رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    لکھنؤ گیسٹ ہاؤس تنازعہ ،ختم ہوئی ایس پی-بی ایس پی کی سیاسی دشمنی

    لکھنؤ: لوک سبھا انتخابات ختم ہوتے ہی اکھلیش یادو اور مایاوتی کے درمیان اگرچہ سیاسی اتحاد ختم ہو گیا ہو لیکن اس دوران دو سیاسی دشمنوں میں اس قدر نزدیکیاں بڑھیں کہ مایاوتی نے ملائم سنگھ یادو کے خلاف چل رہے گیسٹ ہاؤس معاملے کو واپس لینے کی عرضی دے دی۔ . اس پر سپریم کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے گیسٹ ہاؤس کیس کو دونوں طرف کی رضامندی پر ختم کر دیا۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے وقت بی ایس پی کے سیکرٹری جنرل ستیش چندر مشرا کی نگرانی میں بی ایس پی اور ایس پی کے اتحاد کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

    اس میں ستیش چندر مشرا کے ایک رشتہ دار ایڈووکیٹ نے بھی کردار ادا کیا۔انتخابات کے دوران باہمی رضامندی سے سیٹوں کی تقسیم ہوئی اور دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کی سیٹوں پر جاکر انتخابی مہم بھی چلائی۔ مایاوتی اپنے سیاسی حریف ملائم سنگھ کی مین پوری سیٹ پر انتخابی مہم چلانے گئیں اور لکھنؤ کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس معاملے کے بعد پہلی بار دونوں رہنما ایک ساتھ اسٹیج پر نظر آئے۔لوک سبھا انتخابات میں بی ایس پی کو 10 نشستیں اور ایس پی کو پانچ سیٹیں ملنے کے بعد اتحاد ٹوٹ گیا اور دونوں پارٹیاں الگ الگسیاسی مدعوں پر چلنے کے لئے آزاد ہو گئیں۔ اس کے بعد ریاست کی 11 سیٹوں پر ہوئے ضمنی اسمبلی انتخابات ایس پی اور بی ایس پی الگ الگ لڑیں۔

    یہ بھی پڑھیں  کانگریس نے امت شاہ کے استعفیٰ کاکیامطالبہ

    اس میں ایس پی کو تین سیٹیں ملیں لیکن بی ایس پی کھاتہ بھی نہیں کھول سکی۔ یہ الگ بات ہے کہ دونوں پارٹیاں لوک سبھا انتخابات ختم ہوتے ہی الگ ہو گئیں لیکن اسی درمیان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑھی قربتوں نے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی دشمنی بھول جانے کی بنیاد ڈال دی۔ اسی کا نتیجہ رہا کہ سماج وادی پارٹی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو کے خلاف چل رہے گیسٹ ہاؤس کیس کو ختم کرنے کے لئے سماج وادی پارٹی کی جانب سے پیش کش کی گئی۔ اسی کے بعد 26 فروری 2019 کو سپریم کورٹ میں ججوں این وی رمنا، اندرا بنرجی اور ہیمنت گپتا کی بنچ کے سامنے مایاوتی کی وکیلوںنے 24 سالہ گیسٹ ہاؤس کیس کو واپس لینے کی عرضی لگا دی۔

    یہ بھی پڑھیں  ڈمریہ گنج میں پریس بلڈنگ کے لئے اراکین اسمبلی کی زمین کا نشان لگانا انڈین جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی کامیابی اور صحافیوں کی یکجہتی کا نتیجہ ہے: ہاشم رضوی

    حالانکہ بی ایس پی کا لوک سبھا انتخابات کے بعد ایس پی سے اتحاد ٹوٹ گیا اور دونوں پارٹیاں مختلف سیاسی راہ پر چلنے کو آزاد ہو گئیں لیکن اس دوران مہمان ہاؤس کیس ختم کرنے کی عرضی کام کر چکی تھی۔ ملائم سنگھ یادو نے 1992 میں سماجوادی پارٹی تشکیل دی تھی۔ 1993 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی-بی ایس پی کا اتحاد ہوا۔ اس وقت بی ایس پی کی کمان کانشی رام کے پاس تھی۔ اس الیکشن میں ایس پی 256 اور بی ایس پی 164 اسمبلی سیٹوں پر انتخابات لڑے۔ا یس پی کو 109، بی ایس پی کو 67 سیٹیں ملیں۔ اس دوران 1995 میں ایس پی-بی ایس پی کے رشتے خراب ہو گئے۔ 1993 میں ملائم سنگھ کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بی ایس پی اور بی جے پی کے درمیان نزدیکیاں بڑھنے لگی تھیں۔ اس لئے ایس پی کو اندیشہ تھا کہ بی ایس پی کبھی بھی حکومت سے حمایت واپس لے سکتی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  ‎ملک کے تمام مذہبی ، سماجی ادارے اور مقامات نے کورونا کے دورمیں صبر، احتیاط اور ضابطے کی بہترین مثال پیش کی ہے : عباس نقوی

