رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    امت شاہ اور مولانا محمود مدنی کی ملاقات،جانیں کن مدعوں پر ہوئی بات؟

    نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کی قیادت میں مسلمانوں کے ایک وفد نے آج بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ سے ان کی رہائش گاہ کرشنا مینن مارگ پر ملاقات کی اور ملک و ملت کو درپیش کئی اہم اور سلگتے مسائل پر دو ٹوک گفتگو کی۔ اس وفد میں سربراہ کے علاوہ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی، امیر جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، مفتی محمد سلمان منصورپوری رکن مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند، مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃ علما ء ہند، مولانا متین الحق اسامہ کانپور صدر جمعیۃ علماء اترپردیش، مولانا حافظ پیر شبیر احمد حیدر آباد، شکیل احمدسید رکن مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند، مولانا حافظ ندیم صدیقی صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹرا، مولانا معزالدین احمد،مولانا یحیی کریمی میوات، مفتی محمد عفان منصورپوری اور حبیب فاروقی ممبئی شامل تھے۔ملاقات کے وقت جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے حالیہ اجلاس مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند میں منظور کردہ تجاویز کا ہندی ایڈیشن پیش کیا اور کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی منتظمہ کمیٹی ایسے ممبروں پر مشتمل ہے جو ملک کے ہر حصے اور ہر صوبے کے مسلمانوں کی قیادت کرتے ہیں۔مولانا مدنی نے کہا کہ اگرچہ حکومت کے ساتھ بہت سی باتوں میں ہمارا اختلاف ہے لیکن جہاں ملکی مفاد کی بات کرے گی تو ہم ملک کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔اسی لیے ہماری منتظمہ کمیٹی نے کشمیر کے موضوع پر قرار داد میں صاف کہا ہے کہ کشمیر اور کشمیری سب ہمارے ہیں

    یہ بھی پڑھیں  جے پور سلسلہ وار بم دھماکہ معاملہ ، جمعیة علماءہند کی قانونی مدد کے نتیجے میں شہباز7 مقدمات میں بری اور 2میں رہا

    ہم ان کو الگ نہیں کرسکتے اور ہندستانی مسلمان ہر طرح کی علیحدگی پسندی کے خلاف ہے اور جمعیۃ علماء ہند پہلے ہی سے متحدہ ہندستان کی حامی رہی ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ جہاں تک این آرسی کا مسئلہ ہے تو آسام کے حوالے سے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش اور پورے ملک میں نفاذ سے متعلق آپ کے بیانات کو دھمکی بنا کر پیش کیا جارہا ہے، اگر آپ کی طرف سے مناسب وضاحت ہو تو یہ قومی مفاد میں بہتر ہوگا۔ اسی طرح ہم نے یو اے پی اے کی ترمیمات سے متعلق تجویز منظور کی ہے، ہم نے مانا کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ترمیم ناگزیر ہے، لیکن اس کے سا تھ پولس اور انتظامیہ کے ذریعہ ناجائزطاقت کے استعمال کا سدباب بھی ضروری ہے۔ان تمام معروضات کے سننے کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دفعہ 370 کا ختم کرنا کشمیریوں کے مفاد میں ہے، اس دفعہ سے کشمیری عوام کو فائدہ کے بجائے نقصان تھا جس کی انھوں نے کئی مثالیں بھی پیش کیں تاہم انھوں نے یقین دلایا کہ اس کی وجہ سے کشمیریوں کی تہذیب کو ہرگز متاثر نہیں ہو نے دیں گے۔ اس پر مفتی محمد سلمان منصورپوری نے کہا کہ کشمیر میں میڈیا و دیگر ذرائع پر پابندی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی لاحق ہے،ا س لیے اس کا فوری حل نکلناچاہیے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کشمیر میں 196 پولس اسٹیشن ہیں، ان میں صرف سات میں 144 نافذ ہے، کرفیو نہیں ہے، صرف چودہ پولیس اسٹیشنوں پر رات میں کرفیو نافذ ہوتاہے، جہاں تک موبایل بند کرنے کا قضیہ ہے تو اس کی وجہ پاکستان کے ذریعہ سوشل میڈیا پروپیگنڈا ہے۔جس طرح کے اشتعال انگیز فرضی مواد شائع کیے جارہے ہیں ان سے امن و امان کو شدید خطرہ لاحق ہے ،

    یہ بھی پڑھیں  میگما فاؤنڈیشن غریبوں کی صحت کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ 2021 کوخوش آمدید کہنے کے لئے تیار
    یہ بھی پڑھیں  میڈیا کی متعصبانہ رپورٹنگ کے خلاف جمعیة علماء ہند سپریم کورٹ میں

