قومی نیوز امت شاہ اور مولانا محمود مدنی کی ملاقات،جانیں کن...

امت شاہ اور مولانا محمود مدنی کی ملاقات،جانیں کن مدعوں پر ہوئی بات؟

نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کی قیادت میں مسلمانوں کے ایک وفد نے آج بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ سے ان کی رہائش گاہ کرشنا مینن مارگ پر ملاقات کی اور ملک و ملت کو درپیش کئی اہم اور سلگتے مسائل پر دو ٹوک گفتگو کی۔ اس وفد میں سربراہ کے علاوہ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی، امیر جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، مفتی محمد سلمان منصورپوری رکن مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند، مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃ علما ء ہند، مولانا متین الحق اسامہ کانپور صدر جمعیۃ علماء اترپردیش، مولانا حافظ پیر شبیر احمد حیدر آباد، شکیل احمدسید رکن مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند، مولانا حافظ ندیم صدیقی صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹرا، مولانا معزالدین احمد،مولانا یحیی کریمی میوات، مفتی محمد عفان منصورپوری اور حبیب فاروقی ممبئی شامل تھے۔ملاقات کے وقت جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے حالیہ اجلاس مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند میں منظور کردہ تجاویز کا ہندی ایڈیشن پیش کیا اور کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی منتظمہ کمیٹی ایسے ممبروں پر مشتمل ہے جو ملک کے ہر حصے اور ہر صوبے کے مسلمانوں کی قیادت کرتے ہیں۔مولانا مدنی نے کہا کہ اگرچہ حکومت کے ساتھ بہت سی باتوں میں ہمارا اختلاف ہے لیکن جہاں ملکی مفاد کی بات کرے گی تو ہم ملک کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔اسی لیے ہماری منتظمہ کمیٹی نے کشمیر کے موضوع پر قرار داد میں صاف کہا ہے کہ کشمیر اور کشمیری سب ہمارے ہیں

یہ بھی پڑھیں  دہلی حکومت ہر قدم پر پوروانچلیس کے ساتھ ہے : دلیپ پانڈے

ہم ان کو الگ نہیں کرسکتے اور ہندستانی مسلمان ہر طرح کی علیحدگی پسندی کے خلاف ہے اور جمعیۃ علماء ہند پہلے ہی سے متحدہ ہندستان کی حامی رہی ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ جہاں تک این آرسی کا مسئلہ ہے تو آسام کے حوالے سے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش اور پورے ملک میں نفاذ سے متعلق آپ کے بیانات کو دھمکی بنا کر پیش کیا جارہا ہے، اگر آپ کی طرف سے مناسب وضاحت ہو تو یہ قومی مفاد میں بہتر ہوگا۔ اسی طرح ہم نے یو اے پی اے کی ترمیمات سے متعلق تجویز منظور کی ہے، ہم نے مانا کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ترمیم ناگزیر ہے، لیکن اس کے سا تھ پولس اور انتظامیہ کے ذریعہ ناجائزطاقت کے استعمال کا سدباب بھی ضروری ہے۔ان تمام معروضات کے سننے کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دفعہ 370 کا ختم کرنا کشمیریوں کے مفاد میں ہے، اس دفعہ سے کشمیری عوام کو فائدہ کے بجائے نقصان تھا جس کی انھوں نے کئی مثالیں بھی پیش کیں تاہم انھوں نے یقین دلایا کہ اس کی وجہ سے کشمیریوں کی تہذیب کو ہرگز متاثر نہیں ہو نے دیں گے۔ اس پر مفتی محمد سلمان منصورپوری نے کہا کہ کشمیر میں میڈیا و دیگر ذرائع پر پابندی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی لاحق ہے،ا س لیے اس کا فوری حل نکلناچاہیے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کشمیر میں 196 پولس اسٹیشن ہیں، ان میں صرف سات میں 144 نافذ ہے، کرفیو نہیں ہے، صرف چودہ پولیس اسٹیشنوں پر رات میں کرفیو نافذ ہوتاہے، جہاں تک موبایل بند کرنے کا قضیہ ہے تو اس کی وجہ پاکستان کے ذریعہ سوشل میڈیا پروپیگنڈا ہے۔جس طرح کے اشتعال انگیز فرضی مواد شائع کیے جارہے ہیں ان سے امن و امان کو شدید خطرہ لاحق ہے ،

