رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    آسام: تقریباً 20 لاکھ افراد شہریت سے محروم

    نئی دہلی:آج ہفتے کے روز آسام میں ‘شہریوں کے قومی رجسٹر‘ یا این آر سی کی تازہ فہرست جاری کیے جانے سے قبل سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اس فہرست میں 1.9 ملین افراد کو بھارتی شہری تسلیم نہیں کیا گیا۔بھارت میں غیر قانونی اور غیر ملکی قرار دیے جانے والے بیس لاکھ افراد عملی طور پر بے وطن ہو چکے ہیں اور اگر وہ اپیل کرنے کے بعد بھی اپنی شہریت ثابت نہ کر پائے تو انہیں گرفتاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔شہریوں کے قومی رجسٹر کو اپ ڈیٹ کرنے کا سلسلہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے شروع کیا تھا۔

    یہ فہرست سن 1951 کے بعد سے جاری نہیں کی گئی تھی تاہم سن 2014 میں بی جے پی کے ایک رکن کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے تازہ فہرست تیار کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ناقدین کے مطابق بی جے پی کا مقصد ہندوستان میں کئی دہائیوں سے مقیم آسامی مسلمانوں کو نشانہ بنانا تھا جنہیں یہ قوم پرست جماعت بنگلہ دیشی تارکین وطن قرار دیتی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  دہلی کی شادیوں میں صرف 50 افراد ہوسکیں گے جمع

    شہریوں کے کوائف جمع کرنے کے بعد ابتدائی فہرست گزشتہ برس جاری کی گئی تھی جن میں چالیس لاکھ سے زائد افراد کو ہندوستانی شہری تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔این آر سی نے آج جاری کردہ اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ عبوری فہرست کے بعد دائر کردہ اپیلوں پر نظر ثانی کے بعد مجموعی طور پر 31.1 ملین افراد کو ہندوستانی شہریت کا اہل قرار دیا گیا جب کہ 1.9 ملین افراد اپنی شہریت ثابت نہیں کر پائے۔آسام کے حکام کے مطابق شہریوں کے رجسٹر میں جگہ نہ بنا پانے والوں کو تمام قانونی آپشنز ختم ہو جانے تک غیر ملکی قرار نہیں دیا جائے گا۔فہرست جاری کیے جانے کے بعد این آر سی کے کنوینر پرتیک ہجیلا نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’جو کوئی بھی اپنے دعووں اور اعتراضات پر کیے گئے فیصلے سے مطمئن نہیں ہے، وہ غیر ملکیوں سے متعلق ٹریبیونل میں اپیل کر سکتا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  کارکنوں کی فلاح و بہبود میں کوئی رواداری نہیں: منیش سسودیا
    یہ بھی پڑھیں  کارکنوں کی فلاح و بہبود میں کوئی رواداری نہیں: منیش سسودیا

    ‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ہر کسی کو شہریت کا حق ثابت کرنے کے لیے مناسب موقع فراہم کیا جائے گا۔فہرست میں شامل نہ کیے جانے والے افراد کو 120 دن کے اندر اندر ٹریبیونل کے سامنے اپنی شہریت ثابت کرنا ہو گی اور اس کے بعد وہ اعلیٰ عدالتوں میں بھی اپیلیں کر سکیں گے۔ حکام کے مطابق ان مراحل کی تکمیل کے بعد غیر ملکی قرار دیے جانے والے افراد کو حراستی مراکز میں مقید کر دیا جائے گا اور بعد ازاں انہیں ملک بدر کر کے بنگلہ دیش بھیج دیا جائے گا۔ بنگلہ دیش تاہم ان الزامات کو مسترد کرتا ہے کہ آسام میں بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  دہلی کی شادیوں میں صرف 50 افراد ہوسکیں گے جمع

    Latest news

    ہمیں بی جے پی حکومتوں کے جبر کے خلاف ہر محاذ پر لڑنا ہوگا : عمران پرتاپ گڑھی

    آسام: آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی ڈیپارٹمنٹ کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے ایک روزہ دورے پر آسام...

    پرینکا سچی کانگریسی ہیں اور ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والی نہیں : راہل

    نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے لکھیم پور کھیری متاثرہ کنبوں کے ارکان سے ملنے...

    بی جی پی کے دورحکومت میں اقلیتی شعبہ سے تعلق رکھنے والے مسلم،سکھ،عیسائی،جین اور دیگر طبقہ ظلم کا شکار ہو رہا ہے : عمران...

    نئی دہلی : سکھ سماج کے زیر اہتمام دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ''ایک نئی پہل'' کے عنوان...

    وزیر نے ڈویژنل کمشنر کے دفتر کا معائنہ کیا اور ذات کے سرٹیفکیٹ میں تاخیر پر افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کی وارننگ دی...

    سماجی بہبود کے وزیر راجیندر پال گوتم نے اچانک معائنہ کیا اور ذات کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں تاخیر...

    کیجریوال حکومت اور بی جی پی حکومت رابعہ سیفی کو اِنصاف دلائے : عمران پرتاپ گھڑی

    مرادآباد : آل انڈیا کانگریس کمیٹی شعبۂ اقلیتی کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے دو روزہ دورے کے...

    اقلیتی شعبہ کے قومی صدراور معروف شاعر عمران پرتاپ گڑھی کا شایان شان خیرمقدم

    اہم ذمہ داری ملنے کے بعد پہلی بار مرادآباد آمد پر پھولوں کی بارش،عوام کا اژدہام مرادآباد: کانگریس اقلیتی شعبہ...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you