رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    بابری مسجد ملکیت مقدمہ:محکمہ آثارقدیمہ کی رپورٹ کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی

    نئی دہلی:بابری مسجد ملکیت مقدمہ کی سماعت کا آج 33واں دن تھا جس کے دوران مسلم پرسنل لاء بورڈ کی وکیل میناکشی اروڑا نے محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ پر اپنی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ قانون شہادت(Evidence Act )کی دفعہ 45 کے تحت محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ بس ایک رائے ہے اس کی قانونی حیثیت بہت زیادہ نہیں ہے نیز الہ آباد rajeev-dhavanہائی کورٹ کے فیصلہ میں جسٹس اگروال نے اسے قبول بھی کیا ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ محض ایک رائے ہے۔

    انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ (ASI)کی رپورٹ فرضی ہے جس کی بنیاد ہی غلط ہے کیونکہ آرکیالوجی کا انحصار سائنس پر ہے اور سائنس میں کوئی بھی چیز پختہ نہیں ہوتی بلکہ صرف سروے اور ریسرچ کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کرلیا جاتا ہے نیز اس معاملے میں تیار کی گئی رپورٹ مشکو ک ہے لہذا عدالت کو اسے قبول کرنے سے قبل دیگر تاریخی ثبوت وشواہد نیز گواہوں کے بیانات کو مد نظر رکھنا ہوگا۔میناکشی اروڑا کی بحث کے درمیا ن جسٹس بوبڑے نے کہا کہ وہ صرف یہ دیکھیں گے کہ آیا ریسرچ اور سروے کی بنیاد پر اخذ کیا گیا نتیجہ قانونی ہے یا نہیں۔اس معاملے کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس اے ایس بوبڑے جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس چندرچوڑ، جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کو مزید بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ اور گواہوں کے بیانات میں کھلا تضاد ہے

    نیز متعدد ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق کمشنر سے جرح کرنا ضروری ہے اور اگر کمشنر سے جرح نہیں ہوئی ہو تو کمشنر کی رپورٹ پر اعتراض کرنے کے لیئے آزاد گواہوں کی گواہی کو اہمیت دینا چاہئے۔ایڈوکیٹ میناکشی اروڑا نے کہا کہ الہ آباد ہائیکور ٹ نے محکمہ آثار قدیمہ سے دریافت کیا تھا کہ آیا کھدائی کے دوران وہاں رام جنم استھان ہونے کا انہیں ثبوت ملا تھا یا نہیں نیز محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ سے ایسا کوئی بھی نتیجہ اخذ نہیں کیاجاسکتا کہ انہیں کھدائی کے دوران رام جنم استھان ملا تھابحث کے دوران جسٹس عبدالنظیر نے کہا کہ آثارقدیمہ پوری طرح سے سائنس نہیں ہے

    یہ بھی پڑھیں  چچا کی جائداد پر قبضہ کرنے کے لئے ’ قاسمی‘ برادران کی طرف سے دیا گیا جھوٹا حلف نامہ ، داو پر لگا دی ’ قاسمی ‘ گھرانےکی عزت ! ’ طیب ٹرسٹ ‘ بھی سوالوں کے گھیرے میں

    ایسے میں اس پر سیکشن 45لاگو نہیں ہوگا، اس پر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑانے دلیل دی کہ محکمہ آثارقدیمہ کی رپورٹ کی جانچ ہونی چاہئے کیونکہ متعددماہرین نے اس پر سوال کھڑے کئے ہیں اس پر جسٹس بوبڑے نے کہاکہ ہمیں پتاہے کہ محکمہ آثارقدیمہ کی طرف سے نتائج نکالے جاتے ہیں یہاں اصل ثبوت کون لاسکتاہے؟ ہم یہاں اسی بنیادپر فیصلہ لے رہے ہیں کہ کس کا اندازہ درست ہے اور کیامتبادل ہے؟ اس پر میناکشی اروڑا نے کہا کہ محکمہ آثارقدیمہ کی رپورٹ میں کہیں بھی رام مندرکی جگہ نہیں بتائی گئی جبکہ رام چبوترے کو واٹرٹینک بتایاگیا ہے،۔

