رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    بابری مسجد مقدمہ کا فیصلہ16؍نومبر تک آجائے گا

    نئی دہلی: بابری مسجد کا معاملہ بلاشبہ ہندوستانی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ ہے جس کے مقدمہ کی عمر لانبی ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان جیسے جمہوری اور سیکولر ملک کا امتحان بھی ہے۔ بابری مسجد1528ء سے22؍دسمبر 1949ء تک پورے طور پر مسجد رہی اور اس میں پنج وقتہ نماز پابندی سے ہوتی رہی۔ اس قضیہ کی ابتداء فرقہ پرست طاقتوں نے باقاعدہ 22؍دسمبر1949ء کی رات کے اندھیرے میں شری رام اور شری لکشمن جی کی مورتی رکھ کر کی اور پہلی مرتبہ1949ء میں ملک کو معلوم ہؤا کہ رام جی مسجد کے گنبد کے نیچے کی جگہ پر پیدا ہوئے تھے، اس کے بعد عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے گئے لیکن افسوس کہ عدالتوں سے جمہوری تقاضوں کی تکمیل نہ ہوسکی، سنی وقف بورڈ اترپردیش نے بھی1961ء میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر ہوا کچھ نہیں،

    یہ بھی پڑھیں  نئے سال میں بھاری پڑے گی گیس سلینڈر کی قیمت

    جو مسلمان پنج وقتہ نماز ادا کرتا تھا اسکے داخلہ پر پابندی لگادی گئی۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آخری مرحلہ میں ہے، روزانہ سماعت ہورہی ہے اور 16؍نومبر تک فیصلہ آجائیگا۔ سپریم کورٹ میں بابری مسجد کے متعلق جو پیروی ہورہی ہے وہ قابل اطمینان ہے اور ججوں کی طرف سے جو مختلف تبصرے سامنے آرہے ہیں وہ بھی مناسب ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے اپنے ایک اخباری بیان میں فرمایا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلم پرسنل لا بورڈ نے ملکیت و حقیت کے مقدمات کے ساتھ لبراہن کمیشن میں بھی زوردار پیروی کی اور آج بھی حقیت کا مقدمہ جو رائے بریلی کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ ماہر قانون دانوں کی نگرانی میں اسکی پیروی کررہا ہے۔اس کے علاوہ بورڈ آثارقدیمہ کی طرف سے کھدائی کے دوران بھی شامل و شریک رہا۔حضرت مولانا رحمانی نے مزید بتایا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ کے ملکیت مقدمہ کے فیصلے نے پوری ملت اسلامیہ ہندیہ اور ملک کے سیکولر غیرمسلموں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھدیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بڑی ذمہ داری کے ساتھ اس فیصلہ کی جانچ کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ۔

    یہ بھی پڑھیں  ممبئی میں بھاری بَارش کے بعد الرٹ جاری

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  جامعہ ملیہ پولیس تشدد معاملہ : ایک آنکھ گنواچکے منہاج الدین کو دہلی وقف بورڈ میں مستقل ملازمت

    Latest news

    ہمیں بی جے پی حکومتوں کے جبر کے خلاف ہر محاذ پر لڑنا ہوگا : عمران پرتاپ گڑھی

    آسام: آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی ڈیپارٹمنٹ کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے ایک روزہ دورے پر آسام...

    پرینکا سچی کانگریسی ہیں اور ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والی نہیں : راہل

    نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے لکھیم پور کھیری متاثرہ کنبوں کے ارکان سے ملنے...

    بی جی پی کے دورحکومت میں اقلیتی شعبہ سے تعلق رکھنے والے مسلم،سکھ،عیسائی،جین اور دیگر طبقہ ظلم کا شکار ہو رہا ہے : عمران...

    نئی دہلی : سکھ سماج کے زیر اہتمام دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ''ایک نئی پہل'' کے عنوان...

    وزیر نے ڈویژنل کمشنر کے دفتر کا معائنہ کیا اور ذات کے سرٹیفکیٹ میں تاخیر پر افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کی وارننگ دی...

    سماجی بہبود کے وزیر راجیندر پال گوتم نے اچانک معائنہ کیا اور ذات کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں تاخیر...

    کیجریوال حکومت اور بی جی پی حکومت رابعہ سیفی کو اِنصاف دلائے : عمران پرتاپ گھڑی

    مرادآباد : آل انڈیا کانگریس کمیٹی شعبۂ اقلیتی کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے دو روزہ دورے کے...

    اقلیتی شعبہ کے قومی صدراور معروف شاعر عمران پرتاپ گڑھی کا شایان شان خیرمقدم

    اہم ذمہ داری ملنے کے بعد پہلی بار مرادآباد آمد پر پھولوں کی بارش،عوام کا اژدہام مرادآباد: کانگریس اقلیتی شعبہ...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you