یہ بھی پڑھیں  آڈ ایون کے ذریعے دہلی میں آلودگی کو کم کریں : اروند کیجریوال
یہ بھی پڑھیں  ہجومی تشدد کاشکار پہلو خاں سمیت چار کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ

لیکن ہم نے متبادل کے طور پر لینڈ لائن فون کا انتظام کیا ہے اور کوئی بھی شخص چھ گھنٹے کے اندر یہ سروس حاصل کرسکتا ہے،مزید یہ کہ ہم نے ایک ہزار پی سی او لگائے ہیں تا کہ لوگ رابطہ کرسکیں، لیکن جو دور دراز کا علاقہ ہے، وہاں تھوڑی پریشانی ہے،۔اسکول کھول دیے گئے ہیں، تاہم ہم لوگوں پر جبر نہیں کرتے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حالات نارمل ہورہے ہیں او رہم اس کے لیے ہر طرح سے کوشاں ہیں۔صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کے این آرسی سے متعلق وضاحت طلب کیے جانے پر وزیر داخلہ نے کہا کہ این آرسی کے سلسلے میں لوگوں کو خائف ہو نے کوئی ضرور ت نہیں ہے، آسام کے سلسلے میں ہم نے سرکولر جاری کیا ہے کہ جن لوگوں کا نام شامل نہیں ہوا تو ہم ان کے لیے سرکاری طور سے مفت قانونی خدمت فراہم کریں گے اور اگر کوئی شحص خود اپنا وکیل کرلے تو ہم اس کا خرچ بھی برداشت کریں گے۔ ہم آپ سے کہتے ہیں کہ آپ چار پانچ لوگوں کا وفد لے کر آسام جائیں اور اس پورے معاملے کی تحقیق کیجئے۔انھوں نے بتایا کہ جہاں تک پورے ملک میں این آرسی کی بات ہے تو دنیا کا کوئی ایک ملک بتا دیجئے جہاں این آرسی نہ ہوا۔ ہمارا مقصد اقلیتوں کو ہراساں کرنا نہیں ہے، ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ کوئی بھی شخص مذہب کی بنیاد پر زد میں نہ آئے۔

یہ بھی پڑھیں  ہجومی تشدد کاشکار پہلو خاں سمیت چار کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ

1 COMMENT

  1. جمعیتہ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصور پوری دامت برکاتہم العالیہ اور جنرل سیکریٹری حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی قیادت میں ملت اسلامیہ ہند کے مؤقر حضرات علمائے کرام کی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ صاحب سے ملاقات ایک مستحسن اقدام ہے اس کی جتنی پذیرائی کی جائے کم ہے اب وقت آگیا ہے کہ حکومت وقت سے ملت کے مسائل کے حل کے لئے گاہے بہ گاہے گفتگو کرتے رہنا چاہئے اور اپنے اختلافات اور خدشات سے بھی آگاہ کراتے رہنا چاہئے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest news

ہندستانی مسلمان یعنی چکن خوروں کی بھیڑ

سیف ازہر جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ چکن کھانا حرام نہیں بلکہ حلال...

سعودی عرب کے خلاف سازشوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی

واشنگٹن : امریکی ویب سائٹ " The Intercept" نے ایرانی انٹلیجنس کی خفیہ دستاویزات کے حوالے سے بتایا ہے...

بابری مسجد -رام مندر تنازع پر فیصلہ :نظرثانی کی درخواست آئینی حق ہے ، عدالت کی توہین نہیں

عبد الماجد نظامی ( کالم نگار ہند نیوز اخبار کے چیف ایڈیٹر ہیں) ؍9 نومبر ہندوستانی جمہوریت کا ایک تاریخی دن...

پریشان نہ ہوں ، میں رجسٹری کراکر دوںگا : کجریوال

نئی دہلی:دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں کچی کالونیوں کا بل نہ لانے...

اے پی جے عبدالکلام کی یاد میں فیس گروپ کی تقریب ، نمایاںکام انجام دینے والوں کو ڈاکٹر کلام اسمرتی ایکسی لینس ایوارڈ

نئی دہلی:اے پی جے عبدالکلام کی یاد میں فیس گروپ کے زیر اہتمام جے پی ہوٹل پڑ پڑ گنج...

دہلی سرکار کے خلاف کانگریس نے کیا چکہ جام

نئی دہلی:دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر سر سبھاش چوپڑا کی قیادت میں آج سینکڑوں کانگریس ورکرس اور عام...

Must read

ہندستانی مسلمان یعنی چکن خوروں کی بھیڑ

سیف ازہر جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی سب سے پہلے یہ...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you