رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کامعاملہ ، مرکزی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ پر چیف جسٹس نے ناراضگی کا اظہار کیا

    جمعیۃ علماء پر غیر مصدقہ خبروں کی بنیاد پر پٹیشن داخل کرنے کا الزام

    نئی دہلی : کروناوائرس کو مرکز نظام الدین سے جوڑ کر تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں اور بالخصوص مسلمانوں کی شبیہ کو داغدار کرنے اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیاکے خلاف مولانا سید ارشدمدنی صدرجمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر سپریم کورٹ میں داخل پٹیشن پر آج سماعت عمل میں آئی جس کے دوران یونین آف انڈیاکی جانب سے عدالت میں 136 صفحات پر مشتمل حلف نامہ داخل کیا گیا جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے ان نیوز چینلوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جنہوں نے تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کے خلاف نیوز نشر کی تھیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے داخل کیئے گئے حلف نامہ پر چیف جسٹس آف انڈیا نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا کو کہا کہ حلف نامہ میں کیبل ٹیلی ویژن نیٹورک ایکٹ کے متعلق کچھ نہیں لکھا ہے اور عدالت اس معاملے کو نیوز براڈکاسٹنگ اسٹینڈر اتھاریٹی NBSAکے پاس کیوں بھجیں جب حکومت کو ایسے معاملات دیکھنے کا اختیار ہے۔

    چیف جسٹس آف انڈیا نے ایڈوکیٹ تشار مہتا سے پوچھا کہ ایسے معاملات حل کرنے کے لیئے حکومت کے پاس کیا میکانزام ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو ایک ریگولیٹری میکانزم بنانے میں حرج کیاہے؟ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ نیوز براڈکاسٹنگ اسٹینڈر اتھاریٹی جیسے اداروں کے حوالے ایسے معاملات نہیں چھوڑے جاسکتے، حکومت کو ایک مضبوط میکانزم بنانا چاہئے۔ایڈوکیٹ تشار مہتا نے چیف جسٹس آف انڈیا کو یقین دلایا کہ حکومت کی جانب سے تین ہفتوں کے اندر عدالت کی توقعات کے مطابق حلف نامہ داخل کیا جائے گا جس پر عدالت نے انہیں اجازت دے دی۔ اس سے قبل بھی چیف جسٹس آف انڈیا نے جونیئر افسر کی جانب سے حلف نامہ تیار کرنے پر یونین آف انڈیا کی سرزنش کی تھی۔یونین آف انڈیا کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ میں مزید لکھا گیا ہیکہ عرض گذار(جمعیۃ علماء ہند) نے چنند ہ اخبارات کی کٹنگ اور آن لائن نیوز پیپر کے حوالے دیکر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہیکہ میڈیا نے تبلیغی جماعت معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیا ہے نیز غیر مستندخبروں کا حوالہ دیکر پٹیشن داخل کرکے میڈیا پر کارروائی کرنے کی مانگ کی گئی ہے جوآزادی اظہار رائے کے منافی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  صدر کا طرز عمل مشاورت کے دستور سے میل نہیں کھاتا

    جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی مدعی ہیں آج چیف جسٹس آف انڈیا اے ایس بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنیم کے روبر و سماعت عمل میں آئی جس کے دوران حکومت ہند کی جانب سے امیت کھرے (سیکریٹری ٹو حکومت ہند منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ) نے عدالت کی سرزنش کے بعد حلف نامہ داخل کیا جس میں کہا گیا کہ فرقہ وارنہ رپورٹنگ کے تعلق سے مرکزی حکومت نے گائڈلائنس جاری کی ہے نیز ٹی وی چینلوں کو بھی ایڈوائزری جارکی گئی ہیکہ وہ دو فرقوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے والی خبرین نشر کرنے سے پرہیز کریں۔حلف نامہ میں مزید لکھا گیاہیکہ منسٹری نے ابتک آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69A کے تحت 743 ایسی ویب سائٹ اور آن لائن مواد کو بلاک کیا ہے جو کرونا کے نام پر جھوٹی خبریں ا ور نفرت پھیلا رہے تھے۔

    یہ بھی پڑھیں  بی جے پی حکومت نے دہلی کے 40 لاکھ غریبوں کو گھر کا حق دیا : مودی

    743 اکاؤنٹ میں فیس بک، ٹوئیٹر، انستاگرام، یو ٹیوب اور دیگرآن لائن پلیٹ فارم شامل ہیں۔حکومت ہند کی جانب سے داخل حلف نامہ میں مزیدلکھا ہیکہ منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ نے 2اپریل 2020 کو پریس انفارمیشن بیورو میں ”فیکٹ چیک“یونٹ کا قیام عمل میں لایا ہے جس کا کام عوام کی جانب سے ملنے والی شکایتوں کو مقررہ وقت میں ازالہ کرنا اور خبروں کی تحقیق کرنا ہے۔ فیکٹ چیک یونٹ کو 23 اکتوبر تک 8150 شکاتیں موصول ہوئی تھیں جس میں سے 7350 شکایت کنندگان کو جواب دیا گیا جبکہ 800 شکایتوں کو حکومت کے پاس بھیجا گیا۔حلف نامہ میں مزید لکھا گیا ہیکہ حکومت ہند کی ہدایت پر نیوز براڈ کاسٹرس ایسو سی ایشن NBAاور انڈیا براڈ کاسٹنگ فاؤنڈیشن NBFنے اپنے ممبران کو ہدایت جاری کی ہیکہ نیوز نشر کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کی جائے اور کمیونل خبروں کو نشر نہ کیا جائے۔

