رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    دہلی فسادات معاملہ،متاثرین کی باز آبادکاری میں مصروف اقلیتی فلاحی کمیٹی

    میٹنگ میں جلد سے جلد زیر التوامعاملات کے نپٹارہ کی افسران کو ہدایت،کچھ معاملات میں دوبارہ سروے کرنے کی حکومت سے مانگی گئی ہے اجازت:امانت اللہ خان

    نئی دہلی : کے شروع میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے متاثرین کو معاوضہ اور انصاف دلانے میں مصروف دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی کی آج دہلی اسمبلی کے ایم ایل اے ہال میں ایک بار پھر میٹنگ منعقد کی گئی

    جس میں کمیٹی کے چیئرمین امانت اللہ خان کے علاوہ ممبران میں سیلم پور سے رکن اسمبلی عبد الرحمن،تغلق آباد سے رکن اسمبلی سہی رام پہلوان،شمال مشرقی دہلی کے ایس ڈی ایم ،ڈی ایم،محکمہ مالیات کے ڈویزنل کمشنر،پرنسپل سیکریٹری برائے صحت اور پرنسپل سیکریٹری برائے امورداخلہ کے علاوہ دیگرافسران نے شرکت کی۔میٹنگ میں ایک مرتبہ پھر وہ معاملات زیر بحث آئے جن میںمتاثرین کا لاکھوں کا نقصان ہواہے مگر معاوضہ ” زیرو“ ہے۔تفصیل کے مطابق گزشتہ میٹنگ میں بھی ایسے کئی معاملات زیر بحث آئے تھے جن کا فسادات میںکئی کئی منزلہ پورا گھر تباہ ہوگیا،

    گھر کا تمام سامان فسادی لوٹ لے گئے یا سب نذر آتش کردیا مگر معاوضہ کے نام پر ان متاثرین کو کچھ نہیںملا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے متاثرین کی ایک بڑی تعدادہے جن کا فساد میںسب کچھ تباہ ہوگیا اور ان کے پاس ویڈیوز ،فوٹو اور تمام طرح کے شواہد ہیں پھر بھی سروے کرنے والے افسران نے سروے رپورٹ میں انھیں نظر انداز کردیا اور انھیں معاوضہ کے نام پر ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔میٹنگ میں جب ایسے معاملات کمیٹی کے سامنے آئے تو چیئرمین امانت اللہ خان نے کمیٹی کے ممبر حاجی یونس کو ایسے تمام معاملات کا ازسر نو سروے کرنے کی ہدایت دی جس کے بعد گھر گھر جاکر ایسے متاثرین کا سروے کیا گیا

    یہ بھی پڑھیں  پرینکا نے کہا، جھوٹ کبھی نہیں جیت سکتا

    جسمیں اب تک تقریبا ایسے 100متاثرین کے نام سامنے آئے ہیں جن کا فسادات میں سب کچھ تباہ ہوگیااور انھیں معاوضہ کے نام پر یا تو بہت معمولی رقم دی گئی یا پھر انھیں کچھ بھی نہیں ملا۔ذرائع کے مطابق 50سے زیادہ ایسے متاثرین کے نام سامنے آئے ہیں جنکی پوری پوری بلڈنگ نذر آتش کردی گئی اور فسادی تمام مال و اسباب لوٹ لے گئے جس میں ان کا20سے 30لاکھ کا نقصان ہوا مگر معاوضہ انھیں ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔

    یہ بھی پڑھیں  وزیر اعلی اروند کیجریوال کی ہدایات ، کورونا ٹیسٹ کروائیں ، ٹیسٹ کے لئے ڈاکٹر کی پرچی کی ضرورت نہیں

    آج بھی 32ناموں پر مشتمل ایک ایسی ہی فہرست کمیٹی کے سامنے رکھی گئی جسکے کئی متاثرین کمیٹی کے سامنے پیش بھی ہوئے اور انھوں نے اپنی آپ بیتی سنائی۔اس فہرست میں 12افراد ایسے ہیں جنھیں حکومت کی گائڈلائن کے مطابق معاوضہ نہیں ملا جبکہ 20افراد ایسے ہیں جنھیں ”زیرو “معاوضہ ملاہے۔جبکہ اس سے قبل پیش کی گئی 66متاثرین پر مشتمل فہرست میںآدھے سے زائد نام ایسے تھے جنھیں زیرو معاوضہ ملا ہے اور وہ آج تک افسران کے چکر کاٹ رہے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  دنیا کے 500؍ بااثر مسلمانوں میں بھارتیوں کا دبدبہ

