  حکومت زرعی اصلاحات قوانین کے معاملہ میں اپنی 22جنوری کی تجویز پر اب بھی قائم : مودی

    Latest news

    کورونااورلاک ڈاؤن بھی نفرت کے وائرس کو ختم نہیں کرسکے

    مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا یہ خطرناک کھیل آخر کب تک؟: مولانا...

    مسلمانوں سے متعلق میڈیا کا دہرا رویہ تشویشناک ، گرفتاریوں کا ڈھنڈورا لیکن عدالت سے رہائی کا کوئی ذکر نہیں : مولاناارشدمدنی

    نئی دہلی : بنگلور سیشن عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سے ڈسچار ج کیئے گئے تریپورہ...

    ہماری سرکار اردو کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے : وزیراعلیٰ،دہلی

    وائس چیئرمین اکادمی حاجی تاج محمد سے خصوصی ملاقات میں متعلقہ مسائل کے حل کی یقین دہانی نئی دہلی :...

    جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے اور وہ راشن لینا چاہتے ہیں، وہ مرکز میں آکر راشن لے سکتے ہیں: گوپال رائے

    نئی دہلی : دہلی کے وزیر ترقیات گوپال رائے نے آج بابرپور کے علاقے کردمپوری میں پرائمری اسکول میں...

    رام مندر کے لئے ، 12080 مربع میٹر اراضی 18.50 کروڑ میں خریدی گئی ، جبکہ اس سے متصل 10370 مربع میٹر اراضی صرف...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور اترپردیش انچارج سنجے سنگھ نے رام مندر کے لئے...

    نائب وزیر اعلی اور وزیر خزانہ منیش سسودیا نے غیر ضروری سرکاری اخراجات کو کم کرنے کا حکم جاری کیا

    نئی دہلی : کورونا کی وجہ سے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ، دہلی حکومت نے اخراجات کے...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you