رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    بابری مسجد ملکیت مقدمہ:اگرآستھا پر ہی معاملہ کا دارومدارہے تومسلمانوں کی آستھا ہے کہ وہاں مسجد تھی

    نئی دہلی:ابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت تنازعہ معاملہ کی سماعت کا آج 37 واں دن تھا جس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے مسلم فریقوں کی جانب سے داخل سوٹ نمبر 4 پر بحث کرنے سے قبل عدالت کو بتایا کہ اگر عدالت آئین ہندکی دفعہ 142 کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا استعمال کرکے اس معاملہ میں کوئی فیصلہ صادر کرنا چاہتی ہے تو اسے اس بات کو مد نظر رکھنا ہوگا کہ 26اور 27 دسمبر 1949 کی درمیانی شب مسجدکے اندر ونی صحن میں مورتی رکھی گئی تھی نیز اس کے بعد 6 دسمبر 1992 کو غیر قانونی طریقہ سے مسجدبھی شہید کردی گئی تھی ۔

    ڈاکٹر راجیو دھون نے کہا کہ انہوں نے عدالت میں یہ ثابت کرنے کی مکمل کوشش کی ہے کہ بابر کے حکم پر میر باقی نے شرعی طریقہ سے مسجد کی تعمیر کی تھی نیز رام کے مسجد کے اندرونی صحن میں پیدا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے سوائے آستھا، یقین اور سیاحوںکی رپورٹ کے جن کی قانون شہادت کے تحت کوئی حیثیت نہیں ہے ۔واضح رہے کہ آج کی عدالتی کارروائی کے اختتا م سے قبل چیف جسٹس نے فریقوں کے وکلاء سے کہا کہ پیر کی شام تک ڈاکٹر راجیو دھون سوٹ نمبر 4 پر اپنی بحث مکمل کرلیں گے اس کے بعد منگل اور بد ھ کو ہندو فریق کے وکلاء کو ڈاکٹرراجیو دھون کی بحث کا جواب دینے کا موقع دیا جائے گا نیز جمعرات کے دن یعنی کہ 17 اکتوبر کو عدالت وکلاء سے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل خصوصی اختیار پر تبادلہ خیال کرے گی ، چیف جسٹس کے آج کے تازہ حکم بعد اب بابری مسجد معاملہ میں فریقین کو بجائے 18 اکتوبر کے 17 اکتوبر تک اپنی بحث مکمل کرلینا ہوگی۔

    یہ بھی پڑھیں  علماء کی اپیلوں پر لوگوں کا مثبت ردعمل قابل ستائش

    اس اہم معاملہ کی سماعت کرنے والی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس رنجن گگوئی ، جسٹس بوبڑے جسٹس چندرچوڑ،جسٹس بھوشن اور جسٹس عبدالنظیرشامل ہیں کوڈاکٹر راجیو دھون نے مسلم فریق جس میں سنی سینٹرل وقف بورڈ(یوپی)، حافظ محمد صدیق (جمعیۃ علماء ہند)حاجی محمد ابراہیم علی، محمد ہاشم،وکیل الدین، مولانا محفوظ الراحمن،محمد احمد، فاروق احمد کی جانب سے گوپال سنگھ وشارد، سری پرم ہنس رام چندرا، نرموہی اکھاڑہ، چیف سیکریٹری اترپردیش، کلکٹر فیض آباد،سٹی مجسٹریٹ فیض آباد، پریا دت ، صدر آل انڈیا ہندو مہاسبھا، صدر آریہ مہا سبھا، صدر آل انڈیا سناتھن دھرما سبھا، دھرم داس، پندرک مشرائ، بابا بجرنگ داس،شری رام سرن،شری رام دیا ل سرن، رمیش چندرا ترپاٹھی، مہنت گنگا داس، شری سوامی گون اچاریہ، مدن موہن گپتا،پرنس انجم قادر، یومیش چندراپانڈے کے خلاف داخل سوٹ نمبر 4 پر بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ فریق مخالف نے اپنی عرضداشتوں میں بابری مسجدکی موجودگی پر ہی سوال اٹھائے ہیں

    یہ بھی پڑھیں  مولانا ارشد مدنی اور موہن بھاگوت کے درمیا ن گفتگو کا آغاز قومی یکجہتی کا ذریعہ ثابت ہوگا

    اور کہا کہ بابر نے کوئی مسجدبنوائی ہی نہیں تھی۔ڈاکٹر دھون نے کہا کہ فریق مخالف نے سوٹ 4 میں یہ دعوی کیا ہے کہ یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ انگریزوںنے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے بنایا ہے جس کو ختم کردیا جانا چاہئے کیونکہ انگریزوں نے بابری مسجد کو تسلیم کیا تھا او ر وہ اسے گرانٹ بھی دیتے تھے جس پر ڈاکٹردھون نے کہا کہ آپ نے مسلمانوں کی عبادت گاہ پر حملہ کیا اور اسے شہید کردیا اور آج کہا جارہاہے کہ یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے بنایا گیا تھا ، انگریز حکومت کی جانب سے بابری مسجد کے رکھ رکھائو کے لئے دی جانے والی گرانٹ کا رجسٹر عدالت میں پیش کیا اور اس کا وہ حصہ بھی پڑھا جس میں لکھاہے کہ انگریز حکومت بابری مسجد کو گرانٹ دیتی تھی اور ضامن دار کے طور پر رجسٹر میں بابر کا نام بھی لکھا ہوا ہے نیز بابر کے بعد اودھ کے نواب کو ضامن دار بنایا گیا ۔