    چیئرمین امانت اللہ خان نے ایسے تمام معاملات میں افسران کو تیزی کے ساتھ کام کرنے اور متاثرین کے معاوضہ کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ ہم نے ایسے معاملات کی فہرست حکومت کے حوالے کی ہے اور حکومت کی اجازت کے بعد ان سب کا دوبارہ سروے کراکر متاثرین کی باز آباد کاری کو یقینی بنایا جائے گا۔کمیٹی کے چیئرمین امانت اللہ خان نے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ ایسے تمام متاثرین جن کا فساد میں سب کچھ تباہ ہوگیا

    انھیں کم سے کم اتنا معاوضہ تو دیا جائے کہ وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر اپنا کاروبار شروع کرسکیں اور اپنا اور اپنے بچوںکاپیٹ پال سکیں۔امانت اللہ خان نے کہا کہ یہ ہماری زمہ داری ہے کہ ہم ایسے متاثرین کو ان کے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں تعاون دیں۔میٹنگ میں چیئرمین امانت اللہ خان نے پرنسپل سیکریٹری برائے امور داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کچھ ایسے معاملات کی طرف توجہ دلائی جنمیں کرائم برانچ کے افسران فساد کے نام پر غیر متعلق لوگوں کو ہراساں کر رہے ہیںیا لوگوں کو اٹھاکر ان سے رشوت لیکر انھیں چھوڑ رہے ہیں،ایسے معاملات میںان پولیس والوں پر کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ۔

    یہ بھی پڑھیں  میرٹھ تشدد میں چارافراد ہلاک، ملزمان پر این ایس اے کے تحت کارروائی ہوگی

    اس کے علاوہ انھیں 20/22متاثرین کی ایسی فہرست حوالے کی گئی جنمیں جانچ افسر نے اپنی رپورٹ نہیں لگائی اور ان کا میڈیکل نہیں ہوسکا۔پرنسپل ہوم سیکریٹری سے اگلی میٹنگ میں ایسے معاملات میںکارروائی کے بعد اسٹیٹس رپورٹ طلب کی گئی ہے۔پرنسپل ہوم سیکریٹری سے آج کی میٹنگ میں فساد میں مبینہ طور پر ملوث راگنی تیواری اور کپل مشرا پر کی گئی کارروائی کے متعلق بھی استفسار کیا گیا جس کا انہوںنے گول مول جواب دیتے ہوئے کہاکہ وہ اس بارے میں پولیس سے بات کرکے جواب دیںگے۔غور طلب ہیکہ دہلی فسادات کو تقریبا ایک سال ہونے والا ہے اور ابھی بھی متاثرین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنھیں معاوضہ کے نام پر کچھ نہیں ملا ہے اور وہ آج تک افسران اور آفسوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  بابری مسجد ملکیت مقدمہ: رام جنم بھومی کا متولی نرموہی اکھاڑہ، دوسرے ہندوفریقین کوبولنے کا حق نہیں:وکیل کا دعوی

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    میں راجیہ سبھا سے ریٹائرڈ ہواہوں سیاست سے نہیں: غلام نبی آزاد

    نئی دہلی : کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد راجیہ سبھا کی میعاد ختم ہونے کے بعد جموں...

    کیا بی جے پی کے رہنماؤں کو تحفظ فراہم کرنا دہلی پولیس کا واحد کام ہے؟: آتشی

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کی کالکاجی سے ممبر اسمبلی، آتشی نے کہا کہ بی جے پی کی...

    ہندوستانی بچے اپنے ملک کے جانبازوں، ہمارے ہیروز سے زیادہ باہر کے ہیروزکے بارے میں بات کرنے لگے: وزیر اعظم نریندر مودی

    بھدوہی : تاریخ کے صفحات سے تقریبا مٹ چکے کٹھ پتلی فن اور اس سے منسلک فنکاروں کو وزیر...

    اگر دہلی پولیس قاتلوں کو فوری طور پر نہیں پکڑتی ہے تو دلت معاشرہ سڑکوں پر آجائے گا اور پوری دہلی کو جام کردیگا...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کی سینئر رہنما آتشی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ دلت معاشرے سے...

    منیش سسودیا نے پارٹی میں سکھبیر سنگھ ملہوترا کو پٹکا پہنا پارٹی میں خیر مقدم کیا

    نئی دہلی : اسکول اسپتال، بجلی، پانی، سڑک، ٹرانسپورٹ اور وائی فائی سمیت تمام شعبوں میں کیجریوال حکومت کے...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you