رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دروازے پر اردو میں نام نہ لکھنے پر محبان اردو ناراض

    علی گڑھ : اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ذریعہ منٹو سرکل (پرانی چنگی) پر بنائے گئے دروازے پر اس کا نام اردو میں نہ لکھنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ مذکورہ تنظیموں نے اردو میڈیا کو پریس رلیز جاری کر کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ۰۰۱سال مکمل ہونے جارہے ہیں، اس موقع پر یونیورسٹی انتظامیہ نے باب سید کی طرز پر ایک شاندار دروازے کی تعمیر کی ہے۔ جس پردونوں جانب انگریزی میں سینٹنری گیٹ (Centenary Gate)لکھا گیا ۔ جےسے ہی محبان اردو کی نظر اس پر پڑی ان میں چی می گوئیاں شروع ہونے لگی اور اردو داں عوام اس پر سخت افسوس کا اظہار کرنے لگی۔

    اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے صدر کلیم تیاگی نے اپنے بیان میں کہا کہ اردو ہماری مادری زبان ہے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اردو کو ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے ۔ سابق وائس چانسلر محمود الرحمن نے جب یونیورسٹی میں دروازے کی تعمیر کرائی تو اس پر جلی حروف میں اردو زبان میں ”بابِ سید“ درج کرایا جو اس دروازے کی شان کو دوبالا کرتا ہے اور ساتھ ہی اردو زبان سے محبت کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ لیکن موجود دور میں یہاں کے وائس چانسلر اور ان کے مشیروں نے اِس نئے دروازے پر اردو کو سرے سے ختم کر دیا ہے۔ جو نہایت ہی تشویش ناک اور قابل تردید ہے۔ انہوں نے کہا ہم سب محبان اردو اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اس دروازے کے افتتاح سے ہی قبل ہی اس پر اردومیں ”صدی دروازہ “ لکھوانے کا مطالبہ کرتے ہیں علاوہ ازیں محبان اردو اس کے خلاف تحریک چلانے کا کام کریں گے۔

    یہ بھی پڑھیں  عراق : احتجاجی مظاہروں میں 31 افراد کی ہلاکتوں پر عوام میں غم و غصہ

    اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن کے سرپرست کنور نسیم شاہد نے کہا سر سید احمد خاں نے جب یہ ادارہ قائم کیا تو اسی سوچ کے ساتھ قائم کیا تھا کہ ہماری قوم کے بچے انگریزی اور دیگر علوم کے ساتھ اردو زبان سے بھی روشناس ہوں گے۔ مگر دیکھنے میں آرہا ہے کہ یونیورسٹی میں سے اردو کو آہستہ آہستہ ختم کیا جارہا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ یونیورسٹی کے اردو اور دینیات شعبے کو چھوڑ کر کہیں بھی شعبے کا نام اردو میں نہیں لکھا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ سب سے بڑا ظلم یہ کیا جارہا ہے کہ نو تعمیر شدہ دروازے پر اردو کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ہم وائس چانسلر کو دروازہ بنوانے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی اردو میں نام نہ لکھنے پر شدید مزمت کرتے ہیں۔ اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن اور تمام محبان اردو میں اس بات کو لیکر بیچینی ہے لہٰذا وائس چانسلر کو چاہےے کہ اس پر سنجیدگی سے غور کرے اور فوراً انگریزی سے اوپر اردو میں دروازے کا نام لکھوائےں۔ ورنہ ہم احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اور اس کی پوری ذمہ داری وائس چانسلر کی ہوگا۔

    یہ بھی پڑھیں  شاہین باغ مظاہرہ: پیسہ لے کر احتجاج کرنے کے الزام پر خواتین نے بھیجا بی جے پی آئی ٹی سیل سربراہ امت مالویہ کو نوٹس
    یہ بھی پڑھیں  شاہین باغ مظاہرہ: پیسہ لے کر احتجاج کرنے کے الزام پر خواتین نے بھیجا بی جے پی آئی ٹی سیل سربراہ امت مالویہ کو نوٹس

    معروف قلم کار انجینئر محمد سمیع الدین ، مشہور شاعر مشرف حسین محضر اور اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے قومی صدر مبین خاں نے کہا کہ یونیورسٹی وائس چانسلر آر ایس ایس ذہنیت رکھتے ہیں اور اردو کے دشمن کے طور کام کررہے ہیں جبکہ یہ یونیورسٹ ادب کا گہوارا ہے ۔ہم اس ذہنیت رکھنے والے سبھی لوگوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور گنگا جمنی تہذیب رکھنے والے اردو زبان کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں ساتھ ہی فوراً وائس چانسلر سے مانگ کرتے ہیں کہ اس موضوع پر فوراً ایکشن لےں ۔

    اس کے علاوہ حاجی محمد افضال، عبدالواجد، انجینئر محمد رفیع، منصور احمد، نقی الظفر،اور نے بھی سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ جتنی جلدی ہو سکے اس پر اردو میں ”صدی دروازہ“ لکھوایا جائے۔ ورنہ موجودہ وائس چانسلر کو تاریخ میں اردو دشمن لکھاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اردو میں نہیں لکھا جائے گا تو پھر کہا لکھا جائے گا؟ ہم سب کو اس پر بہت افسوس ہے جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  دلوں میں لگے زنگ کو صاف کرنے کیلئے اللہ کا ذکر ضروری:مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  عراق : احتجاجی مظاہروں میں 31 افراد کی ہلاکتوں پر عوام میں غم و غصہ

    Latest news

    کورونااورلاک ڈاؤن بھی نفرت کے وائرس کو ختم نہیں کرسکے

    مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا یہ خطرناک کھیل آخر کب تک؟: مولانا...

    مسلمانوں سے متعلق میڈیا کا دہرا رویہ تشویشناک ، گرفتاریوں کا ڈھنڈورا لیکن عدالت سے رہائی کا کوئی ذکر نہیں : مولاناارشدمدنی

    نئی دہلی : بنگلور سیشن عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سے ڈسچار ج کیئے گئے تریپورہ...

    ہماری سرکار اردو کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے : وزیراعلیٰ،دہلی

    وائس چیئرمین اکادمی حاجی تاج محمد سے خصوصی ملاقات میں متعلقہ مسائل کے حل کی یقین دہانی نئی دہلی :...

    جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے اور وہ راشن لینا چاہتے ہیں، وہ مرکز میں آکر راشن لے سکتے ہیں: گوپال رائے

    نئی دہلی : دہلی کے وزیر ترقیات گوپال رائے نے آج بابرپور کے علاقے کردمپوری میں پرائمری اسکول میں...

    رام مندر کے لئے ، 12080 مربع میٹر اراضی 18.50 کروڑ میں خریدی گئی ، جبکہ اس سے متصل 10370 مربع میٹر اراضی صرف...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور اترپردیش انچارج سنجے سنگھ نے رام مندر کے لئے...

    نائب وزیر اعلی اور وزیر خزانہ منیش سسودیا نے غیر ضروری سرکاری اخراجات کو کم کرنے کا حکم جاری کیا

    نئی دہلی : کورونا کی وجہ سے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ، دہلی حکومت نے اخراجات کے...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you