رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    شمال مشرقی دہلی میں تشدد میں مرنے والوں کی تعداد 9، حالات کشیدہ

    نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) کے خلاف جاری تشدد میں آج صبح بھی ضلع کے کئی علاقوں میں پتھراؤکے واقعات سامنے آئے جس سے حالات کشیدہ ہیں۔ اس میں مرنے والوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے ۔ تشدد میں نیم فوجی دستوں اور پولیس کے کئی اہلکاروں سمیت 135 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔پولیس نے حالات کو قابو میں کرنے کے لئے پورے شمال مشرقی ضلع میں حکم امتناعی نافذ کردیا گیا ہے ۔ پولیس کی جانب سے جاری حکم میں ‘ہتھیار یا کسی بھی آگ لگانے والی اشیا پر پابندی ہے ۔سوشل میڈیا پر بھی فرقہ وارانہ طور پر حساس، اشتعال انگیز مواد لکھے جانے پر بھی پابندی ہے ۔ اگر کوئی بھی شخص مذکورہ حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی’’۔پولیس کے ایک افسر نے آج کہا کہ پیر کے روز موجپور ، گوکل پوري اور جعفرآباد سمیت دیگر علاقوں میں ہوئے تشدد میں مرنے والوں کی تعداد 9 تک پہنچ گئی ہے ۔ مرنے والوں میں ایک ہیڈ کانسٹیبل بھی شامل ہے ۔

    یہ بھی پڑھیں  ہزاروں پولیس اہلکاروں نے پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے کیا احتجاج

    واضح رہے کہ اتوار کو معمولی پتھراؤ کے بعد پیر کے روز دن بھر پورے ضلع میں پرتشدد واقعات ہوئے ۔ ایک شرپسند کھلے عام سڑک پر فائرنگ کررہا تھا۔ دکانوں میں آگ لگا دی گئی۔ ایک پٹرول پمپ کو بھی نذرآتش کر دیا گیا۔ گوکل پوری رات میں ٹائر مارکیٹ میں آگ لگا دی گئی جسے بجھانے میں فائربریگیڈ کے عملے کو سخت محنت کرنی پڑی ۔ پورے علاقے میں شام تک اضافی فورسز کو تعینات کیا گیا لیکن رات بھر مختلف علاقوں اور گلیوں میں پتھراؤ کے واقعات پیش آئے ۔ دیر رات فسادیوں نے کچھ دکانوں میں لوٹ مار بھی کی۔ جعفرآباد کے تشدد زدہ علاقوں میں تین صحافی پھنس گئے تھے جسے بارہ بجے رات کے بعد پولیس نے بحفاظت باہر نکالا۔دارالحکومت میں دو دن سے جاری تشدد کے واقعات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے آج اعلی سطحی ہنگامی میٹنگ طلب کی اور حالات کا جائزہ لیا اور امن بحال کرنے کے لئے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے میٹنگ طلب کی تھی جس میں دہلی کے لیفٹننٹ گورنر انل بیجل اور وزیر اعلی اروند کیجریوال بھی شامل ہوئے ۔

    یہ بھی پڑھیں  اکھلیش یادو نے سائیکل ریلی کو دکھائی ہری جھنڈی
    یہ بھی پڑھیں  ضروری خدمات سے متعلق دکانوں اور کارخانوں کو 24 گھنٹے کھل سکتی ہیں : اروند کیجریوال

    اس سے پہلے مسٹر کیجریوال نے شمال مشرقی دہلی اور دیگر متاثرہ علاقوں کے ممبران اسمبلی کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ میٹنگ کے بعد انہوں نے پولیس فورس کافی تعداد میں نہ ہونے اور تشدد پھیلانے کے لئے سرحدی ریاستوں سے فسادیوں کے آنے کی بات کہی تھی۔پورے ضلع میں حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔ اس دوران پنجرا توڑ تحریک نے جعفرآباد میٹرو اسٹیشن کے نیچے سڑک پر مظاہرہ کر رہے لوگوں کی حمایت میں وہاں پر خواتین کی انسانی زنجیر بنانے کا اعلان کیا ہے ۔ اس میں سبھی مذہبوں اور فرقوں سے منسلک خواتین سے اس انسانی زنجیر میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ اس پنجرا توڑ تحریک میں دارالحکومت کے مختلف کالجوں کی طالبات شامل ہیں۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  ننکانہ صاحب گرودوارہ میں پتھراو قابل مذمت : ہردیپ پوری

    Latest news

    دہلی میں 5-ٹی پلان کو عمل میں لاکر جیتیں گے کورونا سے جنگ : اروند کیجریوال

    نئی دہلی : دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ سے کورونا کو شکست دینے...

    میڈیا کی متعصبانہ رپورٹنگ کے خلاف جمعیة علماء ہند سپریم کورٹ میں

    نئی دہلی:ملک کے بے لگام ٹی وی چینلوں پر قانونی لگام لگانے کی پہل جمعیةعلماءہند نے کردی گزشتہ روز...

    مرکزی حکومت نے 27 ہزار پی پی ای کٹس مختص کیں: اروند کیجریوال

    نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ ہم دہلی میں کسی کو بھوکا سونے نہیں...

    کورونا وائرس پوری دنیا میں قہر بن کر ٹوٹ رہاہے : مولانا ارشد مدنی

    دیوبند: جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ کورونا وائرس پوری دنیا میں قہر...

    سات نئے کورونا کے مثبت معاملے ملنے سے مچا ہڑکمپ

    لکھنؤ:راجدھانی میں کورونا مثبت پائے گئے مریضوں کی تعداد میں کوئی بھی کمی نہیں آرہی ہے۔سات نئے معاملے سامنے...

    معـــاشرتی ، مــذہبی اور عــــلاقائی اختــلاف سے بالاتر ہوکر ہی کـــوویڈ 19 سےجیتی جاسکتی ہے جنـــــــگ : پروفیســــر احــــرار حســـــین

    نئی دہلی : سنٹر فار ڈسٹنس اینڈ اوپن لرننگ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈائریکٹر (اکیڈمک) پروفیسر احرار حسین نےکہاکہ...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you