رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    بابری مسجد ملکیت مقدمہ:فریقین کو 18؍اکتوبرتک بحث مکمل کرنے کی ہدایت

    نئی دہلی:بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں روزانہ سماعت کاآج26 واںدن تھا جس کے دوران چیف جسٹس آف انڈیانے فریقین کو حکم دیا کہ وہ 18 اکتوبرتک اپنی بحث مکمل کرلیں ، چیف جسٹس نے فریقین کو مزید کہاکہ ہم سب کو ملکر اس کی کوشش کرنی ہوگی جس کے لیئے ہم خود پہل کرر ہے ہیں ، انہوں نے کہاکہ اگر ضرورت پڑی تو روزانہ ایک گھنٹہ عدالتی وقت میںاضافہ کردیا جائے گا اور سنیچر کے روز بھی سماعت ہوسکتی ہے ۔ چیف جسٹس کے حکم پر جمعیۃ علما ء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو یقین دلایا کہ ان کی جانب سے مکمل کوشش رہے گی کہ وہ اپنی بحث جلد از جلد مکمل کرلیں۔ڈاکٹر راجیو دھون نے آج عدالت کی توجہ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی جانب سے رام مندر کی حمایت میںداخل رٹ پٹیشن کی جانب دلائی اور کہا کہ عرضی گذار لگاتار کوشش کررہا ہے کہ اس معاملے میں اس کی پٹیشن پر بھی سماعت کی جائے لیکن بابری مسجد معاملہ کی حتمی بحث شروع ہونے سے قبل چیف جسٹس نے واضح کردیا تھاکہ وہ صرف فریقین کے دلائل کی سماعت کریں گے ،
    مداخلت کاروں کو موقع نہیں دیا جائے گا ۔ڈاکٹر راجیو دھو ن نے عدالت کو بتایا کہ مسلم فریقوں کی جانب سے بھی متعدد مداخلت کاروں کی عرضداشتیں داخل کرنے کی تیاری مکمل ہوچکی تھی لیکن عدالت کے حکم کے بعد انہوں نے سبھی لوگوں کو منع کردیا تھا ، اب جبکہ سبرامنیم سوامی کی عرضداشت سماعت کے لیئے پیش ہورہی ہے مسلم فریق ان پر دبائو بنارہے ہیں کہ ہماری بھی مداخلت کار کی عرضداشت داخل ہو،ڈاکٹر راجیو دھو ن نے چیف جسٹس سے گذارش کہ وہ اس تعلق سے فیصلہ کریں کہ اس معاملے میں صرف فریقین کے دلائل کی ہی سماعت ہوگی اور کسی بھی مداخلت کار کو بولنے کا حق نہیںہوگا۔
    اس پر چیف جسٹس نے دھون کو یقین دلایاکہ اس تعلق سے عدالت سنجیدگی سے فیصلہ کریگی۔اسی درمیان چیف جسٹس نے عدالت میں موجود وکلاء کو بتایاکہ انہیں مصالحتیکمیٹی کے چیرمین جسٹس خلیف اللہ کی جانب سے خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے عدالت سے کہا ہے کہ دو فریق نے ان سے دوبارہ مصالحت شروع کرنے کی گذارش کی ہے ۔ چیف جسٹس نے مذکورہ خط پر فیصلہ صادر کیا کہ اگر فریق مصالحت چاہتے ہیں تو کریں اور مصالحت مکمل ہونے کے بعد عدالت میں رپورٹ پیش کریں لیکن خیال رہے کہ عدالتی کارروائی بند نہیں ہوگی اور یہ روزانہ کی بنیاد پر چلتی رہے گی۔
    اس پر عدالت میں موجود رام للا کے وکیل سی کے ویدیاناتھن نے چیف جسٹس کو کہا کہ وہ مصالحت کے عمل سے اپنے آپ کو دور کھنا چاہتے ہیںا ور وہ چاہتے ہیںکہ سپریم کورٹ اس معاملے میں جلد از جلد حتمی فیصلہ صادر کرے۔متذکرہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر راجیو دھون نے کل کی اپنی نا مکمل بحث کا آغاز کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ 1885 سے لیکر 2019 تک فریق مخالف کے دعوئوں اور اعتقاد میں تبدیلی آئی ہے ، پہلے وہ کہا کرتے تھے کہ مسجد کے باہر ی صحن میں رام چبوترا ہی رام کی جائے پیدائش ہے اس کے بعد1949 میں انہوں نے دعوی کیاکہ مسجد کے اندرونی صحن میں رام کا جنم ہو اتھا ، یہ کیسے ممکن ہے ؟ پانچ رکنی بینچ جس میں جسٹس رنجن گگوئی ، جسٹس ایس ایم بوبڑے، جسٹس اشوک بھوشن ، جسٹس چندرچوڑ اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کو آج ڈاکٹر راجیو دھون نے کہا کہ سوٹ نمر 5 میں فریق مخالف نے اسکندپران ، سیاحوں اور گزیٹیرز کے دستاویزات عدالت میں پیش کرکے یہ بتانے کی کوشش کی کہ رام کا جنم بابری مسجد کے اندرونی احاطہ میں ہوا تھا
