رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    چچا کی جائداد پر قبضہ کرنے کے لئے ’ قاسمی‘ برادران کی طرف سے دیا گیا جھوٹا حلف نامہ ، داو پر لگا دی ’ قاسمی ‘ گھرانےکی عزت ! ’ طیب ٹرسٹ ‘ بھی سوالوں کے گھیرے میں

    (شمشاد رضا انصاری ہند نیوز بیورو)

    دیوبند :   سنی مسلمانوں کی  بہت بڑی تعداد میں مولانا قاسم نانوتوی کا نام بہت ادب احترام سے لیاجاتاہے۔ مولانا قاسم دنیا کے سب سے بڑے اسلامی اداروں میں سے ایک دارالعلوم دیوبند کے بانی تھے۔ مولانا قاسم کے نام کی وجہ سے ہی ان سے عقیدت رکھنے والے اور دارالعلوم  دیوبند سے فارغ ہونےوالےاپنے نام کے ساتھ “قاسمی”  ٹائٹل لگاتے ہیں۔ لیکن اگر ذرائع پر یقین کیا جائے تو اس خاندان کے

    جس میں مولانا طیب کے بیٹے ڈاکٹر اعظم قاسمی فریق کا کہنا ہے کہ مولانا قاسم کے پوتے مولانا طیب نے جائیداد کی تقسیم کے باوجود جائیداد میں حصہ کے حوالے سے اپنے پوتے پوتیوں کے ذریعہ عدالت میں جھوٹا حلف نامہ داخل کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کو جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔

    مولانا طیب کا وارث

    مولانا سفیان قاسمی، مہتمم دارالعلوم (وقف)دیوبند
    مولانا سفیان قاسمی، مہتمم دارالعلوم (وقف)دیوبند

    اعظم قاسمی فریق کا کہنا ہے کہ مولانا طیب کے تین بیٹے تھے ۔ مولانا سالم قاسمی ، مولانا اسلم قاسمی اور ڈاکٹر اعظم قاسمی ۔ مولانا طیب قاسمی کی املاک کو ان تینوں میں برابر تقسیم کیا گیا تھا ۔ جس کے بعد تینوں حصوں کو الگ الگ کردیا گیا تھا ۔ مولانا طیب کے تینوں بیٹوں میں کبھی بھی جائیداد کی تقسیم پر کوئی تنازعہ نہیں ہوا۔

    تنازعہ کب شروع ہوا ؟

    مولانا طیب کی وفات کے 35 سال بعد ، مولانا سالم کے تین بیٹوں سفیان قاسمی ، عدنان قاسمی ، عاصم قاسمی نے اپنے چچا اسلم قاسمی اور اعظم قاسمی کی جائیداد میں اپنا حصہ ہونے کا دعوی پیش کیا۔

    یہ بھی پڑھیں  مقتول لیڈرکملیش کا خاندان وزیر اعلیٰ سے ملا، ہوٹل سے ملے خون آلودہ بھگوا کپڑے

    مدعی نے اپنے دعوے میں لکھا ہے کہ وہ اپنے دادا کی املاک کا حصہ دار ہے۔ وہ بہت دنوں سے ملک سے باہر تھے۔ جب اپنے والد کی وفات کے بعد دیوبند آیا تو اسے پتہ چلا کہ اس کے چچا کا نام ہاؤس ٹیکس رجسٹر میں ہے لیکن اس کے والد کا نام نہیں ہے۔ نیز ان کے دادا مولانا طیب کی جائیداد ان کی رضامندی کے بغیر فروخت کی جارہی ہے۔

    جائیداد میں حصہ لینے کے لئے جھوٹ کا لیا سہارا

    عاصم قاسمی ، ڈائریکٹر طیب ٹرسٹ
    عاصم قاسمی ، ڈائریکٹر طیب ٹرسٹ

    اعظم قاسمی فریق کا کہنا ہے کہ مدعی عاصم قاسمی نے اپنا حصہ ثابت کرنے کے لئے جس ایفی ڈیوٹ کا سہارا لیا ہے وہ جعلی ہے۔ انہوں نے ضلعی مجسٹریٹ میں جعلی ایفیڈیوٹ دیا ہے۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ مولانا سالم قاسمی کے تین ورثاء ہیں ، جبکہ مدعی کے والد ، مولانا سالم قاسمی کے ذریعہ بنائی گئی وصیت میں چھ وارثوں کا ذکر ہے۔ جس میں ان کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں

    یہ بھی پڑھیں  باپ نے کیا بیٹی کے رشتے کو تار۔ تار

    مدعی نے جائداد کے لالچ میں نہ صرف اپنے دادا مولانا طیب قاسمی کی وصیت کا انکارکیا ، بلکہ اپنے ایک بھائی اور دو بہنوں کا وجود بھی ختم کردیا۔ اس کے علاوہ ، مدعی نے لکھا ہے کہ وہ ایک طویل عرصے سے دیوبند سے باہر تھا جبکہ مدعیان میں سے ایک مولانا سفیان قاسمی دیوبند میں ہی رہتے ہیں اور وقف دارالعلوم دیوبند کے مہتمم بھی ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  کانگریس اس مصیبت کی گھڑی میں ہمیشہ مدد کے لیے تیار: پرینکا گاندھی

