رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    فضائی آلودگی کی شدت کو’سبز خون‘سے شکست دیں

    نئی دہلی : بڑھتی ہوئی آلودگی اور اس کے مضز اثرات سے بچنے کے لئے سرگرداں لوگوں کے لئے وہیٹ گراس جیسا قدرت کا انمول تحفہ کافی مددگار ثابت ہو سکتا ہے جو نہ صرف آلودگی بلکہ کئی طرح کی بیماریوں سے لڑنے کا بھی اہل ہے ۔ماہرین نے گندم کے جوار کے رس کو ‘سپر فوڈ’ اور ‘سبز خون’ کے نام سے تعبیر کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ 70 فیصد کلوروفل پر مشتمل فطرت کیاس نعمت سے کینسر، تھیلی سیمیا اور جلد کے امراض سمیت متعدد بیماریوں کا مقابلہ کیاجا سکتا ہے ۔

    وہیٹ گراس کے رس میں متعدد بیش قیمتی غذائیت اور بیماری سے تحفظ کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اس کا سب سے اہم عنصر کلوروفل ہے جس کی نوعیت خون میں آکسیجن کے بہاؤ کے لئے ذمہ دار ہیموگلوبن کی طرح ہے ۔ ویٹ گراس میں ڈی ٹاکسی فیکیشن کے کارآمد فوائد موجود ہیں۔ ہمارے جسم کے گندے اور زہریلے مادے کو باہر نکالنے میں یہ اہم کردار ادا کرتا ہے ۔راجستھان کے ڈاکٹر اوم ورما نے یو این آئی سے کہاکہ ‘‘ ایسے ہزاروں لوگوں کو امریکہ کی ڈاکٹر این وگمور نے ویٹ گراس اور دیگر لائیو فوڈ سے ٹھیک کیا ہے جنہیں ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا۔ وہیٹ گراس کا رس ڈی ٹاکسی فیکیشن کی خصوصیات سے مالا مال ہوتا ہے اور یہ ہمارے جسم کے گندے اور زہریلے مادے کو جسم سے باہر نکالنے میں کافی مددگار ثابت ہوتا ہے ’’۔انہوں نے کہا کہ وہیٹ گراس کے رس میں غذائیت اور بیماریوں سے تحفظ کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  کیجریوال حکومت نے پورا کیا وعدہ ، مفت وائی فائی کا اعلان

    ہوائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچنے پر متعدد بیماریوں کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے جس میں دمہ، پھیپھڑوں اوردل کی بیماری سے دوچار لوگوں کے مسائل میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘بیماری سے لڑنے کی صلاحیت میں اضافے اور فضائی آلودگی کے سبب جسم میں موجود زہریلے عناصر کو باہر نکالنے کی کوشش کے تحت ویٹ گراس کا رس کارگر ثابت ہو سکتا ہے ’’۔اس کے استعمال سے خون کی کمی، ہائی بلڈ پریشر، دمہ، برونکائٹس، سائنَس، ہاضمے سے متعلق بیماری، کینسر، آنتوں کی سوجن، دانت سے متعلق بیماریاں، ایکزیما، گردے سے متعلق بیماری، تھائرائد اور کئی طرح ایسی بیماریوں کے لئے وہیٹ گراس بے قیمت دوا ہے ۔ اسے رس یا پاؤڈر کی شکل میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ڈاکٹر ورما نے کہا کہ ڈاکٹر این وگمور وہیٹ گراس پر تحقیق کرنے والی اور اس کا کئی بیماریوں پر مثبت نتائج برآمد کرنے والی ممکنہ طور پر دنیا کی پہلی شخصیت ہیں۔ را فوڈ موومنٹ کی ماں کے طور پر مشہورڈکٹر وگمور امریکہ کے لتھوانیہ میں سال 1908 میں پیدا ہوئی تھیں اور اپنی دادی کے پاس رہتی تھی۔

    یہ بھی پڑھیں  راجستھان میں کانگریس حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے بلڈروں اور تاجروں سے 500 کروڑ روپئے اکٹھے کیے : سچن ساونت
    یہ بھی پڑھیں  متاثرہ خاندان کو کھلا چھوڑنا چاہئے ، جس سے ملاقات کرنا چاہتا ہے ، اس سے ملے ، ایسے وقت میں کنبہ ہمدردی چاہتا ہے: اروند کیجریوال