    ایسے میں 2 جون 1995 کو مایاوتی جب اپنے ممبران اسمبلی کے ساتھ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں میٹنگ کر رہی تھیں تو اس کی اطلاع جب ایس پی کے لوگوں کو ہوئی تو اس کے بہت سے حامی وہاں پہنچ گئے۔ ایس پی حامیوں نے وہاں جم کر ہنگامہ کیا۔ بی ایس پی ممبران اسمبلی کے ساتھ مارپیٹ تک کی گئی۔ مایاوتی نے اس پورے ڈرامے کو اپنے قتل کی سازش بتایا اور ملائم حکومت سے حمایت واپس لے لیا۔ بی جے پی نے بی ایس پی کو حمایت دینے کا خط گورنر کے حوالے کر دیا۔ اگلے ہی دن مایاوتی ریاست کی پہلی دلت وزیر اعلیٰ بن گئیں۔

    اسی وقت 2 جون 1995 کو گیسٹ ہاؤس کیس کے بعد اتحاد ٹوٹ گیا۔ اتر پردیش کی سیاست میں دو جون 1995 کا دن اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس کیس کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔مایاوتی پر حملے کرنے کے معاملہ میں ملائم سنگھ یادو، شیوپال سنگھ یادو، سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر دھنی رام ورما، محمد اعظم خاں، بینی پرساد ورما سمیت کئی رہنماؤں کے خلاف حضرت گنج کوتوالی میں تین مقدمے درج کئے گئے تھے۔

    یہ بھی پڑھیں  کورونا وائرس : نظام الدین مرکز سے منسلک 9 افراد ہلاک، 24 متاثر

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  دہلی کے پرگتی میدان میں شروع ہوا نو روزہ عالمی کتاب میلہ

    Latest news

    کیجریوال حکومت کے بروقت لاک ڈاؤن نے دہلی میں کوویڈ 19 میں انفیکشن کی شرح کو کم کردیا

    نئی دہلی : دہلی حکومت کی کاوشوں اور بہتر کوویڈ انتظامیہ کی وجہ سے ، انفیکشن کی شرح میں...

    پچھلے سال دہلی حکومت نے آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو 5-5 ہزار روپے دے کر مدد کی تھی: اروند کیجریوال

    نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی سربراہی میں ، مالی تنگدستیوں سے نبرد آزما غریب خاندانوں...

    دارالعلوم دیوبند کے استاذ عربی مولانا نورعالم امینی کے سانحہ ارتحال پر صدرجمعیۃعلماء ہند وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند مولانا ارشدمدنی نے کیا رنج وغم...

    نئی دہلی : دارالعلوم دیوبند کے استاذعربی مولانا نورعالم امینی کے سانحہ ارتحال پر صدرجمعیۃعلماء ہند وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند...

    نوجوانوں میں ویکسینیشن کا جوش و خروش، بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی وجہ سے کورونا ہاریگا : نائب وزیر اعلی

    نئی دہلی : دہلی حکومت نے پیر سے 18 سے 45 سال کے درمیان لوگوں کے لئے مفت کورونا...

    کورونا کا قہر جاری عوام کی رائے سے دہلی میں ایک ہفتہ کےلئے اور لاک ڈاؤن بڑھایا جارہا ہے : اروند کیجریوال

    کورونا کا انفیکشن 37 سے گھٹ کر 30 فیصد ہوگیا ہےلیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کورونا ختم ہونے...

    94 سالہ شخص کو سپریم کورٹ نے عبوری راحت دی

    جولائی تک پیرول میں توسیع کردی، 27 سال بعد گھر پر عید منا سکیں گے ڈاکٹر حبیب : گلزار...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you