    یہ بھی پڑھیں  تعلیم کے بغیر انسان کو زندگی گزارنے کا شعور پیدا نہیں ہوسکتا : مولانا محمد عبداللہ مغیثی

    حلف نامہ میں تحریر کیا گیا ہیکہ فیک نیوز پر قابو پانے کے لیئے پریس انفارمیشن بیورو PIBنے بھی کارروائی شروع کی ہے، ماہ مارچ اور اپریل میں PIBنے 119 معاملات کی سماعت کی جس میں 83 معاملہ شوشل میڈیا، 7 ٹیلی ویژن، 3 پرنٹ میڈیا، 15 واٹس آپ اور 11 آن لائن نیوز پورٹل کے شامل ہیں۔حلف نامہ میں مزیدلکھا گیا ہیکہ مرکز نظام الدین معاملہ سامنے آنے کے بعد مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے ساتھ عوام میں بھی بے چینی پھیل گئی تھی کیونکہ مرکز نظام الدین میں موجود افراد کی کرونا رپورٹ مثبت آئی تھی جس کے بعد ہندوستان کے بڑے اخبارات جس میں ٹائمز آف انڈیا، انڈین ایکسپریس، ہندوستان ٹائمز نے حقیقت پر مبنی رپورٹنگ پیش کی تھی

    اور کہا تھا کہ مرکز اور ایودھیا سب نے شوشل ڈسٹنسنگ کی دھجیاں اڑائیں۔تبلیغی جماعت کے چیف کی جانب سے شوشل ڈسٹنسنگ اور کرونا وبا ء سے احتیاط برتنے کا پیغام دیا گیا جسے ملک کے مختلف اخبارات نے نشر کیا تھا۔اس معاملے کی سماعت بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ ہوئی جس کے دوران جمعیۃ علماء کے وکلاء ایڈوکیٹ طاہر محمد حکیم، ایڈوکیٹ اوعجاز مقبول،ایڈوکیٹ شاہدندیم، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ سارہ حق،، ایڈوکیٹ نہیا سانگوان، ایڈوکیٹ محمد عیسی حکیم، وہ دیگر نے حصہ لیا۔مرکزی حکومت کے حلف نامہ نے جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے عدالت میں پیش کیئے گئے سیکڑوں اخبارات کے تراشے اور آن لائن نیوز رپورٹس کو غیر مصدقہ قرارد یا ہے

    یہ بھی پڑھیں  ایک بھی ہندو کو ملک نہیں چھوڑنا پڑے گا: بھاگوت
    یہ بھی پڑھیں  تعلیم کے بغیر انسان کو زندگی گزارنے کا شعور پیدا نہیں ہوسکتا : مولانا محمد عبداللہ مغیثی

    جس پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ مرکزی حکومت نیوز چینلوں (گودی میڈیا)کو بچانا چاہتی ہے جنہوں نے منافرت پر مبنی رپورٹنگ کی تھی نیز مرکزی حکومت اس کے پٹھو اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر کارروائی نہ ہو اس کے لیئے عدالت میں ایسا حلف نامہ داخل کیاہے جس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے بذات خود اعتراض کیا۔گلزار اعظمی نے کہا کہ حکومت عدالت میں چار اخبارات کے تراشے پیش کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے

    کہ مرکز نظام الدین کو لیکرمیڈیا نے من گھڑت رپورٹنگ نہیں کی، مرکزی حکومت کے حلف نامہ کے جواب میں جوابی حلف نامہ عدالت میں داخل کیا جائے گا کیونکہ جمعیۃ علماء نے عدالت کی توجہ ان دیڑھ سو نیوز چینلوں اور اخبارات کی جانب دلائی ہے جس میں انڈیا ٹی وی،زی نیوز، نیشن نیوز،ری پبلک بھارت،ری پبلک ٹی وی،شدرشن نیوز چینل اور بعض دوسرے چینل شامل ہیں جنہوں نے صحافتی اصولوں کو تار تار کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی ناپاک سازش رچی تھی۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    ہمیں بی جے پی حکومتوں کے جبر کے خلاف ہر محاذ پر لڑنا ہوگا : عمران پرتاپ گڑھی

    آسام: آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی ڈیپارٹمنٹ کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے ایک روزہ دورے پر آسام...

    پرینکا سچی کانگریسی ہیں اور ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والی نہیں : راہل

    نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے لکھیم پور کھیری متاثرہ کنبوں کے ارکان سے ملنے...

    بی جی پی کے دورحکومت میں اقلیتی شعبہ سے تعلق رکھنے والے مسلم،سکھ،عیسائی،جین اور دیگر طبقہ ظلم کا شکار ہو رہا ہے : عمران...

    نئی دہلی : سکھ سماج کے زیر اہتمام دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ''ایک نئی پہل'' کے عنوان...

    وزیر نے ڈویژنل کمشنر کے دفتر کا معائنہ کیا اور ذات کے سرٹیفکیٹ میں تاخیر پر افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کی وارننگ دی...

    سماجی بہبود کے وزیر راجیندر پال گوتم نے اچانک معائنہ کیا اور ذات کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں تاخیر...

    کیجریوال حکومت اور بی جی پی حکومت رابعہ سیفی کو اِنصاف دلائے : عمران پرتاپ گھڑی

    مرادآباد : آل انڈیا کانگریس کمیٹی شعبۂ اقلیتی کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے دو روزہ دورے کے...

    اقلیتی شعبہ کے قومی صدراور معروف شاعر عمران پرتاپ گڑھی کا شایان شان خیرمقدم

    اہم ذمہ داری ملنے کے بعد پہلی بار مرادآباد آمد پر پھولوں کی بارش،عوام کا اژدہام مرادآباد: کانگریس اقلیتی شعبہ...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you