    لیکن ہم نے متبادل کے طور پر لینڈ لائن فون کا انتظام کیا ہے اور کوئی بھی شخص چھ گھنٹے کے اندر یہ سروس حاصل کرسکتا ہے،مزید یہ کہ ہم نے ایک ہزار پی سی او لگائے ہیں تا کہ لوگ رابطہ کرسکیں، لیکن جو دور دراز کا علاقہ ہے، وہاں تھوڑی پریشانی ہے،۔اسکول کھول دیے گئے ہیں، تاہم ہم لوگوں پر جبر نہیں کرتے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حالات نارمل ہورہے ہیں او رہم اس کے لیے ہر طرح سے کوشاں ہیں۔صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کے این آرسی سے متعلق وضاحت طلب کیے جانے پر وزیر داخلہ نے کہا کہ این آرسی کے سلسلے میں لوگوں کو خائف ہو نے کوئی ضرور ت نہیں ہے، آسام کے سلسلے میں ہم نے سرکولر جاری کیا ہے کہ جن لوگوں کا نام شامل نہیں ہوا تو ہم ان کے لیے سرکاری طور سے مفت قانونی خدمت فراہم کریں گے اور اگر کوئی شحص خود اپنا وکیل کرلے تو ہم اس کا خرچ بھی برداشت کریں گے۔ ہم آپ سے کہتے ہیں کہ آپ چار پانچ لوگوں کا وفد لے کر آسام جائیں اور اس پورے معاملے کی تحقیق کیجئے۔انھوں نے بتایا کہ جہاں تک پورے ملک میں این آرسی کی بات ہے تو دنیا کا کوئی ایک ملک بتا دیجئے جہاں این آرسی نہ ہوا۔ ہمارا مقصد اقلیتوں کو ہراساں کرنا نہیں ہے، ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ کوئی بھی شخص مذہب کی بنیاد پر زد میں نہ آئے۔

    یہ بھی پڑھیں  کشمیر: ٹرانسپورٹ کی مسلسل معطلی سے طلبا پریشان

    1 COMMENT

    1. جمعیتہ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصور پوری دامت برکاتہم العالیہ اور جنرل سیکریٹری حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی قیادت میں ملت اسلامیہ ہند کے مؤقر حضرات علمائے کرام کی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ صاحب سے ملاقات ایک مستحسن اقدام ہے اس کی جتنی پذیرائی کی جائے کم ہے اب وقت آگیا ہے کہ حکومت وقت سے ملت کے مسائل کے حل کے لئے گاہے بہ گاہے گفتگو کرتے رہنا چاہئے اور اپنے اختلافات اور خدشات سے بھی آگاہ کراتے رہنا چاہئے

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    نرسنگھا نند سروسوتی کے بیان سے ہندوستان کی شبیہ دنیا میں داغدار ہوئی

    گستاخ رسول کے خلاف دیئے گئے اپنے بیان پر قائم،میرا بیان ہندوستان کے آئن کے مطابق،پارلیمینٹ اسٹریٹ تھانہ پہونچ...

    نرسنہانند پر کارروائی کے لئے صدر جمہوریہ کو میمورنڈم

    وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو بھی کاپی،چیئرمین امانت اللہ خان نے درج کرائی تھی شکایت،مساجد کے ممبروں سے...

    آج کسان ایم ایس پی کی لڑائی لڑ رہے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ تین زرعی قوانین کے نفاذ کے بعد کتنا تکلیف...

    نئی دہلی : دہلی کی منڈیوں میں کاؤنٹر لگا کر ایف سی آئی کی جانب سے گندم کی خریداری...

    وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے بے گھر کنبے کے لئے فلیٹ شفٹ کرنے کے لئے ‘جہاں کچی آبادی ،وہیں مکان’ اسکیم کا جائزہ لیا

    نئی دہلی : وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کچی بستیوں میں رہنے والے خاندانوں کے لئے ' جہاں جھگی...

    لال مسجد معاملہ ، 29اپریل تک کسی طرح کا ایکشن نہ لینے کی مرکز نے کرائی یقین دہانی

    مسجد کو شہید کرنے کی ہورہی ہے سازش،وقف بورڈ نے دکھائی مستعدی،پولیس انتظامیہ کے ذریعہ مسجد شہید کرنے کی...

    امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی وفات پر ملت ٹائمز کے زیر اہتمام تعزیتی نشست کا انعقاد

    نئی دہلی : امیر شریعت مولانا ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ کے سانحہ ارتحال پر ملت ٹائمز کے زیر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you