    اس دوران انہوں نے اپنی دادی کو وہیٹ گراس اور دیگر جڑی بوٹیوں سے علاج کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ انہیں کبھی چوٹ لگتی یا جلد سے خون نکلتا تھا، ان کی دادی جادوگر کی طرح کچھ سبز پتیوں کو اس پر لگا دیتی تھیں اور ان کا درد غائب ہو جاتا تھا۔ ان کی دادی پہلی عالمی جنگ کے دوران زخمی ہونے والے فوجیوں کا بھی انہیں جڑی بوٹیوں سے علاج کرتی تھیں۔ اس طریقہ علاج سے ڈاکٹر وگمور کافی متاثر ہوئی تھیں۔اکٹر ورما نے کہاکہ ‘‘قسمت انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہے ۔ ڈاکٹر وگمور 1940 کی دہائی میں خود کینسر کی شکار ہو گئی تھیں۔ انہوں نے اس کے پہلے ڈنمارک کی ڈاکٹر کرسٹین نولفي کو اپنا بریسٹ کینسر را فوڈ ڈائٹ سے ٹھیک کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

    اس ڈائٹ میں وہیٹ گراس کا رس بھی شامل تھا۔ ڈاکٹر وگمور نے بھی وہیٹ رس کی اہمیت کو اچھی طرح سے سمجھ لیا تھا اور انہوں نے اپنی زندگی میں تبدیلی لاتے ہوئے را فوڈ اور وہیٹ گراس کے رس سے کینسر پر فتح حاصل کرلی’’۔ڈاکٹر وگمور نے وہیٹ گراس کارس ہیلنگ پروپرٹیز ، دیگر وٹامنس اور اینزائمس سے مالا مال ہونے کی اہمیت سمجھتے ہوئے 35 سال تک اس کے فوائد لوگوں تک پہنچانے کا عزم کیا۔ انہوں نے سال 1956 میں ریڈ اسکول ھاؤس نامی ادارہ قائم کیا۔ اس وقت کے صدر کے ذاتی ڈاکٹر ڈ پال ڈڈلے ، ہاورڈ یونورسٹي کے فیکلٹي ممبر اور امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے ارکان ان کے سب سے بڑے حامی بن گئے ۔

    یہ بھی پڑھیں  سنی وقف بورڈ اپنے موقف پرقائم ہے، ہم کوئی ریویوپٹیشن داخل نہیں کریں گے : ظفرفاروقی
    یہ بھی پڑھیں  بی جے پی کو زبردست دھچکا ، 4 مرتبہ ایم ایل اے رہے ہرشرن سنگھ بلی ’آپ‘ میں شامل

    ان لوگوں نے ڈاکٹر وگمور کے طبی ادارے میں ایسے مریضوں کو بھیجنا شروع کر دیا جنہیں جدید طبی علاج سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا تھا۔ڈاکٹر وگمور کا ادارہ ‘ھپّوکریٹس ہیلتھ اسٹیٹي ٹیوٹ’ نام سے بڑے ادارے کے طور پر 1961 میں بوسٹن میں اور دیگر شہروں میں قائم ہوا اور متبادل طبی مرکز کی حیثیت سے مقبول ہوا۔ ڈاکٹر ورما نے کہاکہ ‘‘84 برس کی عمر میں ایک حادثے میں ڈاکٹر وگمور کی موت ہو گئی۔ وہ اپنی عمر سے کافی کم نظر آتی تھیں۔ وہ پوری طرح صحت مند تھیں اور 20 سالہ نوجوان کی طرح ان میں توانائی اور چستی پھرتی تھی’’۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    کورونااورلاک ڈاؤن بھی نفرت کے وائرس کو ختم نہیں کرسکے

    مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا یہ خطرناک کھیل آخر کب تک؟: مولانا...

    مسلمانوں سے متعلق میڈیا کا دہرا رویہ تشویشناک ، گرفتاریوں کا ڈھنڈورا لیکن عدالت سے رہائی کا کوئی ذکر نہیں : مولاناارشدمدنی

    نئی دہلی : بنگلور سیشن عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سے ڈسچار ج کیئے گئے تریپورہ...

    ہماری سرکار اردو کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے : وزیراعلیٰ،دہلی

    وائس چیئرمین اکادمی حاجی تاج محمد سے خصوصی ملاقات میں متعلقہ مسائل کے حل کی یقین دہانی نئی دہلی :...

    جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے اور وہ راشن لینا چاہتے ہیں، وہ مرکز میں آکر راشن لے سکتے ہیں: گوپال رائے

    نئی دہلی : دہلی کے وزیر ترقیات گوپال رائے نے آج بابرپور کے علاقے کردمپوری میں پرائمری اسکول میں...

    رام مندر کے لئے ، 12080 مربع میٹر اراضی 18.50 کروڑ میں خریدی گئی ، جبکہ اس سے متصل 10370 مربع میٹر اراضی صرف...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور اترپردیش انچارج سنجے سنگھ نے رام مندر کے لئے...

    نائب وزیر اعلی اور وزیر خزانہ منیش سسودیا نے غیر ضروری سرکاری اخراجات کو کم کرنے کا حکم جاری کیا

    نئی دہلی : کورونا کی وجہ سے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ، دہلی حکومت نے اخراجات کے...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you