رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    جب تک عدالت حکم نہیں دیتی حکومت خود سے کچھ نہیں کرتی : چیف جسٹس آف انڈیا

    نئی دہلی : مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کوداغدار اور ہندووں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف داخل کی گئی جمعیة علماءہند کی عرضی پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوان عدالت میں مرکزی حکومت نے حلف نامہ داخل کرتے ہوئے جمعیة علماءہند کی عرضداشت کو خارج کیئے جانے کی درخواست کی اور کہا کہ میڈیا کو خبریں نشر کرنے کی آزادی ہے

    جبکہ نیوز براڈ کاسٹ ایسو سی ایشن نے بھی حلف نامہ داخل کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ عرض گذار کو سپریم کورٹ سے شکایت کرنے سے پہلے اس کے سامنے مبینہ فیک نیوز چینلز کی شکایت کرنا چاہئے تھی اور اگر وہ اس پر کارروائی نہیں کرتے تب انہیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا نا چاہئے تھا۔

    اسی درمیان پریس کونسل آف انڈیا کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈوکیٹ پرتیش کپور نے کہا کہ ہم نے پچاس ایسے معاملات کو نوٹس لیا اور اس کی جانچ ہورہی ہے اور جلد اس پر فیصلہ جاری کریں گے، ایڈوکیٹ بھیمانی نے بھی کہا کہ انہیں بھی فیک نیوز کی سو سے زائد شکایتیں موصول ہوئی ہیں اوروہ اس پر کارروائی کررہے ہیں

    جس پر جمعیة علماءہند کی جانب سے بحث کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے نے چیف جسٹس آف انڈیا اے ایس بوبڑے ، جسٹس اے ایس بوپننا اور جسٹس رشی کیش رائے پر مشتمل تین رکنی بینچ کو بتایا کہ یہ لوگ کچھ نہیں کررہے ہیں ، دو ماہ سے زائد کا عرصہ گذر گیا ہے ابھی تک انہوں نے ایک شکایت پر مثبت کارروائی نہیں کی، بس عدالت میں بیان دے رہے ہیں کہ جانچ جاری ہے اور عدالت کا وقت ضائع کررہے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  وزیر اعظم نریند ر مودی نے کہا ’ لوگوں کی قربانی ، ریاضت کی وجہ سے ملی آزادی ‘

    ایڈوکیٹ دوے نے کہا کہ یہ تنظیمیں صرف ایڈوائزری تنظیمیں ہیں ، یہ کوئی ایکشن نہیں لے سکتی ہےں، صرف حکومت ایکشن لے سکتی ہے لہذا عدالت کو چاہئے کہ حکومت کو حکم جاری کرے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ ایکسپرٹ باڈی کی رائے طلب کررہے ہیں

    یہ بھی پڑھیں  ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک شرح پر رکھنا ممکن نہیں :سیتارمن

    اورایکسپرٹ باڈی کی رائے آنے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔دوران بحث ایڈوکیٹ دشینت دوے نے عدالت کو بتایا کہ اپریل ماہ میں وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے خودکہا تھا کہ کرونا بیماری کو مذہبی رنگ نہ دیا جائے اس کے بعد بھی نیوز چینلز نے اسے مذہبی رنگ دیا

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں ایکسپرٹ باڈی کی ضرروت ہے جو اس کی جانچ کریگی جس پر ایڈوکیٹ دوے نے کہا کہ ہم ابتک دو ماہ ضائع کرچکے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ رپورٹ طلب کررہے ہیںجس پر ایڈوکیٹ دوے نے کہا کہ رپورٹ طلب کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  شدید ٹھنڈ سے پورا شمالی ہندوستان دوچار

    جمعیةعلماءہند کی جانب سے داخل کی گئی عر ضداشت جس میں سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی عرض گذار بنے ہیں پربحث کرتے ہوئے ایڈوکیٹ دشینت دوے نے عدالت کو بتایا کہ پریس کونسل آف انڈیا اور نیوز براڈ کاسٹرس ایسو سی ایشن صرف ان کے ممبران پر کارروائی کرسکتی ہے

    لیکن اس معاملے میں کئی ایک ایسے ادارے بھی ہیں جو ان کے ممبر نہیں لہذا ان پر کاررائی کون کریگا؟ اس لیئے حکومت اس معاملے میں فیک نیوز چینلز پر کارروائی کرے۔ایڈوکیٹ دشینت دے نے عدالت کو بتایا اس معاملے میں حکومت بھی کچھ نہیں کررہی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ہمارا تجربہ ہے کہ جب تک ہم حکومت کو حکم دیتے حکومت کچھ نہیں کرتی ، چیف جسٹس نے یونین آف انڈیا کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ تشار مہتا کو کہا وہ ان کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ عدالت جب تک حکومت کو حکم نہیںدیتی کچھ نہیں کرتی۔

