رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    لکھنؤ : سی اے اے کے خلاف احتجاج میں شامل خواتین کے ساتھ پولیس نےکی زیادتی

    لکھنؤ:لکھنؤ کے گھنٹہ گھر علاقے میں چل رہے شہریت ترمیم قانون (سی اے اے ) کے خلاف مظاہرہ پر پولیس کی کارروائی کے بعد اب وہاں دفعہ 144 لگا دی گئی ہے۔ پولیس کمشنر سجیت پانڈے نے علاقے میں دفعہ 144 لگانے کا حکم دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے دفعہ 144 لگانے کی وجہ ڈیفنس ایکسپو بتایا ہے۔دریں اثناء کارروائی میں مظاہرین سے کھانے پینے کا سامان اور کمبل پر قبضہ کر لیا گیا اور وہاں بھاری تعداد میں پولیس فورس بھی تعینات کر دی گئی ہے۔

    اگرچہ ایسا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ پرامن طریقے سے ہو رہے مخالفت-کارکردگی پر پولیس کی اس کارروائی سے ماحول گرما سکتا ہے۔ مظاہرین میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین شامل تھی ،جن کے ساتھ ان کے چھوٹے بچے بھی تھے۔ دراصل پولیس یہ چاہتی ہے کہ خواتین کے ساتھ بغیر کسی زور وزبردستی یا دھکامکا اور انہیں جیل بھیجے بغیر اس مظاہرے کو ختم کردیا جائے کیونکہ خواتین کے ساتھ اگر کچھ برا ہوتا ہے۔ تو پولیس سوال کھڑے ہوسکتے ہیں اور اس کا اثر پورے ملک میں پڑسکتا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق دراصل جمعہ کی دو پہر تقریباً 12.30 بجے تقریباً 12 خواتین گھنٹہ گھر کے نیچے آکر بیٹھ گئیں۔ یہ علاقہ ہیریٹیج زون کے تحت آتا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  کشمیر ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے : جرمنی کے سفیر مسٹر والٹر لنڈر

    پچھلی حکومت میں اسے بہت زیادہ سجایا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے یہاں شام کو کافی لوگ گھومنے ٹہلنے آتے یہاں آتے ہیں۔ شام کو جو خواتین یہاں گھومنے آئیں وہ بھی مظاہرے میں شامل ہوگئی۔ہفتے کے روز 500 کے قریب خواتین احتجاج کے لئے وہاں پہنچ گئیں ، جن کی تعداد بعد میں بڑھ کر ایک ہزار ہوگئی۔ ان میں سے بہت ساری خواتین پرانے لکھنؤ کی رہنے والی تھیں۔انہوں نے پورے علاقے میں رسی لگاکراسے دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ ایک میں خواتین احتجاج کررہی تھیں اور دوسرے میں میڈیا کو آنے کی اجازت دی تھی ، حالانکہ مردوں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں تھی۔

    یہ بھی پڑھیں  باپ نے کیا بیٹی کے رشتے کو تار۔ تار

    جب سردی بڑھنے لگی تو ان خواتین کے لواحقین ، رشتہ دار اور دوسرے کی حمایت ان کو کمبل اور کھانا پہنچانے کے لئے آنے لگے۔ خواتین کا الزام ہے کہ پولیس نے انہیں کھانا لانے کی اجازت نہیں دی۔ ان کے ساتھ ان کے کمبل اور کھانے کی اشیاء ، انگیٹھیا وغیرہ جو وہ جلا رہی تھیں ، پولیس چھین لے گئی۔ پولیس نے چھ افراد کو بھی گرفتار کیا ، جنہیں بعد میں ذاتی مچلکے پر رہا کیا گیا۔ رات میں بڑھتی سردی کی وجہ سے زیادہ تر خواتین وہاں چلی گئیں ، لیکن دن میں دھوپ نکلنے پر وہاںزیادہ خواتین وہاں پہنچ جاتی ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  بزرگوں سے بد سلوکی ایک سماجی برائی: وینکیا نائیڈو

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  کشمیر ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے : جرمنی کے سفیر مسٹر والٹر لنڈر

    Latest news

    میرٹ کی بنیادپر منتخب ہونے والے 670طلباء میں ہندوطلباء بھی شامل

    تعلیمی سال 2021-2022کے لئے جمعیۃعلماء ہند کے وظائف جاری ، مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنا تو جمعیۃعلماء...

    آدیش گپتا نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر ایم سی ڈی کی زمین پر اپنا سیاسی دفتر بنایا: درگیش پاٹھک

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے ایم سی ڈی انچارج درگیش پاٹھک نے کہا کہ بی جے پی...

    مغربی يو پی : راشٹریہ لوک دل اور سماج وادی پارٹی اتحاد کتنا مضبوط ؟

    مغربی یوپی : مظفر نگر فسادات کے بعد مغربی یوپی میں بالخصوص پوری ریاست میں بالعموم فرقہ واریت اور...

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you