    یہ بھی پڑھیں  سال 2030 تک ملک پوری طرح خواندہ ہوجائے گا : نشنک

    ڈاکٹر دھون نے عدالت کو بتایا کہ بیراگیوں نے مسجد پر حملہ کیا تھا اس کے بعد مسجد کی تزئین کاری کے لیئے کورٹ کے ذریعہ گرانٹ جاری کی گئی اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد کو برابر گرانٹ ملتی تھی یعنی کہ مسجد کا وجود تھا۔ڈاکٹر دھو ن نے عدالت کو مزید بتایا کہ 1934 میں مسجد پر حملے کے بعد مسلمانوں کو مسجد کی مرمت کے لیئے معاوضہ دیا گیا تھا

    جس پر جسٹس چندر چوڑنے ڈاکٹر دھون سے پوچھا کہ آیا ان کے پاس کوئی دستاویزاتی ثبوت ہے جس پر دھو ن نے کہا کہ ان کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے اور ہندو فریق کے پاس بھی کوئی دستاویزاتی ریکارڈ نہیں سوائے کہانیوں کے۔ڈاکٹردھو ن نے کہا کہ ہم نے یہ کبھی نہیں کہا اور ہمارا اس پر اعتراض بھی نہیںہے کہ رام کا جنم ایودھیام میں نہیں ہوا تھا بلکہ اعتراض اس بات پر ہے کہ رام کا جنم مسجد کے اندورنی صحن میں مرکزی مینار کے نیچے ہوا تھا کیونکہ 1885 سے قبل ہندئوں کا خود عقیدہ تھا کہ رام کا جنم باہری صحن میں واقع رام چبوترے پر ہوا تھا لیکن آج یہ دعوی کیا جارہا ہیکہ رام کا جنم بابری مسجد کے اندر ہوا تھا اور مسجد کی تعمیر مندر مہندم کرکے کرائی گئی تھی۔ڈاکٹر دھو ن نے عدالت کو مزید بتایا کہ جب ہندئوںنے عرض داشت داخل کرکے یہ دعوی کیا کہ رام کا جنم مسجد کے اندرونی صحن میں واقع مرکزی مینار کے نیچے ہوا تھا ، مسلمانوں نے ان سے کہا کہ ثابت کرو جس کے جواب میں انہوں نے سیاحوں کی رپورٹ پیش کی جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔

    یہ بھی پڑھیں  افسوسناک: قاسم سلیمانی کی تدفین کے وقت بھگدڑ، 35 ہلاک، 48 زخمی
    یہ بھی پڑھیں  میڈیا کی متعصبانہ رپورٹنگ کے خلاف جمعیة علماء ہند سپریم کورٹ میں

    ڈاکٹر دھون نے نرموہی اکھاڑہ کیجانب سے داخل عرضداشت پڑھتے ہوئے عدالت کوبتایا کہ نرموہی اکھاڑہ نے دعوی کیاہے کہ بابر نے نہیں بلکہ میر باقی نے رام مندر گرایا تھا کیونکہ وہ ایک فقیر سے بہت متاثر تھا نیز عرضداشت میں مزید لکھا ہے کہ بابری مسجد کی جگہ تین گنبد والی کوئی عمارت نہیں تھی نیز بھارت میںاسلامی قانونی لاگو نہیں ہوتا ہے۔ڈاکٹر دھو ن نے کہا کہ ہندوئوں نے بابری مسجد کو شہید کردیا اور الٹے کہا گیا ان کی آستھا کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے

    نیز وقف کو انگریز حکومت نے بھی قانونی درجہ دیا تھا نیز 1934 سے مسجد کے اندر کسی مسلمان کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور بعد میں کہا گیا کہ مسلمانوں نے مسجد چھوڑ دی ہے لہذا ب اس پر ان کا قبضہ ہوگیا یعنی کہ Adverse Posession ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ مسجد کوشہید کرنے کی پلاننگ مارچ 1992 میں بنائی گئی تھی جسے 6دسمبر1992 میں انجام دیا گیاڈاکٹردھون نے کہا کہ نرموہی اکھاڑہ کی دلیلوں میں کوئی صداقت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے کوئی بھی پختہ ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیا ۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    دس مہینے بعد تعلیمی سرگرمی شروع ہونے سے بچوں کے چہروں پر لوٹی مسکراہٹ

    نئی دہلی: دس مہینے بعد دہلی کے اسکولوں میں محدود ہی سہی لیکن رونقیں واپس لوٹ آئی ہیں۔ کل...

    دہلی فسادات معاملہ،متاثرین کی باز آبادکاری میں مصروف اقلیتی فلاحی کمیٹی

    میٹنگ میں جلد سے جلد زیر التوامعاملات کے نپٹارہ کی افسران کو ہدایت،کچھ معاملات میں دوبارہ سروے کرنے کی...

    بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی سے نہ صرف دہلی کے لوگ متاثر ہیں، بلکہ ملازمین بھی نالاں ہیں : سوربھ...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے چیف ترجمان سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی کے زیر...

    راجیندر نگر کے ایم ایل اے راگھو چڈھا نے سوامی دیانند سروودیا کنیا اسکول کا دورہ کیا

    لاک ڈاؤن کے بعد اسکول کھلنے کے بعد سکیورٹی کے تمام انتظامات کردیئے گئے ہیں، طلباء اساتذہ کو N95...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you