    اسی درمیان چیف جسٹس آف انڈیا نے نیوز براڈ کاسٹر ایسو سی ایشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے دریافت کیا کہ آیا یہ معاملہ ان کے پاس بھیجا جاسکتا ہے جس پر ایڈوکیٹ دوے نے کہا کہ عدالت کو اس معاملے پر خود فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ اس طرح سے صرف وقت ضائع ہورہا ہے جس پر عدالت نے ایڈوکیٹ دوے کو کہا کہ وہ ان کی عرضداشت پر سماعت دو ہفتہ کے لیئے ملتوی کررہے ہیں اور اس درمیان ایکسپرٹ باڈی اور دیگر اداروں کو ان کی رائے داخل کرنے کا حکم دیا۔

    یہ بھی پڑھیں  افغانستان دنیا کا سب سے زیادہ جان لیوا جنگی ملک : یونیسیف
    یہ بھی پڑھیں  افغانستان دنیا کا سب سے زیادہ جان لیوا جنگی ملک : یونیسیف

    دوران بحث ایڈوکیٹ دوے نے عدالت کو بتایا کہ صحافتی اصول کا تو یہ تقاضہ ہے کہ کوئی بھی خبر شائع یا نشرکرنے سے پہلے اس بات کی باضابطہ طورپر تصدیق کی جائے کہ آیا خبر میں جو کچھ کہا گیا ہے صحیح ہے یاغلط مگر میڈیا ایسانہیں کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ ہماراقانون یہ بھی کہتاہے کہ اس طرح کی کوئی خبر شائع یا نشرنہیں کی جانی چاہئے جس سے کسی شخص یا فرقہ کی بدنامی یا دل آزاری ہویا جس سے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں ۔

    اس سے قبل گزشتہ سماعت کے موقع پر ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجازمقبول نے عدالت کی توجہ ان دیڑھ سو چینلوں اور اخبارات کی جانب دلائی تھی جس میں انڈیا ٹی وی،زی نیوز، نیشن نیوز،ری پبلک بھارت،ری پبلک ٹی وی،شدرشن نیوز چینل اور بعض دوسرے چینلوں کی جانب دلائی تھی جنہوں نے صحافتی اصولوں کو تار تار کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی ناپاک سازش کی تھی۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    مرکزی حکومت کی گائڈ لائنس کو دیکھتے ہوئے عبادت گاھوں میں عبادت کی جاسکتی ھے

    سھارنپور : ایک اھم میٹنگ 29ستمبر شام 5بجے ضلع مجسٹریٹ سھارنپورجناب اکھلیش سنگھ نے بلائ جس میں ضلع کے...

    محکمۂ فلاح وبہبود کو ملی بڑی کامیابی ، 6 بچہ مزدوروں کو پولس نے کیا رہا

    ہاپوڑ (سید اکرام) محکمۂ فلاح و بہبود برائے اطفال نے مہم چلا کر چند بچہ مزدور کو رہائی دلائی...

    سی بی آئی عدالت کے فیصلہ سے عقل حیران ہے کہ پھر مجرم کون؟

    صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے بابری مسجد ملزمین کے تعلق سے دیے گئے فیصلہ پر...

    بابری مسجد انہدام سانحہ : ملزمین ایل کے اڈوانی،جوشی،اوما بھارتی،کلیا ن سنگھ سمیت تمام 32 ملزمین کو کیابری

    لکھنؤ : اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ایس بی آئی کی اسپیشل عدالت نے 28سال پرانے بابری مسجد مسماری...

    یوپی میں امن وامان بہت خراب ہورہا ہے ، ہاترس میں تین اگست سے تین عصمت دری کے واقعات ہوچکے ہیں : سوربھ بھاردواج

    نئی دہلی : اترپردیش میں عصمت دری کے بڑھتے ہوئے واقعات ، برہمن اور دلت سماج کے خلاف تیزی...

    بھیم آرمی چیف چندر شیکھر آزاد عصمت دری کی شکار ہونے والی لڑکی سے اے ایم یو جے این میڈیکل کالج ملنے پہنچے

    علیگڑھ : علی گڑھ میں بھیم آرمی اور آزاد سماج پارٹی کے قومی صدر چندرشیکھر آزاد ہاتھراس کے تھانہ...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you