رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    جامعہ ملیہ پولیس تشدد معاملہ : ایک آنکھ گنواچکے منہاج الدین کو دہلی وقف بورڈ میں مستقل ملازمت

    نئی دہلی :شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میںہونے والے احتجاج کے دوران کیمپس کے اندر جامعہ ملیہ کی مرکزی لائبریری میں پولیس کی زیادتی کا شکار ہوئے ایل ایل ایم کے طالب علم منہاج الدین اپنی بائیں آنکھ کی روشنی گنواچکے ہیںجبکہ اس کے علاوہ بھی انھیں کافی چوٹیں آئی ہیں۔ان پر پولیس کی زیادتی کا ویڈیو بھی کافی وائرل ہوچکا ہے یہ الگ بات ہے کہ پولیس ابھی بھی کیمپس میں طلبہ پر کسی طرح کی زیادتی سے انکار کر رہی ہے ۔منہاج الدین کا صاف طور پر کہنا ہے کہ ہم سب طلبہ مرکزی لائبریری میں خود کو محفوظ سمجھ کر بیٹھے ہوئے تھے لیکن اچانک پولیس نے گھس کر اندھادھند لاٹھی چارج کردیا اور آنسو گیس کے گولے چھوڑے،منہاج کے مطابق پہلی لاٹھی کو جو سر پر چلائی گئی تھی انہوں نے اپنے ہاتھ سے روکا جس کی وجہ سے ان کی انگلی میں بھی فریکچر ہوگیا ہے۔

    منہاج لادین کی کہانی کافی درد بھری ہے ،وہ پولیس کے خوف سے بھاگ کر باتھ روم میں گھس گئے تھے لیکن پولیس نے وہاں بھی ان کا پیچھا کیا اور ان کو بری طرح سے لہولہان کرکے چھوڑا جس کے بعد رات ایک بجے انھیں ایمس میں داخل کرایا گیا مگر اس وقت تک وہ اپنی ایک آنکھ کی روشنی کھوچکے تھے ۔دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے منہاج الدین کو ان کے گھر پر جاکر اپنے وعدہ کے مطابق ملازمت کا لیٹر حوالے کیا اور 5لاکھ کے معاوضہ کا چیک بھی دیا۔امانت اللہ خان نے منہاج الدین کو دہلی وقف بورڈ میں لیگل اسسٹنٹ کی مستقل ملازمت دی ہے ۔اس سے قبل 18دسمبر کو امانت اللہ خان نے منہاج الدین سے ان کے گھر پر ملاقات کی تھی جہاں جامعہ ملیہ میں ہونے والے تشدد اور طلبہ پر پولیس زیادتی کی کہانی سناتے ہوئے کہاکہ میرا کیا قصور تھا جو پولیس نے ہم پر اس طرح کا ظلم کیا۔منہاج الدین نے بتایا تھا کہ وہ ایل ایل ایم کے سال دوم کا طالبعلم ہے اور اب اسکا مستقبل اندھیرے میں ہے۔امانت اللہ خان نے منہاج الدین اور اسکے خاندان کو تسلی دیتے ہوئے کہاکہ آپ بہتر سے بہتر علاج کرائیں ،5لاکھ کے علاوہ بھی ہم علاج کے لئے جو کچھ ممکن ہوسکے گا تعاون کریں گے۔امانت اللہ خان نے بتایا کہ منہاج کبھی بھی وقف بورڈ اپنی سہولت کے حساب سے جوائن کرسکتے ہیں جہاں انھیں کام کے لئے ایک اچھا ماحول ملے گا اور ان کا مستقبل بھی محفوظ رہے گا۔

    یہ بھی پڑھیں  تعلیم کے بغیر انسان کو زندگی گزارنے کا شعور پیدا نہیں ہوسکتا : مولانا محمد عبداللہ مغیثی
    یہ بھی پڑھیں  شہر قاضی مفتی محمد اصغر قاسمی کاانتقال سے غم کی لہر

    جامعہ ملیہ میں طلبہ پر ہوئے پولیس تشدد میں کافی طلبہ زخمی ہوئے ہیں اور مقامی ممبر اسمبلی و دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان طلبہ کو پولیس تھانوں سے رہا کرانے کے علاوہ ان کی خبر گیری میں مصروف ہیں۔امانت اللہ خان نے سوشل ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اپیل بھی کی ہے پولیس کے ذریعہ کی گئی اس بر بریت اور ظلم میں جس کسی کو بھی کسی طرح کی مدد کی ضرورت ہو وہ ہم سے رابطہ کرے ہم ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کریں گے۔امانت اللہ خان نے مزید بتایا کہ جامعہ میں پولیس تشدد والے دن تقریبا 36بچوں کو جو زخمی تھے اور کسی کے سر میں چوٹ تھی ،کسی کا ہاتھ پیر ٹوٹا ہوا تھا سب کو نیو فرینڈس کالونی اور کالکاجی تھانے سے چھڑاکر میں اپولو اسپتال لے گیا تھا

    یہ بھی پڑھیں  میدھا پاٹیکر نے 9 دن بعد ختم کیا انشن، سی ایم اور سی ایس نے کرائی یقین دہانی

    اور وہاں ان کا علاج کرانے کے بعد ان کو صحیح سلامت ان کے گھر یا ہاسٹل پہونچایا،اسی طرح ہولی فیملی میں بھی 3طلبہ زیر علاج تھے جنھیں ہاسپٹل کے بل کی ادائگی میں پریشانی پیش آرہی تھی ان کا بل ادا کیا اور اس کے علاوہ ایک بچہ شایان نوئڈا کے ہاسپٹل میں ہے جس کے دونوں پیپر ٹوٹ چکے ہیں ان سے بھی کہا ہے کہ اگر انھیں پریشانی ہو و وہ بل ہمیں دیدیں جس کی ادائگی ہم کریں گے۔امانت اللہ خان نے آگے بتایا کہ جعفرآباداور سیلم پور میں بھی جو بے قصور زخمی ہیں ان کا علاج کرائیں گے اور قانونی مدد بھی کریں گے۔امانت اللہ خان نے تشدد کے لئے واضح طور پر وشو ہند پریشد،آر ایس ایس اور دہلی پولیس کو مورد الزام ٹہرایا اور کہا کہ یہ سب منصوبہ بند طریقہ سے کیا گیا جس میں جامعہ نگر یا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا کوئی طالب علم شامل نہیں تھابلکہ جو لوگ تھے انھیں پولیس نے گرفتار نہیں کیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  شہر قاضی مفتی محمد اصغر قاسمی کاانتقال سے غم کی لہر

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  عالمی یوم اردو پر مظفرنگر میں شاندار اردو کانفرنس کا انعقاد

    Latest news

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    کسان تحریک کے دوران جان گنوانے والے کسانوں کی تعداد اور ان کے خلاف درج مقدمات کی کوئی معلومات نہیں ہے : مرکزی وزیر...

    نئی دہلی : مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ اس کے پاس کسان تحریک کے دوران جان گنوانے والے...

    ایم سی ڈی تبدیلی مہم کی تیاری 27 نومبر سے شروع، معلومات اپ لوڈ کرنے کے لیے خصوصی ایپ استعمال کریں گے: گوپال رائے

    نئی دہلی : آپ کے سینئر لیڈر گوپال رائے نے کہا کہ ایم سی ڈی انتخابات کے پیش نظر،...

    بنگلورو پولیس نے منّور فاروقی کو متنازعہ شخص قرار دیا

    بنگلور: کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کے ایک آڈیٹوریم میں اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کا ایک شو منعقد کیا...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you