رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    موہن بھاگوت سے ملاقات کے بعد اب کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ملے مولانا ارشد مدنی،جانئے کن ایشوز پر ہوئی بات

    نئی دہلی،6ستمبر2019(ہند نیوز بیورو) جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی آج جمعہ کی شام تقریباً6بجے کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات نئی دہلی میں سونیا گاندھی کی رہائش گاہ10جنپتتھ میں ہوئی،جس میں کانگریس کے سینئر لیڈر احمد پٹیل بھی شامل تھے۔واضح ہو کہ مولانا ارشد مدنی نے حال ہی میں آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کی تھی،جس کے بعد تنازعہ پیدا ہوگیا تھااور مثبت و منفی رد عمل کا طویل سلسلہ شروع ہوا جو ابھی تک رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
    کیا ہوئی تھی بات چیت۔؟
    باوثوق ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ملاقات میں بھی انہی ایشوز پر بات ہوئی جن پر مولانا ارشد مدنی نے موہن بھاگوت سے بات کی تھی۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات اس لئے بھی ضروری تھی کیونکہ سنگھ سربراہ سے ملاقات کے بعد سیکولر خیمہ میں عجیب کشکمش کی سی کیفیت دکھائی دے رہی تھی خاص طور سے مسلمانوں میں ایک منفی پیغام جا رہا تھا وہ یہ کہ نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے سخت مخالف رہے دو بڑے اداروں کے سربراہ اچانک کس طرح ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں، ساتھ ہی اچانک سبز اور بھگوا رنگ کے بیچ کم ہونے والا فاصلہ لوگوں کے اندر بے چینی پیدا کر رہا تھا۔کانگریس صدر مولانا ارشد مدنی کی اس ملاقات نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر وہ کسی بھیجماعت یا تنظیم سے بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں۔
    واضح ہو کہ 5/ اگست کو دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں اور 15/اگست کو دارالعلوم دیوبند میں مولاناارشد مدنی نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ ملک کی قومی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی خاطر کسی بھی تنظیم یا ادارہ سے مذاکرات کرنے کو تیار ہیں خواہ لوگ انکی تنقید ہی کیوں نہ کریں۔
    کانگریس لیڈران کے نشانہ پر آئے تھے مولانا
    یہ بھی یاد رہے کہ سنگھ سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کے بعد مولانا ارشد مدنی کانگریس کے کئی مسلم لیڈران کے نشانہ پر آگئے تھے۔کانگریس کے کئی مسلم نیتا مسلسل ان کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔ بھوپال سے کانگریس پارٹی کے ممبر اسمبلی عارف مسعود نے مولانا ارشد مدنی کے نام ایک مکتوب جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ سنگھ سربراہ موھن بھاگوت سے مولانا ارشد مدنی کی ملاقات میں کن معاملات پر بات چیت ہوئی یہ قوم کے سامنے آنا چاہئے۔ وہیں دوسری طرف اتر پردیش کے سہارنپور سے کانگریس کے سینئر لیڈ رعمران مسعود نے بھی مولانا کے اس اقدام پر سوالات کھڑے کئے اور مولانا پر الزام لاگاتے ہوئے یہاں تک کہ دیا تھا کہ مولانا ارشد مدنی نے دارالعلوم دیوبند کی قابل فخرتاریخ کو داغدار کیا ہے حالانکہ عمران مسعود کے اس بیان کی بھی عوام میں سخت مذمت ہوئی تھی۔ اس کے برعکس کئی دانشواران اور صحافیوں نے بھی مولانا کے اس قدم کی تائید کی تھی وہیں کچھ لوگوں نے مضامین لکھ کرسوالات بھی کھڑے کئے تھے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ مولانا نے سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد اپنے نکتہ چینوں کو جواب دے دیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  مسلح افواج کو درپیش خطرات میں حیاتیاتی دہشت گردی شامل ہیں

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  مسلح افواج کو درپیش خطرات میں حیاتیاتی دہشت گردی شامل ہیں

    Latest news

    دہلی میں 5-ٹی پلان کو عمل میں لاکر جیتیں گے کورونا سے جنگ : اروند کیجریوال

    نئی دہلی : دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ سے کورونا کو شکست دینے...

    میڈیا کی متعصبانہ رپورٹنگ کے خلاف جمعیة علماء ہند سپریم کورٹ میں

    نئی دہلی:ملک کے بے لگام ٹی وی چینلوں پر قانونی لگام لگانے کی پہل جمعیةعلماءہند نے کردی گزشتہ روز...

    مرکزی حکومت نے 27 ہزار پی پی ای کٹس مختص کیں: اروند کیجریوال

    نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ ہم دہلی میں کسی کو بھوکا سونے نہیں...

    کورونا وائرس پوری دنیا میں قہر بن کر ٹوٹ رہاہے : مولانا ارشد مدنی

    دیوبند: جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ کورونا وائرس پوری دنیا میں قہر...

    سات نئے کورونا کے مثبت معاملے ملنے سے مچا ہڑکمپ

    لکھنؤ:راجدھانی میں کورونا مثبت پائے گئے مریضوں کی تعداد میں کوئی بھی کمی نہیں آرہی ہے۔سات نئے معاملے سامنے...

    معـــاشرتی ، مــذہبی اور عــــلاقائی اختــلاف سے بالاتر ہوکر ہی کـــوویڈ 19 سےجیتی جاسکتی ہے جنـــــــگ : پروفیســــر احــــرار حســـــین

    نئی دہلی : سنٹر فار ڈسٹنس اینڈ اوپن لرننگ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈائریکٹر (اکیڈمک) پروفیسر احرار حسین نےکہاکہ...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you