    مدعیان کے متعلقین کا کیا کہنا ہے؟

    جب نمائندہ ہند نیوز نے اہم مدعی مولانا سفیان کے بیٹے مولانا شکیب قاسمی سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے انس خورشید کا نمبر دیتے یوئے کہا کہ کہ اس بابت ان سے بات کریں وہ عاصم قاسمی کے معاملات کی پیروی کر رہے ہیں۔ جب نامہ نگار نے انس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف تین ورثاء ہونے کا جھوٹا حلف نامہ نہیں دیا ہے۔ یہ ہمیں بدنام کرنے کی سازش ہے۔ ہمارا آپس میں کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ برائے مہربانی اس مسئلے کو نہ اچھالیں۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیاکہ جب آپ لوگوں کا کوئ تنازعہ نہیں ہے تو پھر یہ معاملہ عدالت میں زیر بحث کیوں ہے؟ اس پر انہوں نے کوئ جواب نہیں۔دیا۔

    اس معاملہ پر عوام کا کیا کہنا ہے

    قاسمی گھرانہ میں جائیداد پر تنازعہ شروع ہونے کے بعد مسلم عوام میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس تنازعہ کے عدالت میں جانے کے بعد نہ صرف دیوبند کے عوام میں بلکہ قاسمی گھرانہ کے ساتھ فخریہ عقیدت رکھنے والے لوگوں میں بھی غم و غصے کی لہر ہے

    عام لوگوں کا خیال ہے کہ قاری طیب جیسی عظیم شخصیت کی وصیت عاصم قاسمی، سفیان قاسمی اور ان۔ کے بھائ کے ذریعہ قبول نہ کرنا،اپنے اصلی چچا کے حق کو دبانا، وارثین کے تعلق سے جھوٹا حلف نامہ داخل کرنا اور دکان فروخت کرنے کے نام پر لوگوں کو پریشان کرنا جائز ہے؟ ایسے کاموں سے کیا قاسمی خاندان کی بد نامی نہیں ہوگی؟ اور کیا قاری طیب اور مولانا قاسم۔ کے چاہنے والوں کے لئے یہ تشویش کی بات نہیں ہے؟ کیا یہ باتیں دارالعلوم وقف دیوبند، اورقاسمی گھرانے کے اعزاز کو بدنام نہیں کریں گی؟

    یہ بھی پڑھیں  باہری لوگوں کو لانے کے لئے دھرم شالا نہیں ہے بھارت : راج ٹھاکرے
    یہ بھی پڑھیں  روحانی گرو’کلکی بھگوان‘ کے یہاں انکم ٹیکس کے چھاپے

    حالانکہ ابھی یہ معاملہ عدالت میں زیر بحث ہے اور صحیح غلط کا فیصلہ بھی عدالت ہی کرے گی تاہمجائداد کے لئے موجودہ تنازع سے قاسمی گھرانے کے چشم و چراغ اور ان کے عقیدتمندوں کے دلوں کو ٹھیس ضرور پہونچے گی۔ اب جب بھی قاسمی گھرانے کا نام آئے گا تو سفیان قاسمی اور ان کےبھائیوں کے ذریعہ عدالت میں دئے گئے جھوٹے حلف نامہ کو بھی یاد کیا جائے گا

    طیب ٹرسٹ بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے

    جب ہندو نیوز نے مذکورہ جھگڑے کے بارے میں مکمل تحقیقات کیں تو مرحوم قاری طیب کے پوتے عاصم قاسمی کے زیرانتظام مولانا طیب کے نام سے چلائے جانے والے’طیب ٹرسٹ’ کے بارے میں بھی سنسنی خیز باتیں سامنے آئ ہیں ۔ ہند نیوز کو ذرائع سے موصول اطلاعات کے مطابق ‘ طیب ٹرسٹ ‘ میں کیا گڑبڑیاں ہیں ۔  مکمل تحقیقات کے بعد اس پر بھی ہند نیوز جلد رپوٹ شائع کرے گا ۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    دہلی حکومت اپنے ملازمین کو پیشہ وار خصوصی فیسٹیول پیکیج کے تحت ہر ملازم کو 10 ہزار روپے دے گی: منیش سسودیا

    نئی دہلی : دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے ماتحت محکمہ خزانہ نے دہلی کے سرکاری...

    ‎بنگال میں’’خودکفیل بھارت ‘‘ مہم کی قیادت کرنے کی بھر پور صلاحیت ہے:مودی

    کولکاتہ :اس دلیل کے ساتھ کہ مغربی بنگال میں ’’خود کفیل بھارت‘‘ کی مہم کی قیادت کرنے کی بھر...

    دہلی کی تمام 70 اسمبلیوں میں 26 اکتوبر سے چلے گی ‘ریڈ لائٹ آن ، گاڈی آف’ کی مہا مہم : گوپال رائے

    نئی دہلی : وزیر ماحولیات گوپال رائے اور دہلی کے تمام اراکین اسمبلی نے آج تلک مارگ پر ریڈ...

    ایسے پس منظر سے آنے والے طلبا کی کامیابی سے بہت سارے طلبا بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے: اروند کیجریوال

    نئی دہلی : وزیر اعلی اروند کیجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے دہلی کے سرکاری اسکولوں کے...

    دہلی حج کمیٹی کے ای او جاوید عالم خان سے مرکزی حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر محمد عرفان احمد کی خصوصی ملاقات

    دہلی : عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب امسال حج کا فریضہ انجام نہیں ہو پایا تھا، مگرحج:2021 کے لیےتیاریوں...

    کارکنوں کی فلاح و بہبود میں کوئی رواداری نہیں: منیش سسودیا

    نئی دہلی : نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے تعمیراتی کارکنوں کو جنگی بنیادوں پر اندراج کرنے کی مہم...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you