    یہ بھی پڑھیں  بزرگوں سے بد سلوکی ایک سماجی برائی: وینکیا نائیڈو

    اسی درمیان سینئر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑا کی بحث کا اختتام ہوا جس کے بعد مسلم پرنسل لا بورڈ کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ شیکھر نافڈے نے عدالت سے کہا کہ Judicata Res یعنی کہ ایک مرتبہ کسی معاملہ کی سماعت مکمل ہوجانے اور فیصلہ آجانے کے بعد اس سوال پر دوبارہ مقدمہ قائم نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے عدالت کو مزید بتایاکہ سب سے پہلے 1885 میں نرموہی اکھاڑہ نے سوٹ داخل کیا تھا جسے فیض آباد سول کورٹ نے خارج کردیا تھا اس کے بعد 1961میں پھر مالکانہ حق کے لیئے سوٹ داخل کیا گیا جہاں پھر نرموہی اکھاڑہ کو مایوسی ہاتھ لگی اور ان کا سوٹ نچلی عدالت سے خارج کردیا گیا لہذا یہ ریسٹ جوڈیکا کا معاملہ بنتاہے یعنی کہ ایک ہی مقصد کے لئے بار بار سوٹ داخل نہیں کیاجاسکتا۔شیکھر ناپھڑے کی اس بحث پر جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ 1885 میں نرموہی اکھاڑی کی طرف سے نہیں بلکہ ایک مہنت نے سوٹ داخل کیا تھا لہذ ا آج یہ کہنا کہ ہندو فریق دوبارہ مقدمہ داخل نہیں کرسکتے درست نہیں ہوگا

    یہ بھی پڑھیں  کامن ویلتھ گیمز ولیج میں بنایا گیا 500 بیڈز کا کوویڈ کیئر سینٹر

    جس پر نافڈے نے کہا کہ یہ تو صاف ہے نا کہ 1885 میں جو سوٹ داخل کیا گیاتھا وہ چبوترے پر پوجا کرنے کا حق حاصل کرنے کے لے کیا گیا تھا۔ انہوں نے عدالت میں دلیل دی کہ ہندووں کے پاس اس جگہ کااختیارمحدودہے اس لئے انہیں مالکانہ حق نہیں دیا جاسکتا، انہوں نے کہا کہ ان کے پاس چبوترے کا حق تو ہے لیکن وہ مالکانہ حق حاصل کرنا چاہ رہے تھے اور ان کی طرف سے مسلسل ناجائز قبضہ کرنے کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں

    آج عدالت کی کارروائی ایک بجے تک چلی، ایڈوکیٹ نافڈے نے پیر کے دن دوبارہ اپنی بحث کا آغاز کریں گے۔دوران کارروائی عدالت میں موجود جمعیۃ علماء ہند کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے بتایا کہ آج سینئر ایڈوکیٹ شیکھر نافڈے نے بحث کا آغاز کردیا ہے اور امیدہے کہ پیر کے دن اپنی بحث مکمل کرلیں گے جس کے بعد سوٹ نمبر 4 پر جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ڈاکٹر راجیو دھون دوبارہ اپنی بحث کا آغاز کریں گے نیز اس درمیان عدالت فریق مخالف کو اجازت دے سکتی ہے کہ وہ مسلم فریق کی ابتک کی بحث پر اپنا جواب دیں۔دوران بحث چیف جسٹس نے آج ایک بارپھر یاددہانی کرائی کہ بحث 18اکتوبر تک مکمل ہونی چاہئے ورنہ فیصلہ جلدآنے کا امکان کم ہوسکتاہے