    اور بابری مسجد کی تعمیر مندر کو منہدم کرکے کی گئی تھی لیکن الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ متذکرہ دستاویزات سے یہ صاف نہیںہوسکا کہ رام کا جنم بابری مسجد کے اندورونی صحن میں ہوا تھا اور مسجد کی تعمیر مندر توڑ کر ہوئی تھی۔انہوں نے عدالت کومزید بتایا کہ ہائی کورٹ کے ججوں نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ اسکندپران سے بھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ رام کا جنم کس مقام پر ہوا تھا۔ڈاکٹر راجیودھون نے یہ بھی کہا کہ رام چرت مانسن میں بھی رام کے جنم استھان کے بارے میں صحیح جگہ نہیں بتائی گئی ہے بس یہی کہا گیا ہے کہ رام ایودھیا میں پیداہوئے تھے ، انہوں نے آگے کہا کہ دورقدیم میں بھارت میں مندروں پر حملہ کسی مذہب سے نفرت کی وجہ سے نہیں کیا گیا بلکہ مال لوٹنے کی غرض سے کیا گیا ،
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پوجا کی بات کہہ کر پوری زمین مانگ رہے ہیں اور گواہوں کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے جس سے سنا اس نے کسی دوسرے سے سنا اوراس دوسرے کو بھی کسی اورنے بتایا تھا اس طرح پوری گواہی ایک جھوٹ کی بنیادپر چل رہی ہے جو ایک ایک کرکے ہر شخص (مرادگواہوں سے ہے) کے ذریعہ بارباربولی گئی ، ہندوفریق کی گواہی پر سوال اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر راجیودھون نے کہا کہ جب گواہوں کو متنازعہ مقام کی تصویریں دکھائی گئیں تو وہ اس جگہ کونہیں پہچان سکے کہ تصویریں کہاںکی ہیں انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ گواہوں کوتصویر دکھاکر جب یہ پوچھا گیا کہ اللہ کہاں لکھاہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اردولفظ نہیں پڑھ سکتے پھر وہ کیسے مندرہوسکتاہے تصویر میں کئی جگہ اللہ لکھاہواتھا ، دوران بحث جسٹس چندر چوڑ نے ڈاکٹر دھون سے کہا کہ انہیں ایسا لگتا ہے
    کہ گواہوں کے بیانات اور عدالت میں موجود دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ رام چبوترے کے پاس لگی ہوئی ریلنگ کے پاس سے ہندو زائرین مسجد کے اندرونی صحن کی جانب دیکھ کر پوجا کرتے تھے کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ رام کا جنم وہیں ہوا تھا ، جسٹس چندرچوڑ کے اس سوال پر ڈاکٹر راجیو دھو ن نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جسٹس چندر چوڑ کا اپنا ذاتی نظریہ ہوسکتا ہے جس میں صداقت کی گنجائش کم ہے کیونکہ کسی بھی گواہ نے عدالت میں اس تعلق سے پختہ گواہی نہیں دی ۔
    اس درمیان پانچوں ججوں اور ڈاکٹر راجیود ھون کے درمیان سوال و جواب ہوتے رہے ،عدالت نے نقشہ کا بھی معائنہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ رام چبوترا اور مسجد کے اندورنی صحن کے درمیان تقریبا ً 100 فٹ کا فاصلہ ہے ۔ کچھ دیر تک بحث چلنے کے بعد عدالت نے ڈاکٹر راجیو دھو ن سے کہا کہ وہ عدالت میں ریلنگ کے تعلق سے گواہی دینے والے گواہوں کے بیانات پر مختصر نوٹ پیش کریں اور اس پر بحث کریں ۔ ڈاکٹر راجیو دھو ن نے عدالت میں غصہ ہونے کی معافی مانگتے ہوئے کہا کہ جسٹس چندر چوڑ کے نظریہ پر انہیں غصہ آگیا تھا لیکن بعد میں انہوںنے اپنے آپ کو کنٹرول کرلیا ،
