رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    ماحولیاتی تباہی سے پوری دنیا کیلئے خطرہ

    چنئی : ماحولیاتی تباہی سے انسانی زندگی خطرے میںپڑ گئی ہے۔ حالانکہ حکومت نے اس سلسلے میں بہت سارے اقدامات اٹھائے لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ایک طرف ہوائی آلودگی نے دہلی اور اس کے گرد ونواح میں رہنے والوں کی زندگی محال کردی ہے۔تو دوسری طرف صنعت کاری اور دوسرے اقدام سے ماحول بگڑتا ہی جارہا ہے۔ لیکن ماحول کو بہتر بنانے کے لئے او ر مختلف شہروں سے کچڑا صاف کرنے کے لئے نئی نئی اسکیمیں مرتب کی جارہی ہیں۔ اس میں کئی غیر سرکاری تنظیمو ںکا اہم رول رہا ہے۔

    اوما پرجاپتی نے بھی ماحولیاتی تباہی پر روک لگانے کے لئے کوڑا کرکٹ کو بچوں کو کھلونے بنانے کے لئے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے سونامیکا کے نام ایک کھلونا بنایا ۔تاکہ ان لوگوں کو یاد کیا جائے جو 2004کے سونامی کے نظر ہوگئے۔ اب انہوں نے ایک گارمنٹ فیکٹر ی کی داغ بیل ڈالی ہے۔ جس میں کوڑے کرکٹ استعمال کیاجائے گا۔ان کا یہ مقصد ہے کہ ملک کو آلودگی سے پاک رکھا جائے۔ اس سلسلے میں پلاسٹک بیگوں کے بجائے سوتی بیگ بنائے ہیں۔ پرجاپتی تاملناڈو اور اتر پردیش میں بنکروں کے ساتھ کام کررہی ہے تاکہ کپڑا بنانے میں ایسی ادویات سے پرہیز کیاجا ئے جوماحول کے لئے خطرنا ک ثابت ہوسکے۔پرجاپتی بہار کی رہنے والی ہے اورآج کل انہوں نے پرگتی میدان میں اسٹال بھی لگایا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  نربھیا گینگ ریپ معاملہ : تہاڑ جیل انتظامیہ نے عدالت کو سونپی رپورٹ

    پرجاپتی نے گیا کے ایک کالج سے اقتصادیات میں ڈگر ی حاصل کی ہے۔ اور یہاں انہوں نے اپنا مشن شروع کیا۔ جبکہ انہو ںنے ایک گارمنٹس فیکٹری میں کام شروع کیا۔ لیکن 2004میں جب سونامی آگیا اس سے میری زندگی میں پورا بدلائو آگیا۔ اس دورا ن میں نے بہت سے علاقوں کا دورہ کیا۔ اور پڈوچیری میں درجنوں خواتین کو خالی ہاتھ دیکھا۔ تبھی میںنے ان سے درخواست کی ۔ ان سے کہا کہ کیا وہ کھلونا بنانے میں ان کی مدد کریںگی۔انہوں نے یہ کام مچھیروں کے گھروں میں شروع کیا اور سینکڑوں خواتین اس میں شامل ہوگئیں۔ 15سال کے دوران 60لاکھ سے زیادہ سونامیکا کھلونے بنائے گئے اور وہ اسی ملکوں میں برآمد کئے گئے۔

    یہ بھی پڑھیں  شہریت ترمیمی بل راجیہ سبھا سے بھی منظور

    مچھیروں کا کہنا ہے کہ گندے پانی سے اور کوڑا کرکٹ ڈالنے سے سمندر میں آلودگی پیدا ہوتی ہے اور جس سے مچھلیاں بھی اس کی زد میں آتی ہیں۔اب انہوں نے گارمنٹ فیکٹری شروع کی اور اس کے ذریعہ وہ جاپان اور یوروپ میں اپنے اشیاء بھیج رہی ہیں ان کے والد نے کہا تھا کہ پینٹنگ سے انہیں کوئی خاطر خواہ آمد نی نہیںآئے گی اسی لئے اس نے عوام کی خدمات پر اپنا وقت صرف کیا۔

    یہ بھی پڑھیں  خواتین آگے بڑھیں گی تبھی ملک آگے بڑھے گا : اروند کیجریوال

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  ’جیو میٹ ‘زوم کے مقابلے آسان:امیتابھ کانت

    Latest news

    کورونااورلاک ڈاؤن بھی نفرت کے وائرس کو ختم نہیں کرسکے

    مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا یہ خطرناک کھیل آخر کب تک؟: مولانا...

    مسلمانوں سے متعلق میڈیا کا دہرا رویہ تشویشناک ، گرفتاریوں کا ڈھنڈورا لیکن عدالت سے رہائی کا کوئی ذکر نہیں : مولاناارشدمدنی

    نئی دہلی : بنگلور سیشن عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سے ڈسچار ج کیئے گئے تریپورہ...

    ہماری سرکار اردو کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے : وزیراعلیٰ،دہلی

    وائس چیئرمین اکادمی حاجی تاج محمد سے خصوصی ملاقات میں متعلقہ مسائل کے حل کی یقین دہانی نئی دہلی :...

    جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے اور وہ راشن لینا چاہتے ہیں، وہ مرکز میں آکر راشن لے سکتے ہیں: گوپال رائے

    نئی دہلی : دہلی کے وزیر ترقیات گوپال رائے نے آج بابرپور کے علاقے کردمپوری میں پرائمری اسکول میں...

    رام مندر کے لئے ، 12080 مربع میٹر اراضی 18.50 کروڑ میں خریدی گئی ، جبکہ اس سے متصل 10370 مربع میٹر اراضی صرف...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور اترپردیش انچارج سنجے سنگھ نے رام مندر کے لئے...

    نائب وزیر اعلی اور وزیر خزانہ منیش سسودیا نے غیر ضروری سرکاری اخراجات کو کم کرنے کا حکم جاری کیا

    نئی دہلی : کورونا کی وجہ سے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ، دہلی حکومت نے اخراجات کے...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you