رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    بی جی پی کے دورحکومت میں اقلیتی شعبہ سے تعلق رکھنے والے مسلم،سکھ،عیسائی،جین اور دیگر طبقہ ظلم کا شکار ہو رہا ہے : عمران پرتاپ گھڑی

    نئی دہلی : سکھ سماج کے زیر اہتمام دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ”ایک نئی پہل” کے عنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا،جس میں بطور مہمان خصوصی آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ جب سے انہیں اقلیتی شعبہ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے تبھی سے وہ چاہتے تھے کہ اس طرح کے پروگرام کی شروعات کی جائے اور ایسے پروگرام بھی وقتا فوقتا منعقد کیے جائیں جس سے ایک دوسرے سے روبرو ہونے کا موقع ملے اور لوگوں سے گفتگو ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں سے باہمی بات چیت، مکالموں اور باہمی تجاویز کے ذریعے ایک بہتر پلیٹ فارم اور ایک بہتر معاشرہ بنانے کا موقع ملتا ہے۔

    عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ جب سے ملک میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے، ملک میں جمہوری نظام کمزور ہو رہا ہے خواہ ان میں اقلیتی شعبہ سے تعلق رکھنے والے مسلم،سکھ،عیسائی،جین اور دیگر طبقے ہو ان پر ظلم کیا جا رہا ہے، انہیں سرکاری مشینری کے ذریعے برباد کیا جا رہا ہے تاکہ انتخابات میں ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے آج آر ایس ایس اور بی جے پی اقلیتوں کی شناخت کو ختم کرنے، ان کی تاریخی شناخت ختم کرنے، ان کی زبان کو تباہ و بربادکرنے کے لئے نئے نئے منصوبے تیار کر رہی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  امانت اللہ خان نے جاری کیں وقف بورڈ میں رکی ہوئی تنخواہیں

    کبھی تاریخی شہروں کے نام بدلے جا رہے ہیں، کبھی عمارتوں کے نام اور کبھی سڑکوں کے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر تمام رہنما نے پورے ملک میں ہو رہے ظلم و زیادتی کے واقعیات کو عمران پرتاپ گڑھی کے سامنے رکھے۔ اترپردیش سے تعلق رکھنے والے ایک لیڈرنے کہا کہ پچھلے کئی سالوں سے عہدیدار ہونے کے باوجود انہیں الیکشن ٹکٹ نہیں دیا گیا۔

    یہ بھی پڑھیں  شیئر بازار میں تیزی ، سنسیکس میں 409 پوائنٹس کا اضافہ

    انہوں نے لیڈر کی بات سن کر کہا کہ جب انتخابات ہوتے ہیں تو پارٹی کئی ذاویوں سے دیکھتی ہے کیوں کہ بہت سے لوگ ٹکٹ کے خوائش مند ہوتے ہیں، ٹکٹ دیتے وقت تمام جماعتیں اور ٹکٹ کے خواہشمند درخواست گزار اور اس اسمبلی کی صورتحال کے تمام اہم نکات پر غور کرنے کے بعد، تمام پہلوؤں کو یقینی بنایا جاتا ہے تبھی کسی ایک کو ٹکٹ دیا جاتا ہے۔ مہاراشٹر کے ایک نوجوان لیڈر نے کہا کہ سکھ برادری نے کبھی کانگریس کو نہیں چھوڑا اور نہ ہی چھوڑے گا۔ سکھ سماج کانگریس کے ساتھ دل سے جڑا ہے اور ملک میں کئی نشستیں بھی جیتنے میں اہم کردار ادا کیا ہے،

    یہ بھی پڑھیں  بہار میں صنعتوں کو فروغ دینے کے کوشاں ہیں سید شاہنواز حسین

    اس لیے آج سکھ برادری کو کانگریس میں زیادہ سے زیادہ نمائندگی ملنی چاہیے۔ ان کا جواب دیتے ہوئے عمران نے کہا کہ کانگریس نے کبھی بھی اقلیتوں سکھ، مسلم، جین اور عیسائی کو نظر انداز نہیں کیا معاشرے کے تمام لوگوں کو جو کہ اقلیتوں میں آتے ہیں، مساوی نمائندگی دی گئی ہے، کانگریس نے سردار بوٹا سنگھ، آسکر فرنینڈس، فخر الدین علی احمد، عبدالکلام آزاد اور پردیپ جین جیسے رہنماؤں کو اہم ذمہ داریاں دی ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کانگریس اقلیتوں کی ہمدرد اور خیر خواہ ہے اور یہ بھی کانگریس پارٹی تھی جس نے منموہن سنگھ کو دس سال تک وزیر اعظم بنایا اور سکھ برادری کے لوگوں کو پنجاب سے باہر بھی اہم عہدوں پر بٹھایا۔

    عمران پرتاپ گڑھی نے ریاستوں کے تمام چیئرمین سے کہا ہے کہ وہ اپنی کمیٹی میں تمام اقلیتوں کو جگہ دیں۔ اس موقع پر آل انڈیا خواتین کانگریس کی صدر نیٹا ڈیسوزا نے اعلان کیا کہ وہ بھی خواتین کانگریس میں تمام مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور جینیو کو جگہ دیں گی۔ عمران پرتاپ گڑھی نے مزید کہا کہ آج کانگریس اور اس کے کارکن بی جے پی کے ساتھ لڑ رہے ہیں، بی جے پی اور آر ایس ایس ملک سے قانون اور آئین کو ختم کرکے اپنے قانون کو نافذ کرنا چاہتے ہیں، ملک کی تاریخ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں لیکن کانگریس اور اس کے کارکن ایسا ہر گز نہیں ہونے دیں گے

    یہ بھی پڑھیں  دہلی اسمبلی انتخابات میں نظر آئے گا پوروانچل کی سیاست کا رنگ
    یہ بھی پڑھیں  دہلی اسمبلی انتخابات میں نظر آئے گا پوروانچل کی سیاست کا رنگ

    اور اس کے بقاء کے لئے ہر جنگ لڑ نے کو تیار ہیں،کیوں کہ آئین بچے گا تو عدلیہ بچے گی اور ملک بچے گا،اگر ملک بچے گا تو سماج بچے گا۔ پروگرام کنوینر مہندر بورا نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ہی واحد ایسی جماعت ہے جو سکھوں کی حقیقی ہمدرد ہے۔انہوں نے پرتاپ گڑھی سے اپیل کی، کانگریس کے تمام رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ سکھوں کے مذہبی تقریبات میں ضرور شرکت کریں، خاص طور پر گرو پرو کے موقع پر ذیادہ سے ذیادہ حصہ لیں۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    کسان تحریک کے دوران جان گنوانے والے کسانوں کی تعداد اور ان کے خلاف درج مقدمات کی کوئی معلومات نہیں ہے : مرکزی وزیر...

    نئی دہلی : مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ اس کے پاس کسان تحریک کے دوران جان گنوانے والے...

    ایم سی ڈی تبدیلی مہم کی تیاری 27 نومبر سے شروع، معلومات اپ لوڈ کرنے کے لیے خصوصی ایپ استعمال کریں گے: گوپال رائے

    نئی دہلی : آپ کے سینئر لیڈر گوپال رائے نے کہا کہ ایم سی ڈی انتخابات کے پیش نظر،...

    بنگلورو پولیس نے منّور فاروقی کو متنازعہ شخص قرار دیا

    بنگلور: کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کے ایک آڈیٹوریم میں اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کا ایک شو منعقد کیا...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you