    جسٹس چندر چوڑ نے بھی کہا کہ انہوں نے بس اپنا نظریہ پیش کیا تھا جو حتمی نہیں ہے ۔ڈاکٹر راجیو دھو ن نے عدالت کو بتایا کہ فریق مخالف نے ہنس باکر کی تحریر بطور ثبوت عدالت میں پیش کی ہے لیکن اس کی تحریر میں کوئی دم نہیں ہے کیونکہ اس کے ذریعہ بنایا ہوا نقشہ آفیشل نقشہ سے میچ نہیںکھاتا ہے نیز الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی اس کی رپورٹ کویہ کہتے ہو ئے مسترد کردیا کہ رپورٹ بغیر کسی پختہ ثبوت کے تیار کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گیارہویں صدی کی کتابو ں میں بھی رام کے جنم کا استھان ایودھیا نہیں بتایا گیا ہے ۔ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو بتایا کہ سیاحوں، گزیٹیر اور آثار قدیمہ کی رپورٹ جس میں ٹفن ہالر، مونٹوگرومی مارٹین، ایڈورڈ تھورنٹن، کارنیجی، ڈبلیو سی بینٹ، اے فرہر، نیول،اے ایف میلٹ، بیلفور، آثار قدیمہ کی رپورٹ، امپرئیل گزیٹیر آف آگرہ اینڈ اودھ، ایودھیا کا اتہاس اور ہنس باکر کی رپورٹوں میں ایودھیا میں بابری مسجد کے ہونے کا ذکر ہے سیاح کارنیج، بینٹ ، میلٹ، نویل اور ہنس باکر نے اپنی رپورٹوں میں اعتراف کیاہے کہ 1855کے فساد کے بعد رام چبوترا اور اندورنی صحن کے درمیان ریلنگ لگا دی گئی تھی جس سے یہ واضح ہوتا کہ 1855 سے قبل مسجد میں نماز ادا کی جاتی تھی ۔ڈاکٹر دھون نے عدالت کوبتایا کہ متذکرہ سیاحوںنے خود مسلمانوں کو مسجد کے اندرونی صحن میں نماز ادا کرتے اورہندئوں کو باہری صحن میں رام چبوترے پر پوجا پراتھنا کرتے ہوئے دیکھا ہے نیز سیاحوں کو یہ کہنا کہ انہوں نے کسی اور سے سنا تھا کہ مندرمنہدم کرکے مسجد کی تعمیر کی گئی تھی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے کیونکہ وہ اس کے چشم دید گواہ نہیں ہیں۔ڈاکٹر راجیو دھو ن نے عدالت کو بتایا کہ سیاح ٹفن ہالر، ایڈورڈ تھورنٹن نے اپنی کتابوں میںلکھا ہے
    کہ بیڑی جوکہ رام چبوترا کے پاس واقع ہے رام کا جنم استھان ہے ایسا لوگوں کا یقین تھانیز کسی بھی سیاح نے اپنی رپورٹ میں یہ تحریر نہیں کیا ہے کہ مسجدکے اندرونی صحن میں رام کا جنم ہوا تھا ۔دوران بحث عدالت میں ڈاکٹر راجیو دھون پرانے واقعات اور ان کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات سناتے ہیں ، آج ایسے ہی ایک واقعہ سناتے ہوئے ڈاکٹر راجیو دھون نے ہنستے ہوئے عدالت کو کہا کہ ان کے پاس بہت کہانیاں ہیں اور اگر وہ عدالت کو نہیں تو پھر کس کو سنائیں گے جس پر جسٹس نظیر نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ ان کے اسیر ہوگئے ہیں ۔آج ڈاکٹر راجیو دھون کی بحث نا مکمل رہی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی کل تک کے لیئے ملتوی کیئے جانے کا حکم دیا۔دوران بحث عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ڈاکٹر راجیو دھون کی معاونت کرنے کے لئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم ، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قرۃ العین ، ایڈوکیٹ کنور ادتیہ، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیا، ایڈوکیٹ ایشامہرو و دیگر موجود تھے۔

    یہ بھی پڑھیں  بی جے پی لیڈر وجے گوئل کا لوگوں کے سامنے غیرمہذب چہرہ بے نقاب: دلیپ پانڈے

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کامعاملہ ، حالیہ دنوں میں اظہاررائے کی آزادی کا بے دریغ غلط استعمال ہوا : مولانا ارشدمدنی

    Latest news

    میرٹ کی بنیادپر منتخب ہونے والے 670طلباء میں ہندوطلباء بھی شامل

    تعلیمی سال 2021-2022کے لئے جمعیۃعلماء ہند کے وظائف جاری ، مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنا تو جمعیۃعلماء...

    آدیش گپتا نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر ایم سی ڈی کی زمین پر اپنا سیاسی دفتر بنایا: درگیش پاٹھک

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے ایم سی ڈی انچارج درگیش پاٹھک نے کہا کہ بی جے پی...

    مغربی يو پی : راشٹریہ لوک دل اور سماج وادی پارٹی اتحاد کتنا مضبوط ؟

    مغربی یوپی : مظفر نگر فسادات کے بعد مغربی یوپی میں بالخصوص پوری ریاست میں بالعموم فرقہ واریت اور...

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you