    یہ بھی پڑھیں  آندھرا پردیش: دریائے گوداوری میں پلٹی کشتی، 36؍افراد لاپتہ
    یہ بھی پڑھیں  جامعہ نارتھ زون انٹر یونیورسٹی ہاکی ٹورنامنٹ کی میزبانی کرے گی

    بحث کے درمیان ڈاکٹرر اجیو دھون نے کہا کہ آرکیالوجی سائنس نہیں ہے لہذا اسے بہت زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی ہے البتہ آثار قدیمہ کی رپورٹ کو دیگر ثبوتوں اور شواہد سے ملاکر دیکھنا چاہئے اس کے بعد ہی معقول نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔جمعیۃعلماء ہند نے 30؍ستمبر 2010کو الہ آبادہائی کورٹ لکھنوبینچ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کیا اور کہا کہ ہمیں ہندستان کی عدلیہ پر پورابھروسہ ہے اور سپریم کورٹ سے ہمیں انصاف ضرورملے گا، چنانچہ 15؍نومبر 2010کو بابری مسجد ملکیت سے متعلق سب سے پہلے جمعیۃعلماء ہند نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی تھی اوراس مقدمہ کی پہلی سنوائی 9؍مئی 2011کو جسٹس آفتاب عالم اور جسٹس لودھا کی دورکنی بینچ نے جمعیۃعلماء ہند اورسنی سینٹرل وقف بورڈ کی جانب سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن کی سماعت کی اور الہ آبادہائی کورٹ لکھنوبینچ کے فیصلہ پر روک لگاتے ہوئے اسٹیس کو کا حکم دیا

    جمعیۃعلماء ہند 30؍ستمبر2010سے لیکر سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرنے کی تیاری میں سینئر وکلاء کی ٹیموں کے ساتھ ساتھ دستاویزات کی فراہمی اور سپریم کورٹ کے رول کے مطابق تمام مخطوطات ودستاویزات کا انگریزی زبان میں ترجمہ کروایا اور بروقت اسے کورٹ میں داخل کیا، بابری مسجد مقدمہ میں جمعیۃعلماء ہند فریق اول کی حیثیت سے حافظ محمدصدیق کے نام سے لسٹیڈ ہے، جس کا سول اپیل نمبر (10866-10867/2010) یہ ہے۔ دوران کارروائی عدالت میں جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے ڈاکٹر راجیو دھون، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قرۃالعین، ایڈوکیٹ کنور ادتیہ، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیاودیگر موجود تھے۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    اردو اکادمی دہلی ، دہلی ای۔ لرننگ کورس جلد شروع کرے: منیش سسودیا

    اردو اکادمی، دہلی کی دہلی سیکریٹریٹ میں منعقدگورننگ کونسل کی میٹنگ میں کئی اہم تجاویز پیش نئی دہلی : اردو...

    عام آدمی پارٹی کے روہتاش نگر ودھان سبھا میں منعقدہ مظاہرے میں مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا

    نئی دہلی : بی جے پی کی زیر اقتدار ایم سی ڈی میں بدعنوانی اور مودی حکومت کی ناکام...

    ہر فرد میں ایک دلی جذبہ ہے ،یہاں لوگ ادب سے محبت کرتے ہیں : عامر اصغر قریشی

    شہر ناندورا میں سہ ماہی تکمیل کے مدیر عامر اصغر قریشی کے اعزاز میں ادبی نشست ناندورا : بتاریخ 23...

    ایم سی ڈی بلڈر مافیا کے تعاون سے لیز پر دی گئی دکانوں کا سروے کررہی ہے اور عمارت کو خطرناک دکھا کر خالی...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کے زیر اقتدار نارتھ ایم سی ڈی کی طرف...

    اگلے تین دن تک مسلسل بارش کے امکانات ، تمام افسران دن میں 24 گھنٹے دستیاب رہیں گے ، کسی بھی وقت ضرورت ہوسکتی...

    نئی دہلی : لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دہلی